English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) had six or seven dinars with me during his illness. He ordered me to distribute them, but his pain preoccupied me. Later, he asked: ‘What did you do with the six or seven dinars?’ I said: ‘By Allah, your pain preoccupied me.’ He called for them, placed them in his palm, and said: ‘What would the Prophet of Allah think if he were to meet Allah with this?’”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٢٧ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُوْلِ اللهِ عَلَى عِنْدِي فِي مَرَضِهِ سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ أَفْرِقَهَا فَشَغَلَنِي وَجْعُ نَبِيَّ اللَّهِ ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْهَا: «مَا فَعَلْتِ السِّتَّةَ أَوْ السَّبْعَةَ؟ قُلْتُ: لَا وَاللهِ لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجْعُكَ فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا فِي كَفِّهِ، فَقَالَ: «مَا ظَنُّ نَبِيَّ اللهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2731
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علالت کے زمانہ میں چھ یا سات اشرفیاں میرے پاس تھیں اور حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ان اشرفیوں کو لوگوں میں تقسیم کر دوں لیکن آپ کی
علالت نے مجھے (ایسا) مشغول رکھا (کہ میں ان کو تقسیم نہ کر سکی) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
خود ہی مجھ سے دریافت فرمایا کہ ان اشرفیوں کا کیا ہوا؟ میں عرض کی: واللہ! آپ کی علالت نے مجھے
(ایسا) مشغول کر دیا (کہ میں ان کو بروقت تقسیم نہ کر سکی) تو آپ ان اشرفیوں کو طلب فرمائے اور
اپنے ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمائے کہ (اللہ تعالیٰ) کیا خیال فرماتے اپنے نبی کے متعلق اگر وہ اس
حال میں اللہ سے ملاقات کرتے کہ یہ اشرفیاں ان کے پاس ہوتیں (کیونکہ مال کا چھوڑ جانا نبوت
کے کمال کے منافی ہے (مرقات، اشعۃ اللمعات) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1883 (unverified) 50% confidence
Mishkat (candidate) 1883
Confidence and text similarity are not editorial verification.