Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5642

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5642Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7314
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ عبداللہ بن سلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر سنی(11) وہ اس وقت ایک باغ میں پھل توڑ رہے تھے، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا میں آپ سے تین ایسے سوال کروں گا جن کو سوائے نبی کے کوئی نہیں جانتا(12) قیامت کی علامتوں میں پہلی علامت کونسی ہے، اور جنتیوں کی پہلی غذا کیا ہے، اور کونسی چیز بچے کو اپنے باپ ماں کی طرف کھینچتی ہے (راوی نے کہا) تو آپ نے فرمایا: ابھی جبریل نے مجھے ان کے بارے میں خبر دی۔ رہا قیامت کی پہلی علامت تو وہ ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کرے گی۔ اہل جنت جو پہلی غذا کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا زائد ٹکڑا ہوگا۔ اور مرد کا نطفہ جب عورت کے نطفہ سے پہلے پہنچ جاتا ہے تو وہ لڑکے کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا نطفہ پہلے پہنچ جاتا ہے تو وہ لڑکی کو کھینچ لیتا ہے (13)۔ عبداللہ بن سلام نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں اور انھوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہود بہتان تراش قوم ہے آپ کے ان سے کچھ پوچھنے سے پہلے وہ اگر میرے اسلام لانے سے واقف ہو جائیں گے تو مجھ پر تہمت لگا دیں گے پھر یہود آئے تو آپ نے دریافت فرمایا عبداللہ بن سلام تم میں کیسے آدمی ہیں تو وہ بولے ہم میں سب سے اچھے اور سب سے اچھے کے بیٹے ہیں اور ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں، تو آپ نے فرمایا تم بتاؤ اگر عبداللہ بن سلام اسلام قبول کر لیں؟ تو بولے اللہ ان کو اس سے بچائے، عبداللہ بن سلام نکل آئے اور کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو بولے یہ ہم میں کے سب سے برے اور سب سے برے کے بیٹے ہیں۔ اور ان کو عیب لگائے تب عبداللہ بن سلام نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہی وہ ہے جس کا میں اندیشہ کرتا تھا۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3329 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4480 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

arrival of the Messenger of Allah

(1) His statement: arrival of the Messenger of Allah: Meaning his arrival from Makkah to Madinah. His statement: in a garden: Meaning an orchard. His statement: picking fruit: Meaning gathering fruits. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

only a prophet knows

(2) His statement: only a prophet knows: Meaning or one who takes from him or his book, so it does not raise an issue that he knew them generally or specifically. Thus, the answer became a miracle for him and certain knowledge of his prophethood, which is evident from including the Hadith in this chapter. I say: The Messenger of Allah (ﷺ) did not take from anyone or any book, so his answer undeniably proves his prophethood. His statement: Jibril informed me: Said to dispel the notion that he heard from scholars of the People of the Book. His statement: gather people: Meaning collect them. His statement: caudate lobe of a whale’s liver: Meaning its edge, the tastiest part of the liver. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

Resembles her

(3) His statement: if the woman’s fluid precedes, it resembles her: The commentator said: “Resembles her” means the woman draws the child to resemble her due to her fluid’s dominance, or her fluid causes femininity. His statement: slander: With damma on ba’ and sukun on ha’, in Al-Nihayah: It is the plural of bahut, an intensive form of slander. His statement: they will slander me: With tashdid on nun or lightened, meaning they attribute slander to me or make me confused, as my Islam was not a clear proof against them. His statement: the best of us and the son of the best of us: Meaning in knowledge and righteousness. His statement: our master and the son of our master: Meaning in lineage. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: بمقدم رسول الله : أي بقدومه من مكة إلى المدينة. وقوله: «في الأرض أي في بستان. وقوله: يخترف» أي يجتني من الفواكه. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: لا يعلمهن إلا نبي: أي أو من يأخذ منه أو من كتابه؛ لئلا يشكل بأنه كان ممن يعلمها، إما مجملا أو مفصلا، ولهذا صار جوابها معجزة له وعلم يقين بنبوته عنده، وهو الظاهر من إيراد الحديث في هذا الباب. قاله في «المرقاة». قلت: ورسول الله ﷺ ما أخذ من أحد، ولا من كتاب، فيدل جوابه على نبوته لا محالة، انتهى. وقوله: «أخبرني بهن جبرئيل» قاله دفعا لتوهم أنه سمع من بعض علماء أهل الكتاب. وقوله: «تحشر الناس» أي تجمعهم. وقوله: «فزيادة كبد حوت أي طرفها، وهي أطيب ما يكون من الكبد. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : إذا سبق ماء المرأة نزعت قال شارح قوله: نزعت أي جذبت المرأة بالولد إلى مشابهتها بسبب غلبة ماءها، أو جذبت مائها فأكسب التأنيث من المضاف إليه. وقوله: «بهت بضم موحدة وسكون هاء، في «النهاية»: هو جمع بهوت من بناء المبالغة في البهتان. وقوله: يبهتوني بتشديد النون ويخفف أي يبهتونني كما في بعض النسخ المصححة، أي ينسبوني إلى البهتان، ويجعلوني مبهوتا حيران، ولم يكن إسلامي عليهم حجة واضحة البرهان. وقوله: «خيرنا وابن خيرنا أي في الحسب من العلم والصلاح وسيدنا وابن سيدنا، أي في النسب. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(11) قولہ: بمقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ یعنی آپ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آنے کو سنا۔ قولہ: في الارض۔ یعنی باغ میں۔ قولہ: تخترف۔ یعنی میوے توڑ رہے تھے۔ (مرقات)۔ (12) قولہ: لا يعلمهن الا نبي۔ یعنی اس کو کوئی نہیں جانتے سوائے نبی کے یا اس شخص کے جو نبی یا نبی کی کتاب سے سیکھے یہ تاویل اس لئے ہے کہ اس پر یہ اشکال نہ ہو کہ خود عبداللہ بن سلام ان لوگوں میں سے تھے جو اس کو جانتے تھے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) یہ جاننا خواہ اجمالی ہو یا تفصیلی اسی لئے آپ کا ان سوالات کے جوابات دینا ان کے لئے معجزہ اور آپ کی نبوت کا ان کے لئے علم یقین بن گیا۔ باب معجزات میں مؤلف کا اس حدیث کو لانے سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے۔ (صاحب مرقات نے یہ بات بیان کی ہے) تو میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب کسی سے نہیں سیکھا تھا اور کسی کتاب سے بھی نہیں لیا تھا اس لئے یہ لا محالہ آپ کی نبوت کی دلیل بن گیا۔ و قوله: اخبرني بهن جبريل عليه السلام نے ابھی مجھے اس بارے میں بتا دیا۔ آپ نے یہ اس لئے فرمایا تاکہ ایسا خیال نہ ہو کہ آپ نے کسی اہل کتاب کے عالم سے اس کو سنا ہے اس خیال کو دور کرنے کے لئے یہ بات بیان فرمائی۔ وقوله : تحشر الناس۔ یعنی لوگوں کو جمع کرے گی۔ وقوله : فزيادة كبد حوت۔ یعنی جگر کا کنارہ جگر سے زیادہ ذائقہ دار ہوتا ہے۔ (مرقات)۔ (13) وقوله : اذا سبق ماء المرأة نزعت۔ ایک شارح نے کہا: نزعت کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے نطفہ کے غلبے کے سبب لڑکے کو اپنی مشابہت کی طرف کھینچے گی یا عورت کا نطفہ کھینچے گا۔ نزعت کا فاعل ماء ہے ہاں مونث عورت میں مونث کا صیغہ مضاف الیہ کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔ وقوله : بهت۔ باء کو پیش اور ہاء کو جزم ہے کتاب نہایہ میں ہے یہ لفظ بہتان سے بنا ہے اور بہوت کی جمع ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔ وقوله : يبهتوني۔ نون کو تشدید کے ساتھ اور تخفیف یعنی بغیر تشدید کے بھی آتا ہے، یبہتونی جیسا کہ بعض صحیح شدہ نسخوں میں ہے یعنی میری طرف بہتان کی نسبت کریں گے اور مجھے مبہوت اور حیران و پریشان ظاہر کریں گے اور میرا اسلام لانا ان کے خلاف واضح حجت نہیں رہے گا۔ وقوله: خيرنا و ابن خيرنا۔ حسب اور علم و صلاح کے اعتبار سے اور ”سیدنا و ابن سیدنا“ نسب کے اعتبار سے ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔