Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Faith · Chapter 4

Chapter on Belief in Predestination

44 narrations · In source reading order

Hadith 104

Volume 1

English

Narrated by Matar bin Ukkamis (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah decrees that a servant will die in a land, He will create for him a need to go there."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٤ - وَعَنْ مَطْرِ بْنِ عُكَامِسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِذَا قَضَى اللهُ لِعَبْدِ أَنْ يَمُوْتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 114
مطر بن عکامس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کی موت اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر مقرر فرما دیتے ہیں تو اس بندے کی کسی حاجت کو اس سرزمین سے متعلق کر دیتے ہیں اور وہ وہاں جا کر مر جاتا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2146 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 110 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 110

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 105

Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Every child is born with a natural disposition (fitrah), and then his parents make him a Jew or a Christian." It was asked: "What about those who die as infants, O Messenger of Allah?" He replied: "Allah knows best what they were doing."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ». قِيْلَ: فَمَنْ مَاتَ صَغِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ». رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةً.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 115
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ میں پیدائش کے وقت اسلام کی قابلیت ہوتی ہے پھر اس کو اس کے ماں باپ، یہودی اور نصرانی بنا لیتے ہیں، دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی بچپن میں مر جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے اس کی روایت کی ہے)۔

Hadith 106

Volume 1

English

Narrated by Abu Darda (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah, the Mighty and Majestic, has decreed for every servant the following five things: his lifespan, his deeds, his place of death, his legacy, and his provision."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٠٦ - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلٌ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ : مِنْ أَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَمَضْجَعِهِ، وَأَثْرِهِ، وَرِزْقِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 116
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے کے متعلق پانچ باتوں سے فارغ ہو چکا ہے: ایک اس کی مدت حیات، دوسرا اس کا عمل نیک و بد، تیسرا اس کا ٹھکانہ (یعنی قبر کہاں ہوگی)، چوتھا اس کا انجام (یعنی جنتی ہوگا یا دوزخی)، پانچواں اس کا رزق (تھوڑا رہے گا یا زیادہ رہے گا)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 103 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 103

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 107

Volume 1

English

Narrated by Aisha (may Allah be pleased with her): I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "Whoever speaks about anything related to predestination will be questioned about it on the Day of Judgment, and whoever does not speak about it will not be asked about it."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۷ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيْهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 117
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تقدیر کے بارے میں جو کچھ بھی کلام کرے گا اس سے اس کے متعلق قیامت میں سوال کیا جائے گا اور جو شخص تقدیر کے بارے میں کلام نہیں کرے گا اس سے اس بارے میں سوال نہ ہوگا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 84 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.781

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 108

Volume 1

English

Narrated by Ibn al-Dailami: I went to Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) and said: "Something related to predestination has occurred in my heart, so tell me something that might remove it from my heart." He said: "If Allah, the Mighty and Majestic, were to punish the inhabitants of His heavens and the inhabitants of His earth, He would punish them, and He would not wrong them. And if He had mercy on them, His mercy would be better for them than their deeds. If you were to spend a mountain of gold in the way of Allah, He would not accept it from you until you believe in predestination and know that whatever befalls you could not have missed you, and whatever missed you could not have befallen you. If you were to die without this belief, you would enter Hell." I then went to Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him), and he said something similar. Then I went to Hudhayfah ibn al-Yaman (may Allah be pleased with him), and he said something similar. Then I went to Zayd ibn Thabit (may Allah be pleased with him), and he narrated to me from the Prophet (peace be upon him) something similar.

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۸ - وَعَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَحَدِّثْنِي، لَعَلَّ اللهَ أَنْ يُذْهِبَهُ مِنْ قَلْبِي، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ. وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فِي سَبِيْلِ اللهِ مَا قَبِلَهُ اللهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ. وَلَوْ مِتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ. قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بنَ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَالَ مِثْل ذَلِكَ. ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 118
ابن دیلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں کچھ تردد ہے آپ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیے شاید کہ میرے دل کا تردد اللہ رفع فرما دیں، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اللہ عزوجل آسمان اور زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کر دے تو وہ ان پر ظالم نہیں ہوگا اور اگر ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے عمل سے بہتر ہوگی، اگر تم کوہ احد کی مقدار میں سونا راہ خدا میں خرچ کرو تو تم سے اللہ قبول نہیں فرمائے گا تاوقتیکہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ اور یقین رکھو کہ جو چیز تم کو پہنچی ہے وہ ٹلنے والی نہ تھی اور جو چیز ٹل گئی وہ تم کو پہنچنے والی نہ تھی، اگر تم اس کے سوا دوسرے اعتقاد پر مر جاؤ تو دوزخ میں داخل ہوگے۔ پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بھی بالکل وہی بات فرمائی جو اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی، پھر حذیفہ ابن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا تو انہوں نے بھی یہی کہا، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4699 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 77 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 115 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 115

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 109

Volume 1

English

Narrated by Nafi': A man came to Ibn Umar (may Allah be pleased with him) and said: "So-and-so sends you greetings." Ibn Umar replied: "I have heard that he has committed an innovation (bid'ah). If he has done so, do not convey my greeting to him. I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'There will be in my Ummah (or in this Ummah) an earthquake, transformation, and a stone-throwing for the people of Qadar.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۰۹ - وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِن كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «يَكُوْنُ فِي أُمَّتِي أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ أَوْ قَدْفٌ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 119
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہلا بھیجا ہے، آپ نے فرمایا : مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ اس نے دین میں نئی بات پیدا کر لی ہے، اگر اس نے واقعی ایسا کیا ہے تو اس کو میرے سلام کا جواب نہ پہنچاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری اُمت یا اس اُمت میں خسف (زمین میں دھنسنا) اور مسخ (چہرہ کا بدل جانا) یا قذف (پتھر کا برسایا جانا) ہوگا اور یہ اہل قدر (منکرین تقدیر پر) کے لئے ہوگا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2152 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4613 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 110

Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The descendants of the believers in Paradise will be taken care of by Ibrahim (peace be upon him)."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۰ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ ذَرَارِي الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ(عليه السلام)». رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي «الْمُسْتَدْرَكِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 120
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے بچے جنت میں رہیں گے، ان کی پرورش (سیدنا) ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے۔ (اس کو حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے)۔

Hadith 111

Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah created Adam, He wiped his back, and from his back fell every soul that He would create from his descendants until the Day of Judgment. He placed between the eyes of each of them a light. Then He displayed them to Adam. Adam said: 'O Lord, who are these?' Allah replied: 'These are your descendants.' He saw a man among them and was impressed by the light between his eyes. Adam said: 'O Lord, who is this?' Allah replied: 'This is Dawood.' Adam said: 'O Lord, how long did You decree his life to be?' Allah said: 'Sixty years.' Adam said: 'O Lord, increase his life by forty years from mine.'" (The narration continues in the original text, explaining how the matter is resolved regarding the extension of Dawood's life.) The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Adam's life came to an end, except for forty years, the Angel of Death came to him. Adam said: 'Hasn't there remained forty years of my life?' The angel replied: 'Did you not give it to your son Dawood?' Adam denied it, and his descendants also denied it. Adam forgot, and his descendants forgot. Adam made a mistake, and his descendants made a mistake."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۱ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : «لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيْصًا مِنْ نُوْرٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذُرِّيَّتُكَ. فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيْصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: دَاوُدُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ؟ قَالَ: سِتَّيْنَ سَنَةً. قَالَ: رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : فَلَمَّا انْقَضَى عُمُرُ آدَمَ إِلَّا أَرْبَعِينَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ آدَمُ: أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ: أَوَلَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَأَكَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَخَطِئَ آدَمُ وَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 121
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو آدم علیہ السلام کی پشت سے وہ تمام روحیں نکل پڑیں جن کو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی ذریت میں قیامت تک پیدا کرنے والے تھے اور ان میں سے ہر انسان کے دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چمک ظاہر کی (یہ چمک فطرت اسلام کی تھی جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے) پھر ان سب کو آدم علیہ السلام کے سامنے لایا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہیں۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تو اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک آپ کو پسند آئی، کہا اے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد علیہ السلام ہیں، آدم علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ان کی عمر کس قدر ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے کہا! اے رب میری عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کی عمر میں زائد فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام کی عمر میں صرف چالیس سال رہ گئے تو ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر سے چالیس برس ابھی باقی نہیں ہیں؟ ملک الموت نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے اپنے فرزند داؤد علیہ السلام کو اپنی عمر سے 40 سال دیئے ہیں: آدم علیہ السلام نے انکار کیا (یہ انکار نسیان کی وجہ سے تھا نہ کہ عناد کی وجہ سے) تو ان کی ذریت نے بھی انکار کیا۔ اور آدم علیہ السلام بھول گئے اور درخت (ممنوعہ) کو تناول کرلئے تو آپ کی ذریت بھی بھولنے لگی اور آدم علیہ السلام نے خطا کی، تو ان کی ذریت بھی خطا کرتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3076 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 112

Volume 1

English

Narrated by Abu Darda (may Allah be pleased with him), from the Prophet (peace be upon him): "When Allah created Adam, He struck his right shoulder, and from it He brought forth a white progeny, like grains of sand. Then He struck his left shoulder, and from it He brought forth a black progeny, like masses of charcoal. He said to the ones on the right: 'To Paradise, and I do not care.' And He said to the ones on the left: 'To the Fire, and I do not care.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۲ - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «خَلَقَ اللهُ آدَمَ حِيْنَ خَلَقَهُ، فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ ، وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةٌ سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ: إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي. وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَتِفِهِ الْيُسْرَى إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 122
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جس وقت ان کو پیدا کیا تو ان کے سیدھے مونڈھے پر ایک ضرب لگائی اس سے ان کی نورانی اولاد کو نکالا جو چیونٹیوں کی طرح تھی اور بائیں کندھے پر ایک ضرب لگائی اور سیاہ اولاد کو نکالا جو کوئلہ کے مانند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سیدھے طرف والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں اور بائیں جانب والوں کی نسبت فرمایا: یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 119 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 119

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 113

Volume 1

English

Narrated by Abu Nadrah (may Allah be pleased with him): A man from the companions of the Prophet (peace be upon him), known as Abu Abdullah, was visited by his companions while he was crying. They asked him: "Why are you crying? Did not the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Take from your beard, and keep it until you meet Me'?" He replied: "Yes, but I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Indeed, Allah, the Blessed and Exalted, took one handful of creation with His right hand, and another with His other hand, and He said: 'This is for this, and this is for that, and I do not care.' I do not know which of the two handfuls I am in.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۳ - وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ (رضي الله عنه): أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ - يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبْدِ اللهِ - دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُوْدُوْنَهُ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالُوْا لَهُ : مَا يُبْكِيْكَ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ : «خُذْ مِنْ شَارِبِكَ، ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي». قَالَ: بَلَى ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً، وَأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى، وَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ، وَلَا أُبَالِي»، وَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 123
ابونضرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ ہے، ان کی عیادت کے لئے ان کے چند اصحاب آئے اور وہ رو رہے تھے، دوستوں نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم اپنی بڑی ہوئی مونچھوں کو ترشوا دو، اور اس پر قائم رہو مجھ سے ملنے تک، ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک مٹھی اٹھائی اور دوسری مٹھی دوسرے ہاتھ میں اور فرمایا: یہ اس کے (یعنی جنت) کے لئے ہے اور یہ اس کے (یعنی دوزخ) کے لئے ہے اور مجھے کسی کی پرواہ نہیں، اور مجھے علم نہیں کہ میں کس مٹھی میں ہوں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 117 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 117

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 114

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Allah took the covenant from the back of Adam at Namaan (meaning Arafat) and He brought forth from his loins all his descendants, scattering them before him like grains of sand. Then He addressed them saying: 'Am I not your Lord?' They replied: 'Yes, indeed!' He said: 'Do not say on the Day of Resurrection: "We were unaware of this," or "Our forefathers before us associated others with You, and we were their descendants. Will You destroy us for what the wrongdoers did?"' (Surah Al-A'raf: 172-173)"

العربية

Typed, pending editorial approval
١١٤ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «أَخَذَ اللهُ الْمِيْثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ - يَعْنِي عَرَفَةَ - فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ (173)}(الأعراف: ۱۷۲- ۱۷۳) . رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 124
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نعمان یعنی میدان عرفہ میں اللہ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے عہد لیا وہ اس طرح کہ آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام ذریت کو نکالا جس کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور آدم علیہ السلام کے سامنے ان سب کو چیونٹیوں کے مانند پھیلا دیا، پھر ان تمام کے روبرو گفتگو کی اور کہا ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ سب نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہمارے رب ہیں، (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: میں نے تم سے اس لئے گواہی لی ہے کہ تم قیامت میں یہ نہ کہہ دو کہ ہم اس سے بے خبر تھے، یا یہ نہ کہہ دیں کہ ہمارے آباء و اجداد نے ہم سے قبل شرک کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد پیدا ہوئے اور ان ہی کی اولاد ہیں، کیا آپ ہم کو باطل کام والوں کے عمل کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے؟ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 121 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 2455 (unverified) 45% confidence

Mishkat (candidate) 121

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 115

Volume 1

English

Ubayy bin Ka'b (may Allah be pleased with him) said about the verse of Allah: "And when your Lord took from the Children of Adam, from their loins, their descendants" (Surah Al-A'raf: 172), that Allah gathered them, turned them into spirits, and then He formed them. He made them speak, and they responded. Then Allah took the covenant and the oath from them and made them testify upon themselves: "Am I not your Lord?" He said: "I will bear witness to you, the seven heavens and the seven earths, and I will also bear witness to your father, Adam, that you will not say on the Day of Judgment: 'We were unaware of this.' Know that there is no deity except Me, and no Lord other than Me, and do not associate anything with Me. I will send My messengers to remind you of My covenant and oath, and I will send down My books upon you." They said, "We bear witness that You are our Lord and our God. There is no Lord for us other than You, and no God for us other than You." They acknowledged this, and Adam looked at them. He saw the rich and the poor, those of good appearance and others less so. Adam then said, "My Lord, why did You not make all of Your servants equal?" Allah replied, "I loved to be thanked." Then Adam saw the Prophets among them, shining like lamps, with light upon them. They were chosen with another covenant in the message and prophethood. This is as Allah, Blessed and Exalted, said: "And when We took the covenant from the Prophets..." up to His saying, "And Jesus, the son of Mary" (Al-Ahzab: 7). These souls were present, and He sent them to Maryam (Mary). It is narrated from Ubayy that he entered through her.

العربية

Typed, pending editorial approval
١١٥ - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ (رضي الله عنه) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ}(الأعراف: ۱۷۲) قَالَ: جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا. اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي، وَلَا رَبَّ غَيْرِي، وَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي. قَالُوا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ. فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ، وَرَفَعَ عَلَيْهِمْ آدَمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ، وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ، لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ. وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ، عَلَيْهِمُ النُّورُ، خُصُّوْا بِمِيثَاقِ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ}(الأحزاب : ۷) كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ - فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ - أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 125
اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (سورہ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9، ع:22،کی) اس آیت کے بارے میں روایت ہے ﴿ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ، ﴾ (اے پیغمبر لوگوں کو وہ وقت بھی یاد دلا دو، جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم یعنی ان کی پشت سے ان کی نسلوں کو باہر نکالا)۔ حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع فرمایا اور ان کو مختلف گروہ میں تقسیم کیا (یعنی غنی و فقیر اور نیک و بد) پھر ان کو صورت عطا فرمائی اور ان کو گویا کیا تو انھوں نے کہنا شروع کیا، پھر ان سے عہد و پیمان لیا اور خود ان کو ان ہی پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو ان سب نے کہا: کیوں نہیں! بیشک آپ ہمارے رب ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ رکھتا ہوں اور تمہارے باپ آدم کو بھی تم پر گواہ بناتا ہوں تاکہ قیامت کے روز تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا، یقین رکھو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ میرے سوا کوئی تمہارا پروردگار ہے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، میں تمہارے پاس اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تم کو میرا یہ عہد و پیمان یاد دلاتے رہیں گے اور تمہارے لئے اپنی کتابیں نازل کروں گا۔ ان سب نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا کوئی ہمارا رب نہیں اور نہ آپ کے سوا کوئی ہمارا معبود ہے، سب نے اس کا اقرار کر لیا اور آدم علیہ السلام کو ان تمام پر بلند فرمایا کہ سب کو دیکھ لیں تو آپ نے دیکھا کہ اس میں کوئی تونگر ہے اور کوئی محتاج اور کوئی خوبصورت ہے اور کوئی بدشکل، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! سب بندوں کو آپ نے برابر کیوں نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آدم علیہ السلام نے ان انبیاء (علیہم السلام) کو چراغوں کی مانند (روشن) دیکھا جن پر نور تھا اور وہ ایک دوسرے سے خصوصی عہد رسالت اور نبوت سے مخصوص کئے گئے اور یہ اللہ کے اس قول (سورہ احزاب، پ:21، ع:1، آیت نمبر:7،) میں مذکور ہے، وہ یہ ابْنِ مَرْيَمَ ۞ (اس وقت کو یاد کرو جب کہ ہم نے تمام انبیاء سے عہد لیا اور آپ سے بھی اور حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے بھی) اور عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی ان ہی میں تھی جس کو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح مریم علیہا السلام کے منہ سے داخل ہوئی۔ (اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 122 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 122

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 116

Volume 1

English

Narrated by Abu Darda (may Allah be pleased with him): While we were sitting with the Messenger of Allah (peace be upon him), discussing what would happen in the future, the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When you hear about a mountain being moved from its place, believe it. But when you hear about a man changing his character, do not believe it; for he will return to what he was originally created for."

العربية

Typed, pending editorial approval
١١٦ - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ (رضي الله عنه) قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُوْنُ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهُ فَلَا تُصَدِّقُوْا بِهِ؛ فَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 126
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئندہ ہونے والی باتوں کا تذکرہ کر رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم یہ سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کی تصدیق کر دو، اور اگر یہ سنو کہ کوئی شخص اپنے پیدائشی اوصاف سے ہٹ گیا ہے تو اس کی تصدیق نہ کرو، اس لئے کہ وہ پھر اسی طرف لوٹ جائے گا جن (صفات) پر وہ پیدا ہوا ہے۔ (اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 118 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 118

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 117

Volume 1

English

Narrated by Umm Salama (may Allah be pleased with her): She said, "O Messenger of Allah, do you still suffer pain every year from the poisoned sheep that you ate?" He replied: "Nothing has harmed me from it except what was destined for me, while Adam was still in his clay."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۷ - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا يَزَالُ يُصِيبُكَ فِي كُلِّ عَامٍ وَجْعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُوْمَةِ الَّتِي أَكَلْتَ؟ قَالَ: «مَا أَصَابَنِي شَيْءٌ مِنْهَا إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيَّ، وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ». رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 127
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آپ کو ہر سال زہر ڈالی ہوئی بکری کی تکلیف ہوتی رہتی ہے جس کا گوشت (ایک یہودن نے آپ کو خیبر میں کھلا دیا تھا) اور آپ نے اس کو تناول فرمایا تھا، فرمایا: مجھے اس بکری سے جو تکلیف پہنچی ہے وہ میرے لئے لکھی جا چکی تھی جب کہ آدم علیہ السلام اپنی خمیر میں تھے (ابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 87 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.500

Confidence and text similarity are not editorial verification.