Hadith 4338
Volume 3اردو
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2105 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Clothing · Chapter 4
23 narrations · In source reading order
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "there were statues at the door": In Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar: It is prohibitively disliked to wear clothing with images of living beings or to have a statue above one’s head, in front, beside, or at the place of prostration, even on an upright cushion. There is disagreement if the statue is behind, with the stronger view being dislike. It is not disliked if underfoot or at the place of sitting, as it is demeaned, or if held in hand, as it is concealed by clothing or on a ring with an unclear design. In Al-Bahr: This implies dislike for clear images unless concealed in a bag, pouch, or another cloth, as approved by the author, or if the image is small with indistinguishable details when viewed standing with it on the ground, as noted by Al-Halabi, or if the head or face is cut off, or a vital organ is removed, or if it is of a non-living thing, as it is not worshipped.
(١) قوله: كان على الباب تماثيل إلخ: قال في (الدر المختار) و (رد المحتار): وكره كراهة تحريمية لبس ثوب فيه تماثيلذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يَدَيْه أو بحذائه يمنة أو يسرة أو محل سجوده تمثال، ولو في وسادة منصوبةلا مفروشة، واختلف فيما إذا كان التمثال خلفه، والأظهر الكراهة، ولا يكره لو كانت تحت قدميه، أو محل جلوسه؛لأنها مهانة أو في يده. عبارة الشمني: يدنه؛ لأنها مستورة بثيابه، أو على خاتمه بنقش غير مستبين. قال في (البحر):ومفاده كراهة المستبين إلا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف، أو كانت صغيرة لا تتبين تفاصيلأعضائها للناظر قائما، وهي على الأرض، ذكره الحلبي، أو مقطوعة الرأس أو الوجه، أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه،أو لغير ذي روح لا يكره؛ لأنها لا تعبد.
تھیں گھر میں ایک باریک پردہ تھا جس پر کے سیدھے جانب یا بائیں جانب یا اس کے سجدہ کی جگہ میں ہوں تو اس میں کوئی مشابہت نہیں ہے البتہ اس میں تعظیم ہے اور جس میں تعظیم اور مشابہت جمع ہو جائیں تو اس میں کراہت شدید ترین ہو جائے گی۔ اس لئے اس کی کراہت کے مراتب میں تفاوت ہے جیسا کہ گزر چکا جبرئیل علیہ السلام کے واقعہ کی علت تعظیم ہے، اس کی دلیل آخری حدیث اور اس کے سوا دوسری حدیث ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کے قول میں جو پیروں تلے ہو یا اہانت کے مقام میں ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کے ماسوا کو انہوں نے مکروہ قرار دیا ہے۔ (ماخوذ از عمدۃ القاری، شرح معانی الاثار) اسی وجہ سے عالمگیری میں ہے حالت نماز کے علاوہ گھروں اور کپڑوں میں تصویریں بنانے کی دو نوعیتیں ہیں: پہلی نوعیت اگر اس میں ان کی تعظیم ہے تو یہ مکروہ ہے دوسری نوعیت اگر ان کی تحقیر ہے تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ اور اسی سے ہم کہتے ہیں کہ جب تصویر فرش پر ہو جب کہ وہ بچھا ہوا ہے تو مکروہ نہیں ہے اور اگر اس کو کھڑا رکھا گیا ہے تو مکروہ ہے۔ (محیط) اور جب تصویر اس کے پیچھے ہو تو اس میں اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ وہ مکروہ ہے۔ اور اگر وہ اس کے پاؤں کے نیچے یا اس کے بیٹھنے کی جگہ میں ہوں تو مکروہ نہیں ہے کیونکہ وہ ان کی اہانت کی جگہ میں ہے۔ یا اس کے ہاتھ میں ہو۔ علامہ مشتی کی عبارت میں یہ ہے کہ یا اس کے بدن میں ہو، یہ سب مکروہ نہیں۔ کیونکہ یہ اس کے کپڑوں میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں یا اس کی انگوٹھی پر غیر واضح نقش کے ساتھ ہو صاحب ”بحر“ نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ واضح نقش مکروہ ہے اور جو چھپا ہوا ہو کسی تھیلی یا بٹوے یا کسی دوسرے کپڑے میں تو وہ مکروہ نہیں ہے، مصنف نے اسی کو ثابت کیا ہے یا وہ ایسی چھوٹی ہوں کہ کھڑے ہو کر دیکھنے والے کے لئے اس کے اعضاء کی تفصیلات ظاہر نہ ہوتی ہوں جب کہ وہ تصاویر زمین پر ہوں (امام حلبی نے اس کو ذکر کیا ہے) یا سر اور چہرہ کٹے ہوئے ہوں یا کوئی ایسا عضو مٹا ہوا ہو جس کے بغیر وہ جی نہیں سکتے یا غیر جاندار کی ہوں تو وہ مکروہ نہیں ہے کیونکہ اس کی پرستش نہیں کی جاتی۔ تصویریں تھیں، اور گھر میں ایک کتّا تھا۔ گھر کے دروازے پر جو تصویریں ہیں اس کے بارے میں آپ (ﷺ) حکم فرمائیں کہ اس کو کاٹ دیا جائے تو وہ درخت کی شکل کی طرح ہو جائے گا، اور پردے کے بارے میں حکم فرمائیں کہ اس کو کتر دیا جائے، اور نیچے پڑے رہنے والے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں گے۔ اور کتّے کے بارے میں حکم فرما دیجئے کہ اس کو نکال دیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ (ترمذی، ابوداؤد)
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "made two cushions from it": In Fatawa Qadi Khan: It is disliked to pray with images in front, above, to the right, left, or on clothing. For a carpet, there are two narrations, with the correct one being that it is not disliked if one does not prostrate on the images. If the image is small or headless, there is no issue. Thus, it is stated in Al-Mirqat.
(١) قوله: فاتخذت منه نمرقين إلخ: وفي (فتوى قاضي خان): يكره أن يصلي وبين يَدَيْه أو فوقه أو على يمينه أو يساره أوثوبه تصاوير، وفي البساط روايتان، والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير، قال: وهذا إذا كانتالصورة تبدو للناظرين من غير تكلف، فإن كانت صغيرة أو ممحوة الرأس لا بأس به. هذا كذا في (المرقاة).
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
علامہ عینی نے کہا کہ اس میں یہ بات ہے کہ جب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ پس اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا پردہ جس میں تصویریں تھیں اس کو کاٹ کر تکیہ بنا لیا گیا تو اس کا استعمال بھی مکروہ ہے جب کہ گزری ہوئی احادیث سے اس کے برخلاف (جواز) معلوم ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے درمیان بالکل تعارض نہیں ہے کیونکہ شارع علیہ السلام نے ابتداء میں تمام تصویروں سے منع فرمایا تھا۔ جب آپ کا ان سے منع کرنا راسخ ہو گیا تو ان تصاویر کو جو تحقیر کے مقام میں ہوں مباح قرار دیا کیونکہ اس میں اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ نادان ایسی چیزوں کی تعظیم نہیں کریں گے جو اہانت کے مقام میں ہوں اب رہا وہ تصاویر جو اہانت کے مقام میں نہ ہوں ان کی ممانعت برقرار ہے۔
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "make trees": In Al-Mirqat: Trees and similar non-living things are not prohibited to make or profit from, according to the majority, except Mujahid, who considered fruit-bearing trees disliked. The majority’s evidence follows under the hadith on mimicking.
(١) قوله: فاصنع الشجرة إلخ: فلذلك قال في (المرقاة): إن الشجر ونحوه مما لا روح له فلا تحرم صنعته، ولا التكسببه، وهذا مذهب الجمهور إلا مجاهدا؛ فإنه جعل الشجرة المثمرة من المكروه. وأيضًا دليل الجمهور يأتي بعد هذاتحت حديث المضاهاة.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "severest punishment": In Radd al-Muhtar: This distinguishes between demeaned and non-demeaned images in possession, but making images is absolutely impermissible as it mimics Allah’s creation.
(2) The statement: "mimic Allah’s creation": This explains the majority’s view limiting image-makers to those depicting living beings, as their creation cannot be attributed to human action literally or metaphorically, unlike plants or inanimate objects, where one might say, for example, someone grew a tree or made a ship. However, depicting what is worshipped besides Allah, even inanimate, like the sun or moon, should be prohibited. Thus, it is stated in Al-Mirqat.
(١) قوله: أشد الناس عذابا إلخ: قال في (رد المحتار): هذا الفرق بين المهانة وغير المهانة في اقتناء الصورة، وأمافعل التصوير فهو غير جائز مطلقًا؛ لأنه مضاهاة لخلق اللّٰه تعالى.
(٢) قوله: الذين يضاهون بخلق الله: يستفاد منه وجه قول الجمهور في تخصيص المصورين بذوات الروح؛ لأنه لا يجوزأن ينسب خلقها إلى فعل المخلوق لا حقيقة ولا مجازا، بخلاف سائر النباتات والجمادات، حيث ربما ينسب فعلها إلىالناس مجازا، ويقال: أنبت فلان هذا الشجر مثلًا، وصنع فلان هذه السفينة مثلاً.أما ما عُبِد من دون الله، ولو كان من الجمادات كالشمس والقمر، فينبغي أن يحرم تصويره. كذا في (المرقاة).
اردو
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
(1) The statement: "A cat is a beast": Meaning a cat is a beast, not a devil like the impure dog. Thus, it is stated in Al-Mirqat.
(١) قوله: السنور سبع: أي السنور سَبُع، وليس بشيطان كالكلب النجس. كذا في (المرقاة).
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(2) The statement: "A devil following a she-devil": In Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar: Keeping pigeons is disliked if it harms people by sight or attraction. If it attracts pigeons, the owner should give them away, then buy or receive them as a gift. If they fly over rooftops, exposing Muslims’ private matters or breaking glass by throwing at them, the owner is disciplined and strictly prevented. If they persist, the pigeons are slaughtered. In Al-Wahbaniyyah, discipline and slaughter are obligatory, not limited to the above cases, likely based on their customs. Keeping them for familiarity is permissible.
(٢) قوله: شيطان يتبع شيطانة: لذلك قال في (الدر المختار) و (رد المحتار): يكره إمساك الحمامات ولو في برجها أنكان يضر بالناس بنظر أو جلب، والاحتياط فيما إذا جلب حماما، ولم يدر صاحبها أن يتصدق بها، ثم يشتريها أويوهب له.(مجتبى). فإن كان يطيرها فوق السطح مطلعا على عورات المسلمين، ويكسر زجاجات الناس برميه تلكالحمامات عزر، ومنع أشد المنع، فإن لم يمتنع بذلك ذبحها، أي الحمامات المحتسب. وصرَّح في (الوهبانية)بوجوب التعزير وذبح الحمامات، ولم يقيده بما مر، ولعله اعتمد عادتهم. وأما الاستئناس فمباح.
پس اگر وہ ان کو چھت کے اوپر اڑاتا ہو، مسلمانوں کی مخفی چیزوں پر جھانکتے ہوئے اور ان کبوتروں پر تیر مار کر لوگوں کے کانچ کی چیزوں کو توڑتا ہو تو اس کو تادیبی سزا دی جائے گی اور اس کو سختی سے منع کیا جائے گا پس اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو کبوتر کو ذبح کر دے گا۔ اور صاحب وھبانیہ نے صراحت کی ہے کہ تعزیر (تادیبی سزا دینا) اور کبوتروں کو ذبح کر دینا واجب ہے اور انہوں نے اس کو مذکورہ تفصیلات کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ شاید اس بارے میں انہوں نے عام عادت پر اعتماد کیا ہے۔ البتہ یہ انس کے لئے ہو تو مباح ہے۔
اردو
Mishkat (candidate) 4491
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(3) The statement: "hung a patterned cloth over the door": It was likely for adornment, not covering, hence the reproach. This is used as evidence against hanging wall coverings, which is a minor dislike, not prohibition. Thus, it is stated in Al-Mirqat. In Al-Alamgiriyyah, Shams al-Aimmah al-Sarakhsi said in Sharh al-Sir: There is no issue with covering house walls with felt if intended to ward off cold, or with straw to ward off heat. What is disliked is for adornment. Thus, it is stated in Al-Dhakhirah.
(٣) قوله: فسترته على الباب إلخ: وكأنه كان تعليقا للزينة لا للحجاب، فلهذا وقع العتاب،واستدل به على أنه يمنع منستر الحيطان، وهو كراهة تنزيه لا تحريم. قاله في(المرقاة). وقال في (العالمكيرية): ذكر شمس الأئمة السرخسي في (شرح السير): لا بأس بأن يستر حيطان البيت باللبود، إذا كان قصد فاعله دفع البرد، وزاد عليها فقال: أو بالحشيش إذاكان قصد فاعله دفع الحَرّ، وإنما يكره من ذلك ما يكون على قصد الزينة. كذا في (الذخيرة).
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "as if he dyed his hand in the flesh and blood of a pig": Al-Nawawi said: This hadith is evidence for Shafi’i and the majority in prohibiting playing with dice, as are the following hadiths. Al-Mundhiri said: The majority of scholars hold that playing dice is prohibited, and some of our scholars cited consensus on its prohibition. Mirak said: As for chess, our school and the majority prohibit playing it absolutely. Shafi’i permitted it with valid conditions. Thus, it is stated in Al-Mirqat.
(١) قوله: فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه: قال النووي: وهذا الحديث حجة للشافعي، والجمهور في تحريم اللعببالنرد. وكذا الأحاديث التي بعده. وقال المنذري: ذهب جمهور العلماء إلى أن اللعب بالنرد حرام. وقد نقل بعضمشايخنا الإجماع على تحريمه، ذكره ميرك. وأما الشطرنج فمذهبنا ومذهب الجمهور أيضًا على تحريم اللعب به مطلقًا.وقال الشافعي: يباح بشروط معتبرة عنده. كذا في(المرقاة).
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
(2) The statement: "the drum": Mirak said: It refers to the tambourine of amusement, not the drums of warriors or pilgrims. Thus, it is stated in Al-Mirqat.
(٢) قوله: الكوبة الطبل: قال ميرك: هي طبل اللهو لا طبل الغُزاة والحجاج. كذا في (المرقاة).
اور ہمارے بعض علماء شارحین نے کہا ہے کوبہ نرد ہے۔
اردو
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اردو
(3) The statement: "Chess is the gambling of non-Arabs": Based on these hadiths, in Al-Durr al-Mukhtar: Playing dice is prohibitively disliked, as is chess. Shafi’i permitted it. In Al-Mirqat: Shafi’i’s evidence is that it may aid in understanding war tactics and enemy strategies. I say: This reasoning is weak, and this interpretation is poor given the texts condemning it and the lack of evidence of the Prophet’s companions playing it. Betting on chess is unanimously prohibited.
(٣) قوله: الشطرنج هو ميسر الأعاجم: لهذه الأحاديث قال في (الدر المختار): وكره تحريما اللعب بالنرد، وكذاالشطرنج، وأباحه الشافعي. وقال في (المرقاة): دليل الشافعي: أنه قد يتبصر به في أمر الحرب ومكيدة العدو. قلت:ما أضعف هذا التعليل، وما اسخف هذا التأويل معالنصوص الواردة في ذَمِّه، وعدم ثبوت فعله من اصحاب النبي صلي الله عليه واله وسلم وأما الشرط بالشطرنج فحرام مجمع عليه.
اردو
اردو
Commentary and footnotes (13)
Note 1
(1) The statement: "ordered the killing of dogs": In Bazl al-Majhood: The order to kill dogs was abrogated by Jabir’s hadith in Muslim and others: The Messenger of Allah (ﷺ) ordered us to kill dogs, to the point that if a woman came from the desert with her dog, we killed it. Then the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited killing them.
Note 2
(2) The statement: "Angels do not enter a house": Scholars differed on whether angels of mercy are prevented by images on coins. Al-Nawawi affirmed it, while Iyadh negated it, saying the hadiths are specific. In Bahr, this is the apparent view of our scholars: what does not cause dislike in prayer is not disliked to keep. In Al-Fath and elsewhere, it is stated that small images are not disliked in the house. It is reported that Abu Hurairah had two flies on his ring, and if they prevented angels from entering, keeping them would be disliked, as it would make the place the worst of spots, as with demeaned images. This is clear from the hadith: “Or cut it into cushions and make it a spread.” In Al-Alamgiriyyah: Scholars differed on whether a head without a body is disliked to keep or pray near.
Note 3
(3) The statement: "We say": Derived from Al-Durr al-Mukhtar.
Note 4
(4) The statement: "Narration of Jibril": Refers to his statement to the Prophet (ﷺ): We do not enter a house with a dog or an image [Narrated by Muslim]. This addresses the objection that if the reason for dislike is the place where prayer occurs, and angels do not enter a house with images, making it the worst place, then images should be disliked even if demeaned, as “no image” is general in negation. If the reason is resembling idol worship, it is only disliked if in front or above. The response is that the primary reason is the first, while the second increases the degree of dislike. The generality of the text is specified to non-demeaned images, as per Ibn Hibban and Nasai: Jibril sought permission to enter upon the Prophet (ﷺ), who said: Enter. Jibril said: How can I enter when there is a curtain with images in your house? If you must, cut off their heads or make them cushions and spreads. However, if the image is on a spread at the place of prostration, it is disliked despite not preventing angels or resembling idol worship, as idol-worshippers do not prostrate on images but set them up and face them. It may be said that it resembles their worship during standing or bowing, or prostrating on it is veneration. Summarized from Al-Hilyah and Al-Bahr. I say: Their statements suggest the reason is either veneration or resemblance, with veneration being broader, as when the image is to the right, left, or at the place of prostration, there is no resemblance but veneration. If both veneration and resemblance are present, the dislike is stronger, hence the varying degrees. Jibril’s narration is based on veneration, as evidenced by other hadiths, so angels are prevented where images are venerated. Dislike in prayer due to veneration is stronger than due to angels’ non-entry, as veneration may be incidental. If an image is on a spread carpet, it is demeaned and does not prevent entry, but praying and prostrating on it is disliked due to veneration. It appears angels are not prevented by such incidental acts. In Al-Fath and Sharh Attab, if the image is behind or underfoot, prayer is not disliked, but keeping an image in the house is disliked per the hadith, suggesting angels are prevented even by demeaned images, which contradicts the specifying hadith. Thus, it is stated in Radd al-Muhtar.
Note 5
(5) The statement: "specific to non-demeaned": Some Shafi’is and others considered keeping images in clothing or on items to be trodden or demeaned disliked, and disliked their presence in houses. Abu Hanifah, Malik, and Shafi’i said there is no issue with trodden or demeaned images, but others are disliked. Derived from Umdat al-Qari and Sharh Ma’ani al-Athar. In Al-Alamgiriyyah: Keeping images in houses or clothing outside prayer is of two types: those involving veneration are disliked, those involving degradation are not. Thus, an image on a spread carpet is not disliked, but on an upright carpet, it is. Thus, it is stated in Al-Muhit.
Note 1
(١) قوله: فأمر بقتل الكلاب إلخ: قال في (بذل المجهود): والأمر بقتل الكلاب منسوخ بحديث جابر في (مسلم)وغيره: أمرنا رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم بقتل الكلاب، حتى أن المرأة لتقدم من البادية بكلبها فنقتله، ثم نهى رسول الله صلي الله عليه واله وسلم عن قتلها.
Note 2
(٢) قوله: لا تدخل الملائكة بيتا إلخ: اختلف المحدثون في امتناع ملائكة الرحمة بما على النقدين، فأثبنه النووي، ونفاهعياض، وقال: إن الأحاديث مخصصة، (بحر). وهو ظاهر كلام علمائنا، فإن ظاهره أن ما لا يؤثر كراهة في الصلاة لا يكرهإبقاؤه. وقد صرَّح في (الفتح) وغيره بأن الصورة الصغيرة لا تكره في البيت، قال: ونقل أنه كان على خاتم أبي هريرة ذبابتان،ولو كانت تمنع دخول الملائكة، كره إبقاؤها في البيت؛ لأنه يكون شر البقاع، وكذا (المهانة). وهو صريح قوله في الحديث:(أو اقطعها وسائدا، واجعلها بسطا). أخذته من (الدر المختار) و(رد المحتار). وقال في (العالمكيرية): اختلف المشايخرحمهم اللّٰه تعالى في رأس الصورة بلا جثة، هل يكره اتخاذه والصلاة عنده.
Note 3
(٣) قوله: قلنا إلخ: أخذته من (الدر المختار)
Note 4
(٤) قوله: خبر جبريل إلخ: هو قوله للنبى صلي الله عليه واله وسلم : إنا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة، رواه مسلم. وهذا إشارة إلىالجواب عما يقال: إن كانت علة الكراهة فيما مركون المحل الذي تقع فيه الصلاة لا تدخله الملائكة؛ لأن شر البقاعبقعة لا تدخلها الملائكة، ينبغي أن تكره، ولو كانت الصورة مهانة؛ لأن قوله: (ولا صورة) نكرة في سياق النفيفتعم، وإن كانت العلة التشبه بعبادتها فلا تكره، إلا إذا كانت أمامه أو فوق رأسه. والجواب: أن العلة هي الأمرالأول، وأما الثاني فيفيد أشدية الكراهة، غير أن عموم النص المذكور مخصوص بغير المهانة؛ لما روى ابن حبانوالنسائي استأذن جبريل عليا على النبي صلي الله عليه واله وسلم فقال: (ادخل). فقال: كيف أدخل وفي بيتك ستر فيه تصاوير؟فإن كنت لابُدَّ فاعلا فاقطع رؤوسها أو اقطعها وسائدا واجعلها بسطا. نعم، يرد على هذا ما إذا كانت على بساط فيموضع السجود، فقد مر أنه يكره مع أنها لا تمنع دخول الملائكة، وليس فيها تشبه؛ لأن عبدة الأصنام لا يسجدونعليها، بل ينصبونها ويتوجهون إليها، إلا أن يقال: فيها صورة التشبه بعبادتها حال القيام والركوع وتعظيم لها أن سجدعليها. ملخصا من(الحلية) و (البحر) أقول: الذي يظهر من كلامهم أن العلة إما التعظيم أو التشبه كما قدمناه، والتعظيم أعم كما لو كانت عن يمينه أويساره أو موضع سجوده؛ فإنه لا تشبه فيها، بل فيها تعظيم، وما كان فيه تعظيم وتشبه فهو أشد كراهة، ولهذا تفاوتترتبها كما مر، وخبر جبريل معلول بالتعظيم بدليل الحديث الآخر وغيره، فعدم دخول الملائكة إنما هو حيثكانت الصورة معظمة، وتعليل كراهة الصلاة بالتعظيم أو لي من التعليل بعدم الدخول؛ لأن التعظيم قد يكونعارضا؛ لأن الصورة إذا كانت على بساط مفروش، تكون مهانة لا تمنع من الدخول، ومع هذا لو صلى على ذلكالبساط وسجد عليها تكره؛ لأن فعله ذلك تعظيم لها، والظاهر أن الملائكة لا تمنع من الدخول بذلك الفعلالعارض. وأما ما في (الفتح) عن (شروح عتاب) من أنها لو كانت خلفه أو تحت رجليه لا تكره الصلاة، ولكن تكرهكراهة جعل الصورة في البيت للحديث، فظاهره الامتناع من الدخول ولو مهانة، وكراهة جعلها فجي بساطمفروش، وهو خلاف الحديث المخصص كما مر. كذا في (رد المحتار).
Note 5
(٥) قوله: مخصوص بغير المهانة: اعلم أن بعض الشافعية وغيرهم ذهبوا إلى كراهة اتخاذ ما فيه الصور من الثياب، وماكان يوطأ من ذلك، ويمتهن أو لا، وكرهوا كونه في البيوت. وقال أبو حنيفة ومالك والشافعي: ما كان من ذلك يوطأويمتهن فلا بأس به، وكرهوا ما سوى ذلك. التقطته من (عمدة القاري) وشرح (معاني الآثار) فلذلك قال في(العالمكيرية): اتخاذ الصور في البيوت والثياب في غير حالة الصلاة على نوعين: نوع يرجع إلى تعظيمها فيكره، ونوعيرجع إلى تحقيرها فلا يكره، وعن هذا قلنا: إذا كانت الصورة على البساط مفروشا لا يكره، وإذا كان البساط منصوبايكره. كذا في (المحيط).
Note 1
صاحب مسویٰ نے کہا کہ ابتداءِ اسلام میں کتّوں کو قتل کرنے کا حکم اس لئے تھا کہ اس وقت کتّوں کو پالنے کا عام رواج تھا۔ اور کتّوں کو قتل کرنے کا حکم دیئے بغیر وہ اس کو چھوڑنے والے نہیں تھے۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ کتّوں کو قتل کرنے کا یہ حکم مدینہ منورہ کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ مدینہ منورہ فرشتوں کے وحی لے کر آنے کا مقام ہے اور وہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتّا ہو پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔
Note 2
1 قولہ: فامر بقتل الكلاب (کتّوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا) صاحب بذل المجہود نے کہا کہ کتّوں کو قتل کرنے کا حکم منسوخ ہے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے جو مسلم وغیرہ میں ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کتّوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا یہاں تک کہ ایک عورت جنگل سے اپنے کتّے کے ساتھ آتی تو ہم اس کے کتّے کو بھی قتل کر دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ 1؎ قولہ: لا تدخل الملائكة بيتا الخ (فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے) سونے، چاندی کے سکّوں پر بنی ہوئی تصویروں کی وجہ سے رحمت کے فرشتوں کے رکنے کی بابت محدثین کرام نے اختلاف کیا ہے۔ امام نووی نے اس کو ثابت کیا ہے اور قاضی عیاض نے اس کی نفی کی ہے۔ یعنی انہوں نے کہا کہ ان احادیث کو بعض صورتوں سے مخصوص کیا گیا ہے (بحر)۔ اور ہمارے علماء کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ ان کے کلام سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو چیز نماز میں کراہت کا سبب نہیں ہوتی اس کا رکھنا مکروہ نہیں ہے۔ اور فتح میں صراحت ہے کہ چھوٹی تصویر گھر میں مکروہ نہیں ہے اور انہوں نے کہا: منقول ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگوٹھی پر دو مکھیوں کی تصویر تھی۔ 2؎ قولہ: قلنا الخ (ہم نے کہا) میں نے اس کو درمختار سے اخذ کیا ہے۔ 3؎ قولہ: خبر جبرئيل الخ (حضرت جبرئیل کا واقعہ) وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتّا ہو اور نہ اس میں جس میں کوئی تصویر ہو۔ (مسلم) اور اس میں اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو کہا جاتا ہے کہ اگر مذکورہ حدیث میں کراہت کی علت نماز پڑھنے کی جگہ میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا ہے اس لئے کہ سب سے برا مقام وہ ہے جہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے تو ایسی صورت میں اس کو مکروہ قرار دینا مناسب ہے، اگرچہ وہ تصویر اہانت کی جگہ میں ہو۔ کیونکہ حضرت جبرئیل کا قول ”ولا صورة“ (اور نہ اس گھر میں جس میں تصویر ہو) نکرہ ہے جو نفی کے سیاق میں واقع ہوا ہے اس لئے وہ عام ہوگا۔ اور اگر اس کی علت عبادت سے مشابہت ہو تو وہ مکروہ نہیں ہوگی الّا یہ کہ جب وہ مصلی کے سامنے یا اس کے سر کے اوپر ہو۔
Note 3
ہم کہتے ہیں2؎ کہ سیدنا جبرئیل3؎ کا واقعہ وغیرہ اور اگر وہ فرشتوں کے داخل ہونے کے لئے مانع ہوتی تو ان کا گھروں میں رکھنا بھی مکروہ ہوتا کیونکہ وہ ایسی صورت میں بری جگہ ہو جاتی۔ اور اسی طرح اس کا حقارت کی جگہ ہونا اور یہ بات حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے واضح ہے کہ یا تم اس کو کاٹ کر تکیے بنا لو یا اس کو فرش بنا لو۔ (درمختار، ردالمحتار) اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ مشائخ رحمہم اللہ نے بغیر دھڑ والی تصویر کے سر کے بارے میں اختلاف کیا ہے آیا اس کو اختیار کرنا اور اس کے پاس نماز پڑھنا مکروہ ہے؟ جواب یہ ہے کہ پہلی صورت فرشتوں کا نہ آنا اس کے مکروہ ہونے کی علت ہے۔ اب رہی دوسری صورت تو اس میں شدید کراہت معلوم ہوتی ہے، مگر نص مذکور کی عمومیت کو اس صورت سے خاص کر لیا گیا ہے۔ جس میں اہانت نہ ہو کیونکہ ابن حبان اور نسائی نے روایت کیا ہے جبرئیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اندر آجاؤ تو انہوں نے کہا: میں کیسے اندر آؤں جب کہ آپ کے گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصاویر ہیں اور اگر اس کو رکھنا ہی ہے تو آپ ان کے سروں کو کاٹ دیجئے یا اس کو تکیے یا بستر بنا لیجئے۔ البتہ جب وہ تصاویر فرش پر سجدہ کی جگہ میں ہوں تو جیسا گزر چکا ہے اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ وہ فرشتوں کے داخلہ کے لئے مانع نہ ہونے کے باوجود مکروہ ہے۔ اور اس میں کوئی مشابہت نہیں ہے کیونکہ بت پرست تصاویر پر سجدہ نہیں کرتے بلکہ اس کو کھڑا کرتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ مگر اس بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں قیام اور رکوع کی حالت میں ان کی پرستش کی مشابہت پائی جاتی ہے اور اگر اس پر سجدہ کیا جائے تو اس کی تعظیم ہوگی۔ (ملخص از حلیہ و بحر) میں کہوں گا کہ جو چیز ان کے کلام سے ظاہر ہو رہی ہے کہ علت یا تو تعظیم ہے یا مشابہت ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ اور تعظیم مشابہت سے زیادہ عام ہے، جیسا کہ اگر وہ اس اور اس جیسی دوسری حدیث ایسی تصویر کے ساتھ مخصوص ہے جو تحقیر کے مقام میں نہ ہو 1 جیسا کہ ابن کمال نے اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ پس فرشتوں کا داخل نہ ہونا اس وقت ہے جب کہ تصاویر تعظیم کے لئے ہوں۔ اور نماز میں تصویر کے مکروہ ہونے کی علت اس کی تعظیم کو قرار دینے کے بجائے فرشتوں کے داخل نہ ہونے کو قرار دینا بہتر ہے۔ کیونکہ تعظیم کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے کہ تصویر جب بچھے ہوئے فرش پر ہو تو وہ اہانت کے مقام میں ہوگی جو فرشتوں کے داخل ہونے کے لئے مانع نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی اس فرش پر نماز پڑھے اور اس پر سجدہ کرے تو وہ مکروہ ہوگا کیونکہ اس کا یہ عمل اس کی تعظیم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ فرشتے اس عارضی فعل کی وجہ سے گھر میں داخل ہونے سے نہیں رکتے۔ اب رہا جو فتح میں شرح عتاب کے حوالے سے ہے کہ اگر تصاویر مصلی کے پیچھے یا اس کے پاؤں کے نیچے ہوں تو نماز مکروہ نہیں ہوگی لیکن اس حدیث کی بناء پر گھر میں تصویر رکھنا مکروہ ہوگا۔ پس اس حدیث کی بناء پر گھر میں تصویر رکھنا مکروہ ہونے کی ظاہری وجہ فرشتوں کا گھر میں داخلہ سے رکنا ہے، اگرچہ کہ اہانت کی جگہ میں ہو۔ اور بچھے ہوئے فرش میں تصویر کا مکروہ ہونا اس حدیث کے خلاف ہے جس کی تخصیص کی گئی۔ جیسا کہ گزر چکا ہے۔ (ردالمحتار)