اردو
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: جانیں مشقت میں پڑ گئیں، بال
بچے بھوکے ہو گئے، مال و دولت برباد ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے آپ ہمارے لئے اللہ سے
بارش طلب فرمائیں اور ہم آپ کو اللہ کے پاس شفیع بناتے ہیں، اور اللہ کو آپ کے پاس شفیع بناتے
ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ سبحان اللہ آپ مسلسل سبحان اللہ فرماتے رہے
یہاں تک کہ یہ چیز آپ کے صحابہ کے چہروں میں پہچانی گئی، پھر آپ نے فرمایا: افسوس تجھ پر، اللہ کو
کسی کے پاس شفیع نہیں بنایا جا سکتا۔ اللہ کی شان بڑی ہے، افسوس تجھ پر، کیا تو جانتا ہے اللہ کی شان
کیا ہے؟ اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر اس طرح ہے 1 اور آپ نے اپنی انگشتہائے
مبارک سے اس پر گنبد کی طرح اشارہ فرمایا اور یقیناً وہ کجاوہ کے سوار کی وجہ سے چرچرانے کی طرح
چرچرا رہا ہے۔ (ابوداؤد)۔
امام ترمذی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ ایک نابینا نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ میرے
لئے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے عافیت عطا فرمائے آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کر دیتا ہوں اور
اگر چاہو تو تم صبر کر لو یہ تمہارے لئے بہتر ہے، انہوں نے عرض کیا آپ دعا فرمائیں تو وہ کہتے ہیں کہ
آپ نے ان کو حکم دیا کہ وضو کریں اور اچھی طرح وضو کر کے یہ دعا کریں: ”اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُكَ
لِتُقْضٰى لِيْ، اَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ“۔ اے اللہ!1 میں تجھ سے متوجہ ہوتا ہوں اور تیرے حضور میں تیرے
نبی حضرت محمد (ﷺ) نبی رحمت کے وسیلے سے مانگتا ہوں، یا رسول اللہ! میں آپ کے وسیلے سے
میرے رب کے حضور میری اس ضرورت کے لئے حاضر ہوں تاکہ میری یہ ضرورت پوری ہو، اے
اللہ حضور کی شفاعت کو تو میرے حق میں قبول فرما۔ (هذا حديث حسن صحيح غريب)۔
اور امام نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں (ترجمہ) ایک نابینا حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے
دعا فرمائیں کہ وہ میرے لئے میری بینائی عطا کرے، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہارے حق میں
دعا کروں؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بینائی کا جانا میرے لئے گراں
ہو گیا ہے، آپ نے فرمایا تو تم جاؤ اور وضو کرو پھر دو رکعت نماز ادا کرو، اس کے بعد یہ دعا کرو!
نَفْسِىْ “ : ” اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اور تیری جناب میں تیرے نبی حضرت محمد نبی رحمت
کا وسیلہ لیکر آتا ہوں، اے (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں میرے رب کی جناب میں آپ کا وسیلہ لیکر
متوجہ ہوتا ہوں کہ آپ میری بینائی عطا کردیں، اے اللہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کو میرے
حق میں قبول فرما“؛ نابینا صحابی تو اس حالت میں واپس ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی کو لوٹا دیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4726 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: “like this”: The lam is with a fathah, entering as an emphasis for the predicate. His statement: “and he said, gesturing with his fingers” means he indicated it verbally and with a gesture. His statement: “like a dome over it.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “O Allah, I ask You and turn to You through Your Prophet, etc.”: The scholar Al-Munawi said regarding the Hadith “O Allah, I ask You and turn to You through Your Prophet, the Prophet of Mercy” that it should be exclusive to the Prophet, and one should not swear by anyone else to Allah, as it is among his unique qualities. Al-Subki said: It is good to seek intercession through the Prophet to his Lord, and none of the early or later scholars denied it except Ibn Taymiyyah, who innovated what no scholar before him said. Ibn Amir al-Haj disputed the claim of exclusivity and elaborated on it in the thirteenth chapter at the end of his commentary on Al-Munyah, so refer to it. (As stated in Radd al-Muhtar)
Note 1
(۱) قوله: هكذا: بفتح اللام الابتدائية دخلت على خبر (إن تأكيدا للحكم. وقوله: وقال بأصابعه» أي أشار بها » بيان للمشار إليه قولا، قوله : مثل القبة عليه. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك إلخ ذكر العلامة المناوي في حديث اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك نبي الرحمة أنه ينبغي كونه مقصورا على النبي ، وأن لا يقسم على الله بغيره، وأن يكون من خصائصه. قال السبكي: يحسن التوسل بالنبي إلى ربه، ولم ينكره أحد من السلف ولا الخلف، إلا ابن تيمية، فابتدع ما لم يقله عالم قبله. ونازع العلامة ابن أمير الحاج في دعوى الخصوصية، وأطال الكلام على ذلك في الفصل الثالث عشر آخر شرحه على «المنية فراجعه. كذا في رد المحتار».
Note 1
امام نسائی، امام ابن ماجہ اور امام طبرانی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ اور اس کے شروع میں ایک قصہ بیان فرمایا ہے، امام ابن خزیمہ نے اپنی ”صحیح“ میں اور امام حاکم نے بھی روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ اور امام بیہقی نے بھی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا اور اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔