Mu’awiyah bin Al-Hakam (may Allah be pleased with him) narrated: I said: O Messenger of Allah, we did things in Jahiliyyah, like visiting soothsayers. He said: Do not visit soothsayers. 1 I said: We took omens. He said: That is something one of you feels, but let it not deter you. I said: Some men draw lines. 2 He said: A prophet among the prophets drew lines; whoever matches his drawing, that is it .
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: یا رسول
اللہﷺ! چند کام ایسے ہیں جنہیں ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے
تھے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کاہنوں کے پاس 1 مت جایا کرو۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض
کیا: یا رسول اللہﷺ! ہم بدشگونی لیتے تھے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا یہ ایسی چیز ہے جس کو تم میں
سے کوئی اپنے نفس میں پاتا ہے وہ تم کو ہرگز روکنے نہ پائے۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ہم
میں کچھ لوگ ہیں جو لکیروں 2 کا عمل کرتے ہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام میں سے ایک
نبی لکیر کا عمل کرتے تھے، تو جو لکیر ان کی لکیر کے موافق ہوجائے تو وہ ٹھیک ہے۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 537a (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2227a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
Do not visit soothsayers
(1) The statement: "Do not visit soothsayers": In Al-Durr al-Mukhtar: Knowledge is obligatory for one’s religion, communal for others’ benefit, recommended for deep jurisprudence or heart knowledge, and forbidden for philosophy, trickery, astrology, geomancy, natural sciences, magic, and soothsaying. In Radd al-Muhtar: Soothsaying is claiming knowledge of future events or secrets. In Nihayat al-Hadith: Arabs had soothsayers like Shiqq and Satih. Some claimed a familiar spirit gave them news, others inferred from signs, words, or actions, called arraf (diviners), like those claiming knowledge of stolen items. The hadith “Whoever visits a soothsayer” includes diviners and astrologers, as Arabs called anyone with subtle knowledge a soothsayer.
Note 2
Draw lines
(2) The statement: "Draw lines": This is geomancy, a science of shapes, lines, and dots with known rules, forming letters and sentences indicating outcomes. It is absolutely forbidden, attributed to Idris (peace be upon him), a repealed law. In Fatawa Ibn Hajar: Learning or teaching it is strictly forbidden, as it misleads people to believe the practitioner shares Allah’s knowledge of the unseen. Thus, in Radd al-Muhtar.
Note 1
قوله
(١) قوله: فلا تأتوا الكهان: قال في (الدر المختار): واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه،وفرض كفاية وهو ما زاد عليه لنفع غيره، ومندوبا وهو التبحُّر في الفقه. وعلم القلب، وحراما وهو علم الفلسفةوالشعبدة والتنجم والرمل وعلوم الطبائعين والسحر والكهانة. وقال في (رد المحتار): الكهانة وهي تعاطي الخبرعن الكائنات في المستقبل، وادعاء معرفة الأسرار. قال في نهاية الحديث: وقد كان في العرب كَهَنَةٌ كشق وسطيح،فمنهم من كان يزعم أن له تابعا يلقي إليه الأخبار، ومنهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها منكلام من يسأله أو حاله أو فعله، وهذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق ونحوه، وحديث(من أتىكاهنا) يشمل العراف والمنجم والعرب تسمى كل من يتعاطى علما دقيقا كاهنا.
Note 2
قوله
(٢) قوله: يخطون خطا: وهو الرمل هو علم بضروب أشكال من الخطوط والنقط بقواعد معلومة تخرج حروفا تجمع،ويستخرج جملة دالَّة على عواقب الأمور. وقد علمت أنه حرام قطعًا، وأصله لإدريس عليه السلام، أي فهو شريعة منسوخة.وفي (فتاوى ابن حجر): أن تعلمه وتعليمه حرام شديد التحريم؛ لما فيه من إيهام العوام أن فاعله يشارك اللّٰه تعالى فيغيبه. كذا في (رد المحتار).
Note 1
صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ کہانت سے مراد کائنات کے تعلق سے مستقبل کی خبروں میں
مشغول رہنا اور اسرار کو جاننے کا دعوی کرنا ہے انہوں نے اس گفتگو کے اخیر میں کہا: عرب میں کئی
کاہن تھے جیسے شق، اور سطیح، ان میں کے بعض کا یہ دعوی تھا کہ ان کا ایک جن ہے جو ان کے پاس
خبریں لاتا ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو معاملات کو ایسے چند مقدمات سے جن کے ذریعہ ان
کے موافق پر استدلال کیا جا سکتا ہے مثلاً ان سے پوچھنے والے کی گفتگو سے یا اس کی حالت سے یا
اس کے کام سے جس کو وہ کرتے ہیں اس کو عراف کہا جاتا ہے تو یہ مال مسروق وغیرہ کو جاننے کا دعوی
کرنے والے کی طرح ہے اور من اتى كاهنا (جو کاہن کے پاس جائے) کی حدیث شریف
عراف اور منجم کو شامل ہے اور عرب ہر اس شخص کو جو کسی باریک باتوں میں مشغولیت رکھتا تھا کاہن کہتے ہیں۔
Note 2
1 قولہ: فلا تأتوا الكهان (تم کاہنوں کے پاس مت جایا کرو) صاحب درمختار نے کہا: جانو! (1) کہ علم کا
سیکھنا فرض عین ہے وہ جو اپنے دین کی ضرورت کے بقدر ہے (2)۔ اور فرض کفایہ ہے وہ جو دوسروں کو فائدہ
پہنچانے کے لئے ضرورت سے زائد علم حاصل کرنا ہے (3)۔ اور مستحب ہے وہ جو علم فقہ اور علم تصوف میں
مہارت حاصل کرنا ہے (4) اور حرام ہے وہ علم جو فلسفہ، شعبدہ بازی، علم نجوم، رمل، علوم طبعیات، جادو اور
کہانت ہے (علم نجوم و فلسفہ کی تفصیل ص 240 پر آ رہی ہے)۔
2 قولہ: يخطون خطا (جو لکیروں کا عمل کرتے ہیں) وہ علم رمل ہے اور یہ مقررہ قواعد کے مطابق اشکال کے خطوط
اور نقطوں کا علم ہے جس سے حروف کو نکال کر جمع کیا جاتا ہے پھر اس سے معاملات کے نتائج کو بتانے والے ایک
جملہ کو برآمد کیا جاتا ہے اور تم کو معلوم ہے کہ قطعاً حرام ہے اور یہ ادریس علیہ السلام کے لئے تھا۔ یعنی یہ منسوخ
شریعت ہے۔ اور فتاوی ابن حجر میں ہے کہ اس کا سیکھنا اور سکھانا سخت ترین حرام ہے۔ اس لئے کہ یہ بات عوام کو
وہم میں ڈالنے والی ہے کہ اس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے غیب میں شریک ہے۔ (ردالمحتار)
1 قولہ: من اتى عرافا (جو کوئی عراف کے پاس جائے) امام نووی نے کہا ہے کہ عراف کاہنوں کی ایک قسم سے
ہے خطابی وغیرہ نے کہا کہ عراف وہ ہے کہ مسروقہ شئی کی جگہ اور گمشدہ شئی کی جگہ کی جانکاری میں مشغول رہتا ہے۔
اور ملا علی قاری نے فرمایا: کاہن اور عراف کے درمیان فرق یہ ہے کہ کاہن آئندہ زمانہ سے متعلق غیب کی خبر دینے
میں مشغول رہتا ہے اور اسرار کی معرفت کا دعوی کرتا ہے جب کہ عراف مسروقہ چیز کی اور گمشدہ چیز کے مقام وغیرہ
کی معرفت میں مشغولیت رکھتا ہے۔ (مرقات)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever visits a soothsayer and believes what they say, or approaches his wife during menstruation, or approaches her anally, has disavowed what was revealed to Muhammad .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٣١ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم (مَنْ أَتَّى كَاهِنَّا فَصَدَّقَهُ بِمَايَقُولُ أَوْ أَتى امْرَأَتَهُ حَائِضًا أَوْ أَنَّى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ. رَوَاهُأَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور جو وہ کہہ رہا ہے اس کی تصدیق کرے یا جو شخص
اپنی بیوی سے بحالت حیض ہم بستری کرے، یا اپنی بیوی کے پاس اس کے پیچھے کے حصے میں جائے
تو وہ بری ہے اس سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ (احمد، ابوداؤد)
Hafsah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever visits a diviner 1 and asks about something will have their prayers unaccepted for forty nights .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٣٢ - وَعَنْ حَفْصَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم : (مَنْ 1 أَتَّى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْشَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً). رَوَاهُ مُسْلِمْ.
سیدتنا حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: جو کوئی عراف1 کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرے تو اس
کی چالیس راتوں کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ (مسلم)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Whoever visits a diviner
(1) The statement: "Whoever visits a diviner": Al-Nawawi said: A diviner is a type of soothsayer. Al-Khattabi and others said: A diviner deals with knowing the place of stolen or lost items. Ali Al-Qari said: A soothsayer claims knowledge of future secrets, while a diviner deals with stolen or lost items and similar matters. Thus, in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(١) قوله: من أتى عرافا إلخ: قال النووي: العراف من جملة أنواع الكهان. قال الخطابي وغيره: العراف هو الذييتعاطى معرفة مكان المسروق ومكان الضالة ونحوهما. وقال علي القاري: الفرق بين الكاهن والعرَّاف أن الكاهنإنما يتعاطى الخبر عن الغيب في مستقبل الزمان، ويدعي معرفة الأسرار، والعراف هو الذي يتعاطى معرفة الشيءالمسروق ومكان الضالة ونحوهما من الأمور. كذا في (المرقاة).
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: People asked the Prophet (ﷺ) about soothsayers. He said: They are nothing. They said: O Messenger of Allah, they sometimes say things that come true. He said: That is a word of truth the jinn snatch and cackle into their ally’s ear like a hen’s cluck, mixing in over a hundred lies .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٣٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ: سَأَلَ أَنَاسُ النَّبِيَّ صلي الله عليه واله وسلم عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْرَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ بِالشَّيْءِيَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيُقَرْقِرُهَا فِيأُذُنِ وَلِيِّهِ كَفَرْقَرَةِ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهِ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ). مُتَّفَقُ عَلَيْهِ.
سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں دریافت کیا تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
وہ کچھ نہیں ہیں انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! یقیناً کبھی وہ ایسی چیز بیان کرتے ہیں جو سچ
ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ حق بات ہے جس کو جن اچک لیتا ہے اور
اس کو اپنے دوست کے کان میں مرغی کے ڈالنے کی طرح ڈال دیتا ہے تو یہ لوگ اس میں سو سے زیادہ
جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (متفق علیہ)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said: When Allah decrees a matter in the heavens, the angels beat their wings in submission to His word, like chains on smooth rock. When fear is lifted from their hearts, they say: What did your Lord say? Those who spoke say: The truth, and He is the Most High, the Great. Eavesdroppers hear it, stacked one above another—Sufyan gestured with his hand, spreading his fingers—one hears a word and passes it to the one below, until it reaches the tongue of a sorcerer or soothsayer. Sometimes a meteor catches them before they pass it; sometimes they pass it before being caught. They mix in a hundred lies, so it is said: Didn’t they tell us such-and-such on such a day? They are believed because of the word heard from the heavens .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کو سن کر
عاجزی سے اپنے پر پھیلا دیتے ہیں گویا (اس کی آواز) چٹان پر ایک زنجیر ہے یہاں تک کہ جب ان
کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ (آپس) میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا
فرمایا وہ کہتے ہیں: جو اس نے فرمایا ہے وہ حق فرمایا، اور وہ بالا ہے، تو اس کو چوری چھپے سننے والے اس
طرح سن لیتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں سفیان نے اپنی ہتھیلی سے اس طرح بیان
کیا اور اس کو ترچھا کیا اور انگلیوں کو کشادہ کیا۔
اور وہ بات کو سن لیتا ہے تو اس کو اپنے نیچے والے کی طرف ڈال دیتا ہے پھر دوسرا اس کو اپنے
نیچے والے کی طرف ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو جادوگر یا کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے۔
بسا اوقات شعلہ اس کو یہ ڈالنے سے پہلے لگ جاتا ہے اور بسا اوقات وہ شعلہ کے لگ جانے سے پہلے
اس کو ڈال دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کیا اس نے ہم سے فلاں دن
اس طرح اس طرح نہیں کہا تھا تو اس ایک بات کی وجہ سے جو آسمان سے سنی گئی تھی اس کی تصدیق کی
جاتی ہے۔ (بخاری)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: A man from the Prophet’s companions among the Ansar said: While we were sitting one night with the Messenger of Allah (ﷺ), a star shot and lit up. The Prophet (ﷺ) said: What did you say in Jahiliyyah when such a thing was seen? They said: Allah and His Messenger know best; we said a great man was born or died tonight. The Prophet (ﷺ) said: It is not cast for anyone’s death or life, but when our Lord, blessed be His name, decrees a matter, the Throne-bearers glorify, then the heavens’ dwellers below them glorify, until it reaches this lowest heaven. Those below the Throne-bearers ask: What did your Lord say? They tell them, and the heavens’ dwellers ask each other until it reaches the lowest heaven. The jinn snatch the word and throw it to their allies, who are struck. What they bring accurately is true, but they distort and add to it .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٣٥ - وَعَنْ ابن عباس أَخْبَرَنِي رَجُلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلي الله عليه واله وسلم مِنَالْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْبَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم :(مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟) قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ:وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلُ عَظِيمُ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صلي الله عليه واله وسلم :(فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَالِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحِيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّسَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُنْيَا، ثُمَّ قَالَالَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحِمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَا قَالَ،فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَيَخْطَفُ الْجِنُّالسَّمْعَ، فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقُّ، وَلَكِنَّهُمْيَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ). رَوَاهُ مُسْلِمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کے انصار صحابہ میں سے ایک صاحب نے خبر دی ہے کہ وہ سب ایک رات اس اثناء میں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی پھیلی، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم جاہلیت میں جب اس جیسا ستارہ ٹوٹتا تو کیا کہتے تھے؟ انہوں نے عرض
کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ہم کہتے تھے آج رات ایک بڑا آدمی پیدا
ہوا اور ایک بڑے آدمی کی موت واقع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ کسی کی
موت کی وجہ سے وہ ٹوٹتا ہے اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے لیکن ہمارا رب جس کا نام بابرکت ہے
جب کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش تسبیح کرتے ہیں پھر ان سے متصل آسمان والے تسبیح
کرتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح اس آسمان دنیا والوں تک پہنچ جاتی ہے پھر حاملین عرش سے قریب
والے ہیں حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو جو اس نے فرمایا ہے وہ ان کو
بتلاتے ہیں پھر آسمانوں والے بعض فرشتے بعض سے دریافت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس آسمان
دنیا تک پہنچ جاتی ہے تو جنات اس سنی ہوئی بات کو اچک لیتے ہیں اور اپنے دوستوں کی طرف ڈال
دیتے ہیں تو یہ لوگ اس کے مطابق بیان کریں تو وہ صحیح ہے۔ لیکن یہ لوگ جھوٹی باتیں شامل کرتے اور
اضافہ کر دیتے ہیں۔ (مسلم)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever acquires knowledge 1 from the stars acquires a branch of magic; the more they gain, the more .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٣٦–وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم : (مَنِ اقْتَبَسَ1 عِلْمًا مِنَ النُّجُوْمِاقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ، زَادَ مَا زَادَ). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.
اور ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس
شخص نے علم نجوم کا کوئی حصہ1 حاصل کیا تو اس نے جادو کی ایک قسم حاصل کی جتنا وہ اس میں اضافہ
کیا اس میں بھی اضافہ کیا۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3905 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3726 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Whoever acquires knowledge from the stars
(1) The statement: "Whoever acquires knowledge from the stars": This is deducing earthly events from celestial configurations. In Mukhtarat An-Nawazil by the author of Al-Hidayah: Astronomy is good and not blameworthy, divided into mathematical, which is true, as the Quran says: “The sun and moon move by precise calculation” (Ar-Rahman 55:5), and inferential, deducing events by Allah’s decree through star movements, permissible like a doctor deducing health from a pulse. If one denies Allah’s decree or claims independent knowledge of the unseen, they disbelieve. Learning enough for prayer times and Qiblah is fine. Beyond that is problematic, as stated in Al-Fusul as forbidden, followed by the commentator. It refers to the inferential type, not mathematical. In Al-Ihya: Astronomy is not blameworthy in itself, but forbidden in Shariah for three reasons: it misleads people to believe stars cause effects, its judgments are mere guesses (once a miracle of Idris, now obsolete), and it is useless since decreed events are inevitable. Summarized from Radd al-Muhtar.
Note 1
قوله
(١) قوله: من اقتبس علما من النجوم إلخ: هو علم يعرف به الاستدلال بالتشكلات الفلكية على الحوادث السفلية.وفي (مختارات النوازل) لصاحب (الهداية): إن علم النجوم في نفسه حسن غير مذموم؛ إذ هو قسمان: حسابي وإنهحق. وقد نطق به الكتاب. قال اللّٰه تعالى: (الشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ بِحُسْبَانِ (٥) (الرحمن:٥) أي سيرهما بحساب،واستدلالي بسير النجوم وحركة الأفلاك على الحوادث بقضاء اللّٰه تعالى وقدره، وهو جائز كاستدلال الطبيب بالنبضعلى الصحة والمرض، ولو لم يعتقد بقضاء اللّٰه تعالى، أو ادعى الغيب بنفسه يكفر، ثم تعلم مقدار ما يعرف بهمواقيت الصلاة والقبلة لا بأس به. وأفاد أن تعلم الزائد على هذا المقدار فيه بأس، بل صرَّح في (الفصول) بحرمته،وهو ما مشى عليه الشارح، والظاهر أن المراد به القسم الثاني دون الأول، ولذا قال في (الإحياء): إن علم النجوم فينفسه غير مذموم لذاته؛ إذ هو قسمان إلخ، ثم قال: ولكن مذموم في الشرع. وقال عمر : تعلموا من النجوم ماتهتدوا به في البر والبحر، ثم أمسكوا. وإنما زجر عنه من ثلاثة أوجه، أحدها: إنه مضر بأكثر الخلق؛ فإنه إذا ألقي إليهمأن هذه الآثار تحدث عقيب سير الكواكب، وقع في نفوسهم أنها المؤثرة. وثانيها: إن أحكام النجوم تخمين محض،ولقد كان معجزة لإدريس عليه السلام فيما يحكى وقد اندرس. وثالثها: إنه لا فائدة فيه، فإن ما قدر كائن والاحتراز منه غيرممكن. ملخصا. كذا في (رد المحتار) في المقدمة.
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever acquires a branch of astronomy beyond what Allah mentioned has acquired a branch of magic. An astrologer is a soothsayer, a soothsayer is a sorcerer, and a sorcerer is a disbeliever .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٣٧–وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم: (مَنْ اقْتَبَسَ بَابًا مِنْ عِلْمِ النُّجُوْمِ بِغَيْرِمَا ذَكَرَ اللهُ فَقَدْ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ، الْمُنَجِّمُ كَاهِنٌ وَالْكَاهِنُ سَاحِرٌ، وَالسَّاحِرُكَافِرٌ). رَوَاهُ رَزِيْنُ.
اور انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص
علم نجوم کا کوئی باب سیکھے۔ اس غرض کے سوا جس کا ذکر اللہ نے کیا ہے تو اس نے جادو کا ایک حصہ
حاصل کیا۔ نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادوگر کافر ہے۔ (رزین)
Qatadah narrated: Allah created the stars for three purposes: as adornment for the heavens, missiles for devils, and signs for guidance. Whoever interprets them otherwise errs, wastes their share, and takes on what they do not know [Narrated by Bukhari, as a comment].
In Razin’s narration: They take on what does not concern them, what they have no knowledge of, and what prophets and angels could not know. Ar-Rabi’ said similarly, adding: Allah did not place anyone’s life, sustenance, or death in a star; they fabricate lies against Allah and rely on stars.
سیدنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو
تین چیزوں کے لئے پیدا فرمایا ہے اس کو آسمان کے لئے زینت بنایا اور شیاطین کو مارنے کے لئے
اور ایسی نشانیاں جس سے راستہ معلوم کیا جاتا ہے تو جو کوئی ان میں اس کے سوا کوئی اور مطلب سمجھا تو
اس نے خطا کی اور اپنے نصیب کو ضائع کیا اور اس نے اس بات کا تکلف کیا جس کو وہ نہیں جانتا۔
امام بخاری نے اس کو تعلیقاً روایت کیا ہے۔
اور رزین کی روایت میں ہے اس نے تکلف کیا بے فائدہ چیز کا اور ایسی چیز کا
جس کا اس کو علم نہیں ہے اور جس کے علم سے انبیاء اور فرشتے عاجز ہیں۔
اور ربیع سے اس کے مثل روایت ہے۔ اور انہوں نے اضافہ کیا ہے کہ خدا کی قسم اللہ نے کسی
ستارہ میں نہ کسی آدمی کی زندگی رکھی اور نہ اس کا رزق اور نہ اس کی موت، اس کے سوا نہیں کہ وہ اللہ
تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور وہ ستاروں کو سبب گردانتے ہیں۔
Zayd bin Khalid Al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the morning prayer at Hudaybiyyah after rain at night. When he finished, he faced the people and said: Do you know what your Lord said? They said: Allah and His Messenger know best. He said: Some of My servants woke believing in Me, others disbelieving. Those who said: We were rained on by Allah’s favor and mercy, believe in Me and disbelieve in the star. Those who said: We were rained on by such a star, disbelieve in Me and believe in the star 1 .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اس بارش کے بعد جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ
فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ انہوں
نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے
ارشاد فرمایا: میرے بندوں میں سے بعض مومن اور بعض کافر صبح کے تو اب رہا وہ شخص جس نے کہا:
اللہ کے فضل ورحمت سے ہم پر بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا، اور ستارہ1؎ کا انکار کرنے والا
ہے۔ لیکن وہ شخص جس نے کہا: ہم پر فلاں (کی رات کی) وجہ سے بارش ہوئی تو وہ میرا انکار کرنے والا
اور ستارہ پر ایمان رکھنے والا ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 846 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 71a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Disbelieve in Me and believe in the star
(1) The statement: "Disbelieve in Me and believe in the star": Al-Nawawi said: Scholars differ on the disbelief of saying, “We were rained on by such a star,” with two views. First, it negates faith entirely, with two interpretations: if one believes the star independently causes rain, as Jahiliyyah people did, their disbelief is clear, per Al-Shafi’i and the majority. If one believes it is from Allah’s favor, with the star as a sign or likely time for rain, they are not disbelieved, as it means rain came at such a time. The apparent view is that it is disliked (tanzih) because it is ambiguous, resembling Jahiliyyah phrases, leading to suspicion. The second view is ingratitude for Allah’s favor by attributing rain to the star. Thus, in Al-Mirqat. In Al-Alamgiriyyah: It is disliked to say: We were watered by Pleiades’ star, or Suhail rose, so the night cooled, as Suhail does not bring heat or cold.
Note 1
قوله
(١) قوله: فذلك كافر بي مؤمن بالكوكب: قال النووي: واختلفوا في كفر من قال: مطرنا بنوء كذا على قولين، أحدهما:هو كفر بالله سبحانه سالب لأصل الإيمان، وفيه وجهان، أحدهما: أنه من قاله معتقدا بأن الكوكب فاعل مدبر منشئللمطر، كزعم أهل الجاهلية، فلا شك في كفره، وهو قول الشافعي والجماهير وثانيهما: أنه من قال معتقدا بأنه من اللّٰهتعالى بفضله، وأن النوء علامة له ومظنة بنزول الغيث، فهذا لا يكفّر؛ لأنه بقوله هذا كأنه قال: مطرنا في وقت كذا،والأظهر أنه مكروه كراهة تنزيه؛ لأنه كلمة موهمة مترددة بين الكفر والإيمان، فيساء الظن بصاحبها، ولأنها شعار أهلالجاهلية، والقول الثاني كفران لنعمة اللّٰه تعالى؛ لاقتصاره على إضافة الغيث إلى الكوكب. كذا في (المرقاة). وقال في (العالمكيرية): ويكره أن يقول الرجل: سقينا بنوء الثريا، أو طلع سهيل، فبرد الليل؛ لأن سهيلا لا يأتي بالحر والبرد.
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah sends no blessing from the heavens but some people disbelieve in it. Allah sends rain, and they say: By such a star .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٤٠ - وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم قَالَ:(مَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْبَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ، يُنْزِلُ اللهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ بِكَوْكَبَ كَذَاوَكَذَا). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی برکت نازل نہیں فرماتا مگر لوگوں کی ایک جماعت اس کی
وجہ سے کافر ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ بارش نازل فرماتا ہے تو وہ کہتے ہیں فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے
ہوئی ہے۔ (مسلم)
Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If Allah withheld rain from His servants for five years, then sent it, a group would wake disbelieving, saying: We were watered by the star of Al-Mijdah .
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤٤١ - وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم:(لَوْ أَمْسَكَ اللهُ الْقَطْرَ عَنْعِبَادِهِ خَمْسَ سِنِيْنَ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ طَائِفَةً مِنَ النَّاس كَافِرِيْنَ، يَقُوْلُوْنَ: سُقِيْنَا بِنَوْءِالْمِجْدَحِ). رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پانچ سال بارش کو روک لے پھر اس کو بھیج دے تو
ضرور لوگوں کی ایک جماعت کافر ہو جائے گی وہ کہیں گے ہم پر مجدح کارتی کی وجہ سے بارش ہوئی
ہے۔ (نسائی)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
عالمگیری میں ہے کہ آدمی کا یہ کہنا کہ ہم پر ثریا کارتی کی وجہ سے بارش ہوئی یا سہیل ستارہ طلوع
ہوا تو رات میں خنکی آ گئی مکروہ ہے کیونکہ سہیل گرمی و سردی کو نہیں لاتا۔
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) The statement: "Do not visit soothsayers": In Al-Durr al-Mukhtar: Knowledge is obligatory for one’s religion, communal for others’ benefit, recommended for deep jurisprudence or heart knowledge, and forbidden for philosophy, trickery, astrology, geomancy, natural sciences, magic, and soothsaying. In Radd al-Muhtar: Soothsaying is claiming knowledge of future events or secrets. In Nihayat al-Hadith: Arabs had soothsayers like Shiqq and Satih. Some claimed a familiar spirit gave them news, others inferred from signs, words, or actions, called arraf (diviners), like those claiming knowledge of stolen items. The hadith “Whoever visits a soothsayer” includes diviners and astrologers, as Arabs called anyone with subtle knowledge a soothsayer.
Note 2
(2) The statement: "Draw lines": This is geomancy, a science of shapes, lines, and dots with known rules, forming letters and sentences indicating outcomes. It is absolutely forbidden, attributed to Idris (peace be upon him), a repealed law. In Fatawa Ibn Hajar: Learning or teaching it is strictly forbidden, as it misleads people to believe the practitioner shares Allah’s knowledge of the unseen. Thus, in Radd al-Muhtar.
Note 1
(١) قوله: فلا تأتوا الكهان: قال في (الدر المختار): واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه،وفرض كفاية وهو ما زاد عليه لنفع غيره، ومندوبا وهو التبحُّر في الفقه. وعلم القلب، وحراما وهو علم الفلسفةوالشعبدة والتنجم والرمل وعلوم الطبائعين والسحر والكهانة. وقال في (رد المحتار): الكهانة وهي تعاطي الخبرعن الكائنات في المستقبل، وادعاء معرفة الأسرار. قال في نهاية الحديث: وقد كان في العرب كَهَنَةٌ كشق وسطيح،فمنهم من كان يزعم أن له تابعا يلقي إليه الأخبار، ومنهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها منكلام من يسأله أو حاله أو فعله، وهذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق ونحوه، وحديث(من أتىكاهنا) يشمل العراف والمنجم والعرب تسمى كل من يتعاطى علما دقيقا كاهنا.
Note 2
(٢) قوله: يخطون خطا: وهو الرمل هو علم بضروب أشكال من الخطوط والنقط بقواعد معلومة تخرج حروفا تجمع،ويستخرج جملة دالَّة على عواقب الأمور. وقد علمت أنه حرام قطعًا، وأصله لإدريس عليه السلام، أي فهو شريعة منسوخة.وفي (فتاوى ابن حجر): أن تعلمه وتعليمه حرام شديد التحريم؛ لما فيه من إيهام العوام أن فاعله يشارك اللّٰه تعالى فيغيبه. كذا في (رد المحتار).
Note 1
صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ کہانت سے مراد کائنات کے تعلق سے مستقبل کی خبروں میں مشغول رہنا اور اسرار کو جاننے کا دعوی کرنا ہے انہوں نے اس گفتگو کے اخیر میں کہا: عرب میں کئی کاہن تھے جیسے شق، اور سطیح، ان میں کے بعض کا یہ دعوی تھا کہ ان کا ایک جن ہے جو ان کے پاس خبریں لاتا ہے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو معاملات کو ایسے چند مقدمات سے جن کے ذریعہ ان کے موافق پر استدلال کیا جا سکتا ہے مثلاً ان سے پوچھنے والے کی گفتگو سے یا اس کی حالت سے یا اس کے کام سے جس کو وہ کرتے ہیں اس کو عراف کہا جاتا ہے تو یہ مال مسروق وغیرہ کو جاننے کا دعوی کرنے والے کی طرح ہے اور من اتى كاهنا (جو کاہن کے پاس جائے) کی حدیث شریف عراف اور منجم کو شامل ہے اور عرب ہر اس شخص کو جو کسی باریک باتوں میں مشغولیت رکھتا تھا کاہن کہتے ہیں۔
Note 2
1 قولہ: فلا تأتوا الكهان (تم کاہنوں کے پاس مت جایا کرو) صاحب درمختار نے کہا: جانو! (1) کہ علم کا سیکھنا فرض عین ہے وہ جو اپنے دین کی ضرورت کے بقدر ہے (2)۔ اور فرض کفایہ ہے وہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ضرورت سے زائد علم حاصل کرنا ہے (3)۔ اور مستحب ہے وہ جو علم فقہ اور علم تصوف میں مہارت حاصل کرنا ہے (4) اور حرام ہے وہ علم جو فلسفہ، شعبدہ بازی، علم نجوم، رمل، علوم طبعیات، جادو اور کہانت ہے (علم نجوم و فلسفہ کی تفصیل ص 240 پر آ رہی ہے)۔ 2 قولہ: يخطون خطا (جو لکیروں کا عمل کرتے ہیں) وہ علم رمل ہے اور یہ مقررہ قواعد کے مطابق اشکال کے خطوط اور نقطوں کا علم ہے جس سے حروف کو نکال کر جمع کیا جاتا ہے پھر اس سے معاملات کے نتائج کو بتانے والے ایک جملہ کو برآمد کیا جاتا ہے اور تم کو معلوم ہے کہ قطعاً حرام ہے اور یہ ادریس علیہ السلام کے لئے تھا۔ یعنی یہ منسوخ شریعت ہے۔ اور فتاوی ابن حجر میں ہے کہ اس کا سیکھنا اور سکھانا سخت ترین حرام ہے۔ اس لئے کہ یہ بات عوام کو وہم میں ڈالنے والی ہے کہ اس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے غیب میں شریک ہے۔ (ردالمحتار) 1 قولہ: من اتى عرافا (جو کوئی عراف کے پاس جائے) امام نووی نے کہا ہے کہ عراف کاہنوں کی ایک قسم سے ہے خطابی وغیرہ نے کہا کہ عراف وہ ہے کہ مسروقہ شئی کی جگہ اور گمشدہ شئی کی جگہ کی جانکاری میں مشغول رہتا ہے۔ اور ملا علی قاری نے فرمایا: کاہن اور عراف کے درمیان فرق یہ ہے کہ کاہن آئندہ زمانہ سے متعلق غیب کی خبر دینے میں مشغول رہتا ہے اور اسرار کی معرفت کا دعوی کرتا ہے جب کہ عراف مسروقہ چیز کی اور گمشدہ چیز کے مقام وغیرہ کی معرفت میں مشغولیت رکھتا ہے۔ (مرقات)