ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں نماز میں ان سات ہڈیوں کو زمین پر ٹیک کر سجدہ کیا
کروں، (1) پیشانی، (2/3) دونوں ہاتھوں کے پنجے، (4/5) دونوں گھٹنے اور (6/7) دونوں پیروں
کی انگلیاں۔
And the saying of Allah, the Almighty: "And they fall down upon their faces weeping, and it increases them in humility." (Quran 17:109) And His saying: "Prostrate and draw near [to Allah]." (Quran 96:19)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 812 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 490b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اگر دونوں پیر زمین سے اٹھ جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ایک پیر اٹھ جائے تو نماز
مکروہ ہوگی۔ (اشعۃ اللمعات) یہ مردوں کا سجدہ ہے۔)
عورتوں کا سجدہ اس طرح ہے کہ عورتیں سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے رکھیں پھر
کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملا دیں اور پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ پاؤں کو
داہنی طرف نکال دیں اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو رکھیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں اور پیٹ
دونوں رانوں سے اور بانہیں یعنی دونوں ہاتھ کہنیوں تک زمین پر بچھا کر پہلو سے ملا دویں۔ (درمختار)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد اور عورتیں دونوں
نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے کپڑوں کو ادھر سے ادھر نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔
(اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین کہنیوں تک چڑھائے ہوئے ہوں یا دامن سمیٹے ہوئے
نماز پڑھی جائے تو نماز مکروہ ہوگی اور اگر نماز کی حالت میں آستین چڑھائے یا دامن سمیٹ لے تو نماز
ٹوٹ جائے گی اس لئے کہ یہ عمل کثیر ہے۔ (ردالمحتار۔)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد جن
کے سر کے بال دراز ہوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے بالوں کو نہ سمیٹیں اور
نہ سنبھالیں۔ (اگر مرد عورتوں کی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز
پڑھیں تو نماز مکروہ ہوگی اس لئے مرد جوڑا کھول کر نماز پڑھیں اور اگر نماز کی حالت میں جوڑا باندھا تو
نماز فاسد ہو جائے گی اور ایسا ہی عورتیں بھی نماز کی حالت میں جوڑا باندھیں تو عورتوں کی بھی نماز فاسد
ہو جائے گی، البتہ عورت پہلے سے اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز شروع کرے تو عورت کی نماز
مکروہ نہ ہوگی جیسا کہ مرد کی نماز جوڑا باندھ کر پڑھنے سے مکروہ ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن، بحوالہ نیل
الاوطار۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ نماز میں ان سات ہڈیوں کو زمین پر ٹیک کر سجدہ کیا کروں، پیشانی
فرماتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں
ہاتھوں کے پنجے اور دونوں گھٹنے اور دونوں پیروں کی انگلیاں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور یہ بھی
حکم ملا ہے کہ ہم نماز میں اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اس کی روایت امام بخاری
نے باب السجود على الأنف میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 812 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ باب السجود کی پہلی حدیث جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اس
میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ نمازی سات ہڈیوں پر سجدہ کیا کرے، ان سات ہڈیوں کے منجملہ
اس حدیث میں صرف پیشانی کا ذکر ہے ناک کا ذکر نہیں ہے اور یہ دوسری حدیث جو حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی فرما کر ناک کی طرف اشارہ
فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناک اور پیشانی دونوں ایک عضو کے حکم میں ہیں اور چونکہ ناک
پیشانی کا جزو ہے، اس لئے صرف ناک پر سجدہ کرنا گویا پیشانی پر سجدہ کرنا ہے۔
چنانچہ علامہ عینی رحمہ اللہ نے بنایہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی ایک اور روایت نقل فرمائی
ہے جس میں الجبهة والانف (پیشانی اور ناک) کا ذکر ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ پیشانی اور
ناک دونوں ایک ہی عضو ہیں، اس وجہ سے چاہے پیشانی پر سجدہ کریں یا ناک پر کریں دونوں صورتوں
میں سجدہ ادا ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہڈیوں کا ذکر فرمایا ہے جن پر سجدہ کیا
جاتا ہے اگر پیشانی اور ناک دو الگ عضو قرار دیئے جائیں تو ہڈیاں سات کی بجائے آٹھ ہو جائیں گی
یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جیسے صرف پیشانی پر سجدہ کرنا جائز ہے ایسے ہی
صرف ناک پر بھی بغیر عذر کے سجدہ کرنا جائز ہے (شرح وقایہ۔) اور صاحبین کے پاس بغیر عذر کے
صرف ناک پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور یہ بھی امام صاحب کا دوسرا قول ہے کہ صرف ناک پر بغیر عذر
کے سجدہ کرنا جائز نہیں اور امام صاحب نے بعد میں اس دوسرے قول سے رجوع فرمایا ہے اس لئے فتویٰ
اسی پر ہے کہ صرف ناک پر سجدہ بغیر عذر کے جائز نہیں بلکہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ ہونا چاہئے اور
یہی افضل ہے جس پر آنے والی حدیثیں شاہد ہیں۔ (ردالمحتار، اشعۃ اللمعات مرقات، ملتقی، جامع
الآثار۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ میں نماز میں ان سات ہڈیوں کو زمین پر ٹیک کر سجدہ کیا کروں اور نماز میں
(مٹی لگنے کے خوف سے) بالوں اور کپڑوں کو نہ تو سمیٹوں اور نہ سنبھالوں (سات ہڈیاں یہ ہیں)
پیشانی اور ناک، دونوں ہاتھوں کے پنجے اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیاں۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے بدن کے
سات اعضاء بھی سجدہ کرتے ہیں (وہ سات) اعضاء بدن یہ ہیں) چہرہ (جو پیشانی اور ناک پر شامل
ہے) دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیاں۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
ابوحمید رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے نماز پڑھنے کا تفصیلی بیان ہے اس میں سجدہ کی کیفیت اس طرح مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے سجدہ فرمایا تو اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر رکھ دیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے
علیحدہ رکھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سجدہ میں ناک کو پیشانی کے ساتھ زمین پر رکھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت طبرانی اور ابویعلی نے کی ہے۔)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی
اور ناک پر مٹی کا نشان دیکھا گیا، جبکہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تھی۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ سجدہ اطمینان اور اعتدال سے کیا کرو اور تم میں سے کوئی مرد کتے کی طرح زمین پر
اپنی باہیں یعنی ہاتھ کہنیوں تک نہ بچھایا کرے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے کوے کی ٹھونگ کی طرح سجدے کرنے سے منع فرمایا ہے (یعنی جیسے کوا دانہ اٹھانے
کے لئے زمین پر جلدی جلدی ٹھونگ مارتا ہے، اسی طرح نمازی سجدے سے سر جلدی جلدی نہ اٹھائے
بلکہ اعتدال و اطمینان سے سجدے کیا کرے) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لئے سجدے
میں درندے کی طرح اپنے ہاتھ کہنیوں تک زمین پر بچھانے سے بھی منع فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے نمازی کو مسجد میں اپنے لئے (دوسروں کو روک کر) کسی جگہ کو مخصوص کر لینے سے بھی منع فرمایا
ہے جیسے کہ اونٹ اپنے بیٹھنے کے لئے ایک خاص جگہ مقرر کر لیتا ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھو اور کہنیوں کو زمین سے
اٹھائے رکھو (یہ حکم مردوں کے لئے ہے۔)(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو پہلوؤں سے اور پیٹ کو رانوں سے اس طرح دور رکھتے
کہ اگر بکری کا بچہ بازوؤں کے درمیان سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا (یہ امام اور منفرد کی حالت ہے
اور اگر جماعت میں ہو تو اس طرح نہ کرے بلکہ ہاتھوں کو پہلوؤں سے قریب رکھے تاکہ بازو والے کو
ایذا نہ ہو۔ (ہدایہ۔))(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک روایت اس طرح ہے کہ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کی حالت اس طرح ہوتی تھی کہ اگر کوئی بکری کا بچہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر سکتا تھا۔
عبداللہ بن مالک بن بُحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز
پڑھنے میں بحالت سجدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں کو خوب کھول دیتے تھے یہاں تک کہ آپ
کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سجدے میں جاتے وقت ہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر رکھتے تھے
اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے ہاتھ اٹھاتے۔ (اس کی روایت ابوداؤد،
ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اور حاکم نے کہا
ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ابن حبان نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
When he prostrated, he placed his knees before his hands
(1) The statement: "When he prostrated, he placed his knees before his hands": This is the opinion of Abu Hanifah and Al-Shafi’i, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
When he rose, he raised his hands before his knees
(2) The statement: "When he rose, he raised his hands before his knees": This is the opinion of Abu Hanifah. Al-Shafi’i disagreed, as his view is that it is Sunnah to rely on the palms and fingers spread on the ground when rising, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله : إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه وبه قال أبو حنيفة والشافعي، قاله في المرقاة».
Note 2
قوله
(٢) قوله: وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه وبهذا قال أبو حنيفة، وخالفه الشافعي؛ لأن مذهبه أنه يسن أن يعتمد في قيامه على بطن راحتيه وأصابعه مبسوطة على الأرض. كذا في «المرقاة».
نافع رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمرؓ
فرمایا کرتے تھے جو شخص نماز میں جس جگہ اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتا ہے تو وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کو بھی
اسی جگہ پر رکھے اس طرح کہ دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پیشانی رہے (اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔)
اور جب نماز میں سجدے سے اٹھے تو پہلے پیشانی کو زمین سے اٹھائے پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس
لئے کہ اس کے دونوں ہاتھ بھی اسی طرح سجدہ کرتے ہیں جس طرح اس کا چہرہ سجدہ کرتا ہے (پس
چاہئے کہ ہاتھوں کو بھی سجدے کے وقت ایسا ہی زمین پر رکھے جیسا کہ پیشانی کو زمین پر رکھتا ہے اور
ہاتھوں کو زمین سے ایسا ہی اٹھائے جیسا کہ پیشانی کو زمین سے اٹھاتا ہے۔) (اس کی روایت امام
مالک نے کی ہے۔)
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے علیؓ میں تمہارے لئے ہر اس چیز کو پسند کرتا
ہوں جس کو میں اپنے لئے پسند کرتا ہوں، اور جس چیز کو میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا اس کو تمہارے لئے
بھی پسند نہیں کرتا تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کی بیٹھک سے مت بیٹھا کرو۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 282 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اقعاء کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ سرین دونوں ایڑیوں پر رکھے جائیں اور گھٹنے زمین پر
ٹیکے ہوں، اور دوسری صورت یہ ہے کہ سرین اور ہاتھ زمین پر ہوں اور پنڈلیاں کھڑی رکھی جائیں جس
طرح کتے بیٹھتے ہیں۔ (شرح وقایہ اور عمدۃ الرعایۃ۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے
اور کہتا ہے کہ ہائے میری کمبختی! آدمی کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے تو سجدہ کرلیا اور اس کے لئے جنت
مقرر ہوگئی اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا اور میرے لئے دوزخ مقرر ہوگئی۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں راتوں کو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور حضور علیہ السلام کے لئے وضوء کا پانی اور دیگر
ضروریات مہیا کرتا تھا ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگو میں نے عرض کیا کہ
جنت میں حضور کی رفاقت چاہتا ہوں، حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا (یہ تو بڑی بات ہے) اس کے
سوا کچھ اور مانگو میں نے عرض کیا جی بس یہی میرا مقصود و مدعا ہے (حضور نے جب یہ دیکھ لیا کہ یہ
طالب صادق ہے تو ارشاد فرمایا کہ میں تو تم کو ساتھ رکھوں گا مگر) تم بھی بکثرت نمازیں پڑھ کر کثرت
سے سجدے کرکے اپنے کو اس درجے کے قابل بنالو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 489 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے چند فائدے معلوم ہوئے، (1) ایک یہ کہ بزرگوں کی
خدمت اور ان کو راضی رکھنا دارین کی سعادت کا باعث ہوتا ہے، (2) دوسرا فائدہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو چاہے مانگو وہ دیا جائے گا اس سے ثابت ہوا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کی ہر چیز پر اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ
تعالیٰ کے حکم سے عطا فرما دیں، چنانچہ مرقات میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت بطور جاگیر عطا
فرمائی ہے کہ آپ جس کو چاہیں دیں، اللہ تعالیٰ اس دینے سے راضی ہیں، (3) تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ربیعہ
بن کعب رضی اللہ عنہ صد ہزار تحسین کے قابل ہیں کہ آپ نے دنیا کو نہ مانگا آخرت ہی کو مانگا، یہ دنیا کی
چیزوں میں سے جو بھی مانگتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عطا فرما دیتے مگر آپ کا دنیا کو چھوڑ کر آخرت
ہی کو مانگنا اس میں طالب صادق کے لئے سبق ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا پر آخرت ہی کو ترجیح دیا کرے،
(4) چوتھا فائدہ یہ ہے کہ امید وہوس لگائے رکھنا اور خود کچھ نہ کرنا طالب صادق کا کام نہیں بلکہ خود بھی
ریاضتیں کرکے حصول مقصد کی امید باندھنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تم بکثرت نمازیں پڑھ کر اور کثرت سے سجدے کرکے جنت
میں میری رفاقت کے قابل بنو۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
معدان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت
ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور دریافت کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے اگر میں اس کا پابند ہوجاؤں تو
اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مجھے جنت میں داخل کردیں ثوبان رضی اللہ عنہ یہ سن کر خاموش رہے، میں
نے دوبارہ دریافت کیا (تو میری رغبت اور شوق بڑھانے کے لئے) پھر بھی خاموش ہی رہے جب
میں نے تیسری دفعہ پوچھا تو کہنے لگے کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ (تم کثرت سے نمازیں پڑھ کر) زیادہ سجدے کیا کرو،
کیوں کہ تمہارے ہر سجدے پر خدائے تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے
معدانؒ کہتے ہیں کہ پھر اسی طرح میں (ایک دفعہ) حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے بھی ملا اور ان
سے بھی وہی بات پوچھی جو حضرت ثوبان سے پوچھی تھی تو انہوں نے بھی وہی بات کہی جو ثوبانؓ نے کہی
تھی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سجدہ کی حالت میں بندہ کو اپنے پروردگار سے انتہائی قرب حاصل ہوتا ہے لہذا
سجدہ میں تم بہت زیادہ دعا کیا کرو (یعنی جب تم فرض نماز کا سجدہ کرو تو دعا، حمد و ثناء اور اگر نفل نماز کا
سجدہ کر رہے ہو تو دعا، حمد و ثناء کے ساتھ ماثورہ دعا، طلب و سوال بھی کیا کرو۔) (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم (نفل نمازوں کے) سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ كُلَّهٗ دِقَّهٗ
وَجِلَّهٗ وَاَوَّلَهٗ وَاٰخِرَهٗ وَعَلَانِيَتَهٗ وَسِرَّهٗ“ اے اللہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، صغیرہ ہوں یا
کبیرہ، اگلے ہوں یا پچھلے، ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ ایک رات
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا، جستجو کی (اور مسجد میں پہنچی) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
مسجد کے اندر موجود تھے ہاتھ سے ٹٹولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں تلووں پر میرا ہاتھ پڑ گیا،
دونوں تلوے کھڑے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں پڑے یہ دعا فرما رہے تھے: ”اللّٰهُمَّ
مِنْكَ لَا اُحْصِىْ ثَنَاءً عَلَيْكَ اَنْتَ كَمَا اَثْنَيْتَ عَلٰى نَفْسِكَ“ الٰہی میں آپ کے غضب
سے آپ کی رضامندی اور آپ کے عذاب سے آپ کی معافی کی پناہ میں آتا ہوں (چوں کہ آپ کے
سوا کوئی) مالک اور قادر نہیں ہے، اس لئے آپ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، میں آپ کی کچھ بھی
تعریف نہیں کر سکتا، آپ ایسے ہی ہیں جیسے خود آپ نے اپنی تعریف فرمائی ہے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
دو سجدوں کے درمیان جلسہ کی حالت میں یہ دعاء پڑھا کرتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِىْ: اے اللہ میرے گناہوں کو بخش دیجئے اور آپ کی اطاعت میں جو کوتاہیاں
ہوئی ہیں ان کو معاف فرما دیجئے۔
وَارْحَمْنِىْ: اے اللہ! آپ میرے اعمال کو نہ دیکھئے اپنے فضل سے مجھ پر رحمت نازل
فرمائیے۔
وَاهْدِنِىْ: اے اللہ! مجھ کو ان عقائد کی طرف رہبری فرمائیے جن سے آپ راضی ہیں اور مجھ
سے وہ اعمال کروائیے جو آپ کو پسند ہیں۔
وَعَافِنِىْ: اے اللہ! دنیا میں بھی مجھ کو عافیت سے رکھئے اور آخرت میں بھی عافیت سے رکھئے۔
وَارْزُقْنِيْ: اے اللہ! مجھ کو ایسی روزی عطا فرمائیے جس کی وجہ سے میں کسی کا محتاج نہ رہوں۔
وَاجْبُرْنِيْ: اے اللہ! میری شکستہ حالت کو درست فرمائیے۔
وَارْفَعْنِيْ: اے اللہ! مجھ کو دنیا میں بھی مراتب عالیہ عطا فرمائیے اور آخرت میں بھی
(وَاجْبُرْنِيْ اور وَارْفَعْنِيْ کا اضافہ ابن ماجہ سے کیا گیا ہے۔) (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی
اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 850 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 284 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں اور اسی طرح دوسری حدیثوں میں دو سجدوں کے درمیان جلسہ
میں جن دعاؤں کا پڑھنا مروی ہے، ان کے متعلق صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ ان دعاؤں کو ایسی
نمازوں کے جلسہ میں پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تنہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجد، وتر، سنت اور نفل، اسی طرح
کوئی شخص فرض نماز کو تنہا پڑھ رہا ہے تو وہ بھی اس کے جلسہ میں ان دعاؤں کو پڑھ سکتا ہے البتہ یہ نمازیں
جب جماعت سے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے جلسوں میں ان دعاؤں کو نہیں پڑھنا چاہئے تاکہ مقتدیوں پر
بار نہ ہو، لیکن نماز کسوف کے جلسہ میں جماعت سے پڑھی جانے کے باوجود دعاؤں کو پڑھا جا سکتا ہے
کیوں کہ یہ نماز طوالت سے پڑھی جانے کے لئے ہی وضع ہوئی ہے، ایسا ہی اگر امام کسی ایسی جماعت کو
نماز پڑھا رہا ہے جو سب ہم خیال ہوں اور کسی پر نماز کی طوالت بار نہیں تو اس کے جلسہ میں بھی امام اور
مقتدی دونوں ان دعاؤں کو پڑھ سکتے ہیں۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے
درمیان ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ“ فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اگر دونوں پیر زمین سے اٹھ جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ایک پیر اٹھ جائے تو نماز مکروہ ہوگی۔ (اشعۃ اللمعات) یہ مردوں کا سجدہ ہے۔) عورتوں کا سجدہ اس طرح ہے کہ عورتیں سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے زمین پر گھٹنے رکھیں پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں اور ہاتھوں کی انگلیاں خوب ملا دیں اور پاؤں کھڑے نہ کریں بلکہ پاؤں کو داہنی طرف نکال دیں اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رو رکھیں اور خوب سمٹ کر اور دب کر سجدہ کریں اور پیٹ دونوں رانوں سے اور بانہیں یعنی دونوں ہاتھ کہنیوں تک زمین پر بچھا کر پہلو سے ملا دویں۔ (درمختار) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد اور عورتیں دونوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے کپڑوں کو ادھر سے ادھر نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اگر نماز شروع کرنے سے پہلے آستین کہنیوں تک چڑھائے ہوئے ہوں یا دامن سمیٹے ہوئے نماز پڑھی جائے تو نماز مکروہ ہوگی اور اگر نماز کی حالت میں آستین چڑھائے یا دامن سمیٹ لے تو نماز ٹوٹ جائے گی اس لئے کہ یہ عمل کثیر ہے۔ (ردالمحتار۔) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہ بھی حکم ملا ہے کہ ہم مرد جن کے سر کے بال دراز ہوں نماز میں (مٹی لگنے کے خوف سے) اپنے بالوں کو نہ سمیٹیں اور نہ سنبھالیں۔ (اگر مرد عورتوں کی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھیں تو نماز مکروہ ہوگی اس لئے مرد جوڑا کھول کر نماز پڑھیں اور اگر نماز کی حالت میں جوڑا باندھا تو نماز فاسد ہو جائے گی اور ایسا ہی عورتیں بھی نماز کی حالت میں جوڑا باندھیں تو عورتوں کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ عورت پہلے سے اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے نماز شروع کرے تو عورت کی نماز مکروہ نہ ہوگی جیسا کہ مرد کی نماز جوڑا باندھ کر پڑھنے سے مکروہ ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن، بحوالہ نیل الاوطار۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)