Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5480

بَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ختم ہوا

In this book

Current reading

Trials

بَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5480Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7127
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے اس دوران کہ اچانک ان پر ایک بادل آیا2 تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ وہ عرض کئے اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا: یہ عنان (بادل) ہے یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں اللہ اس کو ایسی قوم کی طرف لے جا رہا ہے جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس سے دعا کرتے ہیں پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا: وہ رفیع ہے یعنی آسمان ہے محفوظ چھت ہے اور ایک روکی ہوئی موج ہے پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ وہ عرض کئے اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا: تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو(500) سال کا فاصلہ ہے پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ وہ عرض کئے اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا: دو آسمانوں کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو سال کا ہے، پھر آپ نے اسی طرح فرمایا یہاں تک کہ آپ ساتوں آسمان گنائے کہ ہر دو آسمانوں کے درمیان اتنی قدر فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان کا فاصلہ ہے پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ تو وہ عرض کئے: اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا اس کے اوپر عرش ہے اور اس کے درمیان اور آسمان کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا دو آسمانوں کے درمیان ہے پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا وہ زمین ہے پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں آپ نے فرمایا: اس کے نیچے ایک دوسری زمین ہے ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے یہاں تک کہ آپ نے سات زمین گنائے ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد (ﷺ) کی جان ہے اگر تم ایک رسی سب سے نچلی زمین کی طرف چھوڑ دو وہ اللہ (کے علم) پر ہی گرے گی 1 پھر آپ نے قراء ت فرمائی: ”هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ“۔ (57- سورۃ الحدید، آیت نمبر:3) وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (احمد، ترمذی)۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: 2 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت کو تلاوت فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ لهبط على الله (وہ اللہ کے علم پر ہی گرے گی) سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے علم، اس کی قدرت اور اس کی سلطنت پر گرے گی، اللہ کا علم، اس کی قدرت اور اس کی سلطنت ہر جگہ ہے اور جیسا اس نے اپنی کتاب میں اپنی صفت بیان فرمائی ہے عرش پر ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3298 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

a cloud passed over them

(1) His statement: “a cloud passed over them”: That is, it passed by. His statement: “to a people who do not thank Him” means they disbelieve in Him by attributing the rain to the conjunction, separation, setting, or rising of stars, saying: “We were rained upon by such-and-such a star.” His statement: “nor call upon Him” means they do not mention Allah, nor seek from Him, nor worship Him, but worship idols. Yet, with His universal generosity, He provides for them and grants them well-being like the rest of humanity and animals. His statement: “the firmament” is a name for the lowest heaven. His statement: “a restrained wave” means prevented from flowing freely. The meaning is that Allah has preserved it from falling to the earth, and it is suspended without pillars, like a restrained wave. (Extracted from Al-Mirqat)

Note 2

he would reach Allah

(2) His statement: “he would reach Allah”: That is, His knowledge and dominion, as Tirmidhi explicitly stated in his commentary. The meaning is that He, the Exalted, encompasses with His knowledge and power the lowest of His creation, as He does the highest of His dominion, to refute what might occur to the ignorant that He is associated only with the higher realms and not the lower. Hence, it is said: Yunus’s ascension was in the belly of the whale, just as our Prophet’s ascension was in the expanse of the heaven. Proximity, for each, is in the realm of balance, as He informed about His closeness to all His servants with His saying: “And We are closer to him than his jugular vein” [Qaf: 16]. The difference lies in the spiritual proximity through divine honor, including the proximity of obligatory acts and supererogatory acts, as established in its place. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

he would reach Allah

(3) Tirmidhi’s statement: This indicates that his saying “he would reach Allah” requires the aforementioned interpretation, and his saying “above the Throne He established Himself” requires entrusting its knowledge to Allah, the Exalted, and refraining from interpreting it. As mentioned earlier, some matters contradict the apparent meaning and require interpretation, while others should not be delved into. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: إذا أتى: أي مر وقوله: إلى قوم لا يشكرونه، أي بل يكفرونه حيث ينسبون المطر إلى اقتران النجوم وافتراقها وغروبها وطلوعها، ويقولون: مطرنا بنوء كذا. وقوله: ولا يدعونه أي لا يذكرون الله، ولا يطلبون منه، ولا يعبدونه، بل يعبدون الأصنام، وهو بعميم كرمه يرزقهم، ويعافيهم كسائر الأنام وباقي الأنعام. وقوله: «الرفيع هو اسم لسماء الدنيا. وقوله: موج مكفوف أي ممنوع من الاسترسال، والمعنى إن الله حفظها عن السقوط على الأرض، وهي معلقة بلا عمد كالموج المكفوف. التقطته من المرقاة».