Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If I had gold equal to the mountain of Uhud, it would not please me to have any of it remain with me for more than three nights, except for what I set aside to pay off a debt.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہ
ہوگی کہ اس پر تین راتیں گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ باقی رہے، ہاں صرف اتنا رکھ
چھوڑوں گا کہ جس سے قرض ادا ہو جائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
And the words of Allah, the Almighty: “And spend from what We have provided you before death comes to one of you, and he says, ‘My Lord, if only You would delay me for a brief term so I would give charity and be among the righteous.’” (Al-Munafiqun 63:10).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2389 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 6445 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that he sought permission to enter upon Uthman (may Allah be pleased with him), and he was granted permission. He had a stick in his hand. Uthman said: “O Ka’b, Abdur-Rahman has died and left wealth. What do you think should be done with it?” Ka’b said: “If he used to spend it in the way of Allah, there is no harm in it.” Abu Dharr raised his stick and struck Ka’b, saying: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘I would not like to have gold equal to this mountain and spend it all, and only six awqiyyah remain with me.’ I adjure you by Allah, O Uthman, did you hear that?” He said: “Yes,” three times.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے
حاضر ہونے کی اجازت چاہی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی اور حضرت ابوذر
رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں (اس وقت) ایک لاٹھی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار سے
(جو اس وقت وہاں موجود تھے) پوچھا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور کثیر مال
چھوڑ گئے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے (کہ انہوں نے اس قدر جو کثیر مال چھوڑا ہے
اس سے ان پر کیا کچھ وبال ہوگا) کعب رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) جواب دیا کہ (میری رائے میں)
اگر وہ اس مال سے خدا کا حق یعنی زکات نکالتے تھے تو اس سے ان پر کوئی وبال نہ آئے گا (یہ سن کر)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ (جو وہاں موجود تھے ان کو غصہ آیا اور) انہوں نے اپنی لاٹھی سے کعبؓ کو)
مارتے ہوئے فرمایا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر
میرے پاس یہ (احد) پہاڑ سونے کا بن جائے اور اس کو میں راہِ خدا میں خرچ کر دوں اور وہ قبول بھی
ہو جائے تو میں اس بات کو ہرگز پسند نہ کروں گا کہ چھ اوقیہ سونا بھی اس میں سے اپنے پیچھے (بچا کر)
چھوڑ جاؤں (یہ کہتے ہوئے) حضرت ابوذرؓ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ اے عثمانؓ! میں تم کو خدا
کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپ نے بھی ان کلمات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے نہیں سنا
ہے (اور اس سوال کو تین دفعہ دہرایا تو حضرت عثمانؓ نے جواب دیا) ہاں میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Uqbah ibn Al-Harith (may Allah be pleased with him) narrated: “I prayed behind the Prophet (ﷺ) in Madinah for Asr. After he finished the prayer, he hurriedly stepped over the people’s necks to one of his wives’ rooms. The people were alarmed by his haste. He came out and saw their concern, so he said: ‘I remembered some gold we had, and I disliked that it should keep me, so I ordered it to be distributed.’” [Narrated by Bukhari]
In another narration by Bukhari: He said: “I had left some gold from charity in the house, and I disliked to keep it overnight.”
عقبہ بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ
پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھی۔ آپ نے سلام پھیرا اور فوراً تیزی
سے اٹھے اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے ہوئے ازواج مطہرات کے حجروں میں سے ایک کے حجرہ
کی طرف تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طرح تیزی سے تشریف
لے جانے سے پریشان ہو گئے۔ جب آپ واپس تشریف لائے اور ملاحظہ فرمایا کہ لوگ آپ کی
اس تیزی سے حیران ہیں تو فرمایا، مجھ کو سونے کی ایک چیز یاد آ گئی جو گھر میں رہ گئی تھی تو مجھے یہ اچھا
نہ معلوم ہوا کہ کہیں یہ مجھے تقرب الہی سے روک دے۔ پس میں نے اس کو تقسیم کر دینے کا حکم دے دیا۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے کہ گھر میں سونے کا ایک ڈلّہ جو زکات کا تھا چھوڑ آیا تھا تو میں نے اس کو برا سمجھا کہ
ایک رات بھی اس کو اپنے پاس رکھوں۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: “The Messenger of Allah (ﷺ) had six or seven dinars with me during his illness. He ordered me to distribute them, but his pain preoccupied me. Later, he asked: ‘What did you do with the six or seven dinars?’ I said: ‘By Allah, your pain preoccupied me.’ He called for them, placed them in his palm, and said: ‘What would the Prophet of Allah think if he were to meet Allah with this?’”
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علالت کے زمانہ میں چھ یا سات اشرفیاں میرے پاس تھیں اور حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ان اشرفیوں کو لوگوں میں تقسیم کر دوں لیکن آپ کی
علالت نے مجھے (ایسا) مشغول رکھا (کہ میں ان کو تقسیم نہ کر سکی) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
خود ہی مجھ سے دریافت فرمایا کہ ان اشرفیوں کا کیا ہوا؟ میں عرض کی: واللہ! آپ کی علالت نے مجھے
(ایسا) مشغول کر دیا (کہ میں ان کو بروقت تقسیم نہ کر سکی) تو آپ ان اشرفیوں کو طلب فرمائے اور
اپنے ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمائے کہ (اللہ تعالیٰ) کیا خیال فرماتے اپنے نبی کے متعلق اگر وہ اس
حال میں اللہ سے ملاقات کرتے کہ یہ اشرفیاں ان کے پاس ہوتیں (کیونکہ مال کا چھوڑ جانا نبوت
کے کمال کے منافی ہے (مرقات، اشعۃ اللمعات) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every day, two angels descend. One of them says: ‘O Allah, give the one who spends a replacement,’ and the other says: ‘O Allah, destroy the wealth of the one who withholds.’”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کوئی دن ایسا نہیں کہ جس میں صبح کے وقت دو فرشتے (آسمان سے) نہ
اترتے ہوں جن میں سے ایک تو یہ کہتا رہتا ہے کہ اے اللہ (نیک کاموں میں) خرچ کرنے والے
(سخی) کو اس کا بدل (دنیا اور آخرت میں) عطا کر (اور اس کے مال میں زیادتی کر) اور دوسرا یوں
کہتا رہتا ہے کہ اے اللہ بخیل کا مال ضائع کر دے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: “A man was in a desert and heard a voice from a cloud saying: ‘Water the garden of so-and-so.’ The cloud moved and poured its water into a rocky area. A stream from that water filled up completely. The man followed the water and found a man standing in his garden, diverting the water with his shovel. He asked: ‘O servant of Allah, what is your name?’ The man replied with the name he had heard from the cloud. The man asked: ‘Why do you ask my name?’ He said: ‘I heard a voice from the cloud saying: “Water the garden of so-and-so,” with your name. What do you do with it?’ The man said: ‘Since you mentioned it, I look at what comes out of it. I give one-third in charity, I and my family eat one-third, and I return one-third to it.’”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک
شخص جنگل میں کھڑا تھا اس نے ابر میں سے ایک آواز سنی کہ (کوئی کہہ رہا تھا) فلاں شخص کے باغ کو
سیراب کر تو وہ ابر ایک جانب کو بڑھا اور اک پتھریلی زمین پر پانی برسایا، وہ پانی چھوٹی چھوٹی نالیوں
سے ایک بڑے نالے میں جمع ہو کر آگے بڑھا وہ شخص (جو اس منظر کو دیکھ رہا تھا یہ معلوم کرنے کے
لئے کہ پانی کہاں جاتا ہے) پانی کے ساتھ ساتھ چلا، ناگہاں اس نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے باغ
میں کھڑا ہوا اپنے بیلچے سے پانی کو ادھر اُدھر پھیلا رہا تھا۔ اس شخص نے (باغ والے سے) پوچھا کہ
اے بندۂ خدا آپ کا نام کیا ہے؟ تو اس شخص نے (جواب میں) وہی نام بتلایا جو اس نے ابر میں سے
سنا تھا (تو باغ والے نے) اس شخص سے پوچھا کہ تم نے میرا نام کیوں دریافت کیا ہے؟ تو اس شخص
نے جواب دیا کہ میں نے اس ابر میں سے جس کا یہ پانی ہے یہ آواز سنی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو
سیراب کر (یعنی) تیرا نام لیا۔ پس بتا کہ تو اپنے باغ میں (ایسا) کونسا نیکی کا کام کرتا ہے (کہ جس کی
وجہ سے مجھ پر یہ مہربانی ہوئی) باغ والے نے جواب دیا (میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنے اس راز کو فاش
کروں) لیکن اب جبکہ تم پوچھ ہی رہے ہو تو (تم کو بتاتا ہوں) کہ میرے باغ میں جو کچھ پیداوار
ہوتی ہے اس کا ایک تہائی تو میں خیرات کر دیتا ہوں اور ایک تہائی اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ
کرتا ہوں اور ایک تہائی کو (کاشت کے لئے باغ میں) لگا دیتا ہوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2984a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تحفۃ الاخیار میں لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ
کریں اور حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بحکم الٰہی پانی برساتے ہیں اور یہ حکم نام و
نشان کے ساتھ ہوتا ہے کہ فلاں ملک، فلاں شخص کے کھیت میں پانی برساؤ اور اسی طرح دنیا کے سب
کام فرشتے حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ جو نعمت ان کو ملے خواہ وہ مال کی ہو یا جان
کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔
Asma (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Spend and do not count, lest Allah counts against you. Do not withhold, lest Allah withholds from you. Be content with what you can afford.”
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اللہ کی خوشنودی میں مال) خرچ کرتی جاؤ اور گنتی مت رکھو (کہ کیا دی اور
کتنا دی، اگر گنتی رکھو گی تو آئندہ دینے سے تم رک جاؤ گی اور) اللہ تعالیٰ بھی تم کو شمار کر کے دے گا،
اور (فقیر سے مال کو) مت روکو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے (مال کو) روک دے گا (کم زیادہ کا خیال
مت کرو) تم سے جتنا بھی ہو سکے دیدیا کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah, the Exalted, says: ‘Spend, O son of Adam, and I will spend on you.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ایک حدیث قدسی میں اس طرح) سے روایت ہے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابن آدم تو خرچ کرتا جا، میں
تجھ کو دیتا جاؤں گا، (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اس لئے کہ خرچ کرنا مالی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے
اور شکر زیادتی نعمت کا سبب ہوتا ہے) (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) entered upon Bilal and saw a heap of dates. He asked: “What is this, O Bilal?” Bilal said: “Something I have saved for tomorrow.” The Prophet (ﷺ) said: “Do you not fear that you will see its smoke rising in the fire of Hell on the Day of Resurrection? Spend, O Bilal, and do not fear poverty from the Owner of the Throne.”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک
دفعہ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ایک
ڈھیر لگا ہوا تھا (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرمائے کہ یہ کیا ہے اے بلال! تو حضرت
بلال نے عرض کیا: یہ کھجوریں، جس کو میں نے آئندہ کے لئے جمع کیا ہے (یہ سن کر) آپ ارشاد
فرمائے: اے بلال! کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ یہ (کھجور کا ڈھیر) کل قیامت کے دن دوزخ کی
آگ کا دھواں بن کر تم کو آ لپیٹے (اور مزید یہ بھی فرمائے) اے بلال! خرچ کرتے جاؤ اور عرش
(عظیم) کے مالک سے افلاس اور فقر کا اندیشہ مت رکھو (یہ ارشاد مقام توکل اور حق سبحانہٗ و
تعالیٰ پر کمال اعتماد کی تعلیم کے لئے ہے، ورنہ اہل و عیال کے لئے ایک سال کا مال جمع
کرنا جائز ہے (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)
اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “O son of Adam, it is better for you to give away your surplus, and it is worse for you to withhold it. You will not be blamed for having just enough. Begin with those under your care.”
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دینا تیرے لئے
بہتر ہے اور (ضرورت سے زائد) مال کو جمع رکھنا تیرے لئے برا ہے اور (بقدر ضرورت) مال جمع
رکھنے پر تجھے ملامت کا خوف نہیں اور (خرچ کی) ابتداء اپنے اہل و عیال سے کرو (جن کی پرورش
تمہارے ذمہ ہے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1036 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Begin with those under your care.
(1) The statement: “Begin with those under your care.” In Rad Al-Muhtar: “Know that charity is recommended from what is surplus after one’s needs and the needs of those one supports. If one gives charity from what reduces the provision of those under his care, he sins.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: بمن تعول وقال في رد المحتار: اعلم أن الصدقة تستحب بفاضل عن كفايته، وكفاية من يمونه، وإن تصدق بما ينقص مؤنة من يمونه أثم.
Note 1
ف: درالمنثور میں لکھا ہے کہ جو مال اپنی اور اپنے اہل و عیال کی کفالت سے زائد ہو، اس کا
خیرات کرنا مستحب ہے البتہ اگر کسی نے وہ مال خیرات کر دیا جو اس کے اہل و عیال کی پرورش کے لئے
تھا جس سے ان لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑی اور ان کو نقصان ہو تو ایسی خیرات پر وہ شخص گناہگار
ہوگا۔12
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (بیمار ہونے یا موت سے پہلے) صدقہ دینے میں جلدی
کرو، اس لئے کہ (صدقہ دینے سے) بلاء آتی نہیں (یا اگر آئی ہے تو دفع ہوجاتی ہے)۔
اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The example of a miser and a charitable person is like two men wearing iron cloaks that are tightly fitted around their chests and shoulders. Whenever the charitable person gives charity, the cloak expands until it covers him completely and conceals his footsteps. Whenever the miser intends to give charity, the cloak tightens, and every ring clings to its place.”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بخیل اور سخی کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے دو زرہیں پہنے
ہوئے ہوں (اور جو اس قدر تنگ ہوں) کہ ان کے دونوں ہاتھ ان کے سینے اور ہنسلی کی ہڈیوں تک
جکڑے گئے ہوں۔ پس جب کبھی سخی خیرات کا ارادہ کرتا ہے اور خیرات دینے لگتا ہے تو اس کے (دونوں
جکڑے ہوئے ہاتھ کشادہ ہوجاتے ہیں) اور زرہ کھل جاتی ہیں، اور بخیل جب کبھی خیرات کرنے کا
ارادہ کرتا ہے تو اس کے (دونوں) ہاتھ (اور) سکڑ جاتے ہیں اور زرہ کی ہر کڑی اپنی اپنی جگہ تنگ
ہوجاتی ہے (یعنی سخی جب خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور وہ خیرات کر دیتا
ہے، اس کے برخلاف بخیل جب کسی کو کچھ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہوجاتا ہے اور
وہ دینے سے رک جاتا ہے) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Ad-Darda (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The one who gives charity at the time of death is like one who gives a gift after being satiated.”
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اپنی موت کے وقت خیرات کرے یا غلام باندی آزاد کرے،
اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کسی کو ایسے وقت تحفہ دے جبکہ (لینے والے کا) پیٹ بھرا ہوا ہو (یعنی
جس طرح کسی پیٹ بھرے ہوئے کو کھانا دینے سے اتنا ثواب نہیں ہے جتنا کہ بھوکے کو کھانا کھلانے
میں ہے، اسی طرح مرتے وقت خیرات کرنے میں اتنا ثواب نہیں ہے جتنا زندگی میں خیر خیرات
کرنے سے ثواب ملتا۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، نسائی، دارمی اور ترمذی نے کی ہے اور ترمذی
نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Generosity is a tree in Paradise. Whoever is generous takes hold of one of its branches, and the branch does not let go until it brings him into Paradise. Stinginess is a tree in Hell. Whoever is stingy takes hold of one of its branches, and the branch does not let go until it brings him into Hell.”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سخاوت جنت میں ایک درخت (کے مانند) ہے (جس کی شاخیں دنیا
میں پھیلی ہوئی ہیں تو جو کوئی سخی ہوگا وہ اس (درخت) کی کسی ایک شاخ کو پکڑے گا اور یہ شاخ اس
شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو جنت میں داخل نہ کرے، اور بخل (بھی) دوزخ
میں ایک جھاڑ (کے مانند) ہے، جس کی شاخیں بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں تو جو کوئی بخیل ہوگا وہ اس
(جھاڑ) کی کسی ایک شاخ کو پکڑے گا اور یہ شاخ اس شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کہ
اس کو جہنم میں داخل نہ کر دے۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Beware of oppression, for oppression will be darkness on the Day of Resurrection. Beware of stinginess, for stinginess destroyed those before you. It led them to shed blood and make lawful what was forbidden.”
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ظلم کرنے سے بچتے رہو کہ ظلم قیامت کے روز بہت تاریکیوں کا سبب ہوگا اور
شُح سے بچو (شُح یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے مال کا ذمہ دار ہو، اور کوشش یہ کرتا ہو کہ اس دوسرے کا
مال بھی خرچ نہ ہو، اور یہ بخل کی ایک قسم ہے) کیوں کہ شُح نے تم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کر دیا کہ
ان کو خونریزی پر اور حرام کو حلال کرنے پر تک آمادہ کر دیا تھا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: “I came to the Prophet (ﷺ) while he was sitting in the shade of the Ka’bah. When he saw me, he said: ‘They are the losers, by the Lord of the Ka’bah.’ I said: ‘May my father and mother be sacrificed for you, who are they?’ He said: ‘Those who have the most wealth, except for those who say: “This is for this, this is for this,” in front of them, behind them, to their right, and to their left. But they are few.’”
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ کے
سایہ میں تشریف فرما تھے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: (اے ابوذر!) ربّ کعبہ کی قسم وہ لوگ سخت نقصان
اور خسارہ میں ہیں۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! وہ کون لوگ ہیں؟ یا رسول
اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے کہ زائد مال جمع کرنے والے۔ مگر وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں
جنہوں نے (اپنے اموال کی) یوں داد و دہش کر دی۔ یہ فرماتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے
دست مبارک سے اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں جانب اشارہ فرمایا اور (یہ بھی ارشاد فرمایا کہ)
اس طرح دینے والے بہت کم لوگ ہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Prophet (ﷺ) say: “There were three men from the Children of Israel: a leper, a bald man, and a blind man. Allah wanted to test them, so He sent an angel to them. The angel came to the leper and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘A good complexion and good skin, and to be rid of what makes people avoid me.’ The angel touched him, and his ailment was cured, and he was given a good complexion and skin. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Camels,’ or he said: ‘Cattle’—Ishaq was unsure, but one of them said ‘Camels,’ and the other said ‘Cattle.’ He was given a pregnant she-camel. The angel said: ‘May Allah bless you in it.’
The angel then came to the bald man and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘Good hair and to be rid of what makes people avoid me.’ The angel touched him, and he was cured. He was given good hair. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Cattle.’ He was given a pregnant cow. The angel said: ‘May Allah bless you in it.’
The angel then came to the blind man and asked: ‘What do you desire most?’ He said: ‘That Allah restores my sight so I can see people.’ The angel touched him, and Allah restored his sight. The angel asked: ‘What kind of wealth do you desire most?’ He said: ‘Sheep.’ He was given a pregnant ewe. The sheep and cattle multiplied until one man had a valley of camels, another had a valley of cattle, and another had a valley of sheep.
Then the angel came to the leper in his previous form and condition and said: ‘I am a poor man, and my journey has exhausted me. I have no means of reaching my destination except with the help of Allah and then you. I ask you by the One who gave you good complexion, good skin, and wealth to give me a camel to help me on my journey.’ The man said: ‘I have many obligations.’ The angel said: ‘I think I recognize you. Weren’t you a leper whom people avoided and a poor man? Allah gave you wealth.’ The man said: ‘I inherited this wealth from my ancestors.’ The angel said: ‘If you are lying, may Allah return you to your previous state.’
The angel then came to the bald man in his previous form and condition and said the same to him, and the man replied similarly. The angel said: ‘If you are lying, may Allah return you to your previous state.’
The angel then came to the blind man in his previous form and condition and said: ‘I am a poor man, and my journey has exhausted me. I have no means of reaching my destination except with the help of Allah and then you. I ask you by the One who restored your sight to give me a sheep to help me on my journey.’ The man said: ‘I was blind, and Allah restored my sight. Take what you want and leave what you want. By Allah, I will not burden you today with anything you take for the sake of Allah.’ The angel said: ‘Keep your wealth. You have been tested, and Allah is pleased with you but angry with your two companions.’”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے (ایک) کوڑھی (دوسرا) گنجا (تیسرا)
اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا (کہ وہ نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں) چنانچہ ان
کے پاس ایک فرشتہ کو (ایک مسکین آدمی کی صورت میں) روانہ کیا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور
اس سے پوچھا کہ تجھ کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: خوش رنگ اور خوب صورت جلد
اور یہ بات (بھی پسند ہے) کہ میرا یہ مرض دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے
ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کا کوڑھ جاتا رہا اور
اس کو اچھا رنگ اور خوب صورت جلد دیدی گئی۔ فرشتے نے (پھر) اس سے پوچھا کہ تجھ کو کونسا مال
زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا اونٹ یا گائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کو
گابھن اونٹیاں دیدی گئیں اور فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو اس مال میں برکت دے۔ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کے بعد وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے دریافت کیا کہ تجھ کو
کونسی چیز زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا خوب صورت بال اور یہ بات کہ یہ گنجاپن دور ہو جائے
جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ فرشتے نے
اس (کے سر) پر ہاتھ پھیرا اور اس کا گنجاپن جاتا رہا اور اس کو خوب صورت بال دیدیئے گئے۔ (پھر)
فرشتے نے اس سے پوچھا: کونسا مال تجھے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: گائے، اس کو حاملہ گائیں
عطا کی گئیں۔ فرشتے نے (اس سے کہا) اللہ تعالیٰ تم کو اس میں برکت عطا فرمائے! حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ فرشتہ (پھر) نابینا کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تم کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے تو
اس (نابینا) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی مجھے دوبارہ عطا فرمائیں تاکہ میں لوگوں کو دیکھ
سکوں۔ حضور فرمائے کہ فرشتے نے اس (کی آنکھوں) پر ہاتھ پھیرا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی
اس کو واپس دیدی۔ پھر فرشتے نے پوچھا کہ تم کو کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بکریاں
تو اس کو بچے دینے والی بکریاں دیدی گئیں۔ چنانچہ ان دونوں یعنی اونٹ والے کی اونٹنیوں نے اور
گائے والی کی گائیوں نے بچے دیئے۔ اور اس بکری والے کی بکریوں نے بھی بچے دیئے، تو (اونٹ
والے کی) اونٹنیوں سے ایک وادی اور گائے والے کی گائیوں سے ایک وادی اور بکری والے کی
بکریوں سے ایک وادی بھرگئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ پھر وہی فرشتہ اپنی اسی
(پہلی) صورت اور ہیئت میں کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میں ایک مسکین اور نادار شخص
ہوں، میرے ذرائع سفر ختم ہوگئے ہیں، اب اللہ کی مدد کے بغیر منزل مقصود تک پہنچنا ممکن نہیں (اور
اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھے اچھا رنگ
اور اچھی جلد اور مال دیا ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ جس کے ذریعہ سے میں اپنا سفر طے کر
سکوں، اس (کوڑھی) نے جواب دیا کہ مجھ پر بہت حقوق ہیں (ان کی موجودگی میں تجھے کوئی حق نہیں
پہونچتا یہ سن کر) پھر فرشتہ نے کہا میرا خیال ہے کہ تو وہی کوڑھی تو نہیں جس سے لوگ نفرت کرتے
تھے اور تو نادار تھا۔ پس اللہ نے تجھے مال دیا۔ کوڑھی نے (اس کے جواب میں) کہا: یہ مال مجھے اپنے
بڑوں سے نسلاً بعد نسلٍ ملا ہے (یہ سن کر) فرشتہ نے کہا: اگر تو (اپنے قول میں) جھوٹا ہے تو اللہ تجھے اپنی
پہلی حالت میں پلٹا دے، (یعنی تجھے کوڑھی اور نادار کردے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے کہ وہ فرشتہ اپنی اسی (پہلی) شکل میں گنجہ کے پاس پہونچا اور اس سے بھی ایسا ہی سوال و
جواب ہوا جیسا کہ کوڑھی سے ہوا تھا، اور اس نے بھی ویسا ہی جواب دیا جیسا کوڑھی نے جواب دیا تھا
(یہ سن کر) فرشتہ نے اس سے کہا: اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پھر ویسا ہی (گنجا اور نادار)
کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ فرشتہ (اب) نابینا کے پاس اپنی اسی (پہلی)
شکل اور حالت میں پہونچا اور اس سے کہا: میں ایک مسکین آدمی اور مسافر ہوں میرا سامان سفر جاتا رہا
اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں (یا اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس
میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھے دوبارہ بینائی بخشی ایک بکری کا سوال کرتا ہوں
جس کے ذریعہ سے میں اپنا سفر طے کرسکوں۔ نابینا نے یہ سن کر کہا: بے شک میں نابینا تھا اللہ تعالیٰ
نے مجھے بینائی بخشی تو جس قدر چاہے مال لے جا اور جس قدر تیرا جی چاہے چھوڑ جا۔ اللہ کے لئے جس
قدر مال آج تم لوگے میں تمہیں (اس کی واپسی کی) تکلیف نہیں دوں گا (یہ سن کر) فرشتہ نے کہا: تم
اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم (تین لوگوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ) آزمائش کی گئی تھی کہ تم سچے ہو
یا جھوٹے، مخلص ہو، یا منافق اور شکر گزار ہو یا ناشکرے) پس اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوا اور تمہارے
دونوں ساتھیوں (کوڑھی اور گنجا) سے ناراض ہوا (کہ ان کو اپنی اصلی حالت پر ⟦?⟧ لوٹا دیا گیا)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
A freed slave of Uthman (may Allah be pleased with him) narrated: “A piece of meat was gifted to Umm Salamah (may Allah be pleased with her), and the Prophet (ﷺ) liked meat. She said to the servant: ‘Put it in the house, perhaps the Prophet (ﷺ) will eat it.’ The servant placed it in a corner of the house. A beggar came and stood at the door, saying: ‘Give charity, may Allah bless you.’ They said: ‘May Allah bless you.’ The beggar left. The Prophet (ﷺ) entered and said: ‘O Umm Salamah, do you have anything to eat?’ She said: ‘Yes.’ She told the servant: ‘Bring that meat to the Messenger of Allah (ﷺ).’ The servant went but found only a piece of rock in the corner. The Prophet (ﷺ) said: ‘That meat turned into rock because you did not give it to the beggar.’”
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت ہے وہ کہتے
ہیں کہ (ایک دفعہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (پکے ہوئے) گوشت کا ایک ٹکڑا تحفۃً بھیجا
گیا تھا، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت پسند تھا اس لئے ام المؤمنین نے خادمہ سے کہا
کہ اس کو گھر میں رکھ دو، ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تناول فرمائیں تو خادمہ نے
اس گوشت کو گھر کے ایک طاقچے میں رکھ دیا (اس کے بعد) ایک سائل آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر
سوال کیا: (گھر والو! کچھ) خیرات کرو، اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے، گھر والوں نے سائل کو جواب دیا
کہ خدا تجھے بھی برکت دے تو (یہ سن کر) سائل چلا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں
تشریف لائے اور فرمایا: ام سلمہ! تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کو ہے؟ ام المؤمنین نے عرض کیا کہ
جی ہاں (ہے) تو خادمہ سے کہا کہ جاؤ اور وہ گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لاؤ۔
خادمہ وہاں گئیں (تو دیکھا) کہ (گوشت کی بجائے گارے کے پتھر کا ایک ٹکڑا وہاں رکھا ہے (حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ واقعہ کا علم ہوا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے کہ وہی گوشت، گارے کا پتھر بن گیا
ہے، اس لئے کہ تم نے اسے سائل کو نہیں دیا۔
اس کی روایت بیہقی نے دلائل النبوۃ میں کی ہے۔
Harithah ibn Wahb (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Give charity, for a time will come when a man will walk with his charity and not find anyone to accept it. A man will say: ‘If you had brought it yesterday, I would have accepted it, but today I have no need for it.’”
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ خیرات کیا کرو (اور خیرات کرنے کو غنیمت جانو، جب تک
کہ تمہارے پاس مال موجود ہے اور مستحقین بھی مل جاتے ہوں) کیونکہ آئندہ ایک ایسا زمانہ آنے
والا ہے کہ انسان اپنی خیرات کو لے کر پھرے گا لیکن کوئی اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گا ہر شخص اس
سے یہی کہے گا اگر تم اس (خیرات) کو کل لاتے تو میں لے لیتا۔ آج مجھے اس کی حاجت نہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1411 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1011 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ وہ زمانہ جس میں خیرات کو قبول کرنے والا نہ
ملے گا وہ آخری زمانہ ہوگا جس میں حضرت مہدی ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام نزول
فرمائیں گے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that a man asked: “O Messenger of Allah, which charity has the greatest reward?” He said: “To give charity while you are healthy and stingy, fearing poverty and hoping for wealth. Do not delay until you are on your deathbed and say: ‘Give this to so-and-so and that to so-and-so,’ when it already belongs to so-and-so.”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کونسی خیرات ہے جس میں زیادہ اجر ملتا ہے؟ تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے کہ ایسی حالت میں خیرات کرے جبکہ تو تندرست ہو اور تجھے مال
جمع کرنے کی حرص ہو، اور تو افلاس سے ڈرتا ہو اور تو نگر بننے کی آرزو دل میں رکھتا ہے (تو ایسی
حالت میں خیرات کرنے میں بڑا اجر اور ثواب ہے) اور (حضور یہ بھی ارشاد فرمائے کہ) خیرات
کرنے میں اتنی سستی اور دیر نہ لگا کہ تمہاری جان کندنی کا وقت آپہونچے اور اس وقت تم یہ وصیت
کرنے لگو کہ اتنا مال فلاں کے لئے اور اتنا فلاں کے لئے، حالانکہ تم یہ جانتے ہو کہ یہ مال فلاں شخص
ہی کو ملے گا (یعنی وارث کو ملے گا) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Sa’id Al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “For a person to give charity during his life is better for him than to give a hundred at the time of his death.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ انسان کا اپنی تندرستی کی حالت میں ایک درہم خیرات کرنا
مرتے وقت کے سو درہم خیرات کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The generous person is close to Allah, close to Paradise, close to people, and far from Hell. The miser is far from Allah, far from Paradise, far from people, and close to Hell. An ignorant but generous person is more beloved to Allah than a knowledgeable but miserly person.”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ سخی نزدیک ہے اللہ سے نزدیک ہے جنت سے اور نزدیک ہے لوگوں
سے (یعنی لوگوں میں عزیز ہے) اور دور ہوتا ہے دوزخ سے، اور بخیل دور ہے اللہ سے، دور ہے جنت
سے اور دور ہے لوگوں سے اور نزدیک ہے دوزخ سے۔ اور جاہل سخی اللہ تعالیٰ کے پاس زیادہ محبوب
ہے بخیل عابد سے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that some of the wives of the Prophet (ﷺ) asked him: “Which of us will be the quickest to join you?” He said: “The one with the longest hand.” They took a stick and measured their hands, and Sawdah had the longest hand. Later, we learned that the length of her hand referred to her charity. Zainab was the quickest to join him because she loved to give charity, hoping that he would take notice and spend from what Allah had given him.
25/2751۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت
ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیبیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ
(آپ کی وفات کے بعد) ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے ملے گی۔ حضور ﷺ فرمائے کہ
تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے بڑے ہوں! تو امہات المؤمنین ایک لکڑی لے کر اپنے ہاتھوں کو
ناپنے لگیں تو حضرت سودہ کا ہاتھ سب سے لمبا تھا (لیکن جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا پہلے
انتقال ہوا تو) ہم کو معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں سے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی) مراد زیادہ خیرات
کرنے والے ہاتھ تھے، اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا
ملیں اور ان کو خیر خیرات سے بہت محبت تھی۔ اس کی روایت بخاری (اور مسلم) نے کی ہے۔
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Two traits are not combined in a believer: miserliness and bad character."
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مومن میں دو باتیں جمع نہیں ہوتیں (ایک) بخل (دوسرے) بد
اخلاقی۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1962 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ بخل اور بد اخلاقی مومن کے شایان شان نہیں اگر کسی مسلمان
میں یہ خصلتیں موجود ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ ریاضت اور مجاہدہ سے ان کو دور کر دے، تاکہ مومن کامل
کہلانے کا مستحق ہو۔12
Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The deceitful, the miser, and the one who reminds others of his favors will not enter Paradise."
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت میں نہ تو دغا باز داخل ہوگا اور نہ بخیل اور (خیرات دے کر) احسان
جتانے والا (بھی) جنت میں داخل نہ ہوگا (جب تک یہ ان برائیوں سے توبہ نہ کر لیں یا ان کی سزا
پا کر چھٹکارا نہ پا لیں یا پھر اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے ان کو معاف نہ فرما دیں، اس لئے مسلمان کو ان
برائیوں سے بچتے رہنا چاہئے) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The worst traits in a man are overwhelming greed and abject cowardice."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ انسان میں دو خصلتیں بدترین ہیں: ایک ایسا بخل جو انسان کو مال کے
حاصل کرنے پر حریص بنا دے اور مال خرچ کرنے کے مواقع پر اس کو بے چین کر دے۔ دوسرے
ایسی بزدلی کہ جو اس کو مشرکین کے مقابلہ میں لڑنے سے روک دے اور ایسی بزدلی جو اس کو نیک کام
کرنے نہ دے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) reported: The Prophet (ﷺ) said, "Shall I inform you about the worst of people in status?" They said, "Yes." He said, "The one who asks in the name of Allah but does not give in His name."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کیا میں تم کو ایسا شخص نہ بتاؤں کہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس مرتبہ میں
سب سے برا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا گیا: جی ہاں! (ضرور بتائیے یا رسول
اللہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: وہ شخص (اللہ کے پاس مرتبہ کے لحاظ سے بدترین
ہے) ہے کہ جس سے اللہ کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے، (اور وہ باوجود دینے کی قدرت رکھنے کے
اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ سائل واقعی مستحق ہے) اللہ کے نام پر نہ دے۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Candidate: Musnad Ahmad 2918 (unverified) 20% confidence
Mishkat (candidate) 1893
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ جو شخص سائل کو دینے کی قدرت رکھتا ہو، اور یہ بھی جانتا ہو کہ سائل
واقعی محتاج ہے اور وہ اللہ کا واسطہ دے کر مانگ رہا ہے تو ایسی صورت میں سائل کے سوال کو رد کرنا گناہ
کبیرہ ہے، اگر مسئول حاجت اصلی سے زیادہ مال نہیں رکھتا تو ایسی صورت میں سائل کے سوال کو
رد کرنے سے گنہگار نہ ہوگا۔
الرحمۃ المہداة حاشیہ مشکوٰۃ میں مذکور ہے کہ اگر سائل واقعی احتیاج کے بغیر اللہ کا واسطہ دے کر
مانگے اور اس کو نہ دیا جائے تو ایسا سائل ہی اللہ کے پاس سب سے بدترین شخص ہوگا۔12
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "A man said, 'I will surely give charity.' So he went out with his charity and placed it in the hand of a thief. In the morning, people were talking, saying, 'Charity was given to a thief last night.' So he said, 'O Allah, praise be to You regarding the thief. I will surely give charity again.' So he went out with his charity and placed it in the hand of an adulteress. In the morning, people were talking, saying, 'Charity was given to an adulteress last night.' So he said, 'O Allah, praise be to You regarding the adulteress. I will surely give charity again.' So he went out with his charity and placed it in the hand of a wealthy person. In the morning, people were talking, saying, 'Charity was given to a wealthy person last night.' So he said, 'O Allah, praise be to You regarding the thief, the adulteress, and the wealthy person.' Then he was approached and told, 'As for your charity to the thief, perhaps it will prevent him from stealing. As for the adulteress, perhaps it will prevent her from committing adultery. And as for the wealthy person, perhaps he will reflect and spend from what Allah has given him.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (بنی اسرائیل میں سے) ایک شخص نے (اپنے ساتھیوں سے)
کہا: میں (آج کی رات) ضرور کچھ خیرات کروں گا۔ (رات میں خیرات کرنے سے اس شخص کا
مقصد چھپا کر خیرات کرنا تھا) چنانچہ وہ اپنی خیرات لے کر چلا اور (اندھیرے میں) ایک چور کے
ہاتھ دے آیا، جب صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج کی رات چور کو خیرات دی گئی۔ اس شخص
نے (یہ سن کر) کہا اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگرچہ کہ میری خیرات) چور کو ملی۔ (اس کے بعد اس نے
کہا آج کی رات پھر) میں ضرور خیرات کروں گا، چنانچہ وہ اپنی خیرات لے کر نکلا اور (اندھیرے
میں) ایک زانیہ کے ہاتھ دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج کی رات ایک زانیہ کو
خیرات دی گئی، جب اس شخص نے سنا تو کہا کہ اے اللہ تیرا شکر ہے (کہ میری خیرات) زانیہ کو مل
گئی۔ اس شخص نے پھر کہا کہ میں (آج کی رات بھی) ضرور خیرات کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنی خیرات
لے کر نکلا اور (اندھیرے میں) ایک غنی کے ہاتھ دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ
آج کی رات غنی کو خیرات دی گئی (صدقہ دینے والے نے) کہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ (میری
خیرات) چور، زانیہ اور غنی پر خرچ ہوئی۔ پس اس کو خواب میں دکھایا گیا کہ (تیرے تمام صدقات
قبول ہوئے) جو صدقہ تو نے چور کو دیا ممکن ہے وہ اس کو چوری سے باز رکھے اور تو نے جو صدقہ زانیہ
کو دیا ہے ممکن ہے وہ اس کو زنا سے باز رکھے اور جو صدقہ تو نے غنی کو دیا ہے ممکن ہے اس کو عبرت اور
نصیحت ہو اور وہ بھی اس مال میں سے خیرات دینے لگے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Umm Mujid (may Allah be pleased with her) said: “I said: ‘O Messenger of Allah, a poor man stands at my door until I feel ashamed, and I do not find anything in my house to give him.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Give him even a broken hoof.’”
ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہے کہ میں نے (رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا کہ یا رسول اللہ مسکین میرے دروازے پر (آ کر) کھڑا رہتا
ہے (اور بار بار سوال کرتا ہے) یہاں تک کہ مجھے شرم آتی ہے، کیونکہ میرے پاس اس کو دینے کے
لئے گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا ہے (ایسی صورت میں میں کیا کروں؟ یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے: اگر تیرے پاس جلا ہوا کھر بھی موجود ہو تو وہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے (یعنی اس
کو معمولی سے معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو دے کر روانہ کر دے، خالی ہاتھ اسے واپس نہ کر)۔
اس حدیث کی روایت امام احمد، ابو داؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تحفۃ الاخیار میں لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ کریں اور حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بحکم الٰہی پانی برساتے ہیں اور یہ حکم نام و نشان کے ساتھ ہوتا ہے کہ فلاں ملک، فلاں شخص کے کھیت میں پانی برساؤ اور اسی طرح دنیا کے سب کام فرشتے حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ جو نعمت ان کو ملے خواہ وہ مال کی ہو یا جان کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔