English
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: "I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) fast two consecutive months except that he would join Sha’ban with Ramadan." [Narrated by Nasa’i] Abu Dawud, Al-Tirmidhi, and Ibn Majah narrated something similar. In a narration by Al-Tahawi from Ibn Umar (may Allah be pleased with him): "The Messenger of Allah (ﷺ) would join Sha’ban with Ramadan."
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٤٣٨ - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَصُوْمُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ نَحْوَهُ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّحَاوِيَّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ يَقْرِنُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ.
اردو
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متواتر دو مہینے روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (ماہ شعبان میں مسلسل نفل روزے رکھ کر) شعبان (کے نفل روزوں) کو رمضان (کے فرض
روزوں) سے ملا دیتے تھے۔
اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور طحاوی کی ایک روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (شعبان میں نفل روزے رکھ کر) شعبان کو رمضان (کے فرض
روزوں) سے ملا دیتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 736 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2336 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: احادیث مذکورہ بالا میں دو باتوں کا ذکر ہے ایک یہ کہ شعبان کے آخری دنوں کو کوئی روزہ نہ رکھے۔ دوسرے یہ کہ شعبان کے آخری دنوں میں روزہ رکھا جاسکتا ہے۔ بظاہر ان حدیثوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ حدیثیں باہم معارض نہیں ہیں، اس لئے کہ شعبان کے آخری دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت اس شخص سے متعلق ہے جو رمضان کی نیت سے شعبان کے آخری دن روزہ رکھ لے۔ کیونکہ شعبان کی تیسویں شب کو ابر کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی بناء پر تیسویں شعبان کو یوم شک کہا جاتا ہے اور اس دن رمضان کی نیت سے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور وہ حدیثیں جن سے آخر شعبان میں روزہ رکھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے وہ ایسے شخص سے متعلق ہیں جو مطلقاً نفل کی نیت سے روزہ رکھ لے، یا وہ ایّام آخر ماہ میں روزے رکھا کرتا ہو، یا عادۃً ہفتہ کے کسی دن روزہ رکھا کرتا ہو، اور یہ دن اتفاق سے آخر شعبان میں آ جائے یا وہ آخر شعبان میں اپنے قضاء روزوں کو رکھنا چاہتا ہو تو ایسا شخص آخر شعبان میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ (یہ ردالمختار، درالمختار، فتح القدیر، عمدۃ القاری، شرح معانی الآثار سے ماخوذ ہے) اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے یوم الشک میں نفل کی نیت سے روزہ رکھ لیا ہو اور بعد تحقیق ہوئی کہ وہ دن رمضان کا تھا تو اس کا نفل روزہ نفل باقی نہ رہے گا بلکہ رمضان کا فرض روزہ ہو جائے گا۔12