Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals · Chapter 5

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

53 narrations · In source reading order

Hadith 2127

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2489Noor 2490Noor 2491Noor 2492
عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداءِ احد پر نماز جنازہ ادا فرمائے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے مراسیل میں کی ہے۔ اس باب میں حاکم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اور امام احمد نے بھی اس حدیث کی روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ اور دارقطنی نے بھی اس حدیث کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

In Al-Marasil...

(1) His statement: "In Al-Marasil..." In Fath al-Qadir, it is mentioned: "We reject the basis of the opponent's argument in weakening marasil (narrations with missing links in the chain). Even if it is conceded, when supported, it raises its status."

Note 1

قوله

(۱) قوله: في المراسيل وقال في فتح القدير: ونمنع أصل المخالف في تضعيف المراسيل، ولو سلم فعنده إذا اعتضد يرفع معناه.

Hadith 2128

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2493
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوۂ اُحد میں) جب صحابہ کرام میدان جنگ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس ہونے والوں میں (حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نظر نہیں آئے (حضور حمزہ کو تلاش کرنا چاہے اور دریافت فرمائے کہ دیکھو حضرت حمزہ کہاں ہیں) تو ایک صاحب عرض کئے کہ میں نے حضرت حمزہ کو فلاں درخت کے پاس دیکھا ہے، حضرت اس درخت کے پاس پہنچے تو وہاں حضرت حمزہ کو دیکھے کہ مثلہ کئے ہوئے ہیں، ناک، کان اور دوسرے اعضاء کٹے ہوئے ہیں، اس منظر کو دیکھ کر حضور کا سینہ غم سے بھر آیا، اور حضور رونے لگے (حضور کی یہ حالت دیکھ کر) ایک انصاری اٹھے اور حضرت حمزہ کو ایک چادر سے چھپا دیئے (تاکہ وہ منظر دکھائی نہ دے) پھر حضرت حمزہ (نماز جنازہ پڑھائے جانے کے لئے) لائے گئے تو حضور ان کی نماز جنازہ ادا فرمائے، (اور حضرت حمزہ کو اسی طرح رکھا گیا، ان پر دوبارہ نماز جنازہ نہیں پڑھائی گئی) دوسرے شہداء کو میدان جنگ سے لالا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھا جاتا اور حضور ان پر نمازِ جنازہ ادا فرماتے جاتے، نماز جنازہ کے بعد یہ جنازے اٹھائے جاتے اور دوسرے نئے جنازے لا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھے جاتے، پھر حضور ان پر نماز جنازہ ادا فرماتے، یہاں تک کہ تمام شہداء پر حضور نماز جنازہ ادا فرمائے (اور اس وقت تک حضرت حمزہ کا جنازہ برابر اسی مقام پر رہا، یہ دیکھ کر راوی سمجھے کہ دوسرے شہداء کے ساتھ حضرت حمزہ کی نمازِ جنازہ بھی بار بار ادا ہوئی، حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ حضرت حمزہ کی نماز ایک ہی مرتبہ ادا ہوئی، اس لئے نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا ثابت نہیں، اور یہی مذہب حنفی ہے) جب سب شہیدوں کی نمازِ جنازہ ادا ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (اگرچہ غزوہ احد میں اور بھی شہید ہوئے ہیں مگر) حضرت حمزہ (جس بے دردی سے شہید کئے گئے اس وجہ سے) میدانِ قیامت میں حضرت حمزہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سید الشہداء پکارے جائیں گے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Narrated by Al-Hakim, etc.

(1) The statement: "Narrated by Al-Hakim, etc." He said: "Its chain is authentic, though the two (Al-Bukhari and Muslim] did not narrate it. However, in its chain is Mufaddal ibn Sadaqah Abu Hamad Al-Hanafi. Although Yahya and Al-Nasa’i weakened him, Al-Ahwazi said: 'Ata ibn Muslim trusted him, and Ahmad ibn Muhammad ibn Shuaib praised him highly.' Ibn Adi said: 'I see no harm in him, so the narration does not fall below the level of Hasan, and it is independently valid as evidence. At the very least, it is suitable as supporting evidence for other narrations.' This is mentioned in Fath Al-Qadeer."

Note 1

قوله

(۱) قوله: رواه الحاكم إلخ وقال : صحيح الإسناد ولم يخرجاه إلا أن في سنده مفضل بن صدقة أبو حماد الحنفي، وهو وإن ضعفه يحيى والنسائي، فقد قال الأهوازي: كان عطاء بن مسلم يوثقه، وكان أحمد بن محمد بن شعيب يثني عليه ثناء تاما. وقال ابن عدي ما أرى به بأسا فلا يقصر الحديث عن درجة الحسن، وهو حجة استقلالا، فلا أقل من صلاحيته عاضدا لغيره. قاله في فتح القدير».

Note 1

اس کی روایت حاکم نے کی ہے۔ اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ اگرچہ کہ بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔12

Hadith 2129

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2494
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوہ اُحد میں حضرت حمزہ شہید ہوئے تو آپ کے جنازہ کو میدان میں نماز پڑھائے جانے کے لئے لا کر رکھا گیا اور حضور ان پر صحابہ کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا فرمائے اور نماز کے بعد حضرت حمزہ کا جنازہ حضور کے سامنے اسی طرح رکھا رہا، اس کے بعد) شہدائے اُحد کے جنازے دس دس کی تعداد میں حضرت حمزہ کے جنازہ کے بازو رکھے جاتے رہے، اور حضور ان شہداء پر نماز پڑھاتے رہے اور نماز کے بعد ان شہداء کے جنازے اٹھائے جاتے اور دوسرے نئے جنازے لا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھے جاتے اور حضور ان پر نماز پڑھاتے (اسی طرح آخر تک) حضرت حمزہ کا جنازہ حضور کے سامنے رکھا رہا (لیکن حضرت حمزہ پر بار بار نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، صرف ابتداء میں ایک ہی بار حضرت حمزہ کی نماز جنازہ ادا، کی گئی)۔ اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1514 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

Placed.

(2) The statement: "Placed." If it is said: "It is narrated that the Prophet (ﷺ) prayed over Hamzah seventy times, while the obligation was fulfilled with the first prayer." The response is that he was placed before him, and the martyrs were brought one by one, and he prayed over them each time. The narrator thought he prayed over Hamzah each time, so he said: "He prayed over Hamzah seventy times." This is similar to what Al-Ayni said in Sharh Al-Hidayah.

Note 2

قوله

(۲) قوله: موضوع: فإن قلت : روي إن النبي الله صلى على حمزة سبعين مرة، وكان الفرض قد تأدى بالأولى. قلت: أجيب عنه أنه كان موضوعا بين يديه، فيؤتى بواحد واحد من الذين استشهدوا، وكان يصلي علهم صلاة، فظن الراوي أنه صلى على حمزة في كل مرة، فقال: صلى على حمزة سبعين مرة، مثله قال العلامة العيني في شرح«الهداية».

Hadith 2130

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2495
شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر ایمان لایا، اور آپ کے ساتھ ساتھ ہمیشہ رہا کرتا تھا پھر عرض کیا (اب میں اپنا وطن چھوڑ کر، ہمیشہ اسی طرح آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں) حضور (اس کی اجازت دیدیئے اور چونکہ یہ نو وارد تھے اور ابھی ابھی اسلام لائے تھے، اس لئے ایک صحابی کو حکم ہوا کہ ان کو دینی تعلیم دیا کریں اور ان کی خبرگیری کرتے رہیں اس اثناء میں ایک غزوہ کا موقعہ آیا (اور وہاں فتح حاصل ہوئی) اور غنیمت ملی اور غنیمت میں چند غلام باندی ہاتھ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام باندی سب کو تقسیم کر دیئے اور ان اعرابی کا بھی جو حضور کے ساتھ رہا کرتے تھے حصہ نکالے اور اس حصہ کو ان کے ساتھیوں کے حوالے کر دیئے (تاکہ وہ ان اعرابی کو دیدیں) وہ اعرابی اپنے ساتھیوں کے جانور چرایا کرتے تھے، جب وہ (چراگاہ سے) لوٹے تو ان لوگوں نے ان کا حصہ جو رکھا ہوا تھا ان کے حوالے کر دیا، ان اعرابی نے کہا یہ کیا ہے؟ اور مجھے یہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ ان کے ساتھیوں نے کہا یہ تمہارا حصہ ہے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت سے تم کو عطا فرمایا ہے، وہ اعرابی اپنا حصہ لئے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے اور عرض کئے: حضور! یہ مجھے دیا گیا ہے، یہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: یہ تمہارا حصہ ہے، جس کو مال غنیمت سے میں نے تمہیں دیا ہے، ان اعرابی نے عرض کیا: (حضور یہ جو کچھ مجھے ملا ہے یہ خادم نوازی ہے مگر) میں حضور کے ساتھ یہ حصہ لینے کے لئے نہیں رہا ہوں! میں اس واسطے حضور کے ساتھ ہوں کہ میرے حلق پر (جہاد میں کفار کی) تیر لگے اور میں شہید ہوکر جنت میں چلا جاؤں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اگر تم سچے ہو اور (یہ دل سے کہہ رہے ہو) تو تمہارے کہنے کو اللہ تعالیٰ سچ کر دکھائے گا، چند دن نہیں گزرے کہ پھر جہاد کا موقع آیا، کیا دیکھتے ہیں کہ میدان جنگ سے ان اعرابی کی نعش کو اس حالت میں اٹھا کر لائے ہیں (کہ جیسا انھوں نے کہا تھا ویسا ہی ہوا ہے) حلق پر جہاں انھوں نے اشارہ کیا تھا وہیں تیر لگی ہے (اور وہ شہید ہو گئے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ کیا یہ وہی شخص ہے کہ جس نے تیر حلق پر لگ کر شہید ہونے کی تمنا کی تھی، صحابہ عرض کئے: حضور! جی ہاں یہ وہی شخص ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: (ہم سے اس نے جو کچھ کہا) پھر اللہ سے بھی وہی کہا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ اس کے کہے کو سچ کر دکھایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جبہ شریف میں اس کو کفنائے اور اس کو سامنے رکھ کر (صحابہ کے ساتھ) اس پر نماز جنازہ ادا فرمائے (نماز جنازہ میں اس کے لئے آپ جو دعائیں فرمائے ہیں وہ تو آہستہ ہوئیں بجملہ ان دعاؤں کے) ایک جو ظاہر میں دعاء سنی گئی وہ یہ تھی: اے اللہ !یہ آپ کے (مقبول اور مخلص) بندے ہیں، یہ اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کر کے آپ ہی کے لئے آئے ہیں اور آپ ہی کے راستہ میں جہاد میں شریک ہوئے ہیں، کفار کے ہاتھ سے مارے جا کر یہ شہید ہوئے ہیں، میں ان کی شہادت پر گواہ ہوں، (آپ ان کی شہادت قبول فرمائیے، ان کی دعاء کا باقی حصہ پورا کر کے ان کو جنت میں داخل کیجئے۔) اس حدیث کی روایت نسائی اور طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1953 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2131

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2496
سعید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں مکحول رضی اللہ عنہ سے سنا ہوں کہ انھوں نے عبادہ بن اوفی نمیری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ شہداء پر نماز جنازہ پڑھنی چاہئے (یا نہیں) تو عبادہ رضی اللہ عنہ جواب دیئے کہ (ہم کو اس میں شک کیوں ہے) شہداء پر نماز جنازہ (ضرور پڑھنی چاہئے۔) اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Ubadah replied.

(1) The statement: "Ubadah replied." At-Tahawi said: "This is Ubadah ibn Awfa saying this, and the campaigns of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) after him were mostly in the direction of Syria. It would not have been hidden from its people what they used to do with their martyrs, such as washing, praying over them, and other things."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فقال عبادة: وقال الطحاوي فهذا عبادة بن أوفى يقول هذا، ومغازي أصحاب رسول الله ﷺ بعد رسول الله ﷺ إنما كان جُلُّها هناك نحو الشام، فلم يكن يخفى على أهله ما كانوا يصنعون بشهدائهم من الغسل والصلاة، وغير ذلك.

Note 1

ف: مذکورہ احادیث سے اور ان کے سوا اور دوسرے احادیث سے شہداء کو غسل دینا کہیں ثابت نہیں ہے اور مذکورہ ہر حدیث سے شہداء پر نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہو رہا ہے، اب ہم کو دیکھنا چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کا کیا عمل رہا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ملک شام میں کثرت سے جہاد ہوئے ہیں وہاں مسلمان شہید ہوئے اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق صحابہ متفق تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام اسی چیز پر عمل کیا کرتے تھے جس پر حضور کے زمانہ میں عمل درآمد رہا ہو، صحابہ کا شہداء پر نماز جنازہ پڑھنے سے معلوم ہوا کہ حضور کے آخر زمانہ تک برابر شہداء پر نماز جنازہ پڑھی جاتی تھی اس وجہ سے صحابہؓ شہداء پر نماز جنازہ پڑھا کرتے تھے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے کہ شہداء پر نماز جنازہ پڑھی جائے۔ (یہ مضمون طحاوی سے ماخوذ ہے۔)12

Hadith 2132

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2497
طاؤس رضی اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات تک جب کبھی جنازہ کے ساتھ چلے ہیں تو جنازہ کے پیچھے ہی چلے ہیں۔ اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

Hadith 2133

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2498
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جنازہ متبوع ہے یعنی جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنا چاہئے، اس کو تابع نہ بنایا جائے یعنی جنازہ کے آگے آگے نہیں چلنا چاہئے، جو شخص جنازہ کے آگے چلتا ہے اس کا شمار جنازہ کے ساتھ چلنے والوں میں نہیں ہوتا۔ (اور اس کو جنازہ کے ساتھ چلنے کا پورا پورا ثواب نہیں ملتا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1009 (unverified) 87% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2134

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2499
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں میں ایک جنازہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور جنازہ کے ساتھ چلنے والوں میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جنازہ کے آگے پیدل چل رہے تھے اور حضرت علی جنازہ کے پیچھے چل رہے تھے، اور میرا ہاتھ حضرت علی کے ہاتھ میں تھا، حضرت علی مجھ سے فرمائے سنو! عبدالرحمن جنازہ کے پیچھے چلنے والے کی فضیلت جنازہ کے آگے چلنے والے پر ایسی ہے جیسے باجماعت نماز پڑھنے والے کی فضیلت تنہا نماز پڑھنے والے پر ہوتی ہے، یہ دونوں حضرات یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی جنازہ کے پیچھے چلنے کی فضیلت کو خوب جانتے ہیں جس طرح میں جانتا ہوں، لیکن یہ دونوں حضرات ازدحام کی وجہ سے لوگوں میں سہولت پیدا کرنے کی خاطر (باوجود جنازہ کے پیچھے چلنے کی فضیلت کو جاننے کے پھر بھی جنازہ کے آگے آگے اس لئے چل رہے ہیں تا کہ لوگوں
Commentary and footnotes (3)

Note 1

They know this, etc.

(1) The statement: "They know this, etc." At-Tahawi said: "This Hadith indicates the superiority of walking behind the funeral over walking in front of it. His statement, 'Abu Bakr and Umar know this just as I know it, but they leave it to make it easier for the people,' is not something said based on opinion. It is only said and known based on what the Messenger of Allah (ﷺ) taught them and made them aware of."

Note 1

قوله

(۱) قوله: إنها ليعلمان إلخ : قال الطحاوي: ففي هذا الحديث تفضيل علي الله المشي خلف الجنازة على المشي أمامها، وقوله: «إن أبا بكر وعمر يعلمان مثل ما أعلم، وإنهما إما يتركان ذلك للتسهيل على الناس، لا لأن ذلك أفضل من غيره، وهذا مما لا يقال بالرأي. إنما يقال ويُعلم بما قد وقفهم عليه رسول الله ، وعلمهم إياه من ذلك.

Note 1

کو معلوم ہو جائے کہ جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے، اگرچہ کہ جنازہ کے آگے چلنے میں کوئی ایسی فضیلت نہیں ہے، جیسے پیچھے چلنے میں ہے۔) اس حدیث کی روایت طحاوی، عبدالرزاق اور ابن شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے، آثار السنن میں ایسا ہی کہا ہے اور ابن حجر نے فتح الباری میں بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔

Hadith 2135

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2500
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ہے کہ جنازہ کے ہمراہ چلنے وقت جنازہ کے پیچھے چلا کرو، کیونکہ فرشتے جنازہ کے آگے چلا کرتے ہیں، اس لئے بنی آدم کو پیچھے چلنا چاہئے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس کی روایت ابوبکر بن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

Hadith 2136

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2501
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک جنازہ کے ساتھ چلنے کے لئے نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا، حضرت ابن عمر دیکھے کہ جنازہ کے ساتھ کچھ عورتیں بھی چل رہی ہیں، آپ فوراً ٹھہر گئے، پھر فرمایا ہے کہ ان عورتوں کو جنازہ کے ساتھ چلنے سے روک دو، اس لئے کہ عورتیں زندہ اور مردہ دونوں کے لئے فتنہ ہیں (جب عورتیں رک گئیں تو) حضرت ابن عمر چلنا شروع کئے اور جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، نافع کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: حضرت ارشاد فرمائے، جنازہ کے ساتھ کس طرح چلنا چاہئے، کیا جنازہ کے آگے چلیں یا پیچھے؟ تو آپ فرمائے کہ کیا تم مجھے نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں جنازہ کے پیچھے چل رہا ہوں۔ (اس سے
Commentary and footnotes (1)

Note 1

تم کو سمجھنا چاہئے کہ جنازہ کے پیچھے چلنا ہی افضل ہے۔ اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔

Hadith 2137

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2502
حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن یزید رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ اگر کسی جنازہ کے ساتھ عورتیں ہوتیں تو حضرت (اسود میرا ہاتھ پکڑتے اور ہم جنازہ کے آگے آگے چلنے اور جب جنازہ کے ساتھ عورتیں نہ ہوتیں تو ہم جنازہ کے پیچھے چلنے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ جنازہ کے پیچھے چلنا ہی افضل ہے، اگر کوئی عذر ہو تو جنازہ کے آگے بھی چل سکتے ہیں۔) اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 2

Al-Aswad, etc.

(2) The statement: "Al-Aswad, etc." At-Tahawi said: "This is Al-Aswad ibn Yazid, despite his long companionship with Abdullah ibn Masud and his companionship with Umar. His intention in walking with the funeral was to walk behind it, except when an issue arose, and he would walk in front of it for that reason, not because he considered it superior. Similarly, what we have narrated from Umar regarding his actions in the funeral of Zainab is based on this understanding, and Allah knows best."

Note 2

قوله

(۲) قوله: كان الأسود إلخ: وقال الطحاوي: فهذا الأسود بن يزيد على طول صحبته لعبد الله بن مسعود، وعلى صحبته لعمر قد كان قصده في المشي مع الجنازة إلى المشي خلفها، إلا أن يعرض له عارض، فيمشي أمامها لذلك العارض، لا لأن ذلك أفضل عنده من غيره، فكذلك عمر ما رويناه عنه فيما فعله في جنازة زينب هو على هذا المعنى عندنا، والله أعلم.

Hadith 2138

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2503Noor 2504
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے وہ تمام شاگرد جو تابعین تھے، جنازہ کے آگے چلنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اگر کوئی شخص (عذر کی وجہ سے) جنازہ کے ہمراہ سواری پر چل رہا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ جنازہ کے پیچھے چلے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3180 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

They used to dislike, etc.

(3) The statement: "They used to dislike, etc." At-Tahawi said: "This is Ibrahim saying this, and when he says, 'They used to,' he means the companions of Abdullah (ibn Masud). They disliked this but would do it out of necessity, as it is better than mixing with women when they are close to the funeral. However, if the women are far from it or there are no women with it, walking behind it is better than walking in front of it, to its right, or to its left. This is the opinion of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad ibn Al-Hasan (may Allah be pleased with them)."

Note 3

قوله

(۳) قوله : كانوا يكرهون إلخ وقال الطحاوي: فهذا إبراهيم يقول هذا، وإذا قال: «كانوا» فإنما يعني بذلك أصحاب عبد الله، فقد كانوا يكرهون هذا، ثم يفعلونه للعذر؛ لأن ذلك هو أفضل من مخالطة النساء إذا قربن من الجنازة. فأما إذا بَعدْنَ منها أو لم يكن معها نساء، فإن المشي خلفها أفضل من المشي أمامها وعن يمينها وعن شمالها. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن الله.

Note 1

ف: واضح ہو کہ جس طرح جنازہ کے آگے چلنے سے جنازہ کے پیچھے چلنا افضل ہے، اسی طرح جنازہ کے دائیں اور بائیں جانب چلنے سے جنازہ کے پیچھے چلنا افضل ہے اور اگر کوئی عذر ہو تو جس طرح جنازہ کے آگے چل سکتے ہیں، اسی طرح جنازہ کے دائیں جانب اور بائیں جانب بھی چل سکتے ہیں۔ (عمدۃ الرعایہ، طحاوی۔)12

Hadith 2139

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2505Noor 2506
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے حضور ملاحظہ فرمائے کہ کچھ لوگ جنازہ کے ساتھ سوار ہیں تو فرمائے کہ کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں سے شرم نہیں آتی کہ فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم لوگ سواریوں پر ہو۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: اسی طرح کی ایک موقوف روایت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1012 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3177 (unverified) 75% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ جنازہ کے ساتھ بغیر عذر کے سواری پر چلنا خواہ جنازہ کے آگے چلیں یا پیچھے ہر حالت میں مکروہ ہے، ہاں اگر عذر ہو تو سواری پر جنازہ کے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے نہیں چلنا چاہئے (درمختار، عالمگیری، مرقات۔)

Hadith 2140

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2507
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن وحداح کو دفن کر کے واپس آنے لگے تو ایک گھوڑا بغیر زین کے خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور اس پر سوار ہو گئے اور ہم حضور کے اطراف پیادہ چلتے ہوئے آ رہے تھے،
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 965b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس سے معلوم ہوا کہ دفن کے بعد سوار ہو کر واپس آ سکتے ہیں۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Hadith 2141

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2508
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کوئی بچہ (مرا ہوا پیدا ہو،) اس میں زندگی کے کوئی آثار ظاہر نہ ہوں اور اس نے کوئی آواز نہ کی ہو تو ایسے بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ وہ کسی کے مال کا وارث ہوگا اور نہ اس کے مال کا کوئی وارث ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1032 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1507 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کے شرط کے موافق صحیح ہے اور حاکم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور شیخ ابن الہمام نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

Hadith 2142

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2509Noor 2510Noor 2511
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمائے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ہمراہ چلے اس کو چاہئے کہ جنازہ کے چاروں طرف کندھا دے، اس لئے کہ جنازہ کے چاروں طرف کندھا دیتے ہوئے چلنا سنت ہے اس کے بعد بھی اگر وہ چاہے تو اسی طرح (چاروں طرف کندھا دیتے ہوئے) چلے (اور یہ مستحب ہے) اور اگر چاہے تو (دوسرے کے حوالے کر کے) علحدہ ہو جائے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور اس کی سند مرسل ہے اور جید ہے، اور بیہقی اور طیالسی نے اس کی روایت ابو عبیدہ سے کی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے جنازہ کے چاروں جانب کندھا دیا، انھوں نے اپنا فرض ادا کیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1478 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

All sides of the bier.

(1) The statement: "All sides of the bier." What is narrated that he (ﷺ) carried the funeral of Sa'd ibn Mu'adh between two poles is weak in its chain. An-Nawawi said: "There is a confirmed text from the Messenger of Allah (ﷺ) regarding carrying it between two poles." This is mentioned in "Sharh Al-Munyah."

Note 1

قوله

(۱) قوله: بجوانب السرير كلها وما روى أنه الله حمل جنازة سعد بن معاذ بين العمودين ضعيف الإسناد. قال النووي: في حملها بين العمودين نص ثابت عن رسول الله ﷺ. قاله في شرح المنية».

Note 1

ف: صدر کی اس حدیث میں اور اس کے بعد آنے والی حدیثوں میں جنازہ کے چاروں طرف کندھا دینے کا ذکر ہے، واضح رہے کہ میت کے چاروں جانب کندھا دینے کی تفصیل اسی باب میں یعنی باب المشى بالجنازة والصلاة عليها کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ کیا جائے۔12

Hadith 2143

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2512
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جنازہ کے ساتھ چلنے کا جو ثواب ہے وہ اس وقت پورا ملتا ہے جب کہ جنازہ کے ساتھ میت کے گھر سے چلیں اور جب جنازہ کے ساتھ چلیں تو صرف جنازہ کے ساتھ چلنا ہی مسنون نہیں ہے بلکہ جنازہ کے چاروں کونوں کو کندھا دیتے ہوئے چلنا سنت ہے اور دفن کے بعد جب قبر پر مٹی ڈالنے کا وقت آئے تو مٹی ڈالنے میں بھی شریک رہے اور (سرہانے کی طرف سے تین پسّو) مٹی ڈالے۔ (یہ مستحب ہے۔) اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے اور حدیث کی سند مرسل اور قوی ہے۔

Hadith 2144

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2513
علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک جنازہ کے ساتھ چل رہے تھے میں نے آپ کو جنازہ کے چاروں کونوں پر کندھا دیتے ہوئے دیکھا۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق نے کی ہے۔

Hadith 2145

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2516
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمانوں کی نابالغ اولاد جو کم عمری میں مر جاتی ہے، جنت میں ایک پہاڑ ہے جہاں ان نابالغ بچوں کو رکھا جاتا ہے، ان بچوں کی پرورش اور نگرانی حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ علیہما الصلوۃ والسلام فرماتے رہتے ہیں: (قیامت تک وہ بچے ایسا ہی پرورش اور نگرانی میں رہیں گے، اور جب قیامت قائم ہوگی تو پھر) حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ان بچوں کو ان کے ماں باپ کے حوالہ کر دیں گے۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، گو بخاری اور مسلم اپنی صحیح میں اس حدیث کو نہیں بیان کئے ہیں۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

In a mountain in Paradise.

(1) The statement: "In a mountain in Paradise." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "The more correct opinion is that the prophets are not questioned, and the children of the believers are also not questioned."

Note 1

قوله

(۱) قوله : في جبل في الجنة وقال في الدر المختار والأصح إن الأنبياء لا يسألون وأطفال المؤمنين.

Note 1

ف: صدر کی حدیث اور اسی قسم کی دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور مسلمانوں کے نابالغ بچے جو کم سنی میں مر جاتے ہیں، ان سے قبر میں منکر نکیر کا سوال نہیں ہوتا۔ درمختار میں ایسا ہی مذکور ہے۔

Hadith 2146

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2517Noor 2518
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: مسلمانوں کی نابالغ اولاد جو کم سنی میں مر جاتی ہے ان کو جنت میں رکھتے ہیں اور ان کی نگرانی اور پرورش حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے رہتے ہیں۔ اسی لئے بیہقی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں کہ بچے جب مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ میں (تیسری تکبیر کے بعد) یہ دعاء کی جائے: اے اللہ! اس مردہ بچے کو ہمارے صبر کا صلہ (یعنی مجمع البحار اور مرقات سے لئے گئے ہیں۔) بنا دیجئے اور اس بچے کو ہمارے لئے مقدمۃ الجیش بنائیے (تاکہ یہ ہماری شفاعت کر کے ہمارے جنت میں جانے کا انتظام کرے اور اس بچے کی وجہ سے ہم کو جو رنج وغم ہوا ہے،) یہ بچہ ہم کو اس کا ثواب دلانے کا ذریعہ بنے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے، کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، گو بخاری اور مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے۔ مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے جو مر جاتے ہیں ان سے قبر میں منکر ونکیر کا سوال نہیں ہوتا ہے، ان مردہ بچوں کی روحوں کو جنت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگرانی میں رکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی مغفرت ہو جاتی ہے تو جو دعاء مغفرت بالغ مسلمانوں کے لئے کی جاتی ہے، ان بچوں کے لئے وہ دعاء کرنے کا موقع اب نہیں رہا، اس لئے بچوں کے لئے کوئی دوسری دعاء ان کے مناسب کرنا چاہئے۔

Hadith 2147

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2519
اس دعاء کو بخاری نے تعلیقاً اس طرح روایت کئے ہیں: اے اللہ! اس مردہ بچے کو ہمارے صبر کا صلہ (یعنی مجمع البحار اور مرقات سے لئے گئے ہیں۔) بنا دیجئے اور اس بچے کو ہمارے لئے مقدمۃ الجیش بنائیے (تاکہ یہ ہماری شفاعت کر کے ہمارے جنت میں جانے کا انتظام کرے) اور اس بچے کو ہمارے لئے ذخیرۂ آخرت بنائیے (جو وہاں ہمارے لئے بروقت کام آوے) اور اس بچے کی وجہ سے ہم کو جو رنج اور غم ہوا ہے، یہ بچہ ہم کو اس کا ثواب دلانے کا ذریعہ ہو۔

Hadith 2148

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2520
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرمائے ہیں کہ امام (تنہا) کسی اونچی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی نیچی جگہ پر رہیں (ایسا ہی امام تنہا نیچی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی اونچی جگہ پر ہوں یہ بھی ناجائز ہے بلکہ امام اور مقتدی دونوں کی جگہ یکساں ہو، اونچی نیچی نہ ہو) نمازِ جنازہ میں جنازہ مثل امام (جیسا کہ مرقات میں ابن الہمام کے حوالے سے مذکور ہے۔12) کے ہے، امام کی طرح جنازہ بھی نہ اونچی جگہ پر ہو اور نہ نیچی جگہ پر، (بلکہ جنازہ اور جنازہ کی نماز پڑھنے والے سب کے سب یکساں ایک ہی سطح پر رہیں۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی نے مجتبی کے کتاب الجنائز میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Above something.

(2) The statement: "Above something." Ibn Al-Humam said: "It is not permissible to pray while the deceased is on an animal or carried by people, as it is like the Imam, and the difference in place prevents following (the Imam)." He also said in another place: "The conditions for its validity are the Islam of the deceased, his purity, and his placement in front of the one praying. For this reason, it is not permissible to pray over an absent person, nor over a present person on an animal or otherwise, nor over someone placed ahead of the one praying, as it is like the Imam in one aspect." This is mentioned in Al-Marqah.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فوق شيء: قال ابن الهمام: ولا تجوز الصلاة والميت على دابة أو أيدي الناس؛ لأنه كالأمام، واختلاف المكان مانع من الاقتداء. وقال في موضع آخر : وشرط صحتها إسلام الميت وطهارته ووضعه أمام المصلي، فلهذا القيد لا تجوز على غائب، ولا حاضر على دابة وغيرها، ولا موضوع يتقدم عليه المصلي، وهو كالإمام من وجه. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: جب معلوم ہوا کہ جنازہ مثل امام کے ہے تو جس طرح امام کا بعض مقتدیوں کے سامنے حاضر رہنا ضروری ہے ایسا ہی جنازہ کا بھی نماز جنازہ ادا کرنے والوں کے سامنے رہنا ضروری ہے، اگر جنازہ بالکل غائب رہے تو اس پر نماز جنازہ جائز نہیں ہے، جیسے امام اور چند مقتدیوں کا ایک سطح پر ہونا ضروری ہے ایسے ہی جنازہ اور نماز جنازہ ادا کرنے والوں میں سے چند کا ایک سطح پر ہونا ضروری ہے، اس لئے اگر جنازہ سواری پر ہو، یا لوگوں کے ہاتھوں پر ہو تو ایسی صورت میں نمازِ جنازہ جائز نہیں، اسی طرح اگر نماز جنازہ پڑھنے والے آگے کھڑے ہوں اور جنازہ پیچھے رکھا ہو تو ایسی صورت میں بھی نماز جنازہ جائز نہیں، اس لئے کہ جنازہ مثل امام کے ہے اور جنازہ کا امام کی طرح مقتدیوں کے سامنے رہنا ضروری ہے۔ (یہ پورا مضمون ابن الہمام کے حوالہ سے مرقات میں مذکور ہے۔)