And from Ibn Abbas, who said: The Messenger of Allah ﷺ said, “We, the community of prophets, have been commanded to hasten our Iftar, delay our Suhoor, and place our right hands over our left hands in prayer.” [Narrated by At-Tabarani with a authentic chain and At-Tayalisi]
In a narration by Muslim, from Wa’il ibn Hujr: He saw the Prophet ﷺ place his right hand over his left hand.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ ہم پیغمبروں کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم افطار جلد کریں اور سحر کرنے میں تاخیر
کریں اور نماز میں اپنے سیدھے ہاتھوں کو اپنے بائیں ہاتھوں پر رکھیں۔
(اس کی روایت طبرانی نے سند صحیح سے کی ہے اور طیالسی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں
نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے تھے۔
And from Abdullah ibn Mas’ud, who said: The Prophet ﷺ passed by me while I had placed my left hand over my right hand, so he took my right hand and placed it over my left hand.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں نماز میں بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ پر رکھا ہوا تھا تو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے میرے سیدھے ہاتھ کو پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔
(اس کی روایت ابن ماجہ اور نسائی نے کی ہے۔)
And from Sahl ibn Sa’d, who said: The people were commanded that a man should place his right hand over his left forearm in prayer. [Narrated by Al-Bukhari]
In a narration by Al-Nasa’i, from Wa’il ibn Hujr, who said: I said to myself, “I will observe the prayer of the Messenger of Allah ﷺ to see how he prays.” So I observed him. He stood, said the Takbir, and raised his hands until they were level with his ears. Then he placed his right hand over the back of his left hand, wrist, and forearm.
Our scholars said: The Sunnah is to combine placing and grasping, reconciling what has been mentioned in the narrations. In some narrations, there is mention of grasping, in others, placing one hand over the other, and in others, placing the hand on the forearm. The method of reconciliation is to place the right palm over the left palm, form a circle with the thumb and little finger around the wrist, and extend the remaining three fingers over the forearm. This fulfills the descriptions of placing the hand over the hand, over the forearm, and grasping the left hand with the right hand.
The foundational principle is that whenever it is possible to reconcile two seemingly contradictory matters, one should not abandon either of them. This is mentioned in Al-Halbi and Al-Muhtar.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانہ میں) لوگوں کو حکم تھا کہ وہ نماز میں اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا کریں۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
اور نسائی کی ایک روایت میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے
ہیں کہ میں نے (دل میں) یہ بات ٹھان لی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دیکھوں گا کہ آپ
کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں؟ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر فرمایا
پھر دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے برابر اٹھائے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے
سیدھے ہاتھ (کی ہتھیلی کو) بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھ کر سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلیا
سے (حلقہ بنا کر) بائیں ہاتھ کے پہنچے کو (اس طرح) پکڑ لیا کہ (سیدھے ہاتھ کی باقی تین انگلیاں
بائیں ہاتھ کے) پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر تھیں۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کے متعلق حنفی مذہب میں تین قول
ہیں،(1) ایک یہ ہے کہ پہلے اللہ اکبر کہے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی
مذکور الصدر حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس کی روایت نسائی نے کی ہے،(2) دوسرا قول یہ ہے کہ تکبیر
تحریمہ اور رفع یدین ساتھ ساتھ کئے جائیں، جیسا کہ وائل رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث سے ثابت ہے
جس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور بیہقی نے کی ہے، اس قول کو خانیہ، خلاصہ، تحفہ، بدائع، محیط، قدوری
اور قاضی خان نے اختیار کیا ہے اور بقانی نے اس دوسرے قول کو جمیع احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور
حلیہ نے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے،(3) تیسرا قول یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے پھر
اللہ اکبر کہے اور یہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام بخاری نے کی
ہے، نیز ابن ماجہ، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی سے بھی اس حدیث کی روایت ہے، مجمع نے اس قول کو امام
ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ سے منسوب کیا ہے اور مبسوط میں لکھا ہے کہ اس تیسرے قول کو اکثر فقہائے
احناف نے اختیار کیا ہے اور غایۃ البیان نے بھی اس قول کو جمہور علماء احناف کی طرف منسوب کیا ہے
اور صاحب ہدایہ کے پاس یہی تیسرا قول مفتی بہ ہے۔ (ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ۔)
ف(2): نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ تین
طرح کی ہیں، ایک حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ سے پکڑنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ پر
رکھنے کا ذکر ہے اور تیسری حدیث میں ہاتھ کو پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رکھنے کا ذکر ہے۔
واضح رہے کہ جب کبھی کسی مسئلہ میں مختلف حدیثیں آتی ہیں جس سے ان میں بظاہر تعارض
معلوم ہوتا ہے تو اُصولیین کا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ایسی کوشش کی جائے کہ ان جملہ مختلف
احادیث پر عمل ہوسکے اور ان میں سے کوئی حدیث چھوٹنے نہ پائے۔
اسی قاعدے کے پیش نظر ہمارے فقہاء نے تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو
مختلف احادیث آئی ہیں ان سب پر اس طرح عمل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث بھی چھوٹنے نہیں
پاتی، اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں سنت یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ
کے ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلی سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کے پہنچے کو
اس طرح پکڑ لے کہ باقی تین انگلیاں بائیں پہنچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رہیں۔
اس سے یہ صادق آتا ہے کہ نمازی نے اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا ہے اور اپنے
سیدھے ہاتھ کو بائیں کلائی پر بھی رکھا ہے اور اپنے بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ سے پکڑ لیا ہے، اس طرح
نمازی نے ہاتھ باندھنے سے متعلقہ جملہ مختلف حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ (حلبی، ردالمحتار)۔
ف(3): نماز میں ہاتھ باندھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں داہنے ہاتھ کی
ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھیں۔ (طحاوی۔)
And from Alqamah ibn Wa’il ibn Hujr, from his father, who said: I saw the Messenger of Allah ﷺ place his right hand over his left hand in prayer below the navel. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
In ‘Umdat Ar-Ri’ayah: Its chain is good, and all its narrators are trustworthy. This was stated by Al-Hafiz Qasim ibn Qutlubugha and Shaykh Abid As-Sindi. The scholar Abu At-Tayyib Al-Madani said: This is a strong hadith in terms of its chain.
علقمہ بن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ وائل رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز
میں سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہیں۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی
ہے،) اور عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، حافظ
قاسم بن قطلوبغا اور شیخ عابد سندھی نے بھی اسی طرح کہا ہے اور علامہ ابوالطیب المدنی نے کہا ہے کہ یہ
حدیث سند کے اعتبار سے قوی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نماز میں ناف کے
نیچے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھنا سنت ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد، امام احمد اور ابن ابی شیبہ، دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔)
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز میں ناف کے نیچے اپنے
سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا کرتے تھے۔(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔)
ف: نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کے نیچے ہاتھ رکھنے کا حکم مردوں سے متعلق ہے، اس کے
برخلاف عورتیں تکبیر تحریمہ کے بعد اپنے دونوں ہاتھ سینہ پر باندھ لیں۔(سعایہ)۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ جس نماز میں قیام دراز ہو وہ نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 756a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قیام کو طویل کرنا زیادہ رکعتوں کے پڑھنے سے
افضل ہے، جیسے ایک شخص رکعتیں کم پڑھتا ہے مگر زیادہ قرآن پڑھ کر قیام کو طویل کر رہا ہے تو ایسے شخص کی
نماز اس شخص کی نماز سے افضل ہے جو قیام میں قرآن کم پڑھتا ہے لیکن زیادہ رکعتیں ادا کرتا ہو، اس لئے
قیام میں قرآن پڑھا جاتا ہے لیکن زیادہ رکعتوں کے رکوع اور سجود میں زیادہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں اور
ظاہر ہے کہ قرآن کو تسبیحات پر فضیلت حاصل ہے۔
طویل قیام کو رکعتوں کی کثرت پر اس لئے بھی فضیلت حاصل ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نماز تہجد میں آٹھ رکعات ادا فرماتے لیکن ان رکعتوں میں قرآن کی طویل ترین سورتیں تلاوت فرما کر
قیام کو طویل فرمایا کرتے تھے حنفی مذہب میں طویل قیام کی فضیلت ہی پر فتویٰ ہے۔
واضح رہے کہ زیادہ رکعتوں کے پڑھنے پر طویل قیام کو جو فضیلت حاصل ہے، اس کا تعلق نوافل
سے ہے اس کے برخلاف فرض نمازوں کے قیام، رکوع اور سجدہ کو سنت کے موافق ادا کرنا ہی افضل ہے۔
(ملتقی، کنز، مرقات۔)
And from Abbas ibn Sahl, who said: Abu Humayd, Abu Usayd, Sahl ibn Sa’d, and Muhammad ibn Maslamah gathered and discussed the prayer of the Messenger of Allah ﷺ. Abu Humayd said: I will teach you about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ bowed and placed his hands on his knees as if he was grasping them, and he stretched his hands, pulling them away from his sides.
عباس بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ یہ چار
صحابہ یعنی) ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم ایک جگہ جمع ہوئے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا آپس میں تذکرہ کیا، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی نماز کا طریقہ میں تم میں سب سے بہتر جانتا ہوں (یہ کہہ کر آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
رکوع کرنے کو اس طرح بیان کیا کہ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں
ہاتھوں اپنے دونوں گھٹنوں پر اس طرح رکھ دیئے گویا ان سے گھٹنوں کو پکڑے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو
کھینچی ہوئی کمان کی تانت کی طرح بنا کر ان کو پہلوؤں سے جدا رکھا۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
And from Abu Abdur-Rahman As-Sulami, who said: Umar said, “The Sunnah is to grasp the knees.” [Narrated by Al-Nasa’i]
In a narration by At-Tabarani from Anas: The Prophet ﷺ said, “O my son, when you bow, place your palms on your knees, spread your fingers, and raise your hands away from your sides.”
ابوعبدالرحمن سُلَمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے فرمایا کہ (نماز میں رکوع کے وقت) سنت یہ ہے کہ گھٹنوں کو ہاتھوں سے پکڑ لیا
جائے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
اور طبرانی کی ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بیٹے! جب تم رکوع کرو تو دونوں ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ کر ہاتھوں
کی انگلیوں کو پھیلا دو اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھو۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: رکوع کرنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے اس کے برخلاف عورتیں رکوع میں دونوں
ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر گھٹنوں پر رکھ دیں اور دونوں بازو پہلو سے خوب ملائے رکھیں اور دونوں پیر کے
ٹخنے بالکل ملا دیں۔ (ردالمحتار، طحاوی۔)
And from Wabisa ibn Ma’bad, who said: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying. When he bowed, he straightened his back so much that if water were poured on it, it would have stayed in place.
وابصہ بن معبدؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ جب آپؐ رکوع فرماتے تو اپنی پشت مبارک کو اس قدر
سیدھی رکھتے کہ اگر اس پر پانی ڈال دیا جاتا تو ٹھہر جاتا۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع فرماتے تو سر مبارک کو نہ اوپر اٹھاتے اور نہ نیچے جھکاتے بلکہ درمیانی
حالت میں (پیٹھ کے برابر رکھتے۔)
(اس کی روایت ابن ماجہ، ترمذی، مسلم اور ابن حبان نے کی ہے۔)
And from her (Aisha), who said: When the Messenger of Allah ﷺ raised his head from bowing, he would not prostrate until he stood straight. When he prostrated and raised his head, he would not prostrate again until he sat upright. He would spread his left leg. [Narrated by Ibn Majah]
In a narration by Abu Dawud from Abu Humayd: Then he would go down to the ground in prostration, keeping his hands away from his sides and spreading his toes. Then he would raise his head, bend his left leg, and sit on it. He would sit upright until every bone returned to its place, then he would prostrate again. In another narration by Abu Dawud: He would spread his thighs without resting his stomach on them until he finished.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھایا کرتے تو فوراً سجدہ نہیں کرتے جب تک کہ اطمینان کے ساتھ
سیدھے کھڑے نہیں ہو جاتے تھے اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو فوراً دوسرا سجدہ نہیں
کرتے تھے جب تک کہ (دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے) نہیں بیٹھ جاتے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد میں ابوحمید رضی اللہ عنہ سے جو طویل حدیث مروی ہے (اس حدیث
میں قومہ کے بعد سجدہ کرنے کا اس طرح ذکر ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قومہ کے بعد) فوراً
زمین پر سجدہ میں گر جاتے اور (سجدہ کی حالت میں) اپنے دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے
علیحدہ رکھتے اور اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اس طرح موڑتے کہ انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف رہتا پھر
سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے پھر آپ اطمینان کے ساتھ بیٹھ جاتے
یہاں تک کہ ہر ہر ہڈی اچھی طرح اپنی اپنی جگہ قرار پا جاتی پھر دوسرا سجدہ فرماتے۔
اور ابوداؤد کی ایک دوسری روایت (جو ابوحمید رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے،
اس میں سجدہ کی کیفیت میں یہ بھی اضافہ ہے) کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (سجدہ میں) سجدے سے
فارغ ہونے تک اپنی رانوں کو کشادہ رکھتے اور شکم مبارک کے کسی حصہ کو رانوں سے لگنے نہ دیتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 730 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 869 (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: سجدہ کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں جب سجدے میں جائیں تو زمین پر پہلے گھٹنے
رکھیں پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور انگلیاں خوب ملا لیں، پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پیشانی رکھیں
اور سجدے کے وقت پیشانی اور ناک دونوں زمین پر رکھ دیں اور ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھیں
مگر پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ دہنی طرف کو پاؤں نکال دیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں کہ پیٹ
دونوں رانوں سے اور بازو دونوں پہلوؤں سے ملا دیویں اور دونوں بازو زمین پر رکھ دیں۔ (درمختار)۔
ابو اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے براء بن
عازب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کی حالت میں چہرہ مبارک کہاں
رکھتے تھے؟ تو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (چہرہ کو سجدہ کی حالت میں) اپنے دونوں ہتھیلیوں کے
درمیان رکھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ترمذی اور طحاوی نے کی ہے اور مسلم، ابوداؤد اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔)
And from Wa’il ibn Hujr, who said: When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, his hands were in line with his ears. [Narrated by At-Tahawi, Abdur-Razzaq, and Ishaq ibn Rahwayh]
In a narration by Al-Nasa’i: Then he said the Takbir and prostrated, and his hands were in line with his ears in the direction he was facing for prayer.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے مقابل رہتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی، عبدالرزاق اور اسحاق بن راہویہ نے کی ہے۔)
اور نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ (قومہ کے بعد) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے اللہ اکبر فرما کر سجدہ کیا تو سجدہ میں آپ کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے ایسے ہی مقابل تھے جیسا
کہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت آپ کے دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے مقابل رہتے تھے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز
میں (دوسرے سجدے کے بعد جب دوسری یا چوتھی رکعت کے لئے اٹھتے تو زمین پر یا گھٹنوں (جیسا
کہ شرح سفر السعادہ میں مذکور ہے 12) پر ہاتھ ٹیکے بغیر اور جلسہ استراحت کئے بغیر) اپنے پیر کے
پنجوں کے بل اٹھتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہا ہے کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 288 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(جلسہ استراحت یہ ہے کہ پہلی رکعت کے دوسرے سجدے یا تیسری رکعت کے دوسرے سجدے سے
فارغ ہونے کے بعد جب قیام کے لئے اٹھیں تو کچھ دیر بیٹھ کر اٹھیں اور یہ جلسہ استراحت حنفی مذہب
میں ثابت نہیں ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ۔)
ف: اس حدیث میں پیر کے پنجوں کے بل اٹھنے کا جو ذکر ہے وہ دوسرے سجدے کے بعد دوسری
یا چوتھی رکعت کے قیام کے لئے اٹھنے سے متعلق ہے اور اس میں اٹھتے وقت ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیکنے
کی اور جلسہ استراحت کرنے کی ممانعت ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ لیکن ضعیف العمری یا کسی اور عذر
کی وجہ ہاتھوں کو زمین یا زانو پر ٹیکنے کے بغیر اٹھنا ممکن نہ ہو تو جلسہ استراحت کرکے بغیر ہاتھوں کو زمین یا
زانو پر ٹیک کر اٹھ سکتے ہیں۔ (ردالمحتار، شرح سفر السعادت، عینی، فتح القدیر۔)
And from Ayyash ibn Sahl As-Sa’idi, who was in a gathering with his father—a companion of the Messenger of Allah ﷺ—and in the gathering were Abu Huraira, Abu Usayd, Abu Humayd As-Sa’idi, and other Ansar. They discussed the prayer, and Abu Humayd said, “I will show you how the Messenger of Allah ﷺ prayed, as I followed him closely.” They said, “Show us.” So he stood to pray while they watched. He said the Takbir and raised his hands at the beginning of the Takbir, then mentioned a long hadith in which he described that when he raised his head from the second prostration of the first Rak’ah, he stood without sitting.
عیاش بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسی مجلس میں
تھے جس میں ان کے والد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں موجود تھے اور اس مجلس
میں ابوہریرہ، ابو اسید اور ابوحُمید الساعدی اور دیگر انصار رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے اور یہ سب آپس میں
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کر رہے تھے تو ابوحُمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، کیوں کہ میں نے بہت جستجو کے ساتھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا ہے، یہ سن کر صحابہ نے کہا اچھا ہمیں بتلائیے تو! ابوحُمید اٹھ
کر نماز پڑھنے لگے اور سب دیکھنے لگے (ابوحُمید نے) اس طرح نماز شروع کی کہ پہلے ”اللہ اکبر
“ کہا اور فقط اسی تکبیر اول کے وقت ہاتھ اٹھائے پھر عیاش نے یہی طویل حدیث بیان کرتے ہوئے
(دوسرے سجدے سے قیام کے لئے کھڑے ہونے کا ذکر اس طرح کیا کہ) ابوحُمید رضی اللہ عنہ پہلی
رکعت کے دوسرے سجدے سے جب سر اٹھاتے تو جلسہ استراحت کئے بغیر سیدھے کھڑے ہو گئے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
And from Abdullah ibn Mas’ud, who would rise in prayer using the front part of his feet and did not sit. [Narrated by Ibn Abi Shaybah and Al-Bayhaqi]
In a narration by both from Ibn Umar and Ibn Az-Zubair, something similar is mentioned.
روایت کی گئی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں (دوسرے سجدے
کے بعد جب قیام کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوتے تھے اور جلسہ استراحت
نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ اور بیہقی کی دوسری روایت میں ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم
سے اسی طرح مروی ہے۔ (کہ وہ بھی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)
شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر، حضرت علی،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اصحاب رضی اللہ عنہم نماز میں (دوسرے سجدے کے بعد قیام
کے لئے اٹھتے) تو اپنے پنجوں کے بل اٹھتے تھے (اور جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Nu'man ibn Abi 'Ayyash reported: I met several companions of the Messenger of Allah (ﷺ), and when one of them raised his head from the second prostration in the first or third rak'ah, he would stand up as he was and would not sit. [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
Abdurrazzaq also narrated something similar from Ibn Mas'ud, Ibn Abbas, and Ibn Umar.
نعمان بن ابی عیاش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہ (کا زمانہ) پایا ہے اور (دیکھا ہے کہ) ان میں سے ہر ایک
جب پہلی رکعت اور تیسری رکعت کے سجدۂ ثانیہ سے اپنے سر کو اٹھایا کرتے تو جلسہ استراحت کے بغیر
کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور عبدالرزاق نے ابن مسعود، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بھی اس
طرح روایت کی ہے، (کہ یہ سب حضرات بھی جلسہ استراحت نہیں کرتے تھے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے نمازی کو (دوسرے سجدہ سے دوسری یا چوتھی رکعت کے لئے یا قعدہ اولیٰ سے تیسری رکعت کے
لئے اٹھتے وقت) اپنے ہاتھوں سے (زمین یا زانو پر) ٹیکا دینے کی ممانعت فرمائی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Wa'il ibn Hujr reported: When the Messenger of Allah (ﷺ) sat in prayer, he would lay his left foot flat and sit on it, and he would keep his right foot upright. [Narrated by our Imam Abu Hanifah]
Al-Tirmidhi also narrated something similar and said: This is a Hasan Sahih Hadith, and it is acted upon by most scholars. It is the opinion of Sufyan Ath-Thawri, Ibn Al-Mubarak, and the people of Kufah.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھتے تھے اور سیدھے پیر کو کھڑا کرتے۔
(اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان
ثوری اور امام ابن المبارک اور کوفہ والوں کا بھی یہی قول ہے، ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
ف: قعدہ میں بیٹھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں قعدہ میں یا دونوں سجدوں کے
درمیان جلسہ میں بائیں چوتڑ پر بیٹھیں اور اپنے دونوں پاؤں اور داہنی طرف نکال دیویں اور دونوں ہاتھ
اپنی رانوں پر رکھ لیں اور انگلیاں خوب ملا کر رکھیں۔ (ردالمحتار۔)
Abdullah (who is Abdullah ibn Umar) reported from his father: It is from the Sunnah of prayer to keep the right foot upright, with its toes facing the Qiblah, and to sit on the left foot.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فرزند
ہیں وہ اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
نماز کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ (جب نماز میں بیٹھے) تو سیدھا قدم کھڑا کیا جائے اور اس
کی انگلیاں قبلہ رخ رہیں، اور بائیں پیر پر بیٹھے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک
اعرابی سے فرمایا کہ جب تم (نماز میں) بیٹھو تو (بایاں پیر بچھا کر) اس پر بیٹھا کرو۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 860 (unverified) 55% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ذیل میں جو حدیثیں آ رہی ہیں ان کے مطالعہ سے پہلے ضروری ہے کہ چند امور کی
وضاحت پیش نظر رہے تا کہ ان احادیث کا مفہوم سمجھ میں آسکے۔
نماز کے قعدہ اخیر میں تشہد کے بعد درود پڑھنے کے متعلق مذہب حنفی یہ ہے کہ مطلقاً درود کا
پڑھنا سنت موکدہ ہے، چنانچہ سعایہ میں لکھا ہے کہ ”ان السنة المؤكدة هو مطلق الصلوة بعد
التشهد لاخصوص بعض الفاظها واليه يشير كلام عامة فقهائنا“۔
(التحیات کے بعد نماز میں درود شریف پڑھنے کے بارے میں جو مختلف الفاظ آئے ہیں ان میں
سے بلا قید الفاظ مطلقاً کسی ایک درود کا پڑھنا سنت موکدہ ہے اور عامۂ فقہاء کا قول یہی ہے۔)
شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ نے مبسوط میں درود کے متعلق تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا شمار فرائض نماز سے نہیں ہے، درود کے فرض نہ ہونے پر فقہاء حنفیہ
نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا
یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سلام بھیجنا ہم نے سیکھ لیا اب ارشاد فرمائیے کہ نماز میں ہم آپ پر درود
کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا اس طرح پڑھو!
”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ“۔ (اے اللہ درود نازل فرما محمد صلی اللہ
علیہ وسلم پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم پر۔) اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو درود اس
وقت سکھایا جبکہ آپ سے درود کے متعلق پوچھا گیا، اگر نماز میں درود کا پڑھنا فرض ہوتا تو آپ پوچھنے
سے پہلے ہی سکھا دیئے، نماز میں درود کے فرض نہ ہونے پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایک اعرابی کو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرائض نماز سکھائے تو اس میں درود کا ذکر نہیں فرمایا۔ (یہاں مبسوط کی عبارت ختم ہوئی۔)
علامہ عینی رحمہ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ نماز میں تشہد اور درود کے بعد ”اَلسَّلَامُ
عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ“ کہہ کر نماز کو ختم کرنے کے بارے میں دو(2) روایتیں آئی ہیں، ایک روایت
یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز ختم کرنا واجب ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ سنت ہے، علامہ عینی نے عطاء
بن ابی رباح، سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، قتادہ، امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد، ابن جریر طبری
ان سب حضرات رحمۃ اللہ رضوان کا یہ متفقہ قول نقل کیا ہے کہ آخر نماز میں ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ
اللّٰهِ“ کہنا فرض نہیں ہے اسی وجہ سے اگر نمازی نماز کے آخر میں سلام کو ترک کردے تو نماز باطل نہیں ہوگی۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رد المحتار میں فتح کے حوالے سے سلام کے سنت ہونے پر دوسرا
قول بھی نقل کیا ہے۔
ایک روایت یہ ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے اور یہ قول حضرت علی رضی اللہ عنہ
سے مروی ہے، نیز سعید بن المسیب، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، امام اوزاعی رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل
ہیں کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے، اس وجہ سے سلام کہے بغیر نماز کو ختم کردیا جائے تو بھی نماز
درست ہو جائے گی، امام ابن قاسم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب امام آخر نماز میں سلام سے پہلے قصداً
وضو توڑ دے تو بھی اس کی نماز درست ہوگی۔
لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر دلیل حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث
ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھائی تو ارشاد فرمایا کہ جب تم (قعدہ
اخیرہ میں) تشہد پڑھ چکو تو تمہاری نماز پوری ہوگئی، اُس کے بعد اگر تم چاہو تو اُٹھ جاؤ یا چاہو تو بیٹھے رہو۔
سلام سے پہلے اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قعدہ اخیرہ
میں تشہد پڑھنے کے بعد بیٹھے رہنے یا اٹھ جانے میں اختیار دے دینے سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی
ہے کہ لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا نہ تو فرض ہے نہ واجب، البتہ فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے بالعموم آخر میں لفظ
سلام کہنے کو جو واجب قرار دیا ہے وہ احتیاط کی بناء پر ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ لفظ سلام سے
نماز ختم فرمایا کرتے تھے ورنہ حقیقت میں لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنا سنت ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے لفظ سلام سے نماز کو ختم کرنے کے سنت ہونے پر حدیث اعرابی سے
استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعرابی کو نماز سکھائی تو لفظ سلام کا ذکر نہیں فرمایا اگر لفظ
”سلام“ واجب یا فرض ہوتا کہ اس کے بغیر نماز کا ختم کرنا درست نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لفظ
سلام کا ذکر فرماتے۔
السعایہ میں مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازی قعدہ اخیرہ میں تشہد اور درود کے بعد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر نماز ختم کرے اور یہ سنت ہے۔ (یہ مضمون عینی شرح ہدایہ، العنایہ، فتح القدیر
اور منیۃ المصلی سے ماخوذ ہے۔)
(یعنی اپنے فعل سے نماز سے باہر آنا) فرائض نماز میں ایک فرض یہ بھی ہے کہ نمازی عمداً کسی
ایسے فعل سے جو منافی نماز ہو، اپنی نماز کو ختم کرے۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ردالمحتار“ میں ”بحر“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نمازی کے لئے یہ
فرض ہے کہ جب نماز پوری ہوجائے تو وہ نماز سے باہر ہونے کے لئے اپنے اختیار سے ایسی حرکت
کرے جو نماز کے منافی ہو، تاتارخانیہ نے اس کی صراحت اس طرح کی ہے کہ نماز پوری ہونے پر قہقہہ
مار کر ہنس دے یا قصداً وضو توڑ دے، یا بات کرے، یا اٹھ کر چلا جائے یا سلام کرے، نمازی عمداً اپنے
کسی فعل سے نماز کے منافی حرکت کرتے تو اس سے نماز تو پوری ہوجاتی ہے لیکن اگر سلام کے ذریعہ نماز
ختم کرلے تو بیک وقت فرض اور سنت دونوں ادا ہوجاتے ہیں۔
Al-Qasim ibn Mukhaymirah reported: Alqamah took my hand and narrated to me that Abdullah ibn Mas'ud took his hand, and the Messenger of Allah (ﷺ) took Abdullah's hand and taught him the Tashahhud in prayer. He mentioned something similar to the supplication in the hadith of Al-A'mash: "When you say this or complete this, you have completed your prayer. If you wish to stand, then stand, and if you wish to sit, then sit."
قاسم بن مخیمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ
نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کا (یعنی علقمہ رضی اللہ
عنہ کا) ہاتھ پکڑ کر وہ التحیات سکھائی جو نماز میں پڑھی جاتی ہے (راوی نے کہا کہ) ابن مسعود رضی اللہ
عنہ نے اعمش کی روایت کی ہوئی حدیث میں جو التحیات ہے اس کو بیان کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم یہ التحیات پڑھ چکو یا (راوی کو شک ہے) یہ فرمایا کہ یہ التحیات ختم
کر چکو تو تم نے اپنی نماز پوری کر لی اس لئے کہ (فرائض اور واجبات) سب ادا ہو چکے ہیں، اب
تمہیں اختیار ہے چاہو تو اٹھ جاؤ (کیوں کہ درود و سلام جو باقی رہ گئے وہ سنت ہیں) اور چاہو تو بیٹھے
رہو (اور درود پڑھنے کے بعد سلام کہہ کر نماز ختم کر لو)۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور طحاوی نے کی ہے
اور امام احمد اور دارقطنی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Abdullah ibn Umar reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When a person praying raises his head at the end of his prayer and completes the Tashahhud, then if he breaks his ablution, his prayer is complete, and he should not repeat it." [Narrated by At-Tahawi while Abu Dawud, Al-Tirmidhi, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi also narrated something similar from Ibn Umar and Ali, both Marfu' and Mawquf]
Abu Dawud remained silent about this hadith, and when he remained silent about a hadith, it was considered Hasan or Sahih according to him. Al-Tirmidhi said, "Everything I have mentioned in my book is evidence except for four hadiths," and this hadith is not among them, as mentioned in As-Sa'ayah.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جب نمازی اخیر نماز میں (سجدہ سے سر اٹھا لے اور قعدۂ اخیرہ میں) التحیات پڑھ چکنے کے
بعد (عمداً) حدث کر دے تو اس کی نماز پوری ہو گئی (کیوں کہ اس نے عمداً حدث کر کے اپنے فعل سے
نماز ختم کرنے کے فرض کو ادا کر دیا ہے اس لئے اب وہ) اپنی نماز کا اعادہ نہ کرے (اس وجہ سے کہ اس
کے ذمہ اب کوئی فرض یا واجب باقی نہیں رہا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد، ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔
اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بطور مرفوع اور موقوف روایت کی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 408 (unverified) 90% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 617 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے) اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے، اور ابوداؤد کی عادت یہ ہے کہ
جب وہ کسی حدیث کے متعلق سکوت اختیار کرتے ہیں تو ان کے پاس وہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے،
اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ جتنی حدیثیں میں نے جامع صحیح یعنی ترمذی میں بیان کی ہیں صرف چار
حدیثوں کے سوا باقی سب حدیثیں حجت اور دلیل ہیں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے نہیں
ہے۔ (یہ سعایہ میں مذکور ہے۔)
ف: ابوداؤد، ترمذی، طحاوی وغیرہم کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوگیا کہ
نمازی قعدۂ اخیر میں تشہد پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے عمداً حدث کر کے نماز کو ختم کردے تو نماز پوری
ہوجاتی ہے جس کا اعادہ ضروری نہیں ہے۔
بعض لوگوں نے اس مسلک کی وجہ سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ پر یہ اہانت آمیز
اعتراض کیا ہے کہ ان کے مذہب میں نماز عمداً حدث کرنے سے بھی پوری ہوجاتی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کو بھی ان مستند صحیح
احادیث سے اخذ کیا ہے جن کی روایتیں متعدد اسناد اور مختلف طریق سے حدیث کی مستند کتابوں ابوداؤد،
ترمذی، بیہقی، دارقطنی اور طحاوی وغیرہ میں مروی ہیں اس صورت میں امام اعظم رحمہ اللہ پر ایسا اعتراض
کرنا درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا ہے۔ (یہ مضمون ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ کے
رسالہ سے ماخوذ ہے جسکو عمدۃ الرعایہ نے نقل کیا ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تشہد پر نماز ختم
ہوتی ہے (اس لئے کہ اب فرائض اور واجبات باقی نہیں رہے۔ اب رہا اپنے فعل سے باہر آنا تو یہ ایسا
فرض ہے جو نماز کا جزء (یہ ملتقی کے بین السطور میں مذکور ہے۔12) نہیں ہے) اور سلام پھیرنا (ایسی
سنت ہے جس سے) نماز کے ختم ہونے کی اطلاع ہوتی ہے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Abdullah reported: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the Taslim to his right, "As-salamu alaykum wa rahmatullah," until the whiteness of his right cheek could be seen, and to his left, "As-salamu alaykum wa rahmatullah," until the whiteness of his left cheek could be seen.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سیدھی جانب السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر سلام اس طرح پھیرتے کہ حضور علیہ السلام کے سیدھے
رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی اور بائیں جانب بھی السلام علیکم ورحمۃ اللہ فرما کر اس طرح سلام
پھیرتے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بائیں رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Al-Fadl ibn Abbas reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Prayer is performed in sets of two rak'ahs. You perform the Tashahhud in every two rak'ahs, showing humility, supplication, and submission. Then you raise your hands—meaning you lift them towards your Lord—with their palms facing your face, and say, 'O Lord, O Lord.' Whoever does not do this, his prayer is such and such." In another narration, it says, "His prayer is deficient." [Narrated by Al-Tirmidhi]
Ali Al-Qari said: The apparent meaning of the hadith is that the minimum of prayer is two rak'ahs, and it indicates the prohibition of Al-Butayra', as is our school's opinion.
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز (کم سے کم) دو رکعت ہے (اس سے کم ایک رکعت ہو تو وہ نماز بتیراء
کہلاتی ہے جو ناجائز ہے) ہر دو رکعت کے اخیر میں تشہد پڑھنا چاہئے (اور تمام نماز میں اپنے ظاہر
سے) نہایت عاجزی کا اظہار کر کے اور نہایت ذلت و ندامت سے آنکھیں نیچی کئے رہے اور عاجزانہ
صورت بنائے (اور باطن میں بھی) نہایت سکون و اطمینان سے رہے اور اپنی ذات کا اظہار کرتے
رہے پھر (نماز کے بعد) دونوں ہاتھوں کو اپنے پروردگار کے سامنے (اس طرح) اٹھائے کہ ہتھیلیاں
اپنے منہ کی طرف ہوں اور نہایت عاجزی کے ساتھ یا رب یا رب کہتے ہوئے اپنی حاجت عرض
کرے اگر نماز میں کوئی ایسا نہ کرے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ترمذی کی ایک اور روایت میں ہے: اس کی نماز تو ہو جاتی ہے مگر ناقص رہ جاتی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کے متعلق حنفی مذہب میں تین قول ہیں،(1) ایک یہ ہے کہ پہلے اللہ اکبر کہے پھر کانوں تک ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے معلوم ہوتا ہے جس کی روایت نسائی نے کی ہے،(2) دوسرا قول یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ اور رفع یدین ساتھ ساتھ کئے جائیں، جیسا کہ وائل رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور بیہقی نے کی ہے، اس قول کو خانیہ، خلاصہ، تحفہ، بدائع، محیط، قدوری اور قاضی خان نے اختیار کیا ہے اور بقانی نے اس دوسرے قول کو جمیع احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور حلیہ نے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے،(3) تیسرا قول یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے پھر اللہ اکبر کہے اور یہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس کی روایت امام بخاری نے کی ہے، نیز ابن ماجہ، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی سے بھی اس حدیث کی روایت ہے، مجمع نے اس قول کو امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہا اللہ سے منسوب کیا ہے اور مبسوط میں لکھا ہے کہ اس تیسرے قول کو اکثر فقہائے احناف نے اختیار کیا ہے اور غایۃ البیان نے بھی اس قول کو جمہور علماء احناف کی طرف منسوب کیا ہے اور صاحب ہدایہ کے پاس یہی تیسرا قول مفتی بہ ہے۔ (ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ۔) ف(2): نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ تین طرح کی ہیں، ایک حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ سے پکڑنے کا ذکر ہے اور دوسری حدیث میں ہاتھ کو ہاتھ پر رکھنے کا ذکر ہے اور تیسری حدیث میں ہاتھ کو پہونچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رکھنے کا ذکر ہے۔ واضح رہے کہ جب کبھی کسی مسئلہ میں مختلف حدیثیں آتی ہیں جس سے ان میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے تو اُصولیین کا قاعدہ یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ایسی کوشش کی جائے کہ ان جملہ مختلف احادیث پر عمل ہوسکے اور ان میں سے کوئی حدیث چھوٹنے نہ پائے۔ اسی قاعدے کے پیش نظر ہمارے فقہاء نے تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھنے کے بارے میں جو مختلف احادیث آئی ہیں ان سب پر اس طرح عمل کیا ہے کہ ان میں سے کوئی حدیث بھی چھوٹنے نہیں پاتی، اسی لئے انہوں نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں سنت یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور چھنگلی سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کے پہنچے کو اس طرح پکڑ لے کہ باقی تین انگلیاں بائیں پہنچے کے بالائی حصہ یعنی کلائی پر رہیں۔ اس سے یہ صادق آتا ہے کہ نمازی نے اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا ہے اور اپنے سیدھے ہاتھ کو بائیں کلائی پر بھی رکھا ہے اور اپنے بائیں ہاتھ کو سیدھے ہاتھ سے پکڑ لیا ہے، اس طرح نمازی نے ہاتھ باندھنے سے متعلقہ جملہ مختلف حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ (حلبی، ردالمحتار)۔ ف(3): نماز میں ہاتھ باندھنے کا یہ طریقہ مردوں سے متعلق ہے لیکن عورتیں داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر رکھیں۔ (طحاوی۔)