Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1869

Chapter on The Prayer of the Two Eids

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer of the Two Eids

Zujajat al-Masabih 1869Volume 1

English

Sa'id bin Amr bin al-As (may Allah be pleased with him) narrated that he asked Abu Musa al-Ash'ari and Hudhayfah bin al-Yaman (may Allah be pleased with them): "How did the Messenger of Allah (ﷺ) say the takbir in Eid al-Adha and Eid al-Fitr?" Abu Musa said, "He would say takbir four times, like the takbir of the funeral prayer." Hudhayfah (may Allah be pleased with him) said, "He has spoken the truth." Abu Musa (may Allah be pleased with him) said, "This is how I used to say takbir in Basrah when I was their leader." [Narrated by Abu Dawud and Al-Tahawi] Abu Dawud remained silent about it, and so did al-Mundhiri in his Mukhtasar. In its chain is Abdur Rahman bin Thawban, whom more than one scholar has declared trustworthy. Ibn Ma'in said, "There is no harm in him." Also in its chain is Abu Aishah. In al-Taliq al-Hasan from al-Khulasa, it is mentioned: 'Abu Aishah al-Umawi, their freed slave, narrated from Abu Musa and Abu Hurairah (may Allah be pleased with them), and from him narrated Mak'hul and Khalid bin Ma'dan. Thus, his anonymity is removed due to two narrators reporting from him. Abdul Razzaq narrated it from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) with a Sahih chain.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٦٩ - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ (رضي الله عنهما): كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ اللهِ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَى: كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَازَةِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ : صَدَقَ. فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَى: كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِي الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالطَّحَاوِيُّ. وَسَكَتَ أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ، ثُمَّ الْمُنْذِرِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ. وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَفِي سَنَدِهِ أَبُوْ عَائِشَةَ أَيْضًا. قَالَ فِي التَّعْلِيقِ الْحَسَنِ عَنِ الْخُلَاصَةِ : أَبُو عَائِشَةَ الْأُمَوِيُّ مَوْلَاهُمْ عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْهُ (رضي الله عنه) مَكْحُوْلٌ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَهُ بِرِوَايَةِ اثْنَيْنِ عَنْهُ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَاقِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2172Noor 2173
سعید بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالاضحی کی نماز اور عیدالفطر کی نماز میں کس طرح تکبیرات فرماتے تھے؟ حضرت ابو موسیٰ نے جواب دیا کہ جنازہ کی تکبیروں کی طرح دونوں عیدوں کی پہلی رکعت میں چار تکبیرات فرماتے تھے (جس میں سے پہلی تکبیر تکبیر تحریمہ ہوتی تھی، اس کے بعد ثناء پڑھتے پھر تین تکبیرات زائد فرماتے تھے، ہر دو تکبیروں کے بیچ میں تین تسبیحات کے موافق فصل کرتے تھے، اور ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرتے تھے اور تیسری تکبیر کے بعد قیام کے لئے ہاتھ باندھ لیتے تھے ایسا ہی دوسری رکعت میں بھی نماز جنازہ کی طرح چار تکبیر فرماتے۔ جس میں سے پہلے تین تکبیرات زائد ہوتے ہر دو تکبیر کے بیچ میں تین تسبیحات کی مقدار فصل ہوتا تھا۔ ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین بھی کرتے تھے چوتھی تکبیر کے ساتھ بغیر رفع یدین کئے رکوع میں چلے جاتے تھے) حضرت حذیفہ نے ان کی تصدیق کی (اور فرمایا: ابو موسیٰ جیسا کہے ہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے) یہ سن کر حضرت ابو موسیٰ کہنے لگے کہ میرا اسی طرح عمل درآمد رہا ہے، جس وقت میں بصرہ کا حاکم تھا (میں دونوں عیدوں میں اسی طرح تکبیر کہا کرتا تھا)۔ اور عبدالرزاق نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1153 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور طحاوی نے کی ہے اور ابوداؤد نے سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اور منذری نے بھی اپنی مختصر میں اس کی روایت کی ہے۔