Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat

Hadith 2354

Chapter on The Virtue of Charity

In this book

Current reading

Zakat

Chapter on The Virtue of Charity

Zujajat al-Masabih 2354Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever gives charity equal to a date from good earnings—and Allah does not accept except what is good—Allah will accept it with His right hand and nurture it for its owner, just as one of you nurtures his foal, until it becomes like a mountain.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٣٥٤ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوْهُ، حَتَّى تَكُوْنَ مِثْلَ الْجِبَلِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2759
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنی جائز اور حلال کمائی سے ایک کھجور برابر بھی خیرات کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں اور اس کو اپنے سیدھے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حلال مال ہی میں سے خیرات کو قبول فرماتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس خیرات کئے ہوئے مال کو خیرات کرنے والے کے لئے اس طرح بڑھاتے جاتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک وہ خیرات بڑھتے بڑھتے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1410 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1014a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال مال سے تھوڑی سی خیرات بھی ثواب میں اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول اور بے حساب ہے اس کے برخلاف اگر حرام مال سے لاکھوں روپیہ بھی خرچ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں فرماتے اور نہ اس کا کوئی ثواب ہے، اس سے مسلمانوں کو چاہئے کہ راہ خدا میں خرچ کرتے وقت حلال مال کا خیال رکھیں، تھوڑے، بہت کا خیال نہ کریں۔