ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جب رات تہجد کی نماز پڑھنے کو اٹھتے تو (نماز تہجد شروع کرنے سے پہلے) یہ دعا پڑھتے۔
اے اللہ! ہر طرح کی تعریف آپ ہی کے لئے سزاوار ہے، آسمانوں زمینوں اور جتنی چیزیں
ان میں ہیں آپ ہی ان سب کے سنبھالنے والے اور ان کا انتظام کرنے والے ہیں۔ اور ہر طرح حمد
آپ ہی کو سزاوار ہے، آسمانوں، زمینوں اور جتنی چیزیں ان میں ہیں سب کے آپ نور ہیں یعنی ان
سب کو عدم کی ظلمت سے نکال کر وجود کا نور عطا کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اور ہر طرح کی حمد آپ
ہی کو سزاوار ہے، اور آسمانوں، زمینوں اور جتنی چیزیں ان میں ہیں ان سب کے بادشاہ آپ ہی
ہیں (کوئی آپ کی بادشاہت میں شریک نہیں ہے اور کوئی آپ کی بادشاہت کا انکار کرنے والا نہیں
ہے) اور ہر طرح کی حمد آپ ہی کو سزاوار ہے۔ آپ ہی حق ہیں یعنی آپ ہی موجود اور ثابت ہیں اور
آپ کا وجود لازوال ہے کہ کبھی معدوم نہیں ہونے کا اور آپ کے سوائے سب معدوم ہیں۔ اور آپ
کا وعدہ سچا ہے یعنی آپ نے جو وعدہ اپنے بندگان خاص سے دنیا میں مدد کرنے کا اور آخرت میں
ثواب دینے کا کیا ہے سچا ہے کہ کبھی آپ اس کا خلاف نہیں کرتے، اور آپ سے ملنا یقینی ہے یعنی
دنیا سے دار آخرت کی طرف آنا اور پھر وہاں آپ کا دیدار ہونا برحق ہے۔ آپ جو فرماتے ہیں وہ
بالکل سچ ہوتا ہے کبھی اس کا خلاف نہیں ہوتا۔ اور بیشک جنت کا موجود ہونا اور دوزخ کا موجود ہونا
یقینی ہے۔ سب نبی برحق ہیں (اس لئے ہم سب پر ایمان لائے ہیں)۔ اور حضرت محمد صلی اللہ وآلہ
وسلم سچے نبی ہیں، (اس لئے ہر اگلے اور پچھلے کو آپ پر ایمان لانا ضروری ہے)۔ اور قیامت کا آنا
اور جو اس میں ہونے والا ہے وہ سب حق ہے۔ اے اللہ! میں آپ ہی کا تابعدار ہوں اور آپ ہی
کے سامنے سر نیاز جھکایا ہوا ہوں۔ اے اللہ! میں آپ پر ایمان لایا ہوں۔ اور میں آپ ہی پر توکل
کرتا ہوں یعنی بھروسہ کرتا ہوں اور میں آپ ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں (میں نے اپنے نفس کے
لئے کسی سے جھگڑنا چھوڑ دیا ہے) اور جب کبھی جھگڑتا ہوں تو آپ ہی کے لئے اور آپ ہی کے
دین کے لئے آپ ہی کی مدد لے کر جھگڑتا ہوں۔ اے میرے اللہ! میں آپ ہی کو اپنا حاکم سمجھتا
ہوں، دینی اور دنیوی ہر امر کو آپ کے سامنے فیصلے کے لئے پیش کرتا ہوں۔ (واضح ہو کہ یہاں
And the saying of Allah, the Almighty: "And remember the name of your Lord." (Quran 73:8)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1120 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 769a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گناہوں سے مغفرت کی جو دعا ہے وہ امت کے تعلیم کے لئے ہے، حضور ﷺ کے گناہوں سے
معصوم ہونے کی تحقیق نور المصابیح، حصہ دوم صفحہ 376 میں گزر چکی ہے۔12)
” مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ اَنْتَ
الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “
(اے اللہ میں گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب آپ کو میں اپنا حاکم سمجھتا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ
معاف نہیں کرسکتا اس لئے) اس لئے آپ میرے اگلے پچھلے چھپے ہوئے اور ظاہری اور جن کو مجھ
سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان سب گناہوں کو آپ ایسا معاف کیجئے کہ میں گناہوں سے ایسا پاک
ہوجاؤں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت پاک تھا (یہ اس لئے عرض کررہا ہوں کہ آپ
جو کرنا چاہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں) جس کو چاہیں آپ آگے کرسکتے ہیں اور جس کو چاہیں آپ
پیچھے ڈال سکتے ہیں، آپ ہی میرے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات جب تہجد کی نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو (تکبیر تحریمہ کے بعد) نماز
کے شروع میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
ترجمہ: اے اللہ! اے جبرئیل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمانوں اور زمینوں کے
پیدا کرنے والے! اے غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے آپ ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ
کرنے والے ہیں ان باتوں میں کی جن میں اختلاف کرتے تھے (اس لئے) آپ اپنے حکم سے حق میں جو
اختلاف ڈال دیا گیا ہے ان (امور) میں میری رہبری فرمائیے اپنے حکم سے (اور آپ پر یہ مشکل نہیں
ہے) آپ جس کو چاہتے ہیں اس کو صراط مستقیم کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم رات کو جب تہجد پڑھنے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ فرماتے، اس کے بعد ثناء اس طرح
پڑھتے:
غَيْرُكَ“۔ اے اللہ! ہم آپ کی تعریف کرتے ہوئے تمام عیبوں سے آپ کی پاکی بیان کرتے
ہیں، آپ کا نام بڑا برکت والا ہے، آپ بہت عالیشان ہیں، آپ کے سوا کوئی معبود لائق عبادت
نہیں۔
پھر اس کے بعد آپ یہ دعا بھی پڑھتے تھے: اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيْرًا۔
اللہ سب سے بڑوں سے بڑا ہے، ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں۔
اس کے بعد پھر یہ دعا پڑھتے: ”أَعُوْذُ بِاللّٰهِ السَّمِيْعِ الْعَلِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ مِنْ
میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو سب سے زیادہ سننے والے اور سب سے زیادہ جاننے
والے ہیں، شیطان مردود کے هَمْزَ سے (یعنی وسوسوں سے جن کو شیطان انسان کے دلوں میں پیدا
کرتا ہے) اور نَفْخ سے (یعنی غرور اور خود پسندی سے جن کو شیطان انسانوں کے دلوں میں ڈالتا
ہے، اور نفث سے (یعنی سحر سے جس کو شیطان انسان سے کرواتا ہے)۔
اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد کی روایت میں ”لَا اِلٰهَ
غَيْرُكَ“ کے بعد یہ اضافہ ہے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ، اللّٰهُ اَكْبَرُ كَبِيْرًا
کے بعد آپ ﷺ قراءت شروع فرماتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 775 (unverified) 99% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 242 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ یہ اور اس قسم کی حدیثوں کی وجہ سے عشاء کے بعد نوافل میں مذکورہ دعاؤں اور
مسنون اذکار کا اضافہ کر سکتے ہیں، حنفی مذہب بھی یہی ہے، اس کی تفصیل نور المصابیح حصہ دوم حدیث
نمبر (393) کے فائدہ میں ملاحظہ کی جائے۔
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کے اتنا قریب سویا کرتا تھا کہ حضور اندر جو پڑھا کرتے وہ مجھے
سنائی دیا کرتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو بہت دیر تک
”سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ“ (سارے عالموں کا رب سب عیبوں سے پاک ہے) پڑھتے رہتے،
پھر اس کے بعد بہت دیر تک ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ“ (اللہ تعالیٰ کی سب عیبوں سے پاکی بیان
کرتے ہوئے میں اس کی تعریف کرتا ہوں) پڑھا کرتے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تہجد کے لئے جب نیند سے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:
آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، اے اللہ میں آپ کی تعریف کرتے ہوئے تمام عیبوں سے آپ
کی پاکی بیان کرتا ہوں (امت کو سکھانے کے لئے فرماتے ہیں اے اللہ! گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب نادم
و شرمندہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ) آپ میرے گناہوں کو معاف فرما دیں (اے اللہ میں ہر طرف سے
مایوس ہو گیا ہوں صرف آپ ہی کی رحمت پر بھروسہ ہے) میں آپ سے آپ کی رحمت کا طالبگار ہوں
مجھ پر آپ رحم کیجئے۔ (اے اللہ! میں کیا اور میرا علم کیا، علم کے تو بے حد مراتب ہیں اس لئے دعا کرتا
ہوں کہ) آپ ہر وقت میرا علم زیادہ فرماتے رہئے۔ (اے اللہ) ہر گھڑی دل کی حالت بدلتی رہتی
ہے، ہماری کسی حالت پر بھروسہ نہیں، آپ محض اپنے فضل و کرم سے مجھے ہدایت دیتے رہے اور دل
کو گمراہی کی طرف جانے نہ دیجئے، میرا بھروسہ آپ ہی کی رحمت پر ہے، آپ اپنی رحمت سے مجھے
ہدایت پر قائم رکھئے۔ (یہ جو کچھ میں مانگ رہا ہوں، میرے اعتبار سے، بہت بڑی چیز ہے، آپ کے
لحاظ سے کچھ بھی نہیں اس لئے کہ) آپ بہت عطا کرنے والے ہیں، آپ کی عطا کی کوئی حد نہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
شریق ہوزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ام المومنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رات کو جب تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو ابتداء کن اذکار سے فرماتے تھے؟ ام المومنین ارشاد فرمائیں:
تم نے مجھ سے وہ بات دریافت کی ہے جس کو آج تک کسی نے دریافت نہیں کیا (اس سے تمہارے
طلب علم کا شوق معلوم ہوتا ہے) سنو! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تہجد کے لئے نیند سے بیدار
ہوتے تو: اَللّٰهُ اَكْبَرُ دس بار، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، دس بار، سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، دس بار، اور دس بار
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ، (اللہ تعالیٰ سب عیبوں سے اور ہر طرح کے نقصان سے پاک ہیں،
اور ان کی لازوال بادشاہت ہے، جن صفتوں میں کمال نہیں ہے ان صفتوں سے اللہ تعالیٰ پاک ہیں
یعنی مخلوقات کے سارے صفات سے اللہ پاک ہیں) پھر اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ، دس بار اور لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ، دس
بار فرمایا کرتے تھے کہ یہ دعا بھی دس بار کیا کرتے تھے ”اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ ضِيْقِ الدُّنْيَا
وَضِيْقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ (اے اللہ جو شخص قرض میں مبتلا ہوتا ہے یا بیمار ہو جاتا ہے یا کوئی اس پر ظلم کرتا
ہے تو ساری دنیا اس پر تنگ ہو جاتی ہے تو مجھے ان مصیبتوں میں مبتلا کر کے مجھ پر دنیا تنگ مت کر اور
قیامت کے ہولناک اہوال اور طرح طرح کی سختیوں کی وجہ سے زندگی تنگ ہو جائے گی تو مجھے
قیامت کی اس تنگی کی زندگی سے بچائیے) (یہ سات چیزیں دس دس بار پڑھنے کے بعد) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد کی نماز شروع فرماتے تھے۔ (اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نیند سے یہ کہتے ہوئے بیدار ہو
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ اکیلے ہیں کوئی ان کا شریک نہیں سب بادشاہت اسی
کی ہے اور ہر طرح کی تعریف انہی کے لئے ہے اور وہی سب کچھ کرنے پر کامل طور سے قادر ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام عیبوں سے پاک ہیں اور ان کی صفتیں ایسی کامل ہیں جو زوال سے پاک ہیں اور تمام
خوبیاں اللہ ہی میں ہیں اس لئے سب تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے، اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لائق
عبادت نہیں، اور اللہ تعالیٰ سب بڑوں سے بڑے ہیں، اور گناہوں سے بچنا اور نیکیاں کرنا اللہ ہی کی
توفیق اور انہی کی مدد سے ہوتا ہے۔
(یہ دعا پڑھنے کے بعد مغفرت طلب کرے گا یا کوئی اور دعا کرے گا تو اس کی دعا قبول ہوگی
اور اگر وضو کر کے تہجد کی نماز پڑھے گا تو نماز بھی مقبول ہوگی۔ اس کی روایت امام بخاری نے کی
ہے۔)
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان باوضوء اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سو جائے اور پھر اتفاق سے
اس کی نیند ہوشیار ہو تو وہ جو دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائیں گے۔
(اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گناہوں سے مغفرت کی جو دعا ہے وہ امت کے تعلیم کے لئے ہے، حضور ﷺ کے گناہوں سے معصوم ہونے کی تحقیق نور المصابیح، حصہ دوم صفحہ 376 میں گزر چکی ہے۔12) ” مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “ (اے اللہ میں گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب آپ کو میں اپنا حاکم سمجھتا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا اس لئے) اس لئے آپ میرے اگلے پچھلے چھپے ہوئے اور ظاہری اور جن کو مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان سب گناہوں کو آپ ایسا معاف کیجئے کہ میں گناہوں سے ایسا پاک ہوجاؤں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت پاک تھا (یہ اس لئے عرض کررہا ہوں کہ آپ جو کرنا چاہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں) جس کو چاہیں آپ آگے کرسکتے ہیں اور جس کو چاہیں آپ پیچھے ڈال سکتے ہیں، آپ ہی میرے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)