Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 11

(یہ باب نماز کی صفت یعنی کیفیت کے بیان میں ہے)

58 narrations · In source reading order

Hadith 1083

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1220Noor 1221
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم پیغمبروں کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار جلد کریں اور سحر کرنے میں تاخیر کریں اور نماز میں اپنے سیدھے ہاتھوں کو اپنے بائیں ہاتھوں پر رکھیں۔ (اس کی روایت طبرانی نے سند صحیح سے کی ہے اور طیالسی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔) اور مسلم کی ایک روایت میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 401 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1084

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1222
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں نماز میں بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ پر رکھا ہوا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سیدھے ہاتھ کو پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 811 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 888 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1085

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1223Noor 1224
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) لوگوں کو حکم تھا کہ وہ نماز میں اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا کریں۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔) اور نسائی کی ایک روایت میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) یہ بات ٹھان لی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دیکھوں گا کہ آپ کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر فرمایا پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے برابر اٹھائے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سیدھے ہاتھ (کی ہتھیلی کو) بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھ کر سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلیا سے (حلقہ بنا کر) بائیں ہاتھ کے پہنچے کو (اس طرح) پکڑ لیا کہ (سیدھے ہاتھ کی باقی تین انگلیاں بائیں ہاتھ کے) پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 740 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 889 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 798 (unverified) 92% confidence

Mishkat (candidate) 798

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کے متعلق حنفی مذہب میں تین قول ہیں،(1) ایک یہ ہے کہ پہلے اللہ اکبر کہے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس کی روایت نسائی نے کی ہے،(2) دوسرا قول یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ اور رفع یدین ساتھ ساتھ کئے جائیں، جیسا کہ وائل رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور بیہقی نے کی ہے، اس قول کو خانیہ، خلاصہ، تحفہ، بدائع، محیط، قدوری اور قاضی خان نے اختیار کیا ہے اور بقانی نے اس دوسرے قول کو جمیع احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور حلیہ نے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے،(3) تیسرا قول یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے پھر اللہ اکبر کہے اور یہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام بخاری نے کی ہے، نیز ابن ماجہ، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی سے بھی اس حدیث کی روایت ہے، مجمع نے اس قول کو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ سے منسوب کیا ہے اور مبسوط میں لکھا ہے کہ اس تیسرے قول کو اکثر فقہائے احناف نے اختیار کیا ہے اور غایۃ البیان نے بھی اس قول کو جمہور علماء احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور صاحب ہدایہ کے پاس یہی تیسرا قول مفتی بہ ہے۔ (ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ۔) ف(2): نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ تین طرح کی ہیں، ایک حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ سے پکڑنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنے کا ذکر ہے اور تیسری حدیث میں ہاتھ کو پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رکھنے کا ذکر ہے۔ واضح رہے کہ جب کبھی کسی مسئلہ میں مختلف حدیثیں آتی ہیں جس سے ان میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے تو اُصولیین کا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ایسی کوشش کی جائے کہ ان جملہ مختلف احادیث پر عمل ہوسکے اور ان میں سے کوئی حدیث چھوٹنے نہ پائے۔ اسی قاعدے کے پیش نظر ہمارے فقہاء نے تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو مختلف احادیث آئی ہیں ان سب پر اس طرح عمل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث بھی چھوٹنے نہیں پاتی، اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں سنت یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلی سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کے پہنچے کو اس طرح پکڑ لے کہ باقی تین انگلیاں بائیں پہنچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رہیں۔ اس سے یہ صادق آتا ہے کہ نمازی نے اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا ہے اور اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں کلائی پر بھی رکھا ہے اور اپنے بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ سے پکڑ لیا ہے، اس طرح نمازی نے ہاتھ باندھنے سے متعلقہ جملہ مختلف حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ (حلبی، ردالمحتار)۔ ف(3): نماز میں ہاتھ باندھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھیں۔ (طحاوی۔)

Hadith 1086

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1225
علقمہ بن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وائل رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہیں۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے،) اور عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، حافظ قاسم بن قطلوبغا اور شیخ عابد سندھی نے بھی اسی طرح کہا ہے اور علامہ ابوالطیب المدنی نے کہا ہے کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے قوی ہے۔

Hadith 1087

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1226
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نماز میں ناف کے نیچے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، امام احمد اور ابن ابی شیبہ، دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 756 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1088

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1227
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز میں ناف کے نیچے اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا کرتے تھے۔(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کے نیچے ہاتھ رکھنے کا حکم مردوں سے متعلق ہے، اس کے برخلاف عورتیں تکبیر تحریمہ کے بعد اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر باندھ لیں۔(سعایہ)۔

Hadith 1089

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1228
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نماز میں قیام دراز ہو وہ نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 756a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قیام کو طویل کرنا زیادہ رکعتوں کے پڑھنے سے افضل ہے، جیسے ایک شخص رکعتیں کم پڑھتا ہے مگر زیادہ قرآن پڑھ کر قیام کو طویل کر رہا ہے تو ایسے شخص کی نماز اس شخص کی نماز سے افضل ہے جو قیام میں قرآن کم پڑھتا ہے لیکن زیادہ رکعتیں ادا کرتا ہو، اس لئے قیام میں قرآن پڑھا جاتا ہے لیکن زیادہ رکعتوں کے رکوع اور سجود میں زیادہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں اور ظاہر ہے کہ قرآن کو تسبیحات پر فضیلت حاصل ہے۔ طویل قیام کو رکعتوں کی کثرت پر اس لئے بھی فضیلت حاصل ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں آٹھ رکعات ادا فرماتے لیکن ان رکعتوں میں قرآن کی طویل ترین سورتیں تلاوت فرما کر قیام کو طویل فرمایا کرتے تھے حنفی مذہب میں طویل قیام کی فضیلت ہی پر فتویٰ ہے۔ واضح رہے کہ زیادہ رکعتوں کے پڑھنے پر طویل قیام کو جو فضیلت حاصل ہے، اس کا تعلق نوافل سے ہے اس کے برخلاف فرض نمازوں کے قیام، رکوع اور سجدہ کو سنت کے موافق ادا کرنا ہی افضل ہے۔ (ملتقی، کنز، مرقات۔)

Hadith 1090

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1229
عباس بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ یہ چار صحابہ یعنی) ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم ایک جگہ جمع ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا آپس میں تذکرہ کیا، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ میں تم میں سب سے بہتر جانتا ہوں (یہ کہہ کر آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع کرنے کو اس طرح بیان کیا کہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں اپنے دونوں گھٹنوں پر اس طرح رکھ دیئے گویا ان سے گھٹنوں کو پکڑے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو کھینچی ہوئی کمان کی تانت کی طرح بنا کر ان کو پہلوؤں سے جدا رکھا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 260 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1091

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1230Noor 1231
ابوعبدالرحمن سُلَمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (نماز میں رکوع کے وقت) سنت یہ ہے کہ گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑ لیا جائے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔) اور طبرانی کی ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بیٹے! جب تم رکوع کرو تو دونوں ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ کر ہاتھوں کی انگلیوں کو پھیلا دو اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1034 (unverified) 55% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 808 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 808

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: رکوع کرنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے اس کے برخلاف عورتیں رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر گھٹنوں پر رکھ دیں اور دونوں بازو پہلو سے خوب ملائے رکھیں اور دونوں پیر کے ٹخنے بالکل ملا دیں۔ (ردالمحتار، طحاوی۔)

Hadith 1092

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1232
وابصہ بن معبدؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ جب آپؐ رکوع فرماتے تو اپنی پشت مبارک کو اس قدر سیدھی رکھتے کہ اگر اس پر پانی ڈال دیا جاتا تو ٹھہر جاتا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 872 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1093

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1233
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تو سر مبارک کو نہ اوپر اٹھاتے اور نہ نیچے جھکاتے بلکہ درمیانی حالت میں (پیٹھ کے برابر رکھتے۔) (اس کی روایت ابن ماجہ، ترمذی، مسلم اور ابن حبان نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 498 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1094

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1234Noor 1235Noor 1236
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھایا کرتے تو فوراً سجدہ نہیں کرتے جب تک کہ اطمینان کے ساتھ سیدھے کھڑے نہیں ہو جاتے تھے اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو فوراً دوسرا سجدہ نہیں کرتے تھے جب تک کہ (دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے) نہیں بیٹھ جاتے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔) اور ابوداؤد میں ابوحمید رضی اللہ عنہ سے جو طویل حدیث مروی ہے (اس حدیث میں قومہ کے بعد سجدہ کرنے کا اس طرح ذکر ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قومہ کے بعد) فوراً زمین پر سجدہ میں گر جاتے اور (سجدہ کی حالت میں) اپنے دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے علیحدہ رکھتے اور اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اس طرح موڑتے کہ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف رہتا پھر سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے پھر آپ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہر ہڈی اچھی طرح اپنی اپنی جگہ قرار پا جاتی پھر دوسرا سجدہ فرماتے۔ اور ابوداؤد کی ایک دوسری روایت (جو ابوحمید رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، اس میں سجدہ کی کیفیت میں یہ بھی اضافہ ہے) کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (سجدہ میں) سجدے سے فارغ ہونے تک اپنی رانوں کو کشادہ رکھتے اور شکم مبارک کے کسی حصہ کو رانوں سے لگنے نہ دیتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 730 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 869 (unverified) 87% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: سجدہ کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں جب سجدے میں جائیں تو زمین پر پہلے گھٹنے رکھیں پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور انگلیاں خوب ملا لیں، پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پیشانی رکھیں اور سجدے کے وقت پیشانی اور ناک دونوں زمین پر رکھ دیں اور ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھیں مگر پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ دہنی طرف کو پاؤں نکال دیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں کہ پیٹ دونوں رانوں سے اور بازو دونوں پہلوؤں سے ملا دیویں اور دونوں بازو زمین پر رکھ دیں۔ (درمختار)۔

Hadith 1095

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1237
ابو اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں چہرہ مبارک کہاں رکھتے تھے؟ تو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (چہرہ کو سجدہ کی حالت میں) اپنے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور طحاوی نے کی ہے اور مسلم، ابوداؤد اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 271 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1096

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1238Noor 1239
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے مقابل رہتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی، عبدالرزاق اور اسحاق بن راہویہ نے کی ہے۔) اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ (قومہ کے بعد) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر فرما کر سجدہ کیا تو سجدہ میں آپ کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے ایسے ہی مقابل تھے جیسا کہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت آپ کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے مقابل رہتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 889 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1097

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1240
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (دوسرے سجدے کے بعد جب دوسری یا چوتھی رکعت کے لئے اٹھتے تو زمین پر یا گھٹنوں (جیسا کہ شرح سفر السعادہ میں مذکور ہے 12) پر ہاتھ ٹیکے بغیر اور جلسہ استراحت کئے بغیر) اپنے پیر کے پنجوں کے بل اٹھتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہا ہے کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔)

[Narrated by Al-Tirmidhi, who said: This is the practice followed by the people of knowledge]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 288 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(جلسہ استراحت یہ ہے کہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے یا تیسری رکعت کے دوسرے سجدے سے فارغ ہونے کے بعد جب قیام کے لئے اٹھیں تو کچھ دیر بیٹھ کر اٹھیں اور یہ جلسہ استراحت حنفی مذہب میں ثابت نہیں ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ۔) ف: اس حدیث میں پیر کے پنجوں کے بل اٹھنے کا جو ذکر ہے وہ دوسرے سجدے کے بعد دوسری یا چوتھی رکعت کے قیام کے لئے اٹھنے سے متعلق ہے اور اس میں اٹھتے وقت ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیکنے کی اور جلسہ استراحت کرنے کی ممانعت ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ لیکن ضعیف العمری یا کسی اور عذر کی وجہ ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیکنے کے بغیر اٹھنا ممکن نہ ہو تو جلسہ استراحت کرکے بغیر ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیک کر اٹھ سکتے ہیں۔ (ردالمحتار، شرح سفر السعادت، عینی، فتح القدیر۔)

Hadith 1098

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1241
عیاش بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسی مجلس میں تھے جس میں ان کے والد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں موجود تھے اور اس مجلس میں ابوہریرہ، ابو اسید اور ابوحُمید الساعدی اور دیگر انصار رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے اور یہ سب آپس میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کر رہے تھے تو ابوحُمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، کیوں کہ میں نے بہت جستجو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا ہے، یہ سن کر صحابہ نے کہا اچھا ہمیں بتلائیے تو! ابوحُمید اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور سب دیکھنے لگے (ابوحُمید نے) اس طرح نماز شروع کی کہ پہلے ”اللہ اکبر “ کہا اور فقط اسی تکبیر اول کے وقت ہاتھ اٹھائے پھر عیاش نے یہی طویل حدیث بیان کرتے ہوئے (دوسرے سجدے سے قیام کے لئے کھڑے ہونے کا ذکر اس طرح کیا کہ) ابوحُمید رضی اللہ عنہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے جب سر اٹھاتے تو جلسہ استراحت کئے بغیر سیدھے کھڑے ہو گئے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1099

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1242Noor 1243
روایت کی گئی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں (دوسرے سجدے کے بعد جب قیام کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوتے تھے اور جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ اور بیہقی کی دوسری روایت میں ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے اسی طرح مروی ہے۔ (کہ وہ بھی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)

Hadith 1100

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1244
شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر، حضرت علی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اصحاب رضی اللہ عنہم نماز میں (دوسرے سجدے کے بعد قیام کے لئے اٹھتے) تو اپنے پنجوں کے بل اٹھتے تھے (اور جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔) (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Hadith 1101

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1245Noor 1246
نعمان بن ابی عیاش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہ (کا زمانہ) پایا ہے اور (دیکھا ہے کہ) ان میں سے ہر ایک جب پہلی رکعت اور تیسری رکعت کے سجدۂ ثانیہ سے اپنے سر کو اٹھایا کرتے تو جلسہ استراحت کے بغیر کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔) اور عبدالرزاق نے ابن مسعود، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی اس طرح روایت کی ہے، (کہ یہ سب حضرات بھی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)

Hadith 1102

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1247
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی کو (دوسرے سجدہ سے دوسری یا چوتھی رکعت کے لئے یا قعدہ اولیٰ سے تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت) اپنے ہاتھوں سے (زمین یا زانو پر) ٹیکا دینے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 992 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1103

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1248
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھتے تھے اور سیدھے پیر کو کھڑا کرتے۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری اور امام ابن المبارک اور کوفہ والوں کا بھی یہی قول ہے، ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: قعدہ میں بیٹھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں قعدہ میں یا دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بائیں چوتڑ پر بیٹھیں اور اپنے دونوں پاؤں اور داہنی طرف نکال دیویں اور دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیں اور انگلیاں خوب ملا کر رکھیں۔ (ردالمحتار۔)

Hadith 1104

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1249
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فرزند ہیں وہ اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نماز کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ (جب نماز میں بیٹھے) تو سیدھا قدم کھڑا کیا جائے اور اس کی انگلیاں قبلہ رخ رہیں، اور بائیں پیر پر بیٹھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1157 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1105

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1250
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے فرمایا کہ جب تم (نماز میں) بیٹھو تو (بایاں پیر بچھا کر) اس پر بیٹھا کرو۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 860 (unverified) 55% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ذیل میں جو حدیثیں آ رہی ہیں ان کے مطالعہ سے پہلے ضروری ہے کہ چند امور کی وضاحت پیش نظر رہے تا کہ ان احادیث کا مفہوم سمجھ میں آسکے۔ نماز کے قعدہ اخیر میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کے متعلق مذہب حنفی یہ ہے کہ مطلقاً درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے، چنانچہ سعایہ میں لکھا ہے کہ ”ان السنة المؤكدة هو مطلق الصلوة بعد التشهد لاخصوص بعض الفاظها واليه يشير كلام عامة فقهائنا“۔ (التحیات کے بعد نماز میں درود شریف پڑھنے کے بارے میں جو مختلف الفاظ آئے ہیں ان میں سے بلا قید الفاظ مطلقاً کسی ایک درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے اور عامۂ فقہاء کا قول یہی ہے۔) شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ نے مبسوط میں درود کے متعلق تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا شمار فرائض نماز سے نہیں ہے، درود کے فرض نہ ہونے پر فقہاء حنفیہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام بھیجنا ہم نے سیکھ لیا اب ارشاد فرمائیے کہ نماز میں ہم آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا اس طرح پڑھو! ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ“۔ (اے اللہ درود نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم پر۔) اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو درود اس وقت سکھایا جبکہ آپ سے درود کے متعلق پوچھا گیا، اگر نماز میں درود کا پڑھنا فرض ہوتا تو آپ پوچھنے سے پہلے ہی سکھا دیئے، نماز میں درود کے فرض نہ ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایک اعرابی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض نماز سکھائے تو اس میں درود کا ذکر نہیں فرمایا۔ (یہاں مبسوط کی عبارت ختم ہوئی۔) علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ نماز میں تشہد اور درود کے بعد ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہہ کر نماز کو ختم کرنے کے بارے میں دو(2) روایتیں آئی ہیں، ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز ختم کرنا واجب ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ سنت ہے، علامہ عینی نے عطاء بن ابی رباح، سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، قتادہ، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، ابن جریر طبری ان سب حضرات رحمۃ اللہ رضوان کا یہ متفقہ قول نقل کیا ہے کہ آخر نماز میں ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہنا فرض نہیں ہے اسی وجہ سے اگر نمازی نماز کے آخر میں سلام کو ترک کردے تو نماز باطل نہیں ہوگی۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رد المحتار میں فتح کے حوالے سے سلام کے سنت ہونے پر دوسرا قول بھی نقل کیا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے اور یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نیز سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، امام اوزاعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے، اس وجہ سے سلام کہے بغیر نماز کو ختم کردیا جائے تو بھی نماز درست ہو جائے گی، امام ابن قاسم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب امام آخر نماز میں سلام سے پہلے قصداً وضو توڑ دے تو بھی اس کی نماز درست ہوگی۔ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر دلیل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھائی تو ارشاد فرمایا کہ جب تم (قعدہ اخیرہ میں) تشہد پڑھ چکو تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اُس کے بعد اگر تم چاہو تو اُٹھ جاؤ یا چاہو تو بیٹھے رہو۔ سلام سے پہلے اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کے بعد بیٹھے رہنے یا اٹھ جانے میں اختیار دے دینے سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا نہ تو فرض ہے نہ واجب، البتہ فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے بالعموم آخر میں لفظ سلام کہنے کو جو واجب قرار دیا ہے وہ احتیاط کی بناء پر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لفظ سلام سے نماز ختم فرمایا کرتے تھے ورنہ حقیقت میں لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر حدیث اعرابی سے استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعرابی کو نماز سکھائی تو لفظ سلام کا ذکر نہیں فرمایا اگر لفظ ”سلام“ واجب یا فرض ہوتا کہ اس کے بغیر نماز کا ختم کرنا درست نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لفظ سلام کا ذکر فرماتے۔ السعایہ میں مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازی قعدہ اخیرہ میں تشہد اور درود کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر نماز ختم کرے اور یہ سنت ہے۔ (یہ مضمون عینی شرح ہدایہ، العنایہ، فتح القدیر اور منیۃ المصلی سے ماخوذ ہے۔) (یعنی اپنے فعل سے نماز سے باہر آنا) فرائض نماز میں ایک فرض یہ بھی ہے کہ نمازی عمداً کسی ایسے فعل سے جو منافی نماز ہو، اپنی نماز کو ختم کرے۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ردالمحتار“ میں ”بحر“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نمازی کے لئے یہ فرض ہے کہ جب نماز پوری ہوجائے تو وہ نماز سے باہر ہونے کے لئے اپنے اختیار سے ایسی حرکت کرے جو نماز کے منافی ہو، تاتارخانیہ نے اس کی صراحت اس طرح کی ہے کہ نماز پوری ہونے پر قہقہہ مار کر ہنس دے یا قصداً وضو توڑ دے، یا بات کرے، یا اٹھ کر چلا جائے یا سلام کرے، نمازی عمداً اپنے کسی فعل سے نماز کے منافی حرکت کرتے تو اس سے نماز تو پوری ہوجاتی ہے لیکن اگر سلام کے ذریعہ نماز ختم کرلے تو بیک وقت فرض اور سنت دونوں ادا ہوجاتے ہیں۔

Hadith 1106

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1251
قاسم بن مخیمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کا (یعنی علقمہ رضی اللہ عنہ کا) ہاتھ پکڑ کر وہ التحیات سکھائی جو نماز میں پڑھی جاتی ہے (راوی نے کہا کہ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اعمش کی روایت کی ہوئی حدیث میں جو التحیات ہے اس کو بیان کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم یہ التحیات پڑھ چکو یا (راوی کو شک ہے) یہ فرمایا کہ یہ التحیات ختم کر چکو تو تم نے اپنی نماز پوری کر لی اس لئے کہ (فرائض اور واجبات) سب ادا ہو چکے ہیں، اب تمہیں اختیار ہے چاہو تو اٹھ جاؤ (کیوں کہ درود و سلام جو باقی رہ گئے وہ سنت ہیں) اور چاہو تو بیٹھے رہو (اور درود پڑھنے کے بعد سلام کہہ کر نماز ختم کر لو)۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور طحاوی نے کی ہے اور امام احمد اور دارقطنی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 970 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1107

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1252Noor 1253Noor 1254
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نمازی اخیر نماز میں (سجدہ سے سر اٹھا لے اور قعدۂ اخیرہ میں) التحیات پڑھ چکنے کے بعد (عمداً) حدث کر دے تو اس کی نماز پوری ہو گئی (کیوں کہ اس نے عمداً حدث کر کے اپنے فعل سے نماز ختم کرنے کے فرض کو ادا کر دیا ہے اس لئے اب وہ) اپنی نماز کا اعادہ نہ کرے (اس وجہ سے کہ اس کے ذمہ اب کوئی فرض یا واجب باقی نہیں رہا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔) اور ابوداؤد، ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔ اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بطور مرفوع اور موقوف روایت کی
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 408 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 617 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے) اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے، اور ابوداؤد کی عادت یہ ہے کہ جب وہ کسی حدیث کے متعلق سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کے پاس وہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے، اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ جتنی حدیثیں میں نے جامع صحیح یعنی ترمذی میں بیان کی ہیں صرف چار حدیثوں کے سوا باقی سب حدیثیں حجت اور دلیل ہیں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے نہیں ہے۔ (یہ سعایہ میں مذکور ہے۔) ف: ابوداؤد، ترمذی، طحاوی وغیرہم کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ نمازی قعدۂ اخیر میں تشہد پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے عمداً حدث کر کے نماز کو ختم کردے تو نماز پوری ہوجاتی ہے جس کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس مسلک کی وجہ سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ پر یہ اہانت آمیز اعتراض کیا ہے کہ ان کے مذہب میں نماز عمداً حدث کرنے سے بھی پوری ہوجاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کو بھی ان مستند صحیح احادیث سے اخذ کیا ہے جن کی روایتیں متعدد اسناد اور مختلف طریق سے حدیث کی مستند کتابوں ابوداؤد، ترمذی، بیہقی، دارقطنی اور طحاوی وغیرہ میں مروی ہیں اس صورت میں امام اعظم رحمہ اللہ پر ایسا اعتراض کرنا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا ہے۔ (یہ مضمون ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ کے رسالہ سے ماخوذ ہے جسکو عمدۃ الرعایہ نے نقل کیا ہے۔)

Hadith 1108

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1255
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تشہد پر نماز ختم ہوتی ہے (اس لئے کہ اب فرائض اور واجبات باقی نہیں رہے۔ اب رہا اپنے فعل سے باہر آنا تو یہ ایسا فرض ہے جو نماز کا جزء (یہ ملتقی کے بین السطور میں مذکور ہے۔12) نہیں ہے) اور سلام پھیرنا (ایسی سنت ہے جس سے) نماز کے ختم ہونے کی اطلاع ہوتی ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1109

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1256
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھی جانب السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر سلام اس طرح پھیرتے کہ حضور علیہ السلام کے سیدھے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی اور بائیں جانب بھی السلام علیکم ورحمۃ اللہ فرما کر اس طرح سلام پھیرتے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بائیں رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 996 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 295 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1324 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1110

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1257Noor 1258
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز (کم سے کم) دو رکعت ہے (اس سے کم ایک رکعت ہو تو وہ نماز بتیراء کہلاتی ہے جو ناجائز ہے) ہر دو رکعت کے اخیر میں تشہد پڑھنا چاہئے (اور تمام نماز میں اپنے ظاہر سے) نہایت عاجزی کا اظہار کر کے اور نہایت ذلت و ندامت سے آنکھیں نیچی کئے رہے اور عاجزانہ صورت بنائے (اور باطن میں بھی) نہایت سکون و اطمینان سے رہے اور اپنی ذات کا اظہار کرتے رہے پھر (نماز کے بعد) دونوں ہاتھوں کو اپنے پروردگار کے سامنے (اس طرح) اٹھائے کہ ہتھیلیاں اپنے منہ کی طرف ہوں اور نہایت عاجزی کے ساتھ یا رب یا رب کہتے ہوئے اپنی حاجت عرض کرے اگر نماز میں کوئی ایسا نہ کرے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) ترمذی کی ایک اور روایت میں ہے: اس کی نماز تو ہو جاتی ہے مگر ناقص رہ جاتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 385 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.