Narrated by Khalid bin Dinar: Our leader led us in Friday prayer, then he asked Anas: "How did the Messenger of Allah ﷺ pray Zuhr?" He said: "When it was extremely cold, the Messenger of Allah ﷺ would hasten the prayer, and when it was extremely hot, he would delay it."
خالد بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے امیر نے نماز جمعہ پڑھانے
کے بعد انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ظہر پڑھا کرتے تھے؟
انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب سخت سردی کا موسم ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں
تعجیل فرماتے تھے اور جب گرمی سخت ہو جاتی تو نماز ظہر ٹھنڈے وقت ادا فرماتے۔ (اس کی روایت
بخاری نے کی ہے۔)
انس بن مالک اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم موسم سرما میں نماز ظہر جلد ادا فرمایا کرتے اور گرما میں نماز ظہر میں تاخیر فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی
روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Narrated by Anas: The Messenger of Allah ﷺ would hasten the prayer when it was very cold, and delay it when it was very hot. [Narrated by Al-Nasa’i, and its narrators are trustworthy from the Sahih]
Ali Al-Qari said: This is how the conflicting narrations regarding Zuhr are reconciled: that he would hasten it and that he would delay it. As for the narration that speaks of hastening it even during extreme heat, Al-Bayhaqi said that it was abrogated.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب
موسم گرما ہوتا تو نماز ظہر کو ٹھنڈے وقت ادا فرمایا کرتے اور جب جب سردی کا موسم ہوتا تو جلدی ادا فرمایا
کرتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں اور سب صحیح کے راوی ہیں۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ نماز ظہر کے بارے میں متعارض حدیثیں وارد ہوئی ہیں
بعض حدیثوں سے بلا قید موسم تعجیل ثابت ہوتی ہے اور بعض احادیث سے بلا قید موسم تاخیر، اور یہ تعارض
اس باب کی حدیثوں سے اس طرح دور ہو جاتا ہے کہ جن حدیثوں میں تعجیل ظہر مذکور ہے وہ موسم سرما
سے متعلق ہیں اور جن حدیثوں میں تاخیر ظہر مذکور ہے وہ موسم گرما سے متعلق ہیں اور جن حدیثوں سے
موسم گرما میں بھی تعجیل ظہر ثابت ہے ایسی حدیثوں کے متعلق بیہقی کا قول ہے کہ ایسی حدیثیں منسوخ ہیں۔12
Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "When it is intensely hot, then delay the prayer – and in another narration from Bukhari, from Abu Sa'id: ‘delay Zuhr prayer.’ The intense heat is from the scorching breath of Hell. The Fire complained to its Lord and said: 'O my Lord, some of me have consumed the rest of me.' So, He allowed it two breaths: one in winter and one in summer. The most intense heat that you experience is from it, and the most intense cold is from its freezing cold." [Agreed upon] And in a narration from Bukhari: "The most intense heat you experience is from its poisonous breath, and the most intense cold is from its freezing cold."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جب شدت کی گرمی ہو تو نماز ظہر (یہ ترجمہ بخاری کی روایت کے لحاظ سے کیا گیا ہے
جو ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں نماز ظہر کی صراحت ہے۔12) کو ٹھنڈے وقت پڑھو!۔
کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے، جہنم نے اپنے پروردگار سے
شکایت کی اور کہا کہ اے میرے پروردگار میرے بعض نے بعض کو کھا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے جہنم کو دو
دفعہ سانس لینے کی اجازت دی (1) ایک سانس سرما میں اور (2) دوسری گرما میں اسی وجہ سے تم سخت
سے سخت گرمی محسوس کرتے ہو اور سخت سے سخت سردی پاتے ہو۔ (جو انہی دونوں سانسوں کا اثر
ہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور بخاری کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ گرمی کی شدت جس کو تم محسوس
کرتے ہو وہ جہنم کی گرم سانس کی وجہ سے ہوتی ہے اور سخت سردی جس کو تم محسوس کرتے ہو وہ جہنم کے
طبقہ زمہریر کی ٹھنڈی سانس کی وجہ سے ہوا کرتی ہے۔
Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "When it is a hot day, delay the prayer, for the intense heat is from the scorching breath of Hell."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ جب گرمی کا موسم ہو تو نماز ٹھنڈے وقت پڑھا کرو کیوں کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی
ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Narrated by Al-Mughira bin Shu'ba: The Messenger of Allah ﷺ led us in Zuhr prayer at midday, then said: "The intense heat is from the scorching breath of Hell, so delay the prayer." [Narrated by At-Tahawi]
Al-Mughira mentioned in this narration that the Messenger of Allah ﷺ instructed to delay Zuhr prayer after previously praying it during the heat, which establishes the abrogation of hastening Zuhr during intense heat, and it is now necessary to delay it in such heat.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ہم کو نماز ظہر دوپہر ڈھلے یعنی ابتدائی وقت میں پڑھائی اور ارشاد فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی
بھاپ سے ہوتی ہے اس لئے ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھا کرو۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے) اور امام طحاوی نے کہا ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس
حدیث میں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز ظہر تاخیر کر کے ٹھنڈے وقت
پڑھیں اور یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دیا کہ آپ اس حکم کے دینے سے پہلے نماز ظہر کو
گرمی میں ابتدائی وقت ادا فرمایا کرتے تھے، اس سے یہ ثابت ہوا کہ سخت گرمی میں نماز ظہر کا ابتدائی
وقت میں پڑھا جانا منسوخ ہو گیا اور نماز ظہر کو گرمی میں تاخیر کر کے ٹھنڈے وقت پڑھنا واجب ہو گیا۔
Narrated by Abu Dharr: We were traveling with the Prophet ﷺ, and when the muezzin was about to call the adhan, the Prophet ﷺ said to him: "Delay." Then the muezzin attempted to call the adhan again, and the Prophet ﷺ said: "Delay," and again he said: "Delay," until the shadow was equal to the hilltops. The Prophet ﷺ then said: "Indeed, the intense heat is from the scorching breath of Hell."
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے مؤذن نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے
ارشاد فرمایا کہ دھوپ میں ٹھنڈک آنے دو، تھوڑی دیر کے بعد ارادہ کیا کہ اذان دیں، حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے پھر ان سے فرمایا کہ دھوپ میں ٹھنڈک آنے دو، یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ ٹیلوں کے ایک
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 539 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
مثل ہو گیا (حدیث شریف کے الفاظ ”حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ
ٹیلوں کے ایک مثل ہو گیا ہے) سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے اور بھی باقی
رہتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اشیاء منبسطہ (بچھی چیزیں جو پھیلی ہوئی ہوں جیسے ٹیلہ وغیرہ) کا سایہ جب
ایک مثل ہوتا ہے تو اشیاء مُنْتَصِبَہ (یعنی ایسی چیزیں جو کھڑی ہوئی ہوں جیسے لاٹھی وغیرہ) کا سایہ دو
مثل کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ (ماخوذ از اعلاء السنن۔12)(یعنی عام چیزوں کا سایہ ان کے دو مثل
کے قریب پہنچا اور اس وقت ظہر ادا کی گئی) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گرمی کی شدت
جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Dharr: We were with the Messenger of Allah ﷺ at a place, and Bilal called the adhan. The Prophet ﷺ said: "Wait, O Bilal," and then when he wanted to call again, he said: "Wait, O Bilal," and then when he tried to call again, he said: "Wait, O Bilal," until we saw the sun. The Messenger of Allah ﷺ then said: "The intense heat is from the scorching breath of Hell. So, delay the prayer when the heat intensifies." [Narrated by At-Tahawi, and a similar narration is narrated by Tirmidhi]
He said: The interpretation of the delay of Zuhr prayer during intense heat is more in line with following the Sunnah. As for the view of Imam Shafi'i, which suggests the concession is for those who travel long distances or for people who face difficulty, the narration from Abu Dharr contradicts what Imam Shafi'i said. If it were as Imam Shafi'i said, there would have been no reason for delaying prayer during that time, especially when they were all in the journey and did not need to travel from a distance.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ہمراہ سفر کی ایک منزل میں فروکش ہوئے تھے تو بلال رضی اللہ عنہ اذاں دینا چاہے تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ اے بلال! پھر انہوں نے تھوڑی دیر کے بعد ارادہ کیا کہ اذان دیں
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ٹھہر جاؤ اے بلال! یہاں تک کہ ہم کو ٹیلوں کا سایہ دکھائی دینے
لگا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے اس لئے تم
ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت پڑھا کرو جبکہ گرمی کا موسم سخت ہو جائے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی
ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 158 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ترمذی نے وضاحت کی ہے کہ جن ائمہ نے (جیسے امام اعظم، امام احمد اور ابن مبارک
وغیرہم رحمہم اللہ) نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ سخت گرمی میں نماز ظہر میں تاخیر کی جائے یہ قول پیروی
کیلئے مُرَجَّح اور اولیٰ ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو مسلک اختیار کیا ہے کہ گرمی کے موسم میں
تاخیر ظہر کی رخصت ان لوگوں کیلئے ہے جو دور سے آتے ہیں اس لئے ان کی مشقت دور کرنے کیلئے
تاخیر کا حکم دیا گیا حالانکہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جو واقعہ مذکور ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے
قول کی تائید نہیں کرتا کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جس مسلک کو اختیار کیا ہے اگر وہ درست ہوتا تو سفر کی
حالت میں ابراد (یعنی ٹھنڈے وقت میں) نماز ظہر پڑھنا ایک بے معنی بات ہو جاتی، کیونکہ نماز ادا
کرنے والے حالت سفر میں تھے اور ایک جگہ جمع تھے اور ان کو اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ دور سے
آکر اکٹھے ہوں۔ (یہ پورا مضمون ترمذی میں مذکور ہے۔)
Narrated by Abdul Wahid bin Nafi': I entered the mosque of Kufa, and the muezzin called the adhan for Asr. An elder sitting there reproached him, saying: "My father told me that the Messenger of Allah ﷺ used to command the delay of this prayer." I asked about it, and they said: "This is Abdullah bin Rafi' bin Khadij."
عبدالواحد بن نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں کوفہ کی
مسجد میں داخل ہوا تو موذن نے عصر کی اذان دی (وہاں) ایک سن رسیدہ بزرگ بیٹھے ہوئے تھے
انہوں نے موذن کو ملامت کی اور کہا کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
حکم دیا کرتے تھے کہ یہ نماز (عصر) تاخیر سے پڑھی جائے، یہ سن کر میں نے ان بزرگ کے متعلق
لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ تو لوگوں نے کہا کہ یہ عبداللہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما
ہیں (ان کے والد رافع بن خدیج جلیل القدر صحابی ہیں)۔ (اس کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے)۔
Narrated by Abdul Rahman bin Ali bin Shayban, from his father, from his grandfather: We arrived in Madinah, and the Prophet ﷺ used to delay Asr prayer as long as the sun remained white and clear.
عبدالرحمن بن علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے
روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ پہنچے تو دیکھا کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نماز عصر میں اتنی تاخیر فرماتے تھے کہ آفتاب صاف اور روشن رہتا۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Narrated by Umm Salamah: The Messenger of Allah ﷺ used to hasten Zuhr prayer more than you do, and you hasten Asr prayer more than he did. [Narrated by Ahmad and Tirmidhi]
Its chain of narration is authentic, and its narrators meet the criteria of authenticity.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی فرماتے تھے اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
سے زیادہ عصر کی نماز میں جلدی کرتے ہو۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے اور اس
حدیث کی سند صحیح ہے اور اس حدیث کے راوی صحیح کی شرط کے موافق ہیں۔)
Narrated by Ziad bin Abdullah Al-Nakha'i: We were sitting with Ali bin Abi Talib in the Grand Mosque when the muezzin called the prayer. Ali told him to sit down. He sat down, and then the muezzin returned and called again. Ali said: "This dog is teaching us how to pray." Ali then got up and led the Asr prayer. After we finished, we returned to the place where we had been sitting, and we looked toward the horizon waiting for sunset. [Narrated by Hakim, who said: The chain of narration is authentic, though it was not [Narrated by Bukhari or Muslim, and Darqutni narrated something similar.
زیاد بن عبداللہ نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت علی
رضی اللہ عنہ کے ساتھ سب سے بڑی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے موذن نے آ کر الصلوۃ کہا حضرت علی
رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیٹھ جاؤ! وہ بیٹھ گئے۔ دوسری دفعہ پھر موذن نے الصلوۃ کہا تو حضرت علی رضی
اللہ عنہ نے فرمایا بیٹھ جاؤ! اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ کتّا تم کو نماز سکھا رہا ہے۔ پھر حضرت علی
رضی اللہ عنہ اٹھے اور ہمیں نماز عصر پڑھائی نماز سے فراغت کے بعد ہم پلٹ کر اسی جگہ پہنچے جہاں ہم
پہلے بیٹھے ہوئے تھے اور ہم گھٹنے ٹیک کر آفتاب کے ڈوبنے کو دیکھنے لگے۔
(اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور بخاری اور مسلم کی
شرط کے موافق ہے اگرچہ کہ انہوں نے اس کی روایت نہیں کی ہے اور حدیث کی روایت دارقطنی نے
بھی اسی طرح کی ہے۔)
Narrated by Ikrimah: We were with Abu Huraira at a funeral, and he did not pray the Asr prayer and remained silent. We asked him repeatedly, but he did not pray it until we saw the sun at the top of the tallest mountain in Madinah.
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک نماز جنازہ میں
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھے انہوں نے نماز عصر ادا نہیں کی اور ساکت رہے یہاں تک
کہ ہم ان کو بار بار متوجہ کرتے رہے اس پر بھی انہوں نے نمازِ عصر اس وقت تک ادا نہیں کی جب تک ہم
نے مدینہ منورہ کے سب سے اونچے پہاڑ کی پر آفتاب کو نہیں دیکھ لیا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
حماد رضی اللہ عنہ، ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم نخعی نے
کہا کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو دیکھا ہے کہ وہ نمازِ عصر کو آخری وقت میں ادا کیا
کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الحجج میں کی ہے۔)
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عصر کا نام اس لئے عصر رکھا
گیا ہے کہ عصر کی نماز اس وقت ادا کی جاتی ہے جب کہ آفتاب نچوڑا جا رہا ہو (یعنی آفتاب میں ایسی
تمازت نہیں رہتی جیسی کہ ایک مثل کے وقت رہتی ہے اس سے ثابت ہوا کہ عصر کی نماز دو مثل پر ہی ہوا
کرتی تھی)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Narrated by Anas: The Messenger of Allah ﷺ said: "That is the prayer of the hypocrite. He sits and waits for the sun until it turns yellow and is between the two horns of Shaytan. Then he gets up and offers four rak'ahs, not remembering Allah in them except for a little."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہوتی ہے کہ بیٹھا ہوا سورج کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ سورج
جب شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان پہنچ جائے (یعنی زرد پڑ جائے) تو اس وقت اٹھ کر (مرغ
کی طرح) چار ٹھونگ مار لے جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کم کرنے کا (موقع) ملے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Narrated by Buraidah: The Messenger of Allah ﷺ said: "Make the prayer early on a cloudy day, for whoever delays the Asr prayer, his deeds are nullified."
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جب دن ابر آلود ہو تو نماز عصر ابتدائی وقت پڑھ لیا کرو (اس لئے کہ ابر کی وجہ سے
تمہیں وقت کا صحیح اندازہ نہ ہوگا اور نماز ترک ہو جائے گی) اور (یہ معلوم ہے کہ) جو نماز عصر (کسی کام کی
وجہ سے) ترک کر دیتا ہے تو (اس کام سے) برکت مٹا دی جاتی ہے۔ (ابر کی وجہ سے بھی اگر تمہاری
نماز ترک ہو جائے گی تو تمہارے اس وقت کے کام سے برکت مٹا دی جائے گی۔) (اس کی روایت
امام احمد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے کی ہے۔)
Narrated by Martad ibn Abdullah: Abu Ayyub came to us as a warrior, and Uqbah ibn Amir was in charge of Egypt at that time. He delayed the Maghrib prayer. Abu Ayyub stood up and said: "What is this prayer, O Uqbah?" He replied: "We were busy." Abu Ayyub said: "Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ saying: 'My Ummah will remain in good condition—as long as they do not delay the Maghrib prayer until the stars begin to appear.'"
مرثد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ جب جہاد کی غرض سے تشریف لائے تو اس زمانہ میں عقبہ بن عامر رضی
اللہ عنہ حاکم مصر تھے، امیر مصر عقبہ نے نماز مغرب میں کچھ دیر کی تو ابوایوب رضی اللہ عنہ اٹھے اور فرمایا
کہ اے عقبہ! یہ کیسی نماز ہے؟ عقبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم (حکومت کے) کاموں میں
مشغول تھے (اور یہ بھی عبادت ہے، اس وجہ سے دیر ہوگئی) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کو نہیں سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا میری امت ہمیشہ بھلائی پر رہے گی یا یوں فرمایا کہ میری امت اسلام کی اصلی حالت پر
رہے گی جب تک کہ نماز مغرب کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ کرے کہ ستارے چمکنے لگیں۔ (اس
کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ مغرب کو غروب آفتاب کے ساتھ ہی پڑھا کرو اور اس کی ابتداء
تاروں کے نکلنے سے پہلے کیا کرو۔ (اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ مغرب کی ابتداء تارے نکلنے سے پہلے کیا کرو۔ (اس کی روایت
امام احمد اور دارقطنی نے کی ہے۔)
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ مغرب تارے نکلنے سے پہلے اس وقت پڑھا کرو جب روزے دار کے
افطار کا وقت آجاتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Narrated by Rafi' ibn Khadij: We prayed Maghrib with the Messenger of Allah ﷺ, and when we finished, one of us could still see the location of his arrow.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب پڑھا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی شخص نماز کے بعد واپس ہوتا (تو
ایسی روشنی میں واپس ہوتا تھا) کہ اس کو اپنے تیر کا نشانہ دکھائی دیتا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Abdul Aziz ibn Rufa'i: The Messenger of Allah ﷺ said: "Hasten the daytime prayer on a cloudy day, and delay the Maghrib prayer." [Narrated by Abu Dawood in his Mursal narrations]
Al-Azizi said: "Its chain of narration is strong despite being mursal, and he rated it as good in Al-Jami' Al-Saghir).
عبدالعزیز بن رفیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابر کے دنوں میں دن کی نمازیں جلدی پڑھا کرو اور مغرب کی نماز میں دیر کیا کرو۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے اپنے مراسیل میں کی ہے عزیزی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند
قوی ہے باوجودیکہ یہ مرسل ہے اور جامع صغیر نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔)
Narrated by Abu Huraira: The Messenger of Allah ﷺ said: "If I did not find it difficult for my Ummah, I would have commanded them to delay the Isha prayer until a third of the night or half of it."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ نماز
عشاء میں تہائی شب یا آدھی رات تک تاخیر کریں۔
(اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کو (سفید) شفق غائب ہونے کے بعد سے رات کے پہلی
تہائی تک پڑھ لیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Nu‘man ibn Bashir: "I know the time for this prayer, the last night prayer (Isha). The Messenger of Allah ﷺ would pray it when the moon had completely set, around the third part of the night."
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اس نماز یعنی
نمازِ عشاء کے وقت سے جو بی واقف ہوں نمازِ عشاء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری تاریخ کا چاند
ڈوبنے کے وقت ادا فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔)
Narrated by Abdullah ibn Umar: "One night, we waited for the Messenger of Allah ﷺ for the last Isha prayer. He came out when a third of the night had passed, or maybe even later. We didn't know if something had delayed him due to his family or something else. He said: 'You are waiting for a prayer that no other people wait for like you. If it were not for the hardship of my Ummah, I would have prayed this prayer at this time.' Then he instructed the muezzin to call for prayer, and he led the prayer."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک رات عشاء
کی نماز کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیر تک انتظار کرتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت
باہر تشریف لائے جب کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر چکا تھا یا اس کے بعد تشریف لائے۔ معلوم نہیں
کہ تشریف آوری میں کیا چیز مانع تھی؟ کوئی خانگی ضرورت تھی یا کچھ اور؟ بہرحال تشریف لا کر ارشاد
فرمایا تم لوگ ایک ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ دیگر مذاہب والوں میں سے کوئی اس
وقت نماز کے انتظار میں نہیں ہے۔ اگر میری امت پر بار نہ گزرتا تو میں ان کو اسی وقت اس نماز کو
پڑھایا کرتا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے موذن کو حکم دیا تو موذن نے نماز کی تکبیر کہی اور آپ نے نماز
پڑھائی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Narrated by Jabir ibn Samurah: "The Messenger of Allah ﷺ used to perform prayers similar to your prayers, but he would delay the Isha prayer a little after your prayer and would shorten the prayer."
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم پانچوں نمازوں کو (اوقات کے لحاظ سے) تقریباً تمہاری نمازوں کی طرح ادا فرمایا کرتے
تھے اور عشاء کی نماز میں تمہاری نماز کے وقت سے کچھ تاخیر فرمایا کرتے اور نمازوں کو (قرأت کے
اعتبار سے) ہلکی پڑھایا کرتے تھے (نہ کہ ارکان کے اعتبار سے)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Sa'id al-Khudri: "We prayed Isha with the Messenger of Allah ﷺ, and he did not come out until half the night had passed. He said, 'Take your seats.' We sat down, and he said, 'The people have prayed and gone to their beds, but as long as you are waiting for the prayer, you are still in prayer. If it were not for the weakness of the weak and the illness of the sick, I would have delayed this prayer until the middle of the night.'"
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کے ارادے سے جمع ہوئے، آپ باہر تشریف نہیں لائے یہاں
تک کہ تقریباً نصف شب گزر گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو تو ہم اپنی
اپنی جگہ بیٹھے رہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگ اس وقت نماز پڑھ چکے ہیں اور اپنی
اپنی خوابگاہوں میں آرام کر رہے ہیں اور تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو اس وقت سے نماز ہی میں
ہو (اور تم کو برابر نماز کا ثواب مل رہا ہے) اور اگر ضعیف کے ضعف کا اور بیمار کی بیماری کا اندیشہ نہ ہوتا
تو میں اس نماز میں نصف شب تک تاخیر کرتا۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Narrated by Amr ibn Dinar: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever misses the Isha prayer until its time has passed, his eyes have not slept properly.'"
عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء سے غافل ہوکر سوگیا اس طرح کہ اس کا وقت گزر جائے تو
خدا کرے اس کو نیند نہ آئے۔ (اس کی روایت ابن عساکر نے مرسلاً کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ملا علی قاری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ نماز ظہر کے بارے میں متعارض حدیثیں وارد ہوئی ہیں بعض حدیثوں سے بلا قید موسم تعجیل ثابت ہوتی ہے اور بعض احادیث سے بلا قید موسم تاخیر، اور یہ تعارض اس باب کی حدیثوں سے اس طرح دور ہو جاتا ہے کہ جن حدیثوں میں تعجیل ظہر مذکور ہے وہ موسم سرما سے متعلق ہیں اور جن حدیثوں میں تاخیر ظہر مذکور ہے وہ موسم گرما سے متعلق ہیں اور جن حدیثوں سے موسم گرما میں بھی تعجیل ظہر ثابت ہے ایسی حدیثوں کے متعلق بیہقی کا قول ہے کہ ایسی حدیثیں منسوخ ہیں۔12