Ibn Abbas and Anas ibn Malik (may Allah be pleased with them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Surah al-Zalzalah is equal to half of the Qur'an, Surah al-Ikhlas is equal to one-third of the Qur'an, and Surah al-Kafirun is equal to one-fourth of the Qur'an."
ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ دونوں
حضرت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سورہ اِذَا زُلْزِلَتْ کی تلاوت
کا ثواب آدھے قرآن کے پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے اور ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ“ کی تلاوت کا
ثواب ایک تہائی قرآن کے پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے اور ”قُلْ يَا اَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ“ کی
تلاوت کا ثواب چوتھائی قرآن کے پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: "A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'Teach me something to recite, O Messenger of Allah.' He said: 'Recite three surahs beginning with "Alif-Lam-Ra."' The man said: 'I am old, my heart is hardened, and my tongue is heavy.' The Prophet (ﷺ) then said: 'Recite three surahs beginning with "Ha-Mim."' The man repeated his excuse. Finally he said: 'Teach me a comprehensive surah.' So the Prophet (ﷺ) taught him 'When the earth is shaken...' (Surah al-Zalzalah). The man said: 'By the One who sent you with truth, I will never add to this.' The Prophet (ﷺ) said: 'The man has succeeded twice over.'"
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے: یا رسول اللہ مجھے قرآن پڑھا دیئے تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ان تینوں سورتوں کو پڑھ لیا کرو جس کے ابتداء میں الٓر ہے
اور یہ پانچ سورتیں ہیں جن کی تفصیل ذیل میں آ رہی ہے تو انہوں نے بطور معذرت عرض کیا: یا
رسول اللہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور دل میں سختی آ گئی ہے۔ (یعنی حافظہ کمزور ہو گیا ہے) اور زبان
موٹی ہو گئی ہے۔ (جس کی وجہ سے میں ان طویل سورتوں کو پڑھ نہیں سکتا ہوں) یہ سن کر حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو تم تین ایسی سورتوں کو جن کے شروع میں حٰمٓ ہے پڑھ لیا کرو (اور یہ
سات سورتیں ہیں جن کی تفصیل ذیل میں آ رہی ہے) تو ان صاحب نے پھر وہی عذر پیش کیا اور
عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسی مختصر سورت پڑھا دیئے جو (ثواب اور عذاب اور دینی اور دنیوی امور
و مقاصد کی) جامع ہو۔ تو یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سورہ اِذَا زُلْزِلَتْ پڑھائی
(جس میں خیر کی ترغیب اور شر سے بچنے کی ممانعت مذکور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو
سورہ اذا زلزلت پڑھائی۔ یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو گئے۔ پھر ان صاحب نے عرض کیا: اس
ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا ہے میں ہرگز اس پر زیادتی نہیں کروں گا۔ پھر وہ
صاحب واپس چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: شخص کامیاب ہوگیا۔ اس کو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمایا۔ اس کی روایت امام احمد، اور ابوداؤد نے کی ہے۔
ف: واضح ہو کہ قرآن کی جن سورتوں کے شروع میں ”الٓر“ ہے وہ پانچ ہیں جو سورۃ
یونس (پ11) سے شروع ہو کر سورۃ حجر پارہ (14) میں ختم ہوتی ہیں اور اسی طرح جو سورتیں حٰمٓ
سے شروع ہوتی ہیں ان کی تعداد سات ہے جو حٰمٓ المؤمن (پ24) سے شروع ہو کر حٰمٓ
الاحقاف (پ26) پر ختم ہوتی ہیں۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Can't one of you recite a thousand verses every day?" They said: "Who can recite a thousand verses?" He said: "Can't one of you recite 'The mutual rivalry (Surah al-Takathur)?"
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے (ایک مرتبہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کو اتنی طاقت
ہے کہ وہ روزانہ قرآن کی ایک ہزار آیتیں پڑھ لیا کرے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کون ہے
جو ہر روز قرآن کی ایک ہزار آیتیں پڑھ سکے؟ یعنی ہم میں سے کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ سن کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: کیا تم میں سے کوئی اتنی طاقت نہیں رکھتا وہ کہ وہ
روزانہ سورہ ”أَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ“ پڑھنے کا ثواب (یعنی ایک مرتبہ پڑھنے کا ثواب) ایک ہزار
آیتوں کی تلاوت کے برابر ہے۔
اس حدیث کی روایت بیہقی نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ سورہ ”أَلْهٰكُمُ التَّكَاثُرُ“ کو ایک مرتبہ پڑھنے
سے ایک ہزار آیتوں کے پڑھنے کا ثواب ملتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ میں آخرت کی ترغیب
اور دنیا کی بے رغبتی کی تاکید مذکور ہے اور یہ قرآن کے چھ (6) اہم مقاصد میں سے ایک اہم مقصد
ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ راز ہیں جو بجز شارع علیہ الصلاۃ والسلام کے کسی پر منکشف نہیں اس لئے
قیاس کو اس میں دخل نہیں ہے۔ یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12
Farwah ibn Nawfal reported from his father (may Allah be pleased with him) that he said: "O Messenger of Allah, teach me something to say when I go to bed." He said: "Recite 'Say: O you disbelievers (Surah al-Kafirun), for it is a declaration of freedom from polytheism.'"
فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد نے
عرض کیا: رسول اللہ آپ مجھے کوئی وظیفہ بتادیجئے جس کو میں سونے کے لئے بستر پر جاؤں تو پڑھ لیا
کروں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ پڑھ لیا کرو فرمایا۔ اس لئے کہ
اس میں شرک سے بیزاری کا ذکر ہے (اس لئے تم اس کو پڑھ کر سوؤ گے تو شرک سے پاک ہوکر سوؤ
گے اور مرو گے تو توحید پر مرو گے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔
Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Can't one of you recite one-third of the Qur'an in one night?" They said: "How can we recite one-third?" He said: "'Say: He is Allah, the One' (Surah al-Ikhlas) equals one-third of the Qur'an."
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں: کیا تم میں سے کوئی شخص رات میں ایک تہائی قرآن نہیں پڑھ سکتا؟ صحابہ نے
عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ایک رات میں تہائی قرآن کس طرح پڑھا جاسکتا ہے یہ سن کر آپ نے
ارشاد فرمایا: سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ کا ایک دفعہ پڑھنا (ثواب میں) ایک تہائی قرآن کے
برابر ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور اس کی روایت بخاری نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ کا ایک دفعہ پڑھنا
ثواب میں ایک تہائی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے اس بارے میں مرقات نے لکھا ہے کہ قرآن حکیم
تین قسم کے علوم پر مشتمل ہے ایک علم توحید، دوسرے علم الشرائع یعنی حلال و حرام کے احکام کا علم اور
تیسرے علم تہذیب الاخلاق اور تزکیۂ نفس اور سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“، پہلی قسم یعنی علم توحید پر
مشتمل ہے جو باقی تینوں قسموں کے لئے اصل اور بنیاد کا حکم رکھتا ہے اس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ ایک دفعہ پڑھنے کو ثواب میں تہائی قرآن پڑھنے کے برابر قرار دیا
ہے۔12
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (ﷺ) sent a man in charge of an expedition who would recite Surah al-Ikhlas for his companions in prayer. When they returned, they mentioned this to the Prophet (ﷺ), who asked why he did so. The man replied: 'Because it describes the Most Merciful, and I love to recite it.' The Prophet (ﷺ) said: 'Tell him that Allah loves him.'"
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک لشکر پر امیر بنا کر بھیجا اور وہ اپنے ساتھیوں کی نماز
میں امامت بھی کیا کرتے تھے۔ تو وہ اپنی ہر نماز کی قرأت کو سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ“ پر ختم کیا
کرتے تھے جب صحابہ واپس ہوئے تو ان حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا
حضور نے فرمایا: انھیں سے دریافت کرو کہ وہ ایسا کیوں کیا کرتے ہیں؟ جب لوگوں نے ان سے
دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ اس سورہ میں رحمٰن یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہے اس لئے میں اس
کے پڑھنے کو پسند کرتا ہوں (اور بار بار پڑھتا ہوں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جواب
سنا تو فرمایا کہ ان کو مطلع کردو کہ اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتے ہیں (اور اس کی برکت سے تم کو
طاعت الٰہی پر استقامت نصیب فرمائیں گے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
It is sealed, etc.
(1) His statement: "It is sealed, etc." In the last rak'ah after Al-Fatihah in every prayer, this surah is recited. This was mentioned in Al-Marqat. It was said in Al-'Alamgiriyyah: It is disliked to designate a specific part of the Qur'an for a specific part of the prayer. Al-Tahawi and Al-Isbijabi said: This applies if one considers it obligatory and necessary, such that nothing else is permissible, or considers reciting something else to be disliked. However, if one recites it for ease or to seek blessings, there is no dislike in that, provided that they occasionally recite something else so that an ignorant person does not assume that nothing else is permissible. This is stated in Al-Tabyin.
Note 1
قوله
(۱)قوله: فيختم إلخ في الركعة الأخيرة بعد الفاتحة من كل صلاة هذه السورة. قاله في المرقاة» وقال في «العالمكيرية»: ويكره أن يوقت شيئًا من القرآن لشيء من الصلاة. قال الطحاوي والإسبيجابي: هذا إذا رآه حتما واجبًا بحيث لا يجوز غيره أو رأى قراءة غيره مكروهة، وأما إذا قرأ لأجل اليسر عليه أو تبركا بقراءته له فلا كراهية في ذلك، ولكن يشترط أن يقرأ غيره أحيانا؛ لئلا يظن الجاهل أن غيره لا يجوز. هكذا في «التبيين».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ایک صحابی اپنی ہر نماز کی قرأت کو سورۂ اخلاص پر ختم
فرمایا کرتے تھے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ وہ صحابی ہر نماز کی آخری رکعت میں
سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص پڑھا کرتے تھے۔ اور عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ کسی بھی نماز کے لئے
قرآن کی کسی ایک سورت کو یا کسی ایک حصہ کو معین کرلینا مکروہ ہے۔ امام طحاوی اور اِسْبِیْجَابِی نے کہا
ہے کہ یہ کراہت اس وقت ہوگی جب کہ وہ شخص قرآن کی کسی ایک سورت یا کسی ایک حصہ کو نماز میں
پڑھنا واجب اور ضروری سمجھے اور اس کے سوا کسی اور سورت وغیرہ کو پڑھنا جائز نہ سمجھے لیکن اگر کسی نے
کسی معین سورت کو اپنی آسانی کے لئے پڑھا یا حصول برکت کے لئے یہ سمجھ کر پڑھا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم اس سورت کو پڑھا کرتے تھے تو اس میں کوئی کراہت نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کبھی کبھی دوسری
سورت کو بھی پڑھ لیا کرے تاکہ ناواقف لوگ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ یہ تبیین میں مذکور ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "A man said: 'O Messenger of Allah, I love Surah al-Ikhlas.' He said: 'Your love for it will enter you into Paradise.'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے
اس سورۃ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ سے بڑی محبت ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمھاری اس سورت
سے محبت تم کو جنت میں داخل کرے گی۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) heard a man reciting Surah al-Ikhlas and said: "It is deserved." I asked: "What is deserved?" He said: "Paradise."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ایک صحابی کو سورۃ ”قل هوالله احد“ پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس کے لئے واجب
ہوگئی، میں نے عرض کیا (یا رسول اللہ) کیا چیز واجب ہوگئی؟ تو حضور نے ارشاد فرمایا (سورہ ”قُلْ
هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ پڑھنے کے بدلہ میں) اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
اس کی روایت امام مالک ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever recites 'Say: He is Allah, the One' two hundred times daily will have the sins of fifty years forgiven, unless he owes debts."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو ہر دن سورہ ”قل هوالله احد“ دو سو مرتبہ پڑھے (تو اس کی برکت سے) اس کے
گذشتہ پچاس برس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اور مگر یہ کہ اس پر قرض ہو تو قرض کا گناہ
معاف نہیں ہوگا۔ جب کہ اس نے قرض ادا کیا نہ ہو۔ یا مرنے سے پہلے ادائی کی وصیت بھی نہ کی
ہو۔ اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
اور دارمی کی ایک روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ جو شخص پچاس مرتبہ سورۃ
”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ ہر روز پڑھے تو اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس
روایت میں قرض کے گناہ کا ذکر نہیں ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever lies on his right side in bed and recites 'Say: He is Allah, the One' one hundred times, on the Day of Judgment Allah will say: 'O My servant, enter Paradise on your right.'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی شخص جب سونے کا ارادہ کرے اور اپنے بستر پر سیدھی
کروٹ لیٹ کر ایک سو مرتبہ سورۃ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ پڑھے تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ
تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ اے میرے بندے تو اپنے سیدھے جانب سے جنت میں داخل ہو جا۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2898 (unverified) 45% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Enter, etc.
(2) His statement: "Enter, etc." The scholars said: It is recommended for someone who learns about the virtues of certain deeds to act upon them at least once, even if the hadith is weak, as it is agreed upon to act upon it in such cases. This was mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
قوله
(٢)قوله: ادخل إلخ : قال العلماء وينبغي لمن بلغه في فضائل الأعمال شيء أن يعمل به ولو مرة، وإن كان الحديث ضعيفًا؛ لأنه يعمل به في ذلك اتفاقا. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: علماء نے لکھا ہے کہ جس شخص کو فضائل اعمال کے بارے میں کوئی حدیث ملے تو اس کو
چاہئے کہ کم از کم عمر بھر میں ایک مرتبہ اس پر عمل کرے۔ مرقات۔12
Sa'id ibn al-Musayyab reported in a mursal narration that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever recites 'Say: He is Allah, the One' ten times will have a palace built for him in Paradise. Whoever recites it twenty times will have two palaces, and whoever recites it thirty times will have three palaces." Umar said: "Then our palaces will be many!" The Prophet (ﷺ) said: "Allah is more generous than that."
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہما مرسلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
فرماتے ہیں کہ جو شخص دس مرتبہ سورۃ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“ “ پڑھے تو اس کے لئے جنت میں محل
بنا دیا جاتا ہے اور جو بیس مرتبہ اس سورہ کی تلاوت کرتے تو اس کے لئے دو محل جنت میں بنا دئے
جاتے ہیں اور جو تیس مرتبہ اس سورت کو پڑھے تو اس کے لئے تین محل جنت میں بنا دئے جاتے ہیں
یہ سن کر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم یا رسول اللہ تو ایسی صورت میں بہت
سے محل بنا لیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ وسیع رحمت
والے ہیں۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (ﷺ) went to bed each night, he would cup his hands, blow into them, and recite Surah al-Ikhlas, Surah al-Falaq, and Surah an-Nas. Then he would wipe over as much of his body as he could, starting with his head and face. He would do this three times."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب سونے کے لئے جب بستر پر تشریف لے جاتے تو دونوں ہاتھوں کو
کھول کر ملا لیتے اور سورہ ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، اور قُلْ أَعُوذُ
بِرَبِّ النَّاسِ“ پڑھ کر دونوں ہاتھوں میں پھونکتے پھر دونوں ہتھیلیوں کو اپنے پورے جسم پر جہاں
تک کہ ہاتھ پہنچتا ہے مل لیتے کہ ابتداء سر سے فرماتے پھر چہرہ کو ملتے پھر جسم کے اگلے حصہ کو ملتے
(اور اس کے بعد جسم کے پچھلے حصہ کو ملتے) اور یہ عمل یعنی سورتوں کا پڑھنا ہاتھوں پر دم کرنا اور جسم پر
ملنا تین دفعہ فرماتے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5017 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Then he blew into them, etc.
(1) His statement: "Then he blew into them, etc." Al-Nawawi said: It is recommended to blow during ruqyah (spiritual healing), and there is consensus on its permissibility. The majority of the Companions, their followers, and those after them recommended it.
Note 1
قوله
(۱)قوله : ثم نفث فيهما إلخ : وقال النووي: استحباب النفث في الرقية، وقد أجمعوا على جوازه، واستحبه الجمهور من الصحابة والتابعين ومن بعدهم.
Note 1
ف: امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ دعاؤں کو دم کر کے پھونکنا مستحب ہے اور اس کے
جواز پر جمہور علماء نے اتفاق کیا ہے۔ اور جمہور صحابہ تابعین اور بعد کے علماء نے دعاؤں کے دم کرنے
اور پھونکنے کو مستحب قرار دیا ہے۔12
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Have you not seen the verses revealed tonight the like of which has never been seen? 'Say: I seek refuge with the Lord of the daybreak' and 'Say: I seek refuge with the Lord of mankind.'"
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کرام سے فرمایا کہ عجب آیات ہیں جو آج کی رات اتاری گئی ہیں ان کے
مثل (دفع سحر اور حفظ بلیات میں ایسی) اور آیتیں نہیں دیکھی گئیں اور وہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ،
اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ“ کے سورتوں کی آیتیں ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 814a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Say: I seek refuge with the Lord of the dawn, etc.
(2) His statement: "Say: I seek refuge with the Lord of the dawn, etc." It appears that the Basmalah in these [surahs] is not part of their verses. This aligns with the view of the meticulous scholars among our companions that it was revealed to separate between surahs. This was mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
قوله
(۲) قوله: قل أعوذ برب الفلق إلخ والظاهر أن البسملة فيهما ليست من آياتها، ويوافق ما عليه المحققون من أصحابنا أنها نزلت للفصل بين السور. قاله في «المرقاة».
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "While I was traveling with the Messenger of Allah (ﷺ) between al-Juhfah and al-Abwa', we were enveloped by strong winds and darkness. The Prophet (ﷺ) began seeking refuge with 'Say: I seek refuge with the Lord of the daybreak' and 'Say: I seek refuge with the Lord of mankind,' saying: 'O Uqbah, seek refuge with them, for no one can seek refuge with anything better than them.'"
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ جحفہ اور
ابواء کے درمیان (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان دو گاؤں ہیں۔ ہم رکاب تھا کہ اچانک سخت آندھی اور
طوفان و تاریکی نے آ گھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، اور قُلْ
أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ“ (کی تلاوت) کے ذریعہ (اس طوفان) سے پناہ مانگنے لگے اور یہ فرمانے
لگے اے عقبہ تم بھی ان دو سورتوں کو پڑھ کر پناہ مانگا کرو کیونکہ جس نے ان دو سورتوں کے ذریعہ پناہ
مانگی یقیناً اس نے بہترین طریقہ سے پناہ مانگی۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Abdullah ibn Khubayb (may Allah be pleased with him) narrated: "We went out on a rainy and extremely dark night looking for the Messenger of Allah (ﷺ) to lead us in prayer. When we found him, he asked: 'Have you prayed?' I didn't answer. He said: 'Say...' but I remained silent. After repeating this three times, I asked what to say. He said: 'Recite "Say: He is Allah, the One" and the two refuge-seeking surahs (al-Falaq and an-Nas) three times each morning and evening - they will suffice you against everything.'"
عبداللہ بن حُبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات
بارش اور سخت تاریکی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے اور ہم نے حضور کو راستہ میں
پا لیا ہم کو دیکھ کر حضور نے فرمایا: پڑھو میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ) کیا پڑھوں تو آپ ارشاد فرمایا
سورہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ، سورہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور سورہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ“ کو
صبح اور شام تین تین دفعہ پڑھ لیا کرو تو یہ (وظیفہ) تم کو ہر چیز کے (شر سے) محفوظ و بچائے رکھے گا۔
اس کی روایت ترمذی ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) said: "I asked: 'O Messenger of Allah, teach me Surah Hud or Surah Yusuf.' He said: 'You will never recite anything more comprehensive before Allah than "Say: I seek refuge with the Lord of the daybreak."'"
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا
:یا رسول اللہ (دفع آفات اور حفظ بلیات کے لئے) سورہ ہود پڑھا کروں یا سورہ یوسف؟ تو حضور
علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ
الْفَلَقِ“ سے بڑھ کر اور کوئی سورت مفید نہیں ہے۔
اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں رفع بلیات اور حفظ آیات
کے لئے ”قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“ کا جو ذکر ہے وہ بطور کفایت کے ہے ورنہ دوسری حدیثوں کے
پیش نظر جو ابھی اوپر گزری ہیں قرینہ یہ ہے کہ سورۂ فلق کے ساتھ سورۂ ناس بھی پڑھنا چاہئے۔12
ف(2): صدر کی حدیثوں میں قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ کی
تلاوت کے لئے بسم الله الرحمن الرحيم کے پڑھنے کا ذکر نہیں ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ
بسم الله الرحمن الرحيم سورتوں کا جزو نہیں ہے اور یہ حدیثیں حنفی مسلک کی تائید کرتی ہیں کہ
بسم الله الرحمن الرحيم سورتوں کے درمیان فصل پیدا کرنے کے لئے نازل کی گئی ہے اور
سورتوں کا جزو نہیں ہے۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ قرآن کی جن سورتوں کے شروع میں ”الٓر“ ہے وہ پانچ ہیں جو سورۃ یونس (پ11) سے شروع ہو کر سورۃ حجر پارہ (14) میں ختم ہوتی ہیں اور اسی طرح جو سورتیں حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں ان کی تعداد سات ہے جو حٰمٓ المؤمن (پ24) سے شروع ہو کر حٰمٓ الاحقاف (پ26) پر ختم ہوتی ہیں۔