عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک بار) جب سورج گہن ہوا تو (نماز کے لئے) اذان اور
اقامت نہیں دی گئی (بلکہ) منادی کو حکم دیا گیا کہ وہ ”اَلصَّلٰوةُ جَامِعَةٌ“ (نماز جماعت سے ہو رہی
ہے) کہہ کر لوگوں کو (سورج گہن کی) نماز کے لئے بلائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح اس کی روایت ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا سے کی ہے۔
And the saying of Allah, the Almighty: "And We send not the signs except as a warning." (Qur’an 17:59)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1045 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام فرائض، سنن اور نوافل میں کوئی نماز ایسی نہیں ہے
کہ جس کی ہر رکعت میں متعدد رکوع ہوں، نماز کسوف بھی بجملہ ان نمازوں کے ہے اس لئے اس کی
ہر رکعت میں متعدد رکوع کا ہونا صحیح نہیں ہے، مثل اور نمازوں کے نماز کسوف میں بھی ہر رکعت میں
ایک ہی رکوع ہونا چاہئے، اسی واسطے:
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نعمان
بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز (کی ہر رکعت کو
ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ) ایسا ہی پڑھتے تھے جیسے آپ لوگ (تمام نمازوں کی) ہر رکعت کو
ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ادا ء کرتے ہیں۔
اس کی روایت امام طحاوی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1193 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Abu Qilabah, etc.
(1) The statement: "Abu Qilabah, etc." Al-Bayhaqi said: "Abu Qilabah did not hear directly from Al-Nu’man, so the hadith is mursal (with a broken chain)." I say: In Al-Kamal, it is explicitly stated that he heard it from Al-Nu’man. Ibn Hazm said: "Abu Qilabah met Al-Nu’man and narrated this report from him." Ibn Abd al-Barr declared the hadith authentic and said: "One of the best hadiths followed by the people of Kufa is the hadith of Abu Qilabah from Al-Nu’man." Abu Qilabah is one of the notable scholars, and his name is Abdullah ibn Zayd al-Jarmi. This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in ‘Umdat al-Qari.
In Al-Ta’liq al-Hasan, it is said: "Ibn al-Turkmani in Al-Jawhar al-Naqi said: 'Even if the chain mentioned by Al-Bayhaqi is authentic, which includes Abu Qilabah narrating from a man who narrated from Al-Nu’man, it indicates that he did not hear it directly from Al-Nu’man. However, it is possible that he heard it from Al-Nu’man and then from someone else, and he narrated both versions.'"
Note 2
As you pray: one rak’ah and two prostrations.
(2) The statement: "As you pray: one rak’ah and two prostrations." Al-Tahawi said: "This is the view of our school, as we observe that all prayers, whether obligatory or voluntary, consist of one rak’ah with two prostrations. Therefore, this prayer should follow the same pattern."
Note 1
قوله
(۱) قوله : أبي قلابة إلخ وقال البيهقي: أبو قلابة لم يسمع من النعمان، والحديث مرسل. قلت: صرح في الكمال بسماعه عن النعمان. وقال ابن حزم أبو قلابة أدرك النعمان، وروى هذا الخبر عنه. وصرح ابن عبد البر بصحة هذا الحديث، وقال: من أحسن حديث ذهب إليه الكوفيون حديث أبي قلابة عن النعمان. وأبو قلابة أحد الأعلام، واسمه عبد الله بن زيد الجرمي. قاله العلامة العيني في عمدة القاري». وقال في التعليق الحسن»: قال ابن التركماني في «الجوهر النقي»: ولو صح الطريق الذي ذكره البيهقي، وفيه عن أبي قلابة عن رجل عن النعمان كما يدل على أنه لم يسمعه من النعمان بل يحتمل أنه سمعه منه، ثم من رجل عنه. وقال ابن حزم أبو قلابة أدرك النعمان، فروى هذا الخبر عنه ، ثم رواه عن آخر عنه، فحدث بكلتا روايتيه.
Note 2
قوله
(٢) قوله: كما تصلون ركعة وسجدتين وقال الطحاوي: وهو النظر عندنا؛ لأنا رأينا سائر الصلوات من المكتوبات والتطوع مع كل ركعة سجدتين، فالنظر على ذلك أن يكون هذه الصلاة كذلك.
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ، قبیصہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیصہ بجلی
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانے میں جب سورج گہن
ہوا تھا تو حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز (ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدوں
سے پڑھا کرتے۔) اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورج گہن ہوا (کیا کہوں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
پر کس قدر خوف طاری تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ کسوف عذاب الٰہی کا پیش
خیمہ ہے، یا اس کسوف کے ساتھ ہی قیامت قائم ہونے والی ہے) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جلدی سے کھڑے ہوئے اسی خوف کی حالت میں مسجد کی طرف چلے (اس وقت حضور پر ایسا خوف
طاری تھا کہ چادر مبارک سنبھالنے کی بھی سدھ نہ تھی) چادر مبارک کو گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف چلے
اور آپ کے ساتھ سب صحابہ حضور کے خوف کی حالت دیکھ کر خود بھی خوف زدہ ہو کر مسجد میں پہنچ
اور ابن حبان کی ایک روایت میں اور حاکم ایک کی روایت میں ہے کہ کسوف کی
نماز حضور دو رکعت پڑھائے۔ (اور ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدوں سے ایسے ہی پڑھائے) جیسے
تم دوسرے نمازوں کی ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدوں سے پڑھتے ہو اور حاکم نے کہا ہے کہ ابو بکرہ
رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اگرچہ کہ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں
میں اس کی روایت نہیں کی ہے، اور امام ذہبی نے بھی اس کا اعتراف اور اقرار کیا ہے کہ یہ حدیث
بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1040 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
گئے قربان نبی امّی پر کہ کسوف شمس سے خوف زدہ ہو کر ہم کو سینکڑوں برس پہلے وہ بات بتلائے جو آج
سائنس دان بڑی تحقیق کے بعد کہتے ہیں کہ کسوف شمس کے وقت کشش سیارگان متاثر ہونے سے
نظام شمسی کے درہم برہم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے کسوف شمس کے وقت دنیا تباہی کے کنارے آ جاتی
ہے نظام شمسی میں اگر ایسے ہی خلل پڑ جائے تو سارے کُرّے آپس میں ٹکرائیں گے اور دنیا ختم
ہو جائے گی، پھر جب کسوف شمس کا انجلاء ہونے لگتا ہے تو کشش سیارگان بحال ہو جاتی ہے اور نظام
شمسی اپنے حال پر قائم ہو جاتا ہے اور دنیا تباہی سے بچ جاتی ہے اسی وجہ سے کسوف شمس کے وقت
حضور بے حد خوف زدہ تھے) راوی کہتے ہیں کہ اسی خوف کی حالت میں نماز کسوف (ہر رکعت میں
ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ) ایسے ہی ادا فرمائے جیسے تم اور نمازوں کو (ہر رکعت میں ایک
رکوع اور دو سجدوں سے) ادا کرتے ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے، امام بخاری نے بھی
اسی طرح روایت کی ہے۔
Note 2
(اس لئے بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح یہ حدیث بھی صحیح ہے)
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز آپ لوگوں کی نماز کی طرح ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدوں کے
ساتھ پڑھائے ہیں۔ اس کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
اور نسائی کی ایک اور روایت بھی اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کسوف شمس کے وقت جو نماز کسوف ادا فرمائے ہیں اس کی ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے
تھے جیسے ہماری اور نمازوں کی ہر رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے ہوتے ہیں۔
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جن جن صحابہ اور
تابعین سے میں ملاقات کیا ہوں وہ (سورج گہن کے متعلق) فرمایا کرتے تھے کہ جب سورج گہن ہو
جائے تو گہن چھوٹ کر سورج صاف ہونے تک تم ہمیشہ جیسے دوسرے نمازوں کی (ہر رکعت کو ایک
رکوع اور دو سجدوں سے) پڑھا کرتے ہو، ایسا ہی سورج گہن کی نماز (کی ہر رکعت کو ایک رکوع اور دو سجدوں
کے ساتھ ہر رکن کو طویل ادا کرکے) پڑھا کرو۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے۔
عطاء رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ (عبداللہ بن عمرو فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر نماز (کی ہر رکعت)
میں ایک ہی رکوع ہوا کرتا تھا (متعدد رکوع ہونا نہیں دیکھا گیا، اس لئے سورج گہن کی نماز کی ہر
رکعت میں بھی متعدد رکوع ہونا ثابت نہیں۔) اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور حاکم نے کی ہے اور
ترمذی نے اس کی روایت شمائل میں کی ہے اور حاکم نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں سورج گہن ہوا اور اتفاق سے اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات بھی ہوئی تھی تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ آپ کے فرزند
حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گہن ہوا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے: سنو! کسی کے مرنے، جینے سے چاند یا سورج گہن نہیں ہوتے، بلکہ چاند اور سورج خدا کی
قدرت کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں (جن کی روشنی سلب فرما کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرایا
کرتے ہیں کہ اتنی بڑی اور روشن مخلوق کو ہم یوں سیاہ اور تاریک کر سکتے ہیں، اور تمہارے گناہوں کے
سبب سے تم کو جو کچھ کریں کم ہے) جب سورج یا چاند کو گہن لگتے دیکھو تو خوفزدہ ہو جاؤ (کیا معلوم کہ
نظام شمسی ختم ہو کر عذاب الٰہی آ جائے، یا قیامت برپا ہو جائے اس لئے) گھبرائے ہوئے مسجدوں
میں جا کر پناہ لو (خدا کی طرف متوجہ رہو) یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ کسوف کے
لئے کھڑے ہو گئے اور جہاں تک ہمارا خیال ہے وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ”سورہ آل
کتاب“ کا ایک حصہ پڑھے پھر رکوع کئے اور رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے (اور دوبارہ
رکوع کئے بغیر) سجدہ میں چلے گئے اور دو سجدے کئے پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو گئے اور
تیسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کی طرح (ایک رکوع اور دو سجدوں سے ادا فرما کر نماز ختم کئے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے اور ہیثمی نے ”مجمع الزوائد“
میں کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Then he bowed.
(1) The statement: "Then he bowed." Shaykh Ibn al-Humam said: "The narrations about multiple bowings are inconsistent. Some narrators reported two bowings, as mentioned earlier, while others reported three." Ali al-Qari said: "The narrations about multiple bowings are inconsistent, with some reporting two, three, four, or even five bowings. This inconsistency weakens them, so we must rely on the narrations that do not mention multiple bowings."
Ali al-Qari also said: "Al-Shafi’i and Bukhari responded that these narrations cannot be interpreted as indicating permissibility unless the event occurred multiple times, which it did not, as all narrations refer to the same eclipse during the death of Ibrahim. Therefore, we must prioritize the narrations mentioning only two bowings, as they are the most authentic and well-known."
I say: Rather, we should prioritize the narrations mentioning only one bowing, as it is the original practice, supported by both statements and actions, as previously mentioned. All other narrations are inconsistent and contradictory.
In Tabi’ al-Athar, it is said: "The narrations differing from this, which mention multiple bowings, are not supported by historical evidence of later actions, so we prioritize what aligns with the established practice. Additionally, it is supported by explicit statements."
In Al-Bada’i’, Abu Mansur said: "The differing narrations are interpreted as abrogation rather than choice, as the scholars disagreed. If it were a matter of choice, they would not have differed." This is mentioned by Al-‘Allamah Al-‘Ayni in Sharh al-Hidayah.
In Al-Mirqat, it is said: "Some of our scholars reconciled the narrations of multiple bowings by suggesting that the Prophet (ﷺ) prolonged the bowing excessively, and those behind him did not hear his voice when he rose, so they remained in bowing. When those behind them saw that he had not risen, they thought he was still bowing and returned to bowing. This led to the narrations of multiple bowings. Similarly, the narrations of three or four bowings may be based on repeated misunderstandings."
Note 1
قوله
(۱) قوله: ثم ركع : وقال الشيخ ابن الهمام وأحاديث تعدد الركوع اضطرب فيها الرواة أيضًا؛ فإن منهم من روى ركوعين كما تقدم، ومنهم من روى ثلاث ركوعات انتهى. وقال علي القاري: فإن أحاديث تعدد الركوع اضطربت، واضطرب فيها الرواة أيضًا، منهم من روى ركوعين، ومنهم من روى ثلاثا، ومنهم من روى أربعًا، ومنهم من روى خمسا والاضطراب موجب للضعف، فوجب ترك روايات التعدد كلها إلى روايات غيرها. وقال علي القاري أيضًا في موضع آخر : وأجاب الشافعي والبخاري بأنه لا مساغ لحمل هذه الأحاديث على بيان الجواز، إلا إذا تعددت الواقعة، وهي لم تتعدد؛ لأن مرجعها كلها إلى صلاته في كسوف الشمس يوم مات ابنه إبراهيم، وحينئذ يجب ترجيح أخبار الركوعين فقط؛ لأنها أصح وأشهر.
قلت: بل يجب ترجيح أخبار الركوع فقط؛ لأنها الأصل، وقد ورد به الخبر قولا وفعلا كما سبق وسائر الأخبار مضطرب مختلف الآثار انتهى. وفي تابع الآثار»: وما روى من خلافه من تعدد الركوع. فلما لم ينقل تاريخ فعله المتأخر يرجح ما هو الموافق للمعهود. ثم يترجح بأنه ورد فيه القول انتهى. وفي «البدائع»: قال أبو منصور: اختلاف الروايات محمول على النسخ دون التخيير؛ لاختلاف الأئمة، ولو كان على التخيير لما اختلفوا. قاله العلامة العيني في شرح الهداية».
وقال في «المرقاة»: وَفَّقَ بعض مشايخنا بحمل روايات التعدد على أنه لما أطال في الركوع أكثر من المعهود جدا، ولا يسمعون له صوتا على ما تقدم في رواية رفع من خلفه متوقعين رفعه، وعدم سماعهم الانتقال، فرفع الصف الذي يلي من رفع. فلما رأى من خلفه أنه لم يرفع، فلعلهم انتظروه على توهم أنه يدركهم فيه. فلما يئسوا من ذلك رجعوا إلى الركوع، فظن من خلفهم أنه ركوع بعد ركوع منه ، فرووا كذلك. ثم لعل روايات الثلاث والأربع بناءً على اتفاق تكرر الرفع من الذي خلف الأول، كذا قال العلامة العيني في شرح الهداية».
عطاء بن سائب رضی اللہ عنہ، اپنے والد سائب رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے (کیا کہوں کیسی نماز تھی کہ جب) آپ قیام فرمائے تو
قیام میں (اس قدر طویل قرأت فرما رہے تھے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اب رکوع ہی نہ کریں
گے، پھر جب آپ رکوع کئے تو رکوع میں اس قدر دیر تک رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور رکوع سے
اب سر مبارک اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر آپ جب رکوع سے سر اٹھائے (اور قومہ کئے) تو قومہ میں
اتنی دیر تک رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ سجدہ کو جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ (دوسرا رکوع
کئے بغیر) سجدہ میں چلے گئے اور اس قدر دیر تک سجدہ میں رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ سجدہ سے سر
اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر جب آپ سجدہ سے سر اٹھائے اور جلسہ کئے تو جلسہ میں اس قدر دیر تک
رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ دوسرے سجدہ کو جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ دوسرا سجدہ کئے اور
دوسرے سجدہ میں بھی اس قدر دیر تک رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ دوسرے سجدہ سے دوسری
رکعت کے لئے نہیں اٹھیں گے، پھر آپ سجدہ سے سر مبارک اٹھا کر دوسری رکعت کے لئے کھڑے
ہوئے اور دوسری رکعت کے بھی ہر رکن کو پہلی رکعت کی طرح طویل فرماتے رہے (اور دوسری رکعت
کو بھی پہلی رکعت کی طرح ایک ہی رکوع سے ادا کئے۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی
نے کی ہے اور ترمذی نے اس کی روایت شمائل میں کی ہے، اور حاکم اور طحاوی نے بھی اس کی روایت
کی ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ کہ بخاری اور
مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے لیکن،
امام ابن الہمام نے اپنی تحقیق سے کہا ہے کہ بخاری نے بھی اسی طرح اس کی
روایت کی ہے۔
ابو قلابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ قبیصہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ قبیصہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ
میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا (اس وقت سورج طلوع کر کے (جیسا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث
سے معلوم ہوتا ہے جو آگے آ رہی ہے (فتح القدیر)12۔) دو نیزہ برابر بلند ہوا تھا) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سورج گہن سے بیحد خوف زدہ تھے (خوف کی وجہ سے چادر اوڑھنے کی سدھ نہ تھی) چادر
گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف چلے، میں بھی اس وقت حضور کے ساتھ تھا اور یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے،
حضور دو رکعت نماز سورج گہن کی پڑھائے اس دونوں رکعتوں میں آپ بہت طویل قرأت کئے، پھر
جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کسوف ختم ہو کر آفتاب روشن ہو گیا تھا (نماز کے بعد) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (صاحبو سنو!) شمس و قمر اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں (ان
کی روشنی سلب کر کے) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرایا کرتے ہیں (کہ اتنی بڑی روشن مخلوق کو ہم یوں
تاریک کر دیتے ہیں تو تم کس گنتی میں ہیں، ہم چاہیں تو تم پر بھی ایسا ہی عذاب اتار سکتے ہیں) جب تم
سورج یا چاند کو گہن لگتا ہوا دیکھو تو تم قریب میں جو ابھی ابھی فجر کے فرض کی دو رکعتیں (ہر رکعت ایک
رکوع سے پڑھ چکے ہو ایسا ہی گہن کی نماز کو بھی دو رکعت (ہر رکعت ایک رکوع سے) پڑھا کرو۔ اس
کی روایت ابو داؤد، طحاوی اور نسائی نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
As you would pray the most recent obligatory prayer.
(1) The statement: "As you would pray the most recent obligatory prayer." In Jami’ al-Athar, it is said: "This refers to the Fajr prayer, as the eclipse occurred when the sun was two spear-lengths above the horizon." This is mentioned in Fath al-Qadir, which adds "two spear-lengths" based on the hadith of Samurah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: كأحدث وفي جامع الآثار»: بأحدث صلاة صلاة الفجر؛ فإن الكسوف كان عند ارتفاع الشمس قيد رمحين. كذا في فتح القدير»، وزاد فيه قدر رمحين على ما في حديث سمرة.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا تھا تو حضور سورج گہن کی نماز دو
دو رکعت پڑھاتے تھے (ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر دوسرے دو رکعت کو نئی تکبیر تحریمہ سے شروع
کرتے) اور ہر دو رکعت پڑھنے کے بعد لوگوں سے دریافت فرماتے تھے کیا کسوف ختم ہو گیا؟ لوگ
عرض کرتے ابھی کسوف باقی ہے، یا رسول اللہ، ابھی کسوف باقی ہے تو آپ اور دو دو رکعت پڑھاتے،
جب کسوف کا ختم ہونا معلوم ہوتا تو نماز بھی ختم کر دیتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1193 (unverified) 70% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کئی طریقوں سے نماز کسوف کی روایت آئی ہے ابو داؤد
کے دوسرے طریق میں مروی ہے کہ حضور دو رکعت نماز پڑھ کر کسوف ختم ہونے کے بعد دعا وغیرہ
تھے، اس روایت میں صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے اور حاکم کی روایت میں بھی نعمان بن بشیر رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور کسوف کی نماز دو رکعت پڑھائے، اور حاکم کی اس روایت میں بھی نماز
کسوف صرف دو رکعت پڑھانے کا ذکر ہے دو رکعت نماز کسوف پڑھانے کی روایت کر کے حاکم کہتے
ہیں کہ صرف دو رکعت پڑھانے کی روایت صحیح ہے اور بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، گو بخاری
اور مسلم اس کو اپنی کتابوں میں روایت نہیں کئے ہیں، نسائی کی روایت میں بھی نماز کسوف صرف دو رکعت
ہونے کو اس طرح بیان کئے ہیں کہ فجر کی نماز کی طرح کسوف شمس کی نماز حضور دو رکعت ہی پڑھے
ہیں، زیلعی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلوٰۃ کسوف صرف دو رکعت ہی پڑھے ہیں، یہ سب بذل
المجہود سے لیا گیا ہے، اس کے سوا دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلوٰۃ کسوف دو رکعت
ہی پڑھے ہیں، اسی لئے ردالمحتار میں ظاہر الروایہ سے نقل کئے ہیں کہ صلاۃ کسوف کے دو رکعت ہی ہیں
اور ظاہر الروایہ کے سوا دوسرے حنفی کتابوں میں مذکور ہے کہ دو دو رکعت صلوٰۃ کسوف کے پڑھ کر چار
رکعت یا اس سے زائد پڑھ سکتے ہیں، اس کی تائید صدر کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کا ترجمہ ابھی
کیا گیا ہے، یعنی حضور صلوٰۃ کسوف کو دو دو رکعت پڑھتے جاتے تھے اور کسوف کے ختم ہونے کو دریافت
فرماتے جاتے تھے، اس روایت سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ کسوف دو رکعت سے زیادہ پڑھنا بھی جائز
ہے۔12
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں اور ایک
انصاری لڑکا تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے یہاں تک کہ جب آفتاب (طلوع کر کے) دیکھنے میں
افق میں دو یا تین نیزہ کے مقدار بلند ہوا تو آفتاب کو (گہن لگا) ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ تودہ نما ہی سیاہ
گھاس کی طرح سیاہ ہو گیا ہے (یہ دیکھ کر) ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ مسجد چلو، خدا کی
قسم آفتاب کی یہ حالت ہونے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لئے کوئی نہ کوئی نئے
احکام آئیں گے (چلو دیکھیں مسجد میں کیا ہو رہا ہے) سمرہؓ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی ہم مسجد میں آئے تو
کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے باہر تشریف لائے ہیں اور
آگے بڑھ کر کسوف کی نماز پڑھا رہے ہیں، (پہلی رکعت میں) قیام اتنا طویل فرمائے کہ ایسا طویل
قیام ہم نے حضور کو کسی نماز میں کرتے نہیں دیکھا (اور آپ قرأت (ایسی) آہستہ فرما رہے تھے
(جیسے دوسری سری نمازوں میں آہستہ قرأت فرمایا کرتے تھے جس کی وجہ سے) ہم حضور کی قرأت
نہیں سن سکے، سمرہؓ فرماتے ہیں کہ پھر رکوع فرمائے اور ایسا طویل رکوع فرمائے جو کسی نماز میں ایسا
طویل رکوع نہیں فرمائے تھے اور حضور رکوع میں جو کچھ پڑھ رہے تھے ہم اس کو نہیں سن سکے، پھر حضور
سجدہ فرمائے اور ایسا طویل سجدہ فرمائے جو کسی نماز میں ایسا طویل سجدہ نہیں فرمائے تھے اور حضور سجدہ
میں جو کچھ پڑھ رہے تھے ہم اس کو بھی نہیں سن سکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت
کے ہر رکن کو پہلی رکعت کے ہر رکن کی طرح بحد طویل ادا فرمائے، سمرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور دوسری
رکعت پڑھ کر قعدہ میں تھے کہ سورج کا گہن ختم ہو گیا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے، اور ترمذی
اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے، اور اس کی سند صحیح ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث
حسن صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1184 (unverified) 92% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 562 (unverified) 78% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
We did not hear his voice.
(1) The statement: "We did not hear his voice." The narrations mentioning audible recitation are interpreted as referring to his occasional practice of reciting a verse or two aloud in silent prayers for teaching purposes. A distant observer might have assumed the entire recitation was audible and narrated it as such. This is mentioned in Tabi’ al-Athar.
Shaykh Imam Ibn al-Humam said: "When there is a contradiction, the preference is given to the original practice of silent recitation in daytime prayers."
Note 1
قوله
(۱) قوله: لا نسمع له صوتا وما روى من الجهر محمول على ما كان من عادته من الجهر بآية أو آيتين في السرية للتعليم، فظنه الراوي البعيد أن كل القراءة لعله كان جهرًا، وهو لم يسمع فروى الجهر. قاله في تابع الآثار». وقال الشيخ الإمام ابن الهمام: وإذا حصل التعارض وجب الترجيح بأن الأصل في صلاة النهار الإخفاء.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سورج گہن کی نماز پڑھائے (تو آپ قرأت ایسی آہستہ پڑھ رہے تھے جس کی
وجہ سے) ہم کو آپ کی قرأت سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن
ماجہ نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جس دن سورج
گہن ہوا تھا (اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز پڑھا رہے تھے) تو میں بھی حضور کے
پہلو میں کھڑا ہوا نمازِ کسوف پڑھ رہا تھا (حضور قرأت ایسی پڑھ رہے تھے جیسے سرّی نمازوں میں
پڑھا کرتے تھے) اس لئے میں حضرت کی قرأت کو نہیں سن سکا۔ اس کی روایت طبرانی اور بیہقی نے کی
ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے اور امام احمد، ابویعلی اور ابونعیم نے اسی طرح روایت کی ہے۔
ف: واضح ہو کہ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کسوف شمس کی نماز مثل سرّی نمازوں کے آہستہ قرأت کر کے پڑھے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی
نمازِ کسوف میں سرّی قرأت کے قائل ہیں مگر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت آئی
ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسوفِ شمس کی جو نماز پڑھائے تو جہری
نمازوں کی طرح کسوف کی نماز میں جہر سے قرأت اور فرمائے، حضرت ام المؤمنین کی اس حدیث کی
وجہ سے صاحبین فرمائے ہیں کہ کسوف کی نماز مثل جہری نمازوں کے جہری قرأت سے پڑھنا چاہئے اس
سے معلوم ہوا کہ حنفی مذہب میں دو قول ہیں، ایک قول میں آہستہ قرأت کرنا ہے اور دوسرے قول میں
جہری قرأت کرنا آیا ہے۔
ردالمحتار اور دوسرے فقہ کی کتابوں میں ایسا ہی ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا تھا (کسوف شمس ہونے سے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر کھڑے ہو گئے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم یہ سمجھ رہے ہیں، (کہ کسوف شمس کی وجہ سے نظام شمسی ختم ہو کر ممکن ہے) کہ قیامت قائم
ہو جائے، اسی طرح گھبرائے ہوئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز کسوف کے لئے کھڑے ہو گئے
اور اتنے طویل قیام، طویل رکوع اور طویل سجدوں سے نماز پڑھائے کہ اتنے طویل قیام، طویل رکوع
اور طویل سجدوں سے آپ کو نماز پڑھاتے میں نے کبھی نہیں دیکھا (نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ کسوف
شمس کا انجلاء ہو گیا تھا اس وقت خطبہ کے طور پر نہیں فرمائے، اس لئے کہ اگر خطبہ کے طور پر تقریر ہوتی
تو کسوف کی حالت میں ہوتی، اب کسوف انجلاء کے بعد ارشاد فرما رہے ہیں، ان لوگوں کی عقائد کی
اصلاح کے لئے جو یہ سمجھ رہے تھے کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے کسوف شمس ہوا
ہے اس لئے حضور فرمائے لوگو سنو! (تم جو سمجھ رہے ہو کہ کسوف حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا
ہے ایسا نہیں ہے۔) اس طرح اعتقاد نہ رکھنا بلکہ یہ کسوف شمس و قمر قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں ان کو
اللہ تعالیٰ ظاہر کرتے ہیں یہ کسی کے مرنے جینے سے نہیں ہوتے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو
ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں (کہ اتنی بڑی مخلوق کو، ہم سیاہ کر دیتے ہیں تم کس گنتی میں ہو، اگر ہم
چاہیں تو تم پر بھی عذاب بھیج سکتے ہیں اس لئے) جب تم سورج گہن یا چاند گہن ہوتا ہوا دیکھو تم بہت
ہی خوف زدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو، اور اسی سے دعاء مانگو، (کہ الٰہی ہم کو
اپنے عذاب سے بچائیے اور اس کسوف کو ہمارے عذاب کا ذریعہ نہ بنائیے) اور اپنے گناہوں کی اللہ
ہی سے مغفرت مانگو (گناہوں کی مغفرت مانگنے سے اللہ کا غضب رحمت سے بدل جاتا ہے۔) اس
حدیث کی روایت طحاوی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ ام
المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں
ایک دفعہ سورج گہن ہوا تھا حضور سورج گہن کی نماز ایسی طویل ادا فرمائے کہ (میں کبھی ایسی طویل
نماز جس کا رکوع بیحد طویل ہو، اور سجدہ بیحد طویل ہو، نہ خود پڑھی اور نہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھ کبھی پڑھی، جیسے کسوف کی نماز کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل رکوع اور طویل
سجدوں سے پڑھائے ہیں۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا
سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز سے فارغ ہوئے اور
اس وقت کسوف شمس کا انجلاء ہو گیا تھا تو مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائے مسلمانو! سنو، چاند اور
سورج خدا کی قدرت کے نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی (نیک انسان کے مرنے یا کسی
(برے) شخص کے پیدا ہونے سے گہن نہیں ہوتے، جب تم شمس و قمر کو گہن ہوتا ہوا دیکھو تو اللہ کی
طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو (اور سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ اور اَللّٰهُ أَكْبَرُ)
کہا کرو، اور کسوف کی نماز پڑھا کرو اور خیرات کرو (کہ خیرات رد بلا ہوتی ہے۔)
(بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ
عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے اے امت
محمدی تم کو جس طرح اپنے کسی غلام یا باندی کے زنا کرنے سے غیرت آتی ہے، (اور سخت غصہ آتا
ہے) اللہ کی قسم اس سے بڑھ کر غیرت (اور غصہ) خدائے تعالیٰ کو اس وقت آتا ہے جب اس کا کوئی
بندہ یا باندی زنا کے مرتکب ہوں، اے امت محمدی خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم اس کو جانتے
تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی
ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز سے ایسے وقت فارغ ہوئے
جب کہ کسوف شمس کا انجلاء ہو گیا تھا، (تو مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائے (مسلمانو! سنو) چاند اور
سورج خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں یہ کسی (نیک) انسان کے مرنے یا کسی
(برے) شخص کے پیدا ہونے سے گہن نہیں ہوتے، جب تم شمس و قمر کو گہن ہوتا ہوا دیکھو تو (اللہ کی
طرف رجوع کرو اور) اللہ کو یاد کرو، صحابہ عرض کئے یا رسول اللہ ہم (ایک عجیب بات) دیکھے (کہ
جب آپ نماز سے فارغ ہو کر نصیحت فرما رہے تھے تو اس وقت ہم آپ کو دیکھے) کہ آپ ہاتھ بڑھا
کر کوئی چیز لے رہے ہیں پھر تھوڑی دیر کے بعد ہم آپ کو دیکھے کہ آپ (کسی ہیبت ناک چیز کو دیکھ
کر) پیچھے ہٹ رہے ہیں (یہ کیا بات تھی ہم اس کو کچھ نہیں سمجھ سکتے) حضور فرمائے کہ جب تم مجھ کو
دیکھے میں ہاتھ بڑھا کر کچھ لے رہا ہوں تو سنو میرے سامنے اس وقت جنت پیش کی گئی تھی، میں
جنت میں سے انگور کا ایک خوشہ لینا چاہ رہا تھا (مگر خدا کو منظور نہیں تھا (اس لئے میں انگور کا خوشہ نہ
لے سکا) اگر میں وہ خوشہ لے لیتا جب تک دنیا باقی رہے تم اس میں سے کھاتے رہتے) اور وہ کبھی ختم
نہ ہوتا (لیکن اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہے کہ تمہارا ایمان بالغیب رہے اور اس سے تمہاری آزمائش ہوتی
رہے، جنتی میوہ تم دیکھ لیتے تو تمہارا ایمان بالشہود ہو جاتا، پھر تم کو ایمان بالغیب کا اجر نہیں ملتا تھا) اور
جب تم مجھے دیکھے کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں تو اس وقت میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی تھی کیا کہوں
(وہ کیسا ہیبت ناک منظر تھا کہ ایسا ہیبت ناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور دوزخ میں جو جو عذاب
ہوا ہے تو وہ مجھے دکھائے گئے مجھے بڑا افسوس تو اس سے ہوا) کہ دوزخ میں کثرت سے عورتیں تھیں،
صحابہ عرض کئے: عورتیں ایسا کونسا عمل کئے ہیں جس کی وجہ سے وہ کثرت سے دوزخ میں تھیں، حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: عورتیں ناشکری کرنے کی وجہ کثرت سے دوزخ میں تھیں، صحابہ عرض
کئے: حضور ناشکری کرنا ہماری سمجھ میں نہ آیا، کیا عورتیں اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی وجہ سے کثرت سے
دوزخ میں ہوں گی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: نہیں بلکہ وہ اپنے شوہروں کی
ناشکری کرتی ہیں اور شوہروں کے احسان کا انکار کرتی ہیں (اس وجہ سے کثرت سے دوزخ میں ہوں
گی) کیا تم نہیں دیکھتے کہ مرد عورت سے اگر ہمیشہ بھلائی کرتا رہے، پھر اس کی جانب سے کوئی بات
ناگوار پیش آئے، اور اس کے خلاف مرضی ہو، (تو وہ سارے احسانوں کو بھول جاتی ہے اور کہنے لگتی
ہے کہ میں تم سے کبھی کوئی آرام نہیں دیکھی۔ (یہ ہے عورتوں کی ناشکری جو دوزخ میں کثرت سے
ہونے کا سبب بنی ہے۔)
اور نسائی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(خوف کی حالت میں) بہت جلدی جلدی مسجد میں ایسے وقت تشریف لائے کہ سورج کو گہن لگ گیا
تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آفتاب روشن ہونے تک نماز کسوف پڑھتے رہے، (نماز کسوف کے
بعد خطبہ کے طور پر نہیں بلکہ ان لوگوں کی عقائد کی اصلاح کے لئے فرمائے) جو جاہلیت کے زمانہ میں
یہ سمجھا کرتے تھے کہ سورج گہن ہو یا چاند گہن، یہ روئے زمین کی بڑی شخصیتوں میں سے کسی بڑے
آدمی کی مرنے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے حالانکہ (ایسا نہیں ہے بلکہ) سورج گہن ہو یا چاند گہن کسی کے
مرنے جینے سے نہیں ہوتے بلکہ سورج اور چاند یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں
جیسا چاہے تغیر کرتے ہیں، تو چاند یا سورج ان میں سے جب کسی کو گہن لگ جائے تو اس وقت گہن ختم
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 912 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
Remember Allah.
(1) The statement: "Remember Allah." Abu Hanifah, Malik, and Ahmad said: "There is no sermon for the eclipse prayer." They argued that the Prophet (ﷺ) commanded prayer, takbir, and charity but did not command a sermon. If it were a Sunnah, he would have commanded it. Additionally, it is a prayer that individuals perform at home, so a sermon is not prescribed. The Prophet (ﷺ) delivered a sermon after the prayer to teach its ruling, which seems specific to that occasion. It is also said that he delivered the sermon to refute the claim that the sun eclipsed because of Ibrahim’s death, as mentioned in the hadith. This is stated in ‘Umdat al-Qari.
Note 2
The eclipse ended.
(2) The statement: "The eclipse ended." In Al-Bahr, it is said: "The sermon he delivered on the day his son Ibrahim died and the sun eclipsed was to refute those who said the eclipse occurred because of his death, not because it was a prescribed practice. Therefore, he delivered the sermon after the eclipse ended. If it were a Sunnah, he would have delivered it before, like the prayer and supplication." This is mentioned in Rad al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فاذكروا الله : قال أبو حنيفة ومالك وأحمد لا خطبة فيها، قالوا: لأن النبي ﷺ أمرهم بالصلاة والتكبير والصدقة، ولم يأمرهم بالخطبة، ولو كانت سنة لأمرهم بها، ولأنها صلاة كان يفعلها المنفرد في بيته، فلم يشرع لها خطبة. وإنما خطب بعد الصلاة ليعلمهم حكمها، وكأنه مختص به. وقيل: خطب بعدها لا لها، بل ليردهم عن قولهم: إن الشمس كسفت لموت إبراهيم كما في الحديث. قاله في «عمدة القاري».
Note 2
قوله
(۲) قوله: وقد تجلت: قال في البحر»: وما ورد من خطبته يوم مات ابنه إبراهيم وكسفت الشمس، فإنما للرد على من قال: إنها كسفت لموته، لا لأنها مشروعة له. ولذا خطب له بعد الانجلاء. ولو كانت سنة له الخطب قبله، كالصلاة والدعاء. قاله في رد المحتار».
Note 1
ہونے تک نماز پڑھا کرو، ہاں اگر کوئی ایسی بات ظاہر ہو جائے جس کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں
(جیسے گہن لگا ہوا آفتاب ڈوبنے لگے یا گہن ایسے وقت ہو جبکہ اس وقت نفل نماز پڑھنا جائز نہ ہو تو
ایسے وقت نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ انجلاء تک دعاء اور استغفار میں مشغول رہے۔ جیسا کہ ردالمحتار
میں مذکور ہے۔)
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ (جب کسوف
شمس ہو تو کیا معلوم کہ یہی عذاب الٰہی کا ذریعہ بنے اس لئے) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دئے
ہیں کہ کسوف شمس کے وقت باندی یا غلام آزاد کیا کرو (تاکہ اس کی وجہ سے عذاب الٰہی ٹل جائے۔)
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام فرائض، سنن اور نوافل میں کوئی نماز ایسی نہیں ہے کہ جس کی ہر رکعت میں متعدد رکوع ہوں، نماز کسوف بھی بجملہ ان نمازوں کے ہے اس لئے اس کی ہر رکعت میں متعدد رکوع کا ہونا صحیح نہیں ہے، مثل اور نمازوں کے نماز کسوف میں بھی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع ہونا چاہئے، اسی واسطے: