English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When the Prophet (ﷺ) arrived in Madinah, the people had two days in which they would play. He asked, "What are these two days?" They said, "We used to play in them during the pre-Islamic period." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Indeed, Allah has replaced them for you with something better: the Day of Sacrifice and the Day of Fitr."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٨٦٨ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُوْنَ فِيْهِمَا، فَقَالَ: «مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟ قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيْهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: قَدْ أَبْدَلَكُمُ اللهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهِمَا، يَوْمُ الْأَضْحَى وَيَوْمُ الْفِطْرِ». رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2171
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم (مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھے کہ مدینہ والوں کے
لئے دو دن مقرر تھے، جن میں وہ عید مناتے تھے اور عید کی خوشی کو) لہو ولعب سے کھیل کود سے ظاہر
کرتے تھے تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: یہ دو دن جن کو تم عید مقرر کئے ہو، ان
سے کیا غرض ہے؟ تو مدینہ والوں نے کہا کہ یہ وہی دن ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم ان میں کھیلا
کرتے تھے اور خوشیاں مناتے تھے، اگر حضور فرمائیں تو یہ دو دنوں میں ہم عید منانا چھوڑ دیتے ہیں اور
جن دو دنوں میں خوشی منانے کا حکم ہوگا، ان میں خوشی منائیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے (عید ایسے دنوں میں مقرر کرنا چاہئے جن میں ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوئی ہوں۔ ان
نعمتوں کے بدلہ میں عید منا کر شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ جن دنوں میں تم عید مناتے تھے، وہ دن ستاروں
کی تحویل کے تھے۔ مسلمانوں کے پاس ستاروں کی تحویل کوئی چیز نہیں جو کچھ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی
کرتا ہے۔ ستارے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں آلہ کار ہیں۔ مستقل ان میں کوئی اثر نہیں) اللہ تعالیٰ ان
دو دنوں کے بدلہ میں جن میں تم عید مناتے ہیں۔ دوسرے دو دن عید منانے کے لئے مقرر کئے ہیں۔
ایک تو عید الاضحیٰ اور دوسرے عید الفطر، عید الاضحیٰ تو وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیل اللہ
پر بڑا فضل کیا کہ ان کے فرزند کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ ہم کو حضرت خلیل اللہ کی پیروی کرنے کا حکم
ہوا ہے، جو دن حضرت خلیل اللہ کی خوشی کا ہے ہم کو بھی ان کی پیروی کر کے اس میں خوشی کر کے عید
منانا چاہئے۔ دوسرا دن عید الفطر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو رمضان شریف دے کر نفس کی اور
دل کی اصلاح فرمایا۔ روزے پورے ہوگئے۔ کتنا بڑا احسان ہے اللہ کا جس نے ہم سے پورے
روزے کروائے۔ اس نعمت کے شکریہ میں بھی ختم رمضان کے بعد عید الفطر کے دن کو عید منا کر اللہ
تعالیٰ کے اس احسان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مسلمان ہمیشہ لہو ولعب سے بچا کرتے ہیں، اس لئے
ان دونوں عیدوں کو بھی کفار کی طرح لہو ولعب کھیل کود میں نہ گزاریں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے
عید کی خوشی کا اظہار کریں، مسلمان کے پاس عبادت سے بڑھ کر کوئی چیز خوشی کے قابل نہیں)۔
(اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1134 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1439 (unverified) 93% confidence
Mishkat (candidate) 1439
Confidence and text similarity are not editorial verification.