Hadith 1884
Volume 1العربية
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "So pray (1) to your Lord and sacrifice." (Qur’an 108:2)
كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 47
Section: (2)
34 narrations · In source reading order
العربية
And the saying of Allah, the Almighty: "So pray (1) to your Lord and sacrifice." (Qur’an 108:2)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(3) The statement: "The other was for those among his Ummah who testified that there is no god but Allah." Some hadiths indicate that a single sheep suffices for a man and his household. Muhammad (may Allah be pleased with him) explained in Al-Muwatta: "A needy person would sacrifice a single sheep for himself, eat from it, and feed his family. However, a single sheep cannot be sacrificed for two or three people as an Udhiyah. This is the view of Abu Hanifah and the majority of our scholars." In Al-Ta’liq al-Mumajjad, it is said: "Muhammad (may Allah be pleased with him) explained that it applies when a person is in need of meat or is poor and not obligated to sacrifice. He may sacrifice a single sheep for himself and feed his family or share the reward with them. However, sharing a single sheep for an obligatory Udhiyah is not permissible." Al-Tahawi said: "It is either abrogated or specific. The evidence is that while a ram suffices for multiple people without restriction, a cow or camel is more appropriate for multiple people. However, the Prophet (ﷺ) limited a camel to seven people and a cow to seven people. This indicates that a sheep cannot suffice for more than seven people. Therefore, a sheep cannot suffice for more than one person, as agreed upon by Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad (may Allah have mercy on them)."
(۳) قوله : والآخر عمن شهد أن لا إله إلا الله من أمته : لما كان بعض الأحاديث دالا على أن الشاة الواحدة تجزئ عن الرجل وأهل بيته أوله محمد في الموطأ»، وقال: كان الرجل يكون محتاجا فيذبح الشاة الواحدة، يُضحي بها عن نفسه فيأكل ويُطعم أهله، فأما شاة واحدة تذبح عن اثنين أو ثلاثة أضحية، فهذه لا يجزئ، ولا يجوز شاة إلا عن الواحد، وهو قول أبي حنيفة والعامة من فقهائنا. وقال في التعليق الممجد»: أوله محمد إلى أنه محمول على ما ذا كان الرجل محتاجا إلى اللحم، أو فقيرا لا يجب عليه الأضحية، فيذبح الشاة الواحدة عن نفسه ويُطعم اللحم أهل بيته، أو يشركهم في الثواب، فذلك جائز. فأما الاشتراك في الشاة الواحدة في الأضحية الواجبة فلا . وقال الطحاوي : إنه منسوخ أو مخصوص، فما دل على ذلك أن الكبش لما كان يجزئ عن غير واحد، لا وقت في ذلك ولا عدد، كانت البقرة والبدنة أحرى أن تكون تجزئتان عن غير واحد، لا وقت في ذلك ولا عدد ثم قد روينا عن النبي ﷺ ما قد دل على خلاف ذلك مما قد ذكرناه في الباب الذي قبل هذا من نحر أصحابه معه الجزور عن سبعة، والبقرة عن سبعة، وكان ذلك عند أصحابه على التوقف منه لهم على أن البقرة والبدنة لا تجزئ واحدة منهما عن أكثر مما ذبحت يومئذ، وتواترت عنهم الروايات بذلك. فلما جعلت البقرة عن سبعة، وكان ذلك مما قد وقف عليه، ولم يجعل لنا أن نعدو ذلك إلى ما هو أكثر منه، كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن أكثر مما تجزئ عنه البقرة من ذلك. فلما ثبت أن الشاة لا تجزئ عن أكثر من سبعة انتفى بذلك قول من قال: إنها تجزئ عن جميع من ذبحت عنه ممن لا وقت لهم ولا عدد، ولا يجاوز إلى غيره، وثبت ضده، وهو قول من قال: إن الشاة لا تجزئ إلا عن واحد، وقد ذكرنا عن رسول الله له في الباب الذي قبل هذا أن رجل قال له: إن على ناقةً وقد غربت عني، فأمره أن يجعل مكانه سبعا من الغنم. فَدَلَّ ذلك على ما ذكرنا أيضا. فلما كانت البدنة أعظم ما يهدى ثبت أنها أعظم ما يضحى به، ولما كانت باتفاقهم لا تجزئ في الأضحية عما فوق السبعة كانت الشاة أحرى أن لا تجزئ عن ذلك. ولما انتفى أن تجزئ الشاة عما فوق السبعة ثبت أنها لا تجزئ إلا عن خاص من الناس. وقد أجمعوا على أنها مجزئة عن الواحد، واختلفوا فيما هو أكثر منه، فلا يدخل فيما قد ثبت له حكم الخصوصية، إلا ما قد أجمعوا على دخوله فيه. فثبت بما ذكرنا أنه لا يجوز أن يُضحى بالشاة الواحدة عن اثنين، ولا عن أكثر من ذلك، وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين.
نے اس حدیث کو مسلم کی شرط کے موافق صحیح قرار دیا ہے۔) ف: واضح ہو کہ بکری کی قربانی کے متعلق مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بکریوں کی قربانی کئے تھے ایک بکری اپنی طرف سے قربانی کئے اور دوسری بکری تمام امت کی طرف سے ایک اور روایت میں اس طرح مروی ہے کہ ایک بکری آپ قربانی کئے اپنی طرف سے اور تمام گھر والوں کی طرف سے اور عبدالرزاق کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بکری کی قربانی ایک ہی شخص کی طرف سے ہونا چاہئے۔
بکری ایک ایک کی طرف سے قربانی کے لئے کافی ہوگی، اگر ایک بکری سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوتی تو حضور فرماتے اگر اونٹ نہ ملے تو ایک بکری خرید لو، ساتوں کی طرف سے ایک بکری کافی ہو جائے گی ایسا نہ فرما کر سات بکریاں خریدنے کا جو حکم دئے اس سے معلوم ہوا کہ ایک بکری ایک ہی شخص کی طرف سے قربانی دی جانی چاہئے ایک سے زیادہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی جائز نہیں)۔ ان مختلف روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ قربانی دو قسم کی ہوتی ہے: ایک نفل جو محض ثواب کے لئے کی جاتی ہے اور جو قربانی کرنے والے پر واجب نہیں ہوتی، اور دوسری قربانی وہ ہے جو قربانی کرنے والے پر صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ وہ احادیث جن میں ایک بکری کا سارے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیا جانا منقول ہے وہ نفل قربانی سے متعلق ہیں جو محض ثواب کے لئے کی گئی ہے، واجب کے طور پر نہیں کی گئی۔ بخلاف اس کے جو قربانی واجب ہو اس میں ایک بکرا ایک ہی شخص کی طرف سے قربانی میں دیا جائے گا، ایک سے زیادہ کی طرف سے نہیں دیا جائے گا۔ اس لئے کہ جس طرح واجب زکات کا نصاب مقرر ہے۔ مثلاً اگر کسی کے پاس دو سو(200) درہم ہوں تو اس پر ہر چالیس (40) درہم پر ایک درہم زکات واجب ہوتی ہے بخلاف نفل خیرات کے اس کے لئے کوئی نصاب مقرر نہیں کہ جس قدر چاہے اور جب چاہے نفل خیرات دے سکتا ہے، ایسا ہی نفل قربانی کے لئے انسانوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں جتنے انسانوں کی طرف سے چاہیں، ایک بکرا قربانی دے کر اس کے ثواب میں سب کو شریک کر لے سکتے ہیں، بخلاف واجب قربانی کے کہ اس کے لئے بھی تعداد مقرر ہے کہ اونٹ اور گائے سات سات شخصوں کی طرف سے، اور بکرا ایک شخص کی طرف سے واجب قربانی میں دیا جائے، اس سے معلوم ہو کہ جن حدیثوں سے ایک بکرا سارے گھر والوں کی طرف سے دیا جانا ثابت ہے وہ نفل قربانی تھی جو محض ثواب کے لئے کی گئی اور سب کو ثواب میں شریک کیا گیا۔ جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک بکرے کی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے ہونا اس وقت پر محمول ہے کہ کوئی شخص محتاج ہوتا اور اس پر قربانی واجب نہیں ہوتی تھی تو وہ اپنی جانب سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکرا قربانی کرتا اور سب کو ثواب میں شریک کر لیتا، اور جن حدیثوں سے ایک بکرا ایک کی طرف سے دیا جانا معلوم ہوتا ہے وہ واجب قربانی ہے، اس لئے ایک سے زیادہ کی طرف سے ایک بکرا قربانی میں نہیں دیا جا سکتا۔ جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ ایک بکری واجب قربانی میں پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے تو ان کا یہ قول اس لئے صحیح نہیں ہے جبکہ سب کا اتفاق اس بات پر ہے کہ ایک اونٹ یا ایک گائے تو سات شخصوں سے زائد کے لئے کافی نہ ہو، اور ایک بکری پورے گھر والوں کی طرف سے مثلاً اگر گھر میں بیس آدمی ہوں تو ان کے لئے واجب قربانی میں کافی ہو جائے یہ خلاف عقل اور نقل ہے (تعلیق مجد)۔ (جب کوئی شخص قربانی میں جانور ذبح کرنا چاہے اور ابھی جانور کو ذبح کے لئے لٹایا نہیں ہے تو جو دعاء چاہے پڑھ سکتا ہے، ایسا ہی لٹانے کے بعد ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہنے سے پہلے بھی جو دعاء چاہے پڑھ سکتا ہے اور اسی طرح ذبح کے بعد بھی جو دعاء چاہے کر سکتا ہے، جانور کو زمین پر لٹا کر عین ذبح کرنے کے وقت صرف اللہ ہی کا نام ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ“ لینا چاہئے۔ عین ذبح کے وقت) کسی انسان کا نام کسی حیثیت سے بھی لینے کو چاہے ”بِسْمِ اللّٰهِ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ“ (اللہ کے نام سے قربانی شروع کر رہا ہوں، اس کو فلاں کی طرف سے قبول فرما) ہی کیوں نہ کہے۔
العربية
العربية
ف: واضح ہو کہ صدر میں حاکم، ابن ماجہ اور امام احمد، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں ”أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَشْعَرَيْنِ أَمْلَحَيْنِ، أَحَدُهُمَا عَنْ نَفْسِهِ“ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مینڈھا اپنی طرف سے اپنے لئے قربانی کئے یہ واجب قربانی تھی، جس کو آپ اپنی طرف سے ادا کئے، اور اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو بکروں کی قربانی دئے: ایک بکرا تو تمام امت کی طرف سے، اور دوسرا بکرا اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی دیئے آپ اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دیئے وہ حضرت کے گھر والوں پر واجب قربانی نہیں بلکہ وہ نفل قربانی تھی کہ سب گھر والوں کو ثواب میں شریک کر لئے تھے، سب گھر والوں کی طرف سے جو قربانی دی گئی تھی وہ ایسی ہی قربانی تھی جیسے امت کی طرف سے قربانی دی گئی تھی کہ ثواب میں امت کو شریک کر لیا گیا تھا نہ کہ امت کی طرف سے واجب ادا ہو گیا کیا گیا تھا۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "A young goat." In Al-Nihayah, it is explained as a young goat that has reached one year of age. This indicates the permissibility of sacrificing a young goat that is one year old, which is the view of our school. This is mentioned in Al-Mirqat.
(۱) قوله: عتود: في النهاية»: بفتح العين المهملة هو الصغير من أولاد المعز إذا قوي وأتى عليه حول. وفيه دليل على جواز التضحية بالمغز إذا كان له سنة، وهو مذهبنا. قاله في «المرقاة».
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(2) The statement: "At the prayer ground." It is mentioned in Al-Mirqat that this hadith, narrated by Ibn Umar, was previously mentioned in the chapter on Eid prayer. It is repeated here to clarify the place of slaughter, as slaughtering at the prayer ground is preferred to display the symbol of sacrifice. It also clarifies the timing of the sacrifice, as slaughtering at the prayer ground indicates that the preferred time is after the prayer.
(۲) قوله: بالمصلى: قال السيد قد مر هذا الحديث برواية ابن عمر أيضًا في صلاة العيد. ذكره هنا لبيان مكان الذبحإذ الذبح في المصلى أفضل؛ لإظهار الشعار، وذكر ثمه لبيان وقت الأضحية؛ لأنه إذا ذبح بالمصلى علم أن الأفضل الذبح بعد الصلاة. قاله في «المرقاة».
ف: اس حدیث شریف میں قربانی کرنے کے لئے دو الفاظ لائے گئے ہیں: ایک ”يذبح“ اور دوسرے ”ينحر“ اس کی تحقیق اس بات سے پہلے باب صلاۃ العیدین میں امام بخاری کی حدیث 480 جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اس کے فائدہ میں گزر چکی ہے ملاحظہ کر لی جائے۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(جو مسلمان اپنے وطن میں ہیں ان کو حاجیوں سے مشابہت پیدا کر کے مشابہت کا ثواب دینے کے لئے جیسے حاجی مکہ معظمہ میں نماز پڑھتے ہیں اور منٰی میں قربانی کرتے ہیں اسی طرح مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ عیدگاہ میں عید کی نماز پڑھیں اور نماز کے بعد قربانی کریں، اس طرح حاجیوں سے مشابہت ہوجاتی ہے)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(3) The statement: "Intends to sacrifice..." In Sharh al-Sunnah, it is said that this hadith indicates that the sacrifice is not obligatory, as it is left to one’s intention. If it were obligatory, it would not be left to one’s choice. However, this is refuted by other narrations, such as the Prophet’s (ﷺ) statement: "Whoever intends to perform Hajj, let them hasten," and "Whoever intends to attend Friday prayer, let them perform ghusl." This is mentioned in Al-Mirqat.
(4) The statement: "Let them not remove." In Al-Mirqat, it is said that according to Hanafi scholars, this is recommended (mustahabb) according to Abu Hanifah, meaning the prohibition is for avoidance of the better option, not strict prohibition. This differs from the Shafi’i view. Al-Tahawi argued that this is supported by the narration from Aisha (may Allah be pleased with her) in the book of Hajj, where she said, "I used to braid the garlands for the sacrificial animals of the Prophet (ﷺ), and he would send them, then remain among us as a non-Muhrim, not avoiding anything that a Muhrim avoids, until the people returned." This indicates the permissibility of what this hadith prohibits.
(۳) قوله : أراد إلخ: وفي شرح السنة في الحديث دلالة على أن الأضحية غير واجبة؛ لأنه فوض إلى إرادته حيث قال: وأراد»، ولو كانت واجبة لم يفوض. انتهى. وتبعه ابن حجر. قلت: يرد عليه قوله : من أراد الحج فليعجل» وقوله: «من أراد الجمعة فليغتسل». قاله «المرقاة».
(٤) قوله فلا يمس: قال في المرقاة: وظاهر كلام شراح الحديث من الحنفية أنه يستحب عند أبي حنيفة، فمعنى قوله: رخص أن النهي للتنزيه، فخلافه خلاف الأولى. ولا كراهة فيه، خلافا للشافعي. وقال الطحاوي: واحتجوا في ذلك بما قد ذكرناه في كتاب الحج عن عائشة لها أنها قالت: كنت أفتل قلائد هدي رسول الله ، فيبعث بها، ثم يقيم فينا حلالا، لا يجتنب شيئًا مما يجنبه المحرم حتى يرجع الناس. ففي ذلك دليل على إباحة ما قد حظره هذا الحديث.
العربية
العربية
سے معلوم ہوا کہ ذی الحجہ کے پہلے دہے میں بال اور ناخن نہ کتروانا مستحب ہے، واجب نہیں ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
العربية
(1) The statement: "Let them slaughter another in its place." Al-Ala al-Qari said: "This is explicit in indicating obligation."
(۱) قوله: مكانها أخرى وقال العلي القاري: هذا صريح في الوجوب.
ہوا کہ قربانی واجب ہے، اگر قربانی واجب نہ ہوتی تو حضور دوبارہ قربانی کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(2) The statement: "Sacrificing for ten years." In Al-Mirqat, it is said: "This indicates the obligation of sacrifice, as he consistently performed it for ten years during his stay in Madinah. His statement, 'Let them slaughter another in its place,' also indicates obligation, as the command to repeat an act is not known in Shariah except for obligatory acts."
(۲) قوله: عشر سنين يضحى: قال في المرقاة»: ومما يدل على الوجوب مواظبته عشر سنين مدة إقامته بالمدينة، وقوله فيما سبق: «فليذبح أخرى مكانها؛ فإنه لا يعرف في الشرع الأمر بالإعادة إلا للوجوب.
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمیشہ قربانی کرتے رہنے سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنا واجب ہے، اس لئے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی کام کو ہمیشہ کرتے رہنا اس کام کے واجب ہونے کی دلیل ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "Let them not come near." Al-‘Allamah Al-‘Ayni said: "Such a warning does not apply to the abandonment of a non-obligatory act."
لئے کہ عیدگاہ کے نمازیوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے قربانی نہ کرنے والا رحمت کا مستحق نہیں ہوتا ہے، اسی لئے ایسا شخص عیدگاہ میں نہ آئے، حضور کا اس طرح ارشاد فرمانا قربانی نہ کرنے والے پر اللہ تعالیٰ اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غضب کی علامت ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی نہیں کرنے والا اس وعید کا مستحق ہے۔ واجب ہی کے ترک پر وعید آئی ہے، اگر قربانی کرنا واجب نہ ہوتا تو ایسی وعید نہ آتی) (جیسا کہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ، حاکم اور امام احمد نے کی ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔) ف: واضح ہو کہ نصاب دو طرح کا ہوتا ہے ایک نصاب زکات کا ہے اور دوم نصاب فطرہ اور قربانی کا، جو شخص زکات کے نصاب کا مالک ہے تو اس پر زکات بھی آئے گی اور فطرہ اور قربانی کرنا بھی واجب ہوگا اور جو شخص زکات کے نصاب کا مالک اس طرح سے نہیں ہے کہ اس کے پاس سونا چاندی اور تجارت کا مال وغیرہ نہیں ہے بلکہ فطرہ اور قربانی کا نصاب اس پر اس طرح واجب ہے کہ ضروری اسباب جو رات دن کے برتاوے میں رہتا ہے اس کے سوا اس کے پاس اور اسباب بھی ہے جو کبھی کبھی کام میں آتا ہے اور ان سب کی قیمت اتنی ہے کہ جس پر زکوٰہ واجب ہوجاتی ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن فطرہ اور عید الاضحی کے دن قربانی واجب ہے۔ فطرہ اور قربانی کے لئے ایسے مال پر سال گزرنے کی شرط بھی نہیں ہے۔ (ردالمحتار)۔
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(2) The statement: "Every household must offer a sacrifice." In Al-Izhar, it is said: "Abu Hanifah used this hadith as evidence that the Udhiyah is obligatory for every resident of a city who owns the nisab (minimum wealth)." This is mentioned in Al-Mirqat.
(۲) قوله على كل أهل بيت قال في «الإزهار»: تمسك أبو حنيفة بهذا الحديث على أن الأضحية واجبة على كل مقيم أي في مصر، وهو مالك النصاب. قاله في «المرقاة».
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(3) The statement: "A female sheep that I have been lent." Al-Sindi said: "The original meaning of 'Manihah' is what a person lends to another to drink its milk, then returns it. Here, it refers to any sheep, as it is customary to lend it. The Prophet (ﷺ) prohibited it because the man did not own it and could not benefit from it." Alternatively, it may refer to a sheep lent specifically for milk, and the prohibition is because it is owned by someone else. The man thought it did not need to be returned, but the Prophet (ﷺ) said, "The Manihah must be returned."
(4) The statement: "He replied, 'No.'" The apparent meaning of the hadith is that the Udhiyah is obligatory except for those who are unable. Abu Hanifah said: "It is only obligatory for those who own the nisab." This is mentioned in Al-Mirqat.
(5) The statement: "Cut your hair." Al-Sindi said: "It seems the Prophet (ﷺ) guided him to participate in the Eid and its joy by removing dirt, which suffices if one cannot find an animal to sacrifice. Allah knows best."
(۳) قوله: منيحة: قال السندي: أصل المنيحة ما يعطيه الرجل غيره ليشرب لبنها، ثم يردها عليه، ثم يقع على كل شاة؛ لأن من شأنها أن تمنح بها وهو المراد ههنا. وإنما منعه؛ لأنه لم يكن عنده غيرها ينتفع به. قلت: ويحتمل أن المراد ههنا ما أعطاه غيره ليشرب اللبن. ومنعه؛ لأنه ملك الغير، وقول الرجل لزعمه: إن المنحة لا ترد، ولذلك قال : المنحة مردودة .
(٤) قوله: قال: لا : ثم ظاهر الحديث وجوب الأضحية إلا على العاجز. وقال أبو حنيفة : لا يجب إلا على من يملك نصابا. قاله في «المرقاة».
(٥) قوله: خذ قال السندي: كأنه أرشده إلى أن يشارك المسلمين في العيد والسرور وإزالة الوسخ، فذاك يكفيه إذا لم يجد الأضحية، والله تعالى أعلم.
العربية
Mishkat (candidate) 1460
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: واضح رہے کہ جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے قربانی دے رہے ہیں ایسا ہی ہم بھی اپنے مردوں کی طرف سے قربانی دے سکتے ہیں، مگر مردوں کی وصیت کی وجہ سے قربانی دی گئی ہے تو اس پوری قربانی کو خیرات کر دینا چاہئے خود اس کو نہیں کھانا چاہئے اور اگر بغیر مردوں کی وصیت کے خود مردوں کو ثواب پہنچانے کے لئے قربانی کی گئی ہے تو اس قربانی کو مثل اپنی قربانی کے خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔ (درمختار)۔
العربية
Mishkat (candidate) 1469
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "A defect in the horn." In Rad al-Muhtar, it is said: "It is permissible to sacrifice a hornless animal, one that naturally has no horns. Similarly, an animal with a broken horn is permissible unless the break reaches the brain."
(2) The statement: "A defect in the teeth." In Talkhis al-Habir, it is said: "Al-Qadi al-Husayn narrated from Al-Shafi’i that he said, 'We do not find any prohibition from the Prophet (ﷺ) regarding defects in the teeth.'"
(۱) قوله: في القرن : قال في رد المحتار: ويضحي بالجماء، هي التي لا قرن لها خلقة، وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر وغيره بلغ الكسر إلى المخ لم يجز. (قهستاني)
(۲) قوله: في السن: قال في التلخيص الحبير» ونقل القاضي الحسين عن الشافعي أنه قال: لا نحفظ عن النبي ﷺ في نقص الأسنان شيء، يعني في النهي.
ف: واضح رہے کہ قربانی کے جانور کے سینگ، دانت اور کان کے متعلق کچھ احکام تو آپ اس حدیث شریف کے ترجمہ میں سن لئے ہیں، باقی احکام اب سنئے: (1) جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں اس کی قربانی درست ہے البتہ جس جانور کے پیدائش سے سینگ تو تھے مگر بعد میں بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے تو اس کی قربانی درست نہیں۔ (2) جس جانور کے بالکل دانت نہیں، اس کی قربانی درست نہیں۔ (3) جس جانور کے پیدائش ہی سے دو کان نہ ہوں یا صرف ایک کان نہ ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ یا ایسا ہی جس جانور کا ایک کان پورا کٹا ہوا ہو اس کی قربانی بھی درست نہیں مگر کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔ (رد المحتار)12
العربية
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "Sa’id ibn al-Musayyab..." Al-Tahawi said: "Sa’id ibn al-Musayyab explained that Al-‘Adba’ refers to an ear with half or more cut off, which is prohibited for sacrifice."
(۱) قوله: السعيد بن المسيب إلخ : قال الطحاوي وبين سعيد بن المسيب عضباء الأذن المنهي عن ذبحها في الأضحية، فقال: هي المقطوعة نصف أذنها.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(2) The statement: "He commanded us, etc." In Injah al-Hajah, it is said: "Perhaps this defect did not prevent the sacrifice because the majority of the animal was intact. This is mentioned in Al-Durr."
(۲) قوله: فأمرنا إلخ : وفي إنجاح الحاجة»: لعل هذا العيب ما كان مانعا عن الأضحية؛ لأن الأكثر حكم الكل. كذا في «الدر».
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "So pray..." means to pray the Eid prayer and offer the sacrifice. This is mentioned in Al-Mirqat.
(2) The statement: "And whoever honors..." In Tafsir al-Ahmadi, it is said: "This verse establishes that sacrificial animals should possess the qualities mentioned. Perhaps for this reason, jurists do not permit sacrificing animals that are blind, one-eyed, emaciated, lame, unable to walk to the place of sacrifice, or those with a limb cut off, or those with more than a third of their ear, tail, eye, or udder missing. This is because the sacrifice, like offerings, must be honored, and these defects diminish its value. The verse serves as evidence for excluding such animals from being permissible for sacrifice. However, animals that are hornless, castrated, or have a small defect are permissible, as their defects do not reach the level of those mentioned."
Chapter-heading commentary
(۱) قوله فصل إلخ : أي صل صلاة العيد. وانحر النسك. قاله في «المرقاة».
(۲) قوله : ومن يعظم إلخ : قال في التفسير الأحمدي»: فهذه الآية أصل في أنه ينبغي أن يكون الهدايا متصفة بالأوصاف المذكورة. ولعله لهذا المعنى لم يجوز الفقهاء في الأضحية العمياء والعوراء والعجفاء والعرجاء التي لا يمشي إلى المنسك والمقطوع يدها ورجلها وما ذهب أكثر من ثلث أذنها أو ذنبها أو عينها أو إليتها. وذلك لأن الأضحية كالهدايا واجب التعظيم، وهذه المذكورات متصفا بالعيب والنقصان فضلا عن أن يكون معظمة؛ إذ التعظيم على ما " ذكر أمر زائد عليه، فتقيم الآية دليلا على استخراجها عن الجواز، بخلاف الجماء والخصي والثولاء؛ لأنها لا تبلغ في حد النقصان إلى ما ذكر، فيجوز التضحية بها.
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ قدیم سے کہنے کی عادت ہے۔ اور بعض فقہاء کے قول سے معلوم ہوا کہ ذبح کے وقت ’بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُ أَكْبَرُ“ بغیر واؤ کے کہنا چاہئے، اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ فقہاء میں سے اکثر فقہاء، جیسے امام اتقانی، علامہ عینی، علامہ اتقانی، صاحب المجمع، علامہ خیر الدین ایلی اور علامہ اترازی وغیرہم نے بسم اللہ و اللہ اکبر واؤ کے ساتھ کہنے کو ترجیح دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“، واؤ کے ساتھ کہنا چاہئے لیکن تنہا امام حلوانی ”بِسْمِ اللّٰهِ اللّٰهُ أَكْبَرُ“ بغیر واؤ کے کہنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس لئے متقدمین پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلف سے خلف تک سب کے پاس استدلال اور متواتر لفظ ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ ہے اس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے کہ احادیث میں بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ ہے، اور مرفوع احادیث میں مسلم، ابوداؤد، ترمذی نسائی، ابن ماجہ، طحاوی اور خصاص بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ ہی روایت کئے ہیں حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ کہنے کے قائل ہیں، اس لئے مرقات میں لکھا ہے کہ ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ واؤ کے ساتھ کہنا اولی اور افضل ہے۔ ف(2): ایک ضروری مسئلہ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جانور کے ذبح کرنے والوں میں ایک شریک ہوتا ہے اور ایک معین۔ شریک مثلاً ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہے اور دونوں مل کر ذبح کر رہے ہیں تو دونوں کو ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہنا چاہئے۔ اور اگر دونوں میں سے ایک نے ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہا اور دوسرے نہ کہا تو جانور حلال نہ ہوگا۔ اس لئے دونوں کو ذبح کے وقت ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہنا چاہیے۔ بخلاف اس کے جو ذبح کرنے والے کا معین ہے، مثلاً بکرے کو گرایا ہے اور اس کو تھام کر ذبح کرنے والے کی مدد کر رہا ہے تو اس مدد کرنے والے کو ”بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ“ کہنا ضروری نہیں ہے۔