Ata ibn Abi Rabah reported that the Prophet (ﷺ) prayed over the martyrs of Uhud. [Narrated by Abu Dawud in Al-Marasil] 1
In this chapter, there is also a narration from Jabir (may Allah be pleased with him), narrated by Al-Hakim, who said: "Its chain is authentic." There is also a narration from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), narrated by Ahmad, and from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him), narrated by Al-Daraqutni.
عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداءِ احد پر نماز جنازہ ادا فرمائے ہیں۔
اس کی روایت ابوداؤد نے مراسیل میں کی ہے۔
اس باب میں حاکم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور حاکم نے کہا
ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
اور امام احمد نے بھی اس حدیث کی روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
اور دارقطنی نے بھی اس حدیث کی روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔
(1) His statement: "In Al-Marasil..." In Fath al-Qadir, it is mentioned: "We reject the basis of the opponent's argument in weakening marasil (narrations with missing links in the chain). Even if it is conceded, when supported, it raises its status."
Note 1
قوله
(۱) قوله: في المراسيل وقال في فتح القدير: ونمنع أصل المخالف في تضعيف المراسيل، ولو سلم فعنده إذا اعتضد يرفع معناه.
Ata ibn Abi Rabah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) prayed over the martyrs of Uhud. [Narrated by Abu Dawud in Al-Maraseel] 1
In this chapter, there is a narration from Jabir (may Allah be pleased with him) narrated by Al-Hakim, who said: "Its chain is authentic." There is also a narration from Ibn Masud (may Allah be pleased with him) narrated by Ahmad, and from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) as narrated by Al-Daraqutni.
(1) The statement: "In Al-Maraseel." In Fath Al-Qadeer, it is said: "We deny the foundation of the opponent's claim in weakening Al-Maraseel, and even if we concede, according to them, when it is supported, it elevates its status."
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) searched for Hamzah when the people returned from the battle. A man said, "I saw him near that tree." The Messenger of Allah (ﷺ) went towards him, and when he saw him and the state he was in, he gasped and wept. A man from the Ansar stood and covered him with a garment. Then Hamzah was brought, and the Prophet (ﷺ) prayed over him, then over the martyrs, who were placed beside Hamzah. He prayed over them, then they were taken away, and Hamzah was left until the Prophet (ﷺ) had prayed over all the martyrs. He said, "Hamzah is the chief of the martyrs before Allah on the Day of Resurrection." 1
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوۂ اُحد میں) جب
صحابہ کرام میدان جنگ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس ہونے والوں
میں (حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نظر نہیں آئے (حضور حمزہ کو تلاش کرنا چاہے اور دریافت فرمائے کہ
دیکھو حضرت حمزہ کہاں ہیں) تو ایک صاحب عرض کئے کہ میں نے حضرت حمزہ کو فلاں درخت کے
پاس دیکھا ہے، حضرت اس درخت کے پاس پہنچے تو وہاں حضرت حمزہ کو دیکھے کہ مثلہ کئے ہوئے
ہیں، ناک، کان اور دوسرے اعضاء کٹے ہوئے ہیں، اس منظر کو دیکھ کر حضور کا سینہ غم سے بھر آیا، اور
حضور رونے لگے (حضور کی یہ حالت دیکھ کر) ایک انصاری اٹھے اور حضرت حمزہ کو ایک چادر سے
چھپا دیئے (تاکہ وہ منظر دکھائی نہ دے) پھر حضرت حمزہ (نماز جنازہ پڑھائے جانے کے لئے) لائے
گئے تو حضور ان کی نماز جنازہ ادا فرمائے، (اور حضرت حمزہ کو اسی طرح رکھا گیا، ان پر دوبارہ نماز
جنازہ نہیں پڑھائی گئی) دوسرے شہداء کو میدان جنگ سے لالا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھا جاتا اور
حضور ان پر نمازِ جنازہ ادا فرماتے جاتے، نماز جنازہ کے بعد یہ جنازے اٹھائے جاتے اور دوسرے
نئے جنازے لا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھے جاتے، پھر حضور ان پر نماز جنازہ ادا فرماتے، یہاں
تک کہ تمام شہداء پر حضور نماز جنازہ ادا فرمائے (اور اس وقت تک حضرت حمزہ کا جنازہ برابر اسی مقام
پر رہا، یہ دیکھ کر راوی سمجھے کہ دوسرے شہداء کے ساتھ حضرت حمزہ کی نمازِ جنازہ بھی بار بار ادا ہوئی،
حالانکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ حضرت حمزہ کی نماز ایک ہی مرتبہ ادا ہوئی، اس لئے نماز جنازہ دوبارہ پڑھنا
ثابت نہیں، اور یہی مذہب حنفی ہے) جب سب شہیدوں کی نمازِ جنازہ ادا ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (اگرچہ غزوہ احد میں اور بھی شہید ہوئے ہیں مگر) حضرت حمزہ (جس بے
دردی سے شہید کئے گئے اس وجہ سے) میدانِ قیامت میں حضرت حمزہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے
سید الشہداء پکارے جائیں گے۔
(1) The statement: "Narrated by Al-Hakim, etc." He said: "Its chain is authentic, though the two (Al-Bukhari and Muslim] did not narrate it. However, in its chain is Mufaddal ibn Sadaqah Abu Hamad Al-Hanafi. Although Yahya and Al-Nasa’i weakened him, Al-Ahwazi said: 'Ata ibn Muslim trusted him, and Ahmad ibn Muhammad ibn Shuaib praised him highly.' Ibn Adi said: 'I see no harm in him, so the narration does not fall below the level of Hasan, and it is independently valid as evidence. At the very least, it is suitable as supporting evidence for other narrations.' This is mentioned in Fath Al-Qadeer."
Note 1
قوله
(۱) قوله: رواه الحاكم إلخ وقال : صحيح الإسناد ولم يخرجاه إلا أن في سنده مفضل بن صدقة أبو حماد الحنفي، وهو وإن ضعفه يحيى والنسائي، فقد قال الأهوازي: كان عطاء بن مسلم يوثقه، وكان أحمد بن محمد بن شعيب يثني عليه ثناء تاما. وقال ابن عدي ما أرى به بأسا فلا يقصر الحديث عن درجة الحسن، وهو حجة استقلالا، فلا أقل من صلاحيته عاضدا لغيره. قاله في فتح القدير».
Note 1
اس کی روایت حاکم نے کی ہے۔ اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی
شرط کے مطابق صحیح ہے۔ اگرچہ کہ بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔12
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: They were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud, and he prayed over them in groups of ten, while Hamzah remained as he was. They were taken away, and he remained as he was placed. 2
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (غزوہ اُحد میں
حضرت حمزہ شہید ہوئے تو آپ کے جنازہ کو میدان میں نماز پڑھائے جانے کے لئے لا کر رکھا گیا
اور حضور ان پر صحابہ کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا فرمائے اور نماز کے بعد حضرت حمزہ کا جنازہ حضور کے
سامنے اسی طرح رکھا رہا، اس کے بعد) شہدائے اُحد کے جنازے دس دس کی تعداد میں حضرت حمزہ
کے جنازہ کے بازو رکھے جاتے رہے، اور حضور ان شہداء پر نماز پڑھاتے رہے اور نماز کے بعد ان
شہداء کے جنازے اٹھائے جاتے اور دوسرے نئے جنازے لا کر حضرت حمزہ کے بازو رکھے جاتے
اور حضور ان پر نماز پڑھاتے (اسی طرح آخر تک) حضرت حمزہ کا جنازہ حضور کے سامنے رکھا رہا
(لیکن حضرت حمزہ پر بار بار نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، صرف ابتداء میں ایک ہی بار حضرت حمزہ کی نماز
جنازہ ادا، کی گئی)۔
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1514 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Placed.
(2) The statement: "Placed." If it is said: "It is narrated that the Prophet (ﷺ) prayed over Hamzah seventy times, while the obligation was fulfilled with the first prayer." The response is that he was placed before him, and the martyrs were brought one by one, and he prayed over them each time. The narrator thought he prayed over Hamzah each time, so he said: "He prayed over Hamzah seventy times." This is similar to what Al-Ayni said in Sharh Al-Hidayah.
Note 2
قوله
(۲) قوله: موضوع: فإن قلت : روي إن النبي الله صلى على حمزة سبعين مرة، وكان الفرض قد تأدى بالأولى. قلت: أجيب عنه أنه كان موضوعا بين يديه، فيؤتى بواحد واحد من الذين استشهدوا، وكان يصلي علهم صلاة، فظن الراوي أنه صلى على حمزة في كل مرة، فقال: صلى على حمزة سبعين مرة، مثله قال العلامة العيني في شرح«الهداية».
Shaddad ibn Al-Had reported: A Bedouin man came to the Prophet (ﷺ), believed in him, and followed him. He then said, "I will migrate with you." The Prophet (ﷺ) entrusted him to some of his companions. When a battle took place, the Prophet (ﷺ) gained spoils and distributed them, giving the man his share. His companions took his share, and he tended to their camels. When they returned, they gave him his share. He said, "What is this?" They replied, "Your share from the Prophet’s distribution." He took it and went to the Prophet (ﷺ), saying, "What is this?" The Prophet (ﷺ) said, "I distributed it to you." He said, "I did not follow you for this, but I followed you so that I could be struck here"—pointing to his neck—"with an arrow and die, entering Paradise." The Prophet (ﷺ) said, "If you are truthful with Allah, He will fulfill your wish."
They stayed for a short while, then they rose to fight the enemy. The man was brought to the Prophet (ﷺ), carried after being struck by an arrow where he had pointed. The Prophet (ﷺ) said, "Is this him?" They said, "Yes." He said, "He was truthful with Allah, and Allah fulfilled his wish." The Prophet (ﷺ) shrouded him in his own cloak, placed him forward, and prayed over him, saying, "O Allah, this is Your servant who migrated for Your sake and was killed as a martyr. I bear witness to that."
شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر ایمان لایا، اور آپ کے ساتھ ساتھ ہمیشہ رہا کرتا تھا
پھر عرض کیا (اب میں اپنا وطن چھوڑ کر، ہمیشہ اسی طرح آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں) حضور (اس کی
اجازت دیدیئے اور چونکہ یہ نو وارد تھے اور ابھی ابھی اسلام لائے تھے، اس لئے ایک صحابی کو حکم ہوا کہ
ان کو دینی تعلیم دیا کریں اور ان کی خبرگیری کرتے رہیں اس اثناء میں ایک غزوہ کا موقعہ آیا (اور وہاں
فتح حاصل ہوئی) اور غنیمت ملی اور غنیمت میں چند غلام باندی ہاتھ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
غلام باندی سب کو تقسیم کر دیئے اور ان اعرابی کا بھی جو حضور کے ساتھ رہا کرتے تھے حصہ نکالے اور
اس حصہ کو ان کے ساتھیوں کے حوالے کر دیئے (تاکہ وہ ان اعرابی کو دیدیں) وہ اعرابی اپنے
ساتھیوں کے جانور چرایا کرتے تھے، جب وہ (چراگاہ سے) لوٹے تو ان لوگوں نے ان کا حصہ جو
رکھا ہوا تھا ان کے حوالے کر دیا، ان اعرابی نے کہا یہ کیا ہے؟ اور مجھے یہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ ان کے
ساتھیوں نے کہا یہ تمہارا حصہ ہے، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت سے تم کو عطا
فرمایا ہے، وہ اعرابی اپنا حصہ لئے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر
ہوئے اور عرض کئے: حضور! یہ مجھے دیا گیا ہے، یہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: یہ
تمہارا حصہ ہے، جس کو مال غنیمت سے میں نے تمہیں دیا ہے، ان اعرابی نے عرض کیا: (حضور یہ جو
کچھ مجھے ملا ہے یہ خادم نوازی ہے مگر) میں حضور کے ساتھ یہ حصہ لینے کے لئے نہیں رہا ہوں! میں
اس واسطے حضور کے ساتھ ہوں کہ میرے حلق پر (جہاد میں کفار کی) تیر لگے اور میں شہید ہوکر جنت
میں چلا جاؤں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اگر تم سچے ہو اور (یہ دل سے کہہ رہے
ہو) تو تمہارے کہنے کو اللہ تعالیٰ سچ کر دکھائے گا، چند دن نہیں گزرے کہ پھر جہاد کا موقع آیا، کیا
دیکھتے ہیں کہ میدان جنگ سے ان اعرابی کی نعش کو اس حالت میں اٹھا کر لائے ہیں (کہ جیسا انھوں
نے کہا تھا ویسا ہی ہوا ہے) حلق پر جہاں انھوں نے اشارہ کیا تھا وہیں تیر لگی ہے (اور وہ شہید ہو گئے
ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ کیا یہ وہی شخص ہے کہ جس نے تیر حلق پر لگ کر
شہید ہونے کی تمنا کی تھی، صحابہ عرض کئے: حضور! جی ہاں یہ وہی شخص ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم فرمائے: (ہم سے اس نے جو کچھ کہا) پھر اللہ سے بھی وہی کہا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ اس کے کہے کو
سچ کر دکھایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جبہ شریف میں اس کو کفنائے اور اس کو سامنے رکھ
کر (صحابہ کے ساتھ) اس پر نماز جنازہ ادا فرمائے (نماز جنازہ میں اس کے لئے آپ جو دعائیں
فرمائے ہیں وہ تو آہستہ ہوئیں بجملہ ان دعاؤں کے) ایک جو ظاہر میں دعاء سنی گئی وہ یہ تھی: اے اللہ
!یہ آپ کے (مقبول اور مخلص) بندے ہیں، یہ اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کر کے آپ ہی کے لئے آئے
ہیں اور آپ ہی کے راستہ میں جہاد میں شریک ہوئے ہیں، کفار کے ہاتھ سے مارے جا کر یہ شہید
ہوئے ہیں، میں ان کی شہادت پر گواہ ہوں، (آپ ان کی شہادت قبول فرمائیے، ان کی دعاء کا باقی
حصہ پورا کر کے ان کو جنت میں داخل کیجئے۔)
اس حدیث کی روایت نسائی اور طحاوی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
سعید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں مکحول
رضی اللہ عنہ سے سنا ہوں کہ انھوں نے عبادہ بن اوفی نمیری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ شہداء پر
نماز جنازہ پڑھنی چاہئے (یا نہیں) تو عبادہ رضی اللہ عنہ جواب دیئے کہ (ہم کو اس میں شک کیوں
ہے) شہداء پر نماز جنازہ (ضرور پڑھنی چاہئے۔)
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
(1) The statement: "Ubadah replied." At-Tahawi said: "This is Ubadah ibn Awfa saying this, and the campaigns of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) after him were mostly in the direction of Syria. It would not have been hidden from its people what they used to do with their martyrs, such as washing, praying over them, and other things."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقال عبادة: وقال الطحاوي فهذا عبادة بن أوفى يقول هذا، ومغازي أصحاب رسول الله ﷺ بعد رسول الله ﷺ إنما كان جُلُّها هناك نحو الشام، فلم يكن يخفى على أهله ما كانوا يصنعون بشهدائهم من الغسل والصلاة، وغير ذلك.
Note 1
ف: مذکورہ احادیث سے اور ان کے سوا اور دوسرے احادیث سے شہداء کو غسل دینا کہیں ثابت
نہیں ہے اور مذکورہ ہر حدیث سے شہداء پر نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہو رہا ہے، اب ہم کو دیکھنا چاہئے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کا کیا عمل رہا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ملک شام میں کثرت سے جہاد ہوئے ہیں وہاں مسلمان شہید ہوئے اس پر
نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق صحابہ متفق تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام اسی چیز پر
عمل کیا کرتے تھے جس پر حضور کے زمانہ میں عمل درآمد رہا ہو، صحابہ کا شہداء پر نماز جنازہ پڑھنے سے
معلوم ہوا کہ حضور کے آخر زمانہ تک برابر شہداء پر نماز جنازہ پڑھی جاتی تھی اس وجہ سے صحابہؓ شہداء پر
نماز جنازہ پڑھا کرتے تھے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے کہ شہداء پر نماز جنازہ پڑھی جائے۔
(یہ مضمون طحاوی سے ماخوذ ہے۔)12
طاؤس رضی اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم اپنی وفات تک جب کبھی جنازہ کے ساتھ چلے ہیں تو جنازہ کے پیچھے ہی چلے ہیں۔
اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The funeral is followed, and it does not follow. There is none with it who precedes it." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Ibn Majah]
Al-Tirmidhi said: "Abu Majid, the narrator, is an unknown man." Ali Al-Qari said: "The ignorance of a later narrator does not harm the Mujtahid when the Hadith is established according to him, and he acts upon it."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جنازہ متبوع ہے یعنی جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنا چاہئے، اس کو
تابع نہ بنایا جائے یعنی جنازہ کے آگے آگے نہیں چلنا چاہئے، جو شخص جنازہ کے آگے چلتا ہے اس کا
شمار جنازہ کے ساتھ چلنے والوں میں نہیں ہوتا۔ (اور اس کو جنازہ کے ساتھ چلنے کا پورا پورا ثواب نہیں
ملتا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abdur Rahman ibn Abra reported: I was walking in a funeral procession that included Abu Bakr, Umar, and Ali (may Allah be pleased with them). Abu Bakr and Umar were walking in front of it, while Ali was walking behind it, holding my hand. Ali said, "Indeed, the virtue of a man walking behind the funeral over one who walks in front of it is like the virtue of congregational prayer over individual prayer. They (Abu Bakr and Umar) know this just as I know it, but they make it easy for the people." [Narrated by As-Tahawi, Abdur Razzaq, and Ibn Abi Shaybah, and its chain is authentic]
It is mentioned in "Athar As-Sunan," and Ibn Hajar said in "Al-Fath": "Its chain is Hasan, and it is Mawquf but has the ruling of Marfu'." 1
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں میں ایک
جنازہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور جنازہ کے ساتھ چلنے والوں میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور
حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جنازہ کے آگے پیدل چل رہے تھے اور
حضرت علی جنازہ کے پیچھے چل رہے تھے، اور میرا ہاتھ حضرت علی کے ہاتھ میں تھا، حضرت علی مجھ سے
فرمائے سنو! عبدالرحمن جنازہ کے پیچھے چلنے والے کی فضیلت جنازہ کے آگے چلنے والے پر ایسی ہے
جیسے باجماعت نماز پڑھنے والے کی فضیلت تنہا نماز پڑھنے والے پر ہوتی ہے، یہ دونوں حضرات یعنی
ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی جنازہ کے پیچھے چلنے کی فضیلت کو خوب جانتے ہیں جس طرح میں جانتا
ہوں، لیکن یہ دونوں حضرات ازدحام کی وجہ سے لوگوں میں سہولت پیدا کرنے کی خاطر (باوجود جنازہ
کے پیچھے چلنے کی فضیلت کو جاننے کے پھر بھی جنازہ کے آگے آگے اس لئے چل رہے ہیں تا کہ لوگوں
(1) The statement: "They know this, etc." At-Tahawi said: "This Hadith indicates the superiority of walking behind the funeral over walking in front of it. His statement, 'Abu Bakr and Umar know this just as I know it, but they leave it to make it easier for the people,' is not something said based on opinion. It is only said and known based on what the Messenger of Allah (ﷺ) taught them and made them aware of."
Note 1
قوله
(۱) قوله: إنها ليعلمان إلخ : قال الطحاوي: ففي هذا الحديث تفضيل علي الله المشي خلف الجنازة على المشي أمامها، وقوله: «إن أبا بكر وعمر يعلمان مثل ما أعلم، وإنهما إما يتركان ذلك للتسهيل على الناس، لا لأن ذلك أفضل من غيره، وهذا مما لا يقال بالرأي. إنما يقال ويُعلم بما قد وقفهم عليه رسول الله ، وعلمهم إياه من ذلك.
Note 1
کو معلوم ہو جائے کہ جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے، اگرچہ کہ جنازہ کے آگے چلنے میں کوئی ایسی
فضیلت نہیں ہے، جیسے پیچھے چلنے میں ہے۔)
اس حدیث کی روایت طحاوی، عبدالرزاق اور ابن شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح
ہے، آثار السنن میں ایسا ہی کہا ہے اور ابن حجر نے فتح الباری میں بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند
حسن ہے۔
Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) narrated that his father said to him: "Walk behind the funeral, for its front is for the angels, and its back is for the children of Adam." [Narrated by Abu Bakr ibn Abi Shaybah, and its chain is Hasan.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں
کہ ان کے والد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ہے کہ جنازہ کے ہمراہ چلنے وقت جنازہ
کے پیچھے چلا کرو، کیونکہ فرشتے جنازہ کے آگے چلا کرتے ہیں، اس لئے بنی آدم کو پیچھے چلنا چاہئے۔
Nafi' reported: Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) went out, and I was with him, to a funeral. He saw women with it, so he stopped and said, "Send them back, for they are a trial for the living and the dead." Then he proceeded and walked behind it. I said, "O Abu Abdur Rahman, how should one walk in a funeral? In front of it or behind it?" He replied, "Do you not see me walking behind it?"
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
ایک جنازہ کے ساتھ چلنے کے لئے نکلے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا، حضرت ابن عمر دیکھے کہ جنازہ
کے ساتھ کچھ عورتیں بھی چل رہی ہیں، آپ فوراً ٹھہر گئے، پھر فرمایا ہے کہ ان عورتوں کو جنازہ کے
ساتھ چلنے سے روک دو، اس لئے کہ عورتیں زندہ اور مردہ دونوں کے لئے فتنہ ہیں (جب عورتیں رک
گئیں تو) حضرت ابن عمر چلنا شروع کئے اور جنازہ کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، نافع کہتے ہیں، میں نے
عرض کیا: حضرت ارشاد فرمائے، جنازہ کے ساتھ کس طرح چلنا چاہئے، کیا جنازہ کے آگے چلیں یا
پیچھے؟ تو آپ فرمائے کہ کیا تم مجھے نہیں دیکھ رہے ہو کہ میں جنازہ کے پیچھے چل رہا ہوں۔ (اس سے
Ibrahim reported: Al-Aswad, if there were women with the funeral, would take my hand, and we would walk in front of it. If there were no women with it, we would walk behind it. 2
حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن
یزید رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ اگر کسی جنازہ کے ساتھ عورتیں ہوتیں تو حضرت (اسود میرا ہاتھ
پکڑتے اور ہم جنازہ کے آگے آگے چلنے اور جب جنازہ کے ساتھ عورتیں نہ ہوتیں تو ہم جنازہ کے
پیچھے چلنے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ جنازہ کے پیچھے چلنا ہی افضل ہے، اگر کوئی عذر ہو تو جنازہ کے
آگے بھی چل سکتے ہیں۔) اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
(2) The statement: "Al-Aswad, etc." At-Tahawi said: "This is Al-Aswad ibn Yazid, despite his long companionship with Abdullah ibn Masud and his companionship with Umar. His intention in walking with the funeral was to walk behind it, except when an issue arose, and he would walk in front of it for that reason, not because he considered it superior. Similarly, what we have narrated from Umar regarding his actions in the funeral of Zainab is based on this understanding, and Allah knows best."
Note 2
قوله
(۲) قوله: كان الأسود إلخ: وقال الطحاوي: فهذا الأسود بن يزيد على طول صحبته لعبد الله بن مسعود، وعلى صحبته لعمر قد كان قصده في المشي مع الجنازة إلى المشي خلفها، إلا أن يعرض له عارض، فيمشي أمامها لذلك العارض، لا لأن ذلك أفضل عنده من غيره، فكذلك عمر ما رويناه عنه فيما فعله في جنازة زينب هو على هذا المعنى عندنا، والله أعلم.
It is reported from Ibrahim: "They used to dislike walking in front of the funeral." [Narrated by As-Tahawi]
In a narration by Abu Dawud from Al-Mughirah ibn Shu'bah (may Allah be pleased with him), the Prophet (ﷺ) said, "The rider should walk behind the funeral." 3
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود
رضی اللہ عنہ کے وہ تمام شاگرد جو تابعین تھے، جنازہ کے آگے چلنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔
اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اگر کوئی شخص (عذر کی وجہ سے) جنازہ کے ہمراہ سواری پر چل
رہا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ جنازہ کے پیچھے چلے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3180 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
They used to dislike, etc.
(3) The statement: "They used to dislike, etc." At-Tahawi said: "This is Ibrahim saying this, and when he says, 'They used to,' he means the companions of Abdullah (ibn Masud). They disliked this but would do it out of necessity, as it is better than mixing with women when they are close to the funeral. However, if the women are far from it or there are no women with it, walking behind it is better than walking in front of it, to its right, or to its left. This is the opinion of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad ibn Al-Hasan (may Allah be pleased with them)."
Note 3
قوله
(۳) قوله : كانوا يكرهون إلخ وقال الطحاوي: فهذا إبراهيم يقول هذا، وإذا قال: «كانوا» فإنما يعني بذلك أصحاب عبد الله، فقد كانوا يكرهون هذا، ثم يفعلونه للعذر؛ لأن ذلك هو أفضل من مخالطة النساء إذا قربن من الجنازة. فأما إذا بَعدْنَ منها أو لم يكن معها نساء، فإن المشي خلفها أفضل من المشي أمامها وعن يمينها وعن شمالها. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن الله.
Note 1
ف: واضح ہو کہ جس طرح جنازہ کے آگے چلنے سے جنازہ کے پیچھے چلنا افضل ہے، اسی طرح
جنازہ کے دائیں اور بائیں جانب چلنے سے جنازہ کے پیچھے چلنا افضل ہے اور اگر کوئی عذر ہو تو جس
طرح جنازہ کے آگے چل سکتے ہیں، اسی طرح جنازہ کے دائیں جانب اور بائیں جانب بھی چل سکتے
ہیں۔ (عمدۃ الرعایہ، طحاوی۔)12
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated: We went out with the Prophet (ﷺ) for a funeral, and he saw some people riding. He said, "Do you not feel ashamed? The angels of Allah are on their feet, and you are on the backs of animals." [Narrated by Al-Tirmidhi and Ibn Majah, and Abu Dawud narrated something similar]
Al-Tirmidhi said: "It has also been reported from Thawban as Mawquf."
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازہ کے
ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے حضور ملاحظہ فرمائے کہ کچھ لوگ جنازہ کے ساتھ
سوار ہیں تو فرمائے کہ کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں سے شرم نہیں آتی کہ فرشتے تو پیدل چل رہے
ہیں اور تم لوگ سواریوں پر ہو۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
امام ترمذی نے فرمایا: اسی طرح کی ایک موقوف روایت حضرت ثوبان رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1012 (unverified) 90% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 3177 (unverified) 75% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ جنازہ کے ساتھ بغیر عذر کے سواری پر چلنا خواہ جنازہ کے آگے چلیں یا پیچھے ہر
حالت میں مکروہ ہے، ہاں اگر عذر ہو تو سواری پر جنازہ کے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے نہیں چلنا چاہئے
(درمختار، عالمگیری، مرقات۔)
Jabir ibn Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) was brought a saddled horse, and he rode it when he returned from the funeral of Ibn Ad-Dahdah, while we walked around him.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن وحداح کو دفن کر کے واپس آنے لگے تو ایک گھوڑا بغیر زین کے خدمت
میں پیش کیا گیا تو حضور اس پر سوار ہو گئے اور ہم حضور کے اطراف پیادہ چلتے ہوئے آ رہے تھے،
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said, "A child is not prayed over, does not inherit, and is not inherited from until he cries at birth." [Narrated by Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, and Ibn Majah, except that Ibn Majah did not mention, "and is not inherited from]
It was authenticated by Ibn Hibban and Al-Hakim, who said, "It meets the conditions of the two Sheikhs (Al-Bukhari and Muslim]" Al-Hakim narrated something similar, and Sheikh Ibn Al-Humam said: "Its chain is authentic."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کوئی بچہ (مرا ہوا پیدا ہو،) اس میں زندگی کے کوئی آثار ظاہر نہ
ہوں اور اس نے کوئی آواز نہ کی ہو تو ایسے بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ وہ کسی کے مال کا
وارث ہوگا اور نہ اس کے مال کا کوئی وارث ہوگا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1032 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1507 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے قریب قریب روایت
کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث
بخاری اور مسلم کے شرط کے موافق صحیح ہے اور حاکم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور شیخ ابن الہمام
نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
Abu Ubaydah reported: Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said, "Whoever follows a funeral should carry all sides of the bier, for this is from the Sunnah. Then, if he wishes, he may volunteer, and if he wishes, he may leave it." Narrated by Ibn Majah, and its chain is Jayyid but Mursal]
Al-Bayhaqi and At-Tayalisi narrated from him, and Ibn Abi Shaybah narrated from Abu Ad-Darda' something similar.
In a narration by Abdur Razzaq from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him), he said, "Whoever carries the funeral from all four sides has fulfilled his obligation." 1
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ فرمائے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ہمراہ چلے اس کو چاہئے کہ جنازہ کے چاروں طرف کندھا
دے، اس لئے کہ جنازہ کے چاروں طرف کندھا دیتے ہوئے چلنا سنت ہے اس کے بعد بھی اگر وہ
چاہے تو اسی طرح (چاروں طرف کندھا دیتے ہوئے) چلے (اور یہ مستحب ہے) اور اگر چاہے تو
(دوسرے کے حوالے کر کے) علحدہ ہو جائے۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور اس کی سند مرسل ہے اور جید ہے، اور بیہقی اور طیالسی
نے اس کی روایت ابو عبیدہ سے کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔
اور عبدالرزاق کی روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے
کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے جنازہ کے چاروں جانب کندھا دیا، انھوں
نے اپنا فرض ادا کیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1478 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
All sides of the bier.
(1) The statement: "All sides of the bier." What is narrated that he (ﷺ) carried the funeral of Sa'd ibn Mu'adh between two poles is weak in its chain. An-Nawawi said: "There is a confirmed text from the Messenger of Allah (ﷺ) regarding carrying it between two poles." This is mentioned in "Sharh Al-Munyah."
Note 1
قوله
(۱) قوله: بجوانب السرير كلها وما روى أنه الله حمل جنازة سعد بن معاذ بين العمودين ضعيف الإسناد. قال النووي: في حملها بين العمودين نص ثابت عن رسول الله ﷺ. قاله في شرح المنية».
Note 1
ف: صدر کی اس حدیث میں اور اس کے بعد آنے والی حدیثوں میں جنازہ کے چاروں طرف
کندھا دینے کا ذکر ہے، واضح رہے کہ میت کے چاروں جانب کندھا دینے کی تفصیل اسی باب میں یعنی
باب المشى بالجنازة والصلاة عليها کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ کیا جائے۔12
Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) narrated: "The completion of carrying the funeral is to accompany it with its family, to carry it from all four sides, and to lower it into the grave."
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جنازہ کے ساتھ چلنے
کا جو ثواب ہے وہ اس وقت پورا ملتا ہے جب کہ جنازہ کے ساتھ میت کے گھر سے چلیں اور جب
جنازہ کے ساتھ چلیں تو صرف جنازہ کے ساتھ چلنا ہی مسنون نہیں ہے بلکہ جنازہ کے چاروں کونوں
کو کندھا دیتے ہوئے چلنا سنت ہے اور دفن کے بعد جب قبر پر مٹی ڈالنے کا وقت آئے تو مٹی ڈالنے
میں بھی شریک رہے اور (سرہانے کی طرف سے تین پسّو) مٹی ڈالے۔ (یہ مستحب ہے۔)
اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے اور حدیث کی سند مرسل اور قوی ہے۔
علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی
اللہ عنہما ایک جنازہ کے ساتھ چل رہے تھے میں نے آپ کو جنازہ کے چاروں کونوں پر کندھا دیتے
ہوئے دیکھا۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The children of the believers are in a mountain in Paradise, cared for by Ibrahim and Sarah until they are returned to their parents on the Day of Resurrection." [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak, and he said: "This Hadith is authentic according to the conditions of the two Sheikhs (Al-Bukhari and Muslim], but they did not narrate it"] 1
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمانوں کی نابالغ اولاد جو کم عمری میں مر جاتی ہے، جنت میں ایک
پہاڑ ہے جہاں ان نابالغ بچوں کو رکھا جاتا ہے، ان بچوں کی پرورش اور نگرانی حضرت ابراہیم اور
حضرت سارہ علیہما الصلوۃ والسلام فرماتے رہتے ہیں: (قیامت تک وہ بچے ایسا ہی پرورش اور نگرانی
میں رہیں گے، اور جب قیامت قائم ہوگی تو پھر) حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ان بچوں کو ان
کے ماں باپ کے حوالہ کر دیں گے۔
اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس
کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، گو بخاری اور مسلم اپنی صحیح میں اس حدیث کو نہیں بیان
کئے ہیں۔
(1) The statement: "In a mountain in Paradise." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "The more correct opinion is that the prophets are not questioned, and the children of the believers are also not questioned."
Note 1
قوله
(۱) قوله : في جبل في الجنة وقال في الدر المختار والأصح إن الأنبياء لا يسألون وأطفال المؤمنين.
Note 1
ف: صدر کی حدیث اور اسی قسم کی دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم
الصلوۃ والسلام اور مسلمانوں کے نابالغ بچے جو کم سنی میں مر جاتے ہیں، ان سے قبر میں منکر نکیر کا سوال
نہیں ہوتا۔ درمختار میں ایسا ہی مذکور ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Indeed, the offspring of the believers are in Paradise, cared for by Ibrahim." [Narrated by Al-Hakim in Al-Mustadrak, and he said: "This Hadith has an authentic chain, but the two Sheikhs did not narrate it"]
Al-Bayhaqi also narrated from Abu Hurairah that when the deceased is a child, it is recommended for the one praying to say: 'O Allah, make him a precursor, a forerunner, and a reward for us.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: مسلمانوں کی نابالغ اولاد جو کم سنی میں مر جاتی ہے ان کو جنت میں
رکھتے ہیں اور ان کی نگرانی اور پرورش حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے رہتے ہیں۔
اسی لئے بیہقی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کئے ہیں کہ بچے جب
مر جائیں تو ان کی نماز جنازہ میں (تیسری تکبیر کے بعد) یہ دعاء کی جائے:
اے اللہ! اس مردہ بچے کو ہمارے صبر کا صلہ (یعنی مجمع البحار اور مرقات سے لئے گئے ہیں۔)
بنا دیجئے اور اس بچے کو ہمارے لئے مقدمۃ الجیش بنائیے (تاکہ یہ ہماری شفاعت کر کے ہمارے
جنت میں جانے کا انتظام کرے اور اس بچے کی وجہ سے ہم کو جو رنج وغم ہوا ہے،) یہ بچہ ہم کو اس کا
ثواب دلانے کا ذریعہ بنے۔
اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے، کہ اس حدیث کی سند صحیح
ہے، گو بخاری اور مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے۔
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے جو مر جاتے ہیں ان سے قبر میں منکر ونکیر کا سوال
نہیں ہوتا ہے، ان مردہ بچوں کی روحوں کو جنت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگرانی میں
رکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی مغفرت ہو جاتی ہے تو جو دعاء مغفرت بالغ مسلمانوں کے
لئے کی جاتی ہے، ان بچوں کے لئے وہ دعاء کرنے کا موقع اب نہیں رہا، اس لئے بچوں کے لئے کوئی
دوسری دعاء ان کے مناسب کرنا چاہئے۔
اس دعاء کو بخاری نے تعلیقاً اس طرح روایت کئے ہیں:
اے اللہ! اس مردہ بچے کو ہمارے صبر کا صلہ (یعنی مجمع البحار اور مرقات سے لئے گئے ہیں۔)
بنا دیجئے اور اس بچے کو ہمارے لئے مقدمۃ الجیش بنائیے (تاکہ یہ ہماری شفاعت کر کے ہمارے
جنت میں جانے کا انتظام کرے) اور اس بچے کو ہمارے لئے ذخیرۂ آخرت بنائیے (جو وہاں ہمارے
لئے بروقت کام آوے) اور اس بچے کی وجہ سے ہم کو جو رنج اور غم ہوا ہے، یہ بچہ ہم کو اس کا ثواب
دلانے کا ذریعہ ہو۔
Abu Mas'ud Al-Ansari (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the Imam from standing above something while the people are behind him, meaning at a lower level than him. 2
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرمائے ہیں کہ امام (تنہا) کسی اونچی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی نیچی
جگہ پر رہیں (ایسا ہی امام تنہا نیچی جگہ پر کھڑا ہو اور مقتدی اونچی جگہ پر ہوں یہ بھی ناجائز ہے بلکہ امام
اور مقتدی دونوں کی جگہ یکساں ہو، اونچی نیچی نہ ہو) نمازِ جنازہ میں جنازہ مثل امام (جیسا کہ مرقات
میں ابن الہمام کے حوالے سے مذکور ہے۔12) کے ہے، امام کی طرح جنازہ بھی نہ اونچی جگہ پر ہو
اور نہ نیچی جگہ پر، (بلکہ جنازہ اور جنازہ کی نماز پڑھنے والے سب کے سب یکساں ایک ہی سطح پر
رہیں۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی نے مجتبی کے کتاب الجنائز میں کی ہے۔
(2) The statement: "Above something." Ibn Al-Humam said: "It is not permissible to pray while the deceased is on an animal or carried by people, as it is like the Imam, and the difference in place prevents following (the Imam)." He also said in another place: "The conditions for its validity are the Islam of the deceased, his purity, and his placement in front of the one praying. For this reason, it is not permissible to pray over an absent person, nor over a present person on an animal or otherwise, nor over someone placed ahead of the one praying, as it is like the Imam in one aspect." This is mentioned in Al-Marqah.
Note 2
قوله
(۲) قوله: فوق شيء: قال ابن الهمام: ولا تجوز الصلاة والميت على دابة أو أيدي الناس؛ لأنه كالأمام، واختلاف المكان مانع من الاقتداء. وقال في موضع آخر : وشرط صحتها إسلام الميت وطهارته ووضعه أمام المصلي، فلهذا القيد لا تجوز على غائب، ولا حاضر على دابة وغيرها، ولا موضوع يتقدم عليه المصلي، وهو كالإمام من وجه. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: جب معلوم ہوا کہ جنازہ مثل امام کے ہے تو جس طرح امام کا بعض مقتدیوں کے سامنے
حاضر رہنا ضروری ہے ایسا ہی جنازہ کا بھی نماز جنازہ ادا کرنے والوں کے سامنے رہنا ضروری ہے،
اگر جنازہ بالکل غائب رہے تو اس پر نماز جنازہ جائز نہیں ہے، جیسے امام اور چند مقتدیوں کا ایک سطح پر
ہونا ضروری ہے ایسے ہی جنازہ اور نماز جنازہ ادا کرنے والوں میں سے چند کا ایک سطح پر ہونا ضروری
ہے، اس لئے اگر جنازہ سواری پر ہو، یا لوگوں کے ہاتھوں پر ہو تو ایسی صورت میں نمازِ جنازہ جائز نہیں،
اسی طرح اگر نماز جنازہ پڑھنے والے آگے کھڑے ہوں اور جنازہ پیچھے رکھا ہو تو ایسی صورت میں بھی
نماز جنازہ جائز نہیں، اس لئے کہ جنازہ مثل امام کے ہے اور جنازہ کا امام کی طرح مقتدیوں کے سامنے
رہنا ضروری ہے۔ (یہ پورا مضمون ابن الہمام کے حوالہ سے مرقات میں مذکور ہے۔)
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: "In Al-Marasil..." In Fath al-Qadir, it is mentioned: "We reject the basis of the opponent's argument in weakening marasil (narrations with missing links in the chain). Even if it is conceded, when supported, it raises its status."
Note 1
(۱) قوله: في المراسيل وقال في فتح القدير: ونمنع أصل المخالف في تضعيف المراسيل، ولو سلم فعنده إذا اعتضد يرفع معناه.