From Amarah ibn Ruwaybah, may Allah be pleased with him, who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "No one who prays before the sun rises and before it sets will enter the Fire, meaning the Fajr and Asr prayers."
عمارۃ بن رُوَیْبَۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر وہ شخص جو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے
قبل کی نمازوں یعنی فجر اور عصر کو پابندی سے ادا کرتا ہو وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہو گا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
From Abu Musa, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever prays the two cool prayers (Fajr and Asr) will enter Paradise."
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دونوں ٹھنڈے وقت کی نمازوں کو پڑھتا رہتا ہے (وہ بغیر عذاب کے جنت
میں داخل ہو گا۔ (ٹھنڈے وقت کی نمازوں سے مراد فجر اور عصر یا فجر اور عشاء ہیں)۔
(اس کی روایت بخاری و مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
From Abu Huraira, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: "The angels take turns among you, by night and by day. They gather for the Fajr and Asr prayers, then those who spent the night with you ascend, and their Lord, who knows them better, asks them: 'How did you leave My servants?' They reply: 'We left them while they were praying, and we came to them while they were praying.'"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس باری باری سے رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے (بندوں کے
اعمال لکھنے اور اعمال کیلئے جانے کیلئے) آتے رہتے ہیں اور وہ فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں یکجا
جمع ہوتے ہیں، (فجر کے وقت اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ ان میں ایک جماعت رات کے اعمال لے
جاتی ہے اور دوسری جماعت دن کے اعمال لکھنے کیلئے آتی ہے اور اسی طرح عصر کے وقت جمع ہو کر ایک
جماعت تو دن کے اعمال لے جاتی ہے اور دوسری جماعت رات کے اعمال لکھنے کیلئے آتی ہے) پھر وہ
فرشتے جو تمہارے پاس رات گزارے ہیں وہ اوپر جاتے ہیں تو ان سے پروردگار عالم باوجود یہ کہ
اپنے بندوں کے حالات سے ان سے زیادہ باخبر ہیں دریافت فرماتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو
کس حالت میں چھوڑا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کو اس حالت میں چھوڑ آئے کہ وہ نماز
(فجر) پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس پہنچے تو نماز (عصر) پڑھ رہے تھے۔ (اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
From him, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: "If the people knew what is in the call to prayer and the first row, they would cast lots for it. And if they knew what is in the early prayer (before dawn) 1 , they would race to it, and if they knew what is in the 'Isha' and Fajr prayers, they would come to them even if they had to crawl."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان دینے میں کیا ثواب ہے اور نماز کی پہلی صف میں کیا
اجر ہے (تو ایک دوسرے پر سبقت کرتے اور ہر ایک چاہتا کہ خود اذان دے اور پہلی صف میں جگہ
حاصل کرے) تو اس کے تصفیہ کیلئے قرعہ اندازی کی ضرورت پڑتی اور اگر لوگ جانتے کہ ہر نماز کو اس
کے مستحب وقت میں ادا کرنے کیلئے بہت سویرے مسجد کو پہنچ جانے میں کیا اجر ہے تو (اس فضیلت کو
حاصل کرنے کیلئے مسجدوں کی جانب دوڑتے ہوئے آتے اور اگر ان کو معلوم ہوتا کہ عشاء اور صبح کی
نماز میں کیا فضیلت ہے تو ان دونوں نمازوں کیلئے (مسجدوں کی جانب کسی وجہ سے چل نہ سکتے ہوں
تو) سرین کے بل زمین پر گھسٹتے ہوئے آتے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
If they knew what is in the early prayer...
(1) The statement: "If they knew what is in the early prayer..." It should not be said that the command to delay the prayer contradicts the command to perform the early prayer, because delaying is a slight postponement and does not exclude the concept of early prayer. "Al-Hajjira" refers to the time up until just before Asr (the afternoon prayer), as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولو يعلمون ما في التهجير الخ: لا يقال: الأمر بالإبراد ينافي الأمر بالتهجير؛ لأن الإبراد تأخير قليل لا يخرج بذلك التهجير، فإن الهاجرة تطلق على الوقت إلى أن يقرب العصر، كذا في «المرقاة».
On the authority of 'Amara bin Ruwaybah: He said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'No one will enter the Hellfire who prays before the rising and before the setting of the sun, meaning Fajr and Asr.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ منافقین پر کوئی نماز فجر اور عشاء سے بڑھ کر دشوار نہیں اور اگر یہ جانتے کہ ان دونوں
نمازوں کیلئے (مسجد کو آنے میں) کیا فضیلت ہے تو وہ (کسی وجہ سے چل نہ سکتے تو) سرین کے بل
زمین پر گھسٹتے ہوئے آتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز عشاء باجماعت ادا کی تو گویا وہ آدھی رات تک عبادت میں
مشغول رہا اور جس نے نماز فجر باجماعت ادا کی تو گویا وہ پوری رات نماز میں گزارا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
On the authority of Abu Huraira: He said, "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Angels take turns in you, some at night and some during the day. They gather at the Fajr prayer and the Asr prayer, and then those who stayed overnight among you ascend, and their Lord, who knows best about them, asks, 'How did you leave My servants?' They reply, 'We left them while they were praying, and we came to them while they were praying.'"
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ تم ہرگز نماز مغرب کو دیہاتی عربوں کی طرح عشاء نہ کہا کرو، راوی یعنی ابن عمر رضی
اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دیہاتی عرب مغرب کو عشاء کہا کرتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی
ارشاد فرمایا کہ تم دیہاتی عربوں کی طرح نماز عشاء کو (عتمہ) نہ کہا کرو کیونکہ قرآن میں اس نماز کا نام
عشاء ہے (دیہاتی عرب عشاء کو عتمہ اس وجہ سے کہا کرتے تھے کہ) اس وقت اونٹوں کا دودھ دوہا
جاتا تھا (جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جاہلیت سے تشبیہ کی بناء پر منع فرما دیا اور بعض حدیثوں
میں عشاء کو جو عتمہ کہا گیا ہے وہ اس نہی سے پہلے کا واقعہ ہے جو اس حدیث سے منسوخ ہو گیا۔ (اس
کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
On the authority of Jundub al-Qasri: He said, "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever prays the Fajr prayer is under the protection of Allah. So, do not let Allah ask you for anything from His protection. For whoever seeks from His protection anything will be caught by it and then cast into the Hellfire.'" [Narrated by Muslim]
"In some copies of al-Masabih, 'al-Qushayri' appears instead of 'al-Qasri'."
جندب قسری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز فجر (جماعت کے ساتھ) پڑھی تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور امان
میں آ گیا (تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس سے بدسلوکی نہ کریں کیوں کہ ایسے امن دیئے ہوئے شخص سے
بدسلوکی کرنا اللہ تعالیٰ کے اس امن کو توڑنا ہے جو اس نمازی کو ملا ہے، اللہ تعالیٰ کے پاس کا یہ قاعدہ ہے
کہ) اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے امن کو توڑنے کی وجہ سے جس کسی سے وہ کچھ بھی مواخذہ کرنا چاہتے
ہیں تو اس کو پکڑ لیتے ہیں اور منہ کے بل اس کو جہنم کی آگ میں جھونک دیتے ہیں ایسا ہی جو، امن دیئے
ہوئے نمازی کو ایذا دے گا تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ دوزخ میں ڈال دیں گے)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور مصابیح کے بعض نسخوں میں راوی کے نام کے ساتھ قسری
کی بجائے قشیری آیا ہے۔)
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) regarding the saying of Allah Almighty: "Indeed, the recitation of Fajr is witnessed." (Al-Isra: 78) He (the Prophet ﷺ) said: "It is witnessed by the angels of the night and the angels of the day."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قول باری تعالیٰ ”إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا“
(سورہ بنی اسرائیل، پ:15، ع:9، آیت نمبر:78)(بے شک صبح کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے
کا وقت ہے) کے متعلق فرمایا کہ صبح کی نماز کے وقت رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے
ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Salman (may Allah be pleased with him) said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:
"Whoever sets out for the Fajr prayer sets out under the banner of faith, and whoever sets out for the marketplace sets out under the banner of Iblis."
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نماز صبح کیلئے نکلتا ہے تو وہ ایمان کا پرچم لے کر نکلتا ہے
(کہ یہ اس کے ایمان کی علامت ہے) اور جو شخص (بغیر نماز پڑھے) بازار کو جاتا ہے تو وہ ابلیس کا
پرچم لئے ہوئے جاتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Abu Bakr ibn Sulayman ibn Abi Hathmah reported that ʿUmar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) once missed Sulayman ibn Abi Hathmah at the Fajr prayer. He then went to the marketplace, and since Sulayman's house was between the marketplace and the mosque, ʿUmar passed by his mother, al-Shifaʾ. He said to her: "I did not see Sulayman at Fajr?"
She replied: "He spent the night in prayer, and sleep overtook him." ʿUmar said: "To attend the Fajr prayer is dearer to me than spending the whole night in prayer."
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلیمان بن ابی حثمہ کو نمازِ صبح میں موجود نہ پایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ
بازار کی طرف نکلے اور سلیمان رضی اللہ عنہ کا گھر بازار اور مسجد کے درمیان تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ
نے ان کی ماں جن کا نام شفاء رضی اللہ عنہا تھا ان سے ملتے ہوئے گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان
کی ماں سے پوچھا کہ آج میں نے سلیمان کو صبح کی نماز میں نہیں دیکھا ہے ان کی ماں شفاء، جواب دیں
کہ آج سلیمان رات بھر نماز پڑھتے رہے (اور صبح کی نماز کے وقت) ان پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور وہ
سو گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمام رات عبادت میں گزارنے سے میرے پاس بہتر یہ
ہے کہ میں نمازِ صبح کی جماعت میں حاضر ہوں۔
(اس کی روایت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے)۔
Ibn ʿUmar (May Allah be pleased with them) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The most virtuous prayer in the sight of Allah Almighty is the Fajr prayer on Friday in congregation."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے
ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے پاس فضیلت والی نماز
جمعہ کے دن کی فجر کی نماز ہے جو جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔
(اس کی روایت ابونعیم نے حلیہ میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔)
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ظہر کی نماز فضیلت میں رات کی نماز (یعنی تہجد) کی طرح ہے۔
(اس کی روایت ابن نصر نے کی ہے اور طبرانی نے بھی الکبیر میں اس کی روایت کی ہے۔)
ʿAli (May Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of al-Khandaq: "They kept us from the middle prayer—ʿAsr prayer. May Allah fill their homes and graves with fire!"
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
خندق کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ مشرکین نے ہم کو صلوٰۃ الوسطیٰ یعنی نمازِ عصر سے روک رکھا، اللہ تعالیٰ
ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
He (ʿAli) said: "We fought against the Confederates (al-Ahzab), and they kept us engaged until the sun was about to set, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Allah! Fill the hearts of those who kept us from the middle prayer with fire, fill their homes with fire, and fill their graves with fire.' ʿAli said: 'We used to consider that the middle prayer was Fajr.'"
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم احزاب یعنی خندق
کی لڑائی میں مشغول تھے تو کفار نے ہم کو نمازِ عصر سے باز رکھا یہاں تک کہ قریب تھا کہ آفتاب ڈوب
جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے اللہ! جن لوگوں نے ہم کو صلوٰۃ الوسطیٰ (نماز
عصر) سے باز رکھا ہے ان کے دلوں میں آگ بھر دے اور ان کے گھروں کو بھی آگ سے بھر دے اور
ان کی قبروں کو بھی آگ سے بھر دے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ صلوٰۃ الوسطیٰ
سے نمازِ فجر مراد ہے۔ (مگر اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ الوسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے)۔ (اس
کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Ibn Masʿud and Samurah ibn Jundub (May Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The middle prayer is the ʿAsr prayer."
ابن مسعود اور سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں حضرات
نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صلوٰۃ الوسطیٰ نماز عصر ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Abu Hurayrah (May Allah be pleased with him) narrated that he came to Damascus and stayed with the family of Abu Kultum al-Dawsi. He went to the mosque and sat in its western part, where they began discussing the middle prayer and differed over it. He said: "We also differed over it just as you are differing, while we were at the doorstep of the Messenger of Allah (ﷺ), and among us was the righteous man Abu Hashim ibn ʿUtbah ibn Rabiʿah ibn ʿAbd Shams. He said, 'I will find out for you,' and went to the Messenger of Allah (ﷺ), as he was bold in approaching him. He sought permission, entered, and then came out to inform us that it is the ʿASr prayer."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دمشق آ کر ابو کلثم دوسی کے گھر
فروکش ہوئے پھر مسجد کو تشریف لائے اور مسجد کے غربی جانب ایک جگہ بیٹھ گئے (وہاں دیکھا کہ)
لوگ صلوٰۃ وسطٰی کا باہم تذکرہ کرتے ہوئے اس کے متعلق آپس میں اختلاف کر رہے ہیں یہ سن کر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم کو بھی صلوٰۃ وسطٰی کے متعلق اختلاف ہوا تھا جس طرح کہ آپ
حضرات کے درمیان صلوٰۃ وسطٰی کے تعین میں اختلاف ہو رہا ہے کہ وہ کونسی نماز ہے؟ اور اس وقت ہم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور ہماری مجلس میں اُس وقت ایک
باخدا بزرگ ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس موجود تھے ابو ہاشم نے کہا کہ میں اس مسئلہ کو آپ
لوگوں کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے آتا ہوں یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں پہنچے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جرأت سے حاضر ہو جایا کرتے تھے، انہوں
نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی اور اندر گئے پھر ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم کو
خبر دی کہ صلوٰۃ الوسطٰی سے مراد نماز عصر ہے۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ʿAbd al-Rahman ibn Labibah al-Ṭaʾifi narrated that he asked Abu Hurayrah (May Allah be pleased with him) about the middle prayer, so he said: "I will recite the Qur’an for you until you recognize it. Does Allah Almighty not say in His Book: 'Establish prayer from the declining of the sun'—Zuhr—'until the darkness of the night'—Maghrib—'and after the ʿIshaʾ prayer, three times of privacy for you'—ʿIshaʾ. And He says: 'Indeed, the Qur'an at Fajr is witnessed'—Fajr. Then He says: 'Maintain with care the prayers and the middle prayer and stand before Allah devoutly.' (Al-Baqarah: 238) It is ʿASr, it is ʿASr."
عبدالرحمٰن بن لبیبۃ الطائفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلوٰۃ وسطٰی کے متعلق سوال کیا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم
کو قرآن پڑھ کر سناتا ہوں تا کہ معلوم ہو جائے کہ صلوٰۃ وسطٰی کونسی نماز ہے؟ سنو! کیا اللہ عزوجل نے
اپنی کتاب میں نہیں فرمایا ہے ”اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ“ (آفتاب ڈھلنے کے بعد نماز قائم
کرو) یہ ظہر کی نماز ہے ”اِلٰى غَسَقِ اللَّيْلِ“ (رات کی تاریکی شروع ہونے کے وقت نماز قائم کرو)
یہ مغرب کی نماز ہے ”وَمِنْ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاءِ ثَلٰثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ“ (تمہاری خلوت کے تین
وقت ہیں منجملہ ان کے نماز عشاء کے بعد کا وقت بھی ہے) یہ عتمہ یعنی عشاء کی نماز ہوئی اور اللہ تعالیٰ
نے فرمایا ہے ”إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا“ (بے شک صبح کی نماز فرشتوں کے حاضر ہونے
کا وقت ہے) یہ فجر کی نماز ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”حَفِظُوا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ
الْوُسْطٰى وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ“ (حفاظت کرو سب نمازوں کی عموماً اور بیچ والی نماز کی خصوصاً اور
کھڑے رہو اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے) یہ صلوٰۃ وسطیٰ عصر ہی ہے۔ صدر کی مذکورہ آیتوں میں
ظہر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں کا ذکر آچکا ہے اب رہی نماز عصر تو اس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا
ہے اسطرح ثابت ہوا کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہی ہے۔)
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Ibn ʿUmar (May Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever misses the ʿASr prayer, it is as if he has lost his family and wealth."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص سے نماز عصر چھوٹ جائے (تو اس کو ایسا رنج ہونا چاہئے) جیسے گھر بار اور
مال و دولت برباد ہونے سے ہوتا ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عصر کو چھوڑ دے (تو اس نے جس کام کی وجہ سے نماز عصر چھوڑی ہے)
اس کام سے برکت مٹا دی جاتی ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Muʿadh ibn Jabal (May Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Pray this ʿIshaʾ prayer later, for you have been given distinction over all other nations with it. No nation before you has prayed it."
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نماز عشاء میں تاخیر کیا کرو، تم کو اس نماز عشاء کی وجہ سے دوسری امتوں پر
فضیلت دی گئی ہے کیونکہ اس نماز کو کوئی امت تمہارے قبل نہیں پڑھتی تھی۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Umamah (May Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever prays ʿIshaʾ in congregation, he has taken his portion from the Night of Decree."
امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو نماز عشاء جماعت سے پڑھا کرتا ہے تو اس کو شب قدر سے حصہ مل جاتا ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "If they knew what is in the early prayer..." It should not be said that the command to delay the prayer contradicts the command to perform the early prayer, because delaying is a slight postponement and does not exclude the concept of early prayer. "Al-Hajjira" refers to the time up until just before Asr (the afternoon prayer), as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: ولو يعلمون ما في التهجير الخ: لا يقال: الأمر بالإبراد ينافي الأمر بالتهجير؛ لأن الإبراد تأخير قليل لا يخرج بذلك التهجير، فإن الهاجرة تطلق على الوقت إلى أن يقرب العصر، كذا في «المرقاة».