Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2254

Chapter on What Zakat is Obligatory Upon

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on What Zakat is Obligatory Upon

Zujajat al-Masabih 2254Volume 1

English

Anas (may Allah be pleased with him) narrated that Abu Bakr (may Allah be pleased with him) wrote to him this letter when he sent him to Bahrain: “In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. This is the obligation of charity that the Messenger of Allah (ﷺ) enjoined upon the Muslims and that Allah commanded His Messenger. Whoever among the Muslims is asked for it in the proper manner should give it, and whoever is asked for more than that should not give it. 1 For every twenty-four camels or fewer, the charity is sheep: one sheep for every five camels. When they reach twenty-five to thirty-five, the charity is a one-year-old female camel. When they reach thirty-six to forty-five, the charity is a two-year-old female camel. When they reach forty-six to sixty, the charity is a three-year-old female camel that has been mated. When they reach sixty-one to seventy-five, the charity is a four-year-old female camel. When they reach seventy-six to ninety, the charity is two two-year-old female camels. When they reach ninety-one to one hundred and twenty, the charity is two three-year-old female camels that have been mated.” [Narrated by Bukhari] Abu Dawud narrated in Al-Marasil, 2 Al-Tahawi in Mushkil Al-Athar, and Ishaq ibn Rahwayh in Musnad from Amr ibn Haram that the Prophet (ﷺ) wrote this to his grandfather, and he read it. It mentioned the obligations of charity for camels, and the narration continued until it reached one hundred and twenty. If the number exceeded one hundred and twenty, the obligation would restart from the beginning. For fewer than twenty-five camels, the charity is sheep: one sheep for every five camels. [Narrated by Nasa’i in Al-Diyat] In a narration by Ibn Abi Shaybah from Ali (may Allah be pleased with him), he said: “If the camels exceed one hundred and twenty, the obligation restarts.” In another narration from Ibrahim, the same is mentioned.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٢٥٤ - وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَالَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا رَسُوْلَهُ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِ1 فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِيْنَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُوْنَهَا مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، إِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِئًا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُوْنٍ أُنْثَى. فَإِذَا بَلَغَتْ سِرًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ يَعْنِي سِرًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا بِئْنَا لَبُوْنٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوْقَتَا الْجَمَلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ2 فِي الْمَرَاسِيْلِ وَالطَّحَاوِيُّ فِي مُشْكِلِهِ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ فِي مُسْتَدَهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرَمٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَتَبَهُ لِجَدِّهِ فَقَرَأْتُهُ، فَكَانَ فِيْهِ ذِكْرَ مَا يُخْرِجُ مِنْ فَرَائِضِ الْإِبِلِ. فَقَصَّ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِيْنَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِيْنَ وَمِائَةٍ فَإِنَّهُ يُعَادُ إِلَى أَوَّلِ فَرِيضَةِ الْإِبِلِ، وَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِيْنَ فَفِيْهِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ. وَرَوَى النَّسَائِيُّ فِي الدِّيَاتِ» نَحْوَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَلَيَّ الله قَالَ: إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ يُسْتَقْبَلُ بِهَا الْفَرِيضَةُ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِثْلَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2636Noor 2637Noor 2638Noor 2639
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو (عامل بنا کر) بحرین روانہ کیا تو یہ حکم نامہ لکھ کر ان کے حوالہ کیا (جس کی عبارت اس طرح شروع ہوتی تھی) بسم الله الرحمٰن الرحيم اس حکم نامہ میں اس فرض زکات کے احکام ہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں پر فرض کیا ہے۔ پس جب کسی (صاحب نصاب) مسلمان سے اس حکم کے مطابق (ادائی زکات کا) مطالبہ کیا جائے تو وہ اس کو (اس حکم نامہ کے مطابق) ادا کر دے اور جب کسی سے (زکات میں مقررہ مقدار سے) زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ (زائد مطالبہ) کو نہ دے (بلکہ اتنا ہی ادا کرے جتنا دینا اس پر واجب ہے) (اونٹوں کی زکات کی تفصیل یہ ہے کہ پانچ اونٹ سے کم پر زکات واجب نہیں) (جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔) جب اونٹ پانچ ہو جائیں تو ان پر ایک بکری زکات میں دینا واجب ہے، اسی طرح ہر پانچ پر 24 اونٹوں تک ایک ایک بکری واجب ہے (اس کی تفصیل یہ ہے کہ 5 اونٹ جو چرنے والے ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو 9 اونٹ تک ایک بکری زکات میں واجب ہے، جب اونٹ دس ہوجائیں تو 14 اونٹوں تک دو بکریاں اور پندرہ سے انیس اونٹ تک تین بکریاں اور بیس سے چوبیس اونٹ تک چار بکریاں زکات میں واجب ہیں) (جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔) پس جب اونٹ 25 ہوجائیں تو 25 سے 35 اونٹوں تک ایک ماہہ بنت مخاض (یعنی پورے ایک سال کی اونٹنی زکات میں) دی جائے۔ پس جب اونٹ 36 ہوجائیں تو 36 سے 45 اونٹوں تک ایک ماہہ بنت لبون) یعنی پورے دو سال کی اونٹنی زکات میں) دی جائے۔ پس جب اونٹ 46 ہوجائیں تو 46 سے 60 اونٹوں تک ایک حقہ (یعنی پورے 3 سال کی اونٹنی زکات میں) دی جائے اور حقہ ایسی اونٹنی ہوتی ہے جو سواری اور جفتی کے قابل ہوتی ہے، اور جب اونٹ 61 ہوجائیں تو 61 سے 75 اونٹ تک ایک جذعہ یعنی پورے چار سال کی اونٹنی زکات میں) دی جائے، اور جب اونٹ 76 ہوجائیں تو 76 سے 90 اونٹ تک دو ماہہ بنت لبون (یعنی پورے دو سالہ دو اونٹنیاں زکات میں) دی جائیں اور جب اونٹ 91 ہوجائیں تو 91 سے 120 تک دو حقہ (یعنی پورے تین سال کی دو اونٹنیاں) سواری اور جفتی کے قابل ہوتی ہیں دی جائیں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔ اور ابوداؤد نے اس کی روایت مراسیل میں کی ہے اور امام طحاوی نے اپنی مشکل الآثار میں کی ہے اور اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں عمرو بن حزم سے روایت کی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جد امجد کو فرمان روانہ فرمایا تھا جس کو میں نے خود پڑھا ہے اس میں اونٹوں کی زکات کے تفصیلی احکام درج تھے، انہوں نے اپنی حدیث میں (مذکورہ بالا بخاری وغیرہ کی حدیث کے موافق 120 ایک سو بیس اونٹوں تک (زکات کی ایسی ہی تفصیل) بیان کی (اور جب اونٹ 120 سے زائد ہوجائیں تو 120 سے زائد اونٹوں کی زکات کی تفصیل اس طرح بیان کی کہ جب اونٹ 120 سے زائد ہوجائیں تو ان کی زکات مذکورہ ابتدائی طریقہ پر ادا کی جائے گی وہ اس طرح سے کہ 120 اونٹ پر دو حقے اور اس کے بعد) مزید 25 اونٹوں سے کم یعنی 24 تک ہر پانچ پر ایک ایک بکری زکات میں دی جائے گی۔ اور نسائی نے ”الدیات“ میں بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب اونٹوں کی تعداد 120 سے زائد ہوجائے تو اونٹوں کی زکات کا شمار از سر نو شروع ہوجاتا ہے۔ اور ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت میں حضرت ابراہیم نخعی سے بھی اسی طرح مروی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1454 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Should not give it.

(1) The statement: “Should not give it.” In Al-Mirqat, it is said: “This indicates that if someone is asked for more than what is obligatory, they should not give the excess but only the obligatory amount. This clearly indicates the authority remains with them even if they sin by demanding more than what is obligatory.”

Note 2

Abu Dawud narrated.

(2) The statement: “Abu Dawud narrated.” Al-Allamah Al-Ayni said: “As for what Al-Shafi’i used as evidence, we have acted upon it, as we have obligated a two-year-old female camel for forty camels, which is the same obligation as for thirty-six camels. Similarly, we have obligated a three-year-old female camel for fifty camels. This hadith does not negate the obligation for fewer than that, but it is an application of the text’s implication. We have acted upon both texts, while he disregarded what we narrated.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: فلا يعط: وقال في المرقاة»: لا دلالة فيه أكثر مما إذا طلب منه أكثر مما عليه لا يعطي الزائد، بل يعطي الواجب. وهذا صريح في بقاء ولايتهما وإن فسقا بطلب غير الواجب.

Note 2

قوله

(۲) قوله: وروى أبو داود إلخ وقال العلامة العيني: أما الذي استدل به الشافعي، فنحن قد عملنا به؛ لأنا قد أوجبنا في الأربعين بنت لبون، فإن الواجب في الأربعين ما هو الواجب في ست وثلاثين، وكذلك أوجبنا في خمسين حقة. وهذا الحديث لا يتعرض لنفي الواجب عما دونه، وإنما هو عمل بمفهوم النص، فنحن عملنا بالنصين، وهو أعرض عن العمل بما رويناه.

Note 1

ف(1): عمرو بن حزم کی حدیث کی تفصیل از روئے فقہ یہ ہے کہ 120 سے 124 اونٹوں تک وہی دو حقے زکات میں ادا ہوں گے جب اونٹ 125 ہو جائیں تو 129 تک 2 حقے اور ایک بکری اور 130 سے 134 تک دو حقے اور دو بکریاں اور 135 سے 139 تک، دو حقے اور تین بکریاں اور 140 سے 144 تک دو حقے اور چار بکریاں اور 145 سے 149 تک دو حقے اور ایک بنت مخاض زکات میں ادا کی جائیں، اونٹوں کی زکات کی یہ تفصیل ہدایہ سے ماخوذ ہے۔ ف(2): واضح ہو کہ اونٹوں کی زکات میں 120 اونٹوں کی تعداد تک امام بخاری اور عمرو بن حزم کی حدیثیں متفق ہیں۔ عمرو بن حزم کی حدیث کی روایت ابوداؤد نے مراسیل، طحاوی نے مشکل الآثار میں، اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں اور نسائی نے الدیات میں کی ہے، 120 سے زائد اونٹوں کی زکات میں شوافع اور احناف میں اختلاف ہے، شوافع نے صرف امام بخاری کی روایت پر عمل کیا ہے اور احناف بخاری کی حدیث کے ساتھ ساتھ عمرو ابن حزم کی حدیث پر بھی عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے احناف کا عمل دونوں حدیثوں پر ہو جاتا ہے، جیسا کہ علامہ عینی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔