Narrated by Rafi‘ ibn Khadij: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Delay the Fajr prayer because it is more rewarding.'" [Narrated by al-Tirmidhi, Abu Dawood, and al-Darimi; not mentioned by al-Nasa'i: 'because it is more rewarding'). Al-Tirmidhi said: 'The Hadith of Rafi‘ ibn Khadij is a good and authentic Hadith.'
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ فجر روشنی پھیلنے پر پڑھو کیوں کہ یہ بہت بڑے اجر کا باعث ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ رافع بن خدیج
رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ فجر روشنی میں ادا کرو کیوں کہ یہ بڑے اجر کا باعث ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ فجر سپیدی پھیلنے پر ادا کرو اس سے تمہارے گناہ بخشے جائیں گے۔
(اس کی روایت دیلمی نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Bakr al-Siddiq, from Bilal: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'O Bilal, make the morning (Fajr) prayer early, for it is better for you.'"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بلال رضی اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے
بلال (رضی اللہ عنہ)! صبح کی نماز سپیدی پھیلنے پر پڑھو، یہ تمہارے لئے خیر ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)
Narrated by Anas ibn Malik: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'Whoever brightens (or illuminates) the Fajr prayer, Allah will brighten his grave, his heart, and his prayer will be accepted.'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر کو اور اس کے دل کو روشن
کر دیتے ہیں اور اس کی نماز قبول فرما لیتے ہیں۔ (اس کی روایت دیلمی نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Huraira: "The Messenger of Allah ﷺ said: 'My Ummah will remain on the Fitrah (natural state) as long as they perform the Fajr prayer with early dawn.'"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت فطرت اسلام یعنی اسلام کی اصلی حالت پر اس وقت تک قائم رہے
گی جب تک وہ فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر ادا کرتی رہے۔
(اس کی روایت بزار نے کی ہے اور طبرانی نے بھی الاوسط میں کی ہے۔)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز صبح کو اس قدر روشنی پھیلنے پر ادا کرو کہ لوگ اپنے تیروں کے نشانوں کو
دیکھ سکیں۔ (اس کی روایت طیالسی نے کی ہے۔)
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح کی نماز ادا کرنے میں اس قدر روشنی آنے دو کہ لوگ اپنے تیروں کے
نشانوں کو دیکھ سکیں۔ (اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)
Narrated by Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil: "I heard Jabir ibn Abdullah say: 'The Prophet ﷺ would delay the Fajr prayer to its proper time, not like the way it is prayed now.'"
عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر میں اس کے نام
کی طرح تاخیر فرماتے تھے۔ (فجر کے معنی یہ ہیں کہ تاریکی پھٹ کر سپیدی پھیلنے لگے۔) (اس کی
روایت طحاوی نے سندِ صحیح کے ساتھ کی ہے۔)
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے اصحاب کا اتفاق کسی چیز پر اس طرح نہیں ہوا جیسا کہ نمازِ فجر کے خوب روشنی میں ادا کرنے پر
ہوا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس
بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے
لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے
ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ
پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔
Narrated by Ibn Mas'ud: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ perform any prayer except at its appointed time, except for two prayers: the Maghrib and Isha prayers during the Journey of Muzdalifah, and the Fajr prayer on that day before its appointed time, during the darkness of dawn."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ہمیشہ ہر نماز اس کے مستحب وقت پر ادا فرمایا کرتے تھے (البتہ میں نے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حج کے موقع پر دو نمازیں مغرب اور فجر ان کے مستحب وقت
سے ہٹا کر اس طرح ادا فرمائی ہیں کہ مزدلفہ میں نمازِ مغرب کو (اس کے مستحب وقت سے ہٹا کر) عشاء
کے ساتھ ادا فرمایا اور (اسی طرح) نمازِ فجر کو اس کے مستحب وقت (اسفار) سے ہٹا کر غلس یعنی
تاریکی میں ادا فرمائی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Ishaq: "I heard Abdur-Rahman ibn Yazid say: 'Abdullah performed Hajj and ordered me to stay with him. When it was the night of Muzdalifah and dawn had broken, he said: "Stand up." I said: 'O Abu Abdur-Rahman, this is a time at which I have never seen you pray.' He said: 'The Messenger of Allah ﷺ would not pray at this time, except on this day and in this place.' Abdullah said: 'There are two prayers that are changed from their appointed time: the Maghrib prayer after the people return from Muzdalifah, and the Fajr prayer when the dawn breaks.' I saw the Messenger of Allah ﷺ do this.'"
ابو اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں عبدالرحمن بن یزید
رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حج کو تشریف لائے مجھے علقمہ رضی
اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہتا رہوں مزدلفہ کی رات (جب
دسویں ذی الحجہ کی) صبح صادق طلوع ہونے لگی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ
اقامت کہو! میں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن (رضی اللہ عنہ)! میں نے کبھی آپ کو اس طرح تاریکی
میں نماز فجر ادا کرتے نہیں دیکھا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ایسا ہی اس دن کی نماز فجر کو اس جگہ ایسے وقت ہی ادا فرمایا کرتے تھے۔ پھر عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو نمازیں ہیں جو اپنے مستحب وقت سے ہٹا کر ادا کی جاتی ہیں ایک تو
مغرب کی نماز ہے جو اپنے مستحب وقت سے ہٹا کر (عشاء کے ساتھ) اس وقت پڑھی جاتی ہے جب
لوگ (عرفات سے) مزدلفہ کو پہنچ جاتے ہیں اور دوسری نماز فجر ہے جو صبح صادق ہوتے ہی تاریکی
میں پڑھی جاتی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ادا فرماتے ہوئے دیکھا ہے
۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری رات کی آخری نماز وتر کو قرار دو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی
ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 751a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ رات کی نمازوں میں آخری نماز وتر ہونی چاہئے تو
واضح رہے کہ یہ حکم مستحب ہے اس لئے وتر کے بعد اگر کوئی نماز ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتے ہیں کیونکہ
حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت ادا فرمایا کرتے تھے۔ (اشعۃ
اللمعات)12۔
Narrated by Abu Huraira: "My friend (Messenger of Allah ﷺ) advised me with three things: fasting three days of every month, performing two Rak'ahs of Duha, and to pray Witr before sleeping."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دلی دوست
نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے (1) ایک ہر مہینے کے وسط میں ) تین روزہ رکھنے کی (جس کو ایام
بیض کہتے ہیں) اور (2) دوسرے دو رکعت نماز چاشت ادا کرنے کی (جو نماز چاشت کی کم سے کم
مقدار ہے اور آٹھ یا بارہ رکعت نماز چاشت کی پوری مقدار ہے)(3) تیسری وصیت یہ فرمائی کہ میں
سونے سے قبل نماز وتر ادا کر لیا کروں۔
(اس کی روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Ghudayfah ibn al-Harith: "I asked Aisha: 'Did the Messenger of Allah ﷺ perform Ghusl from Janabah (major impurity) at the beginning of the night or at the end of the night?' She replied: 'He sometimes performed Ghusl at the beginning of the night, and sometimes at the end of it.' I said: 'Allah is the Greatest. Praise be to Allah, who made it spacious in the matter.' I then asked: 'Did he perform Witr at the beginning of the night or at the end?' She replied: 'He sometimes performed Witr at the beginning of the night, and sometimes at the end of it.' I said: 'Allah is the Greatest. Praise be to Allah, who made it spacious in the matter.' I then asked: 'Did he recite aloud or quietly during prayer?' She replied: 'He sometimes recited aloud, and sometimes quietly.' I said: 'Allah is the Greatest. Praise be to Allah, who made it spacious in the matter.'"
غُضَیْف بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ام
المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
جنابت کا غسل اول شب میں کیا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اول شب غسل جنابت فرمایا ہے تو کبھی آخر شب میں۔ میں نے
کہا اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں آسانی فرما دی ہے۔ پھر میں نے دریافت کیا اچھا
یہ فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر اول شب میں ادا فرماتے تھے یا آخر شب میں؟ ام
المؤمنین جواب دیں کہ کبھی اول شب میں آپ نے وتر ادا فرمائی اور کبھی آخر شب میں، میں نے کہا کہ
اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں وسعت عطا فرمائی پھر میں نے دریافت کیا اچھا
یہ بھی بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز تہجد میں) قرآن آواز سے پڑھا کرتے تھے یا آہستہ؟
ام المؤمنین ارشاد فرمائیں کہ کبھی آپ قرآن آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا اللہ اکبر!
اللہ کا شکر ہے کہ جس نے دین میں آسانی کر دی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے صرف آخری فقرہ روایت کیا ہے۔)
Narrated by Jabir: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever fears that he will not be able to stand for prayer at the end of the night, let him perform Witr at the beginning of the night. And whoever hopes to stand in the last part of the night, let him perform Witr in the last part, for the prayer at the end of the night is witnessed, and it is better."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ اخیر رات نیند سے نہ اٹھ سکے گا تو وہ اول شب میں نمازِ وتر
ادا کرلے اور جس کو امید ہو کہ وہ آخر شب میں اٹھ سکے گا تو وہ آخر شب میں نمازِ وتر ادا کرے کیوں کہ
آخر شب کی نماز میں رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اسی لئے آخر شب میں نماز وتر پڑھنا افضل
ہے۔ (اس کی روایت مسلم اور امام احمد نے کی ہے۔)
Narrated by al-Waleed ibn al-Aizar: "I heard Abu Amr al-Shaybani say: 'The companion of this house (pointing to Abdullah's house) told us: I asked the Messenger of Allah ﷺ, "Which deed is the most beloved to Allah?" He replied: "Performing prayer at its proper time, being kind to one's parents, and Jihad in the way of Allah."'"
ولید بن عیزار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو عمرو
شیبانی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس گھر کے مالک نے ہمیں یہ حدیث سنائی اور (یہ کہہ کر)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اعمال میں کونسا عمل اللہ تعالیٰ کے پاس زیادہ پسندیدہ
ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز اس کے (مستحب) وقت پر ادا کرنا اور والدین کے
ساتھ اچھا سلوک کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا (اللہ تعالیٰ کے پاس سب اعمال سے زیادہ
پسندیدہ ہیں)۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Narrated by Ali ibn Abi Talib: The Prophet ﷺ said: "O Ali, there are three things you should never delay: prayer when it is due, the funeral when it is present, and the unmarried woman when you find a suitable match for her."
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا اے علی (رضی اللہ عنہ) تین چیزیں ہیں کہ ان میں دیر نہ کرو (ایک (1)) نماز کہ جب اس کا
مستحب وقت ہو جائے (تو پھر اس کی ادائی میں دیر نہ کرنا) اور (2) دوسرے جنازہ کہ جب وہ آ جائے
۔ (تو اس کی نماز میں دیر نہ کرو) اور (3) تیسرے بے شوہر عورت کہ جب اس کو مناسب خاوند مل
جائے (تو اس کے نکاح کر دینے میں دیر نہ کرو)۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں (چونکہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم) ہر نماز کو ہمیشہ اس کے مستحب وقت پر ادا فرماتے تھے اس لئے کبھی ایسا اتفاق نہیں
ہوا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک کسی ایک کو بھی اس کے آخری وقت میں ادا
فرمایا ہو۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Dharr: The Messenger of Allah ﷺ said: "How will you be when there are rulers over you who delay the prayer or miss its appointed time?" I replied: "What should I do?" He said: "Pray at the time of the prayer. If you catch up with them, then pray with them, for it will be a voluntary prayer for you." [Narrated by Muslim] And the scholar al-‘Ayni said: "The Hadith about catching one rak'ah is abrogated." 1
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) اُس زمانے میں تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ تم پر ایسے حکام
مسلط ہوں گے جو نمازوں کو (ان کے آداب و شرائط کے لحاظ سے) مردہ کر کے پڑھیں گے یا نمازوں
کو اُن کے مستحب وقت سے ہٹا کر مکروہ اوقات میں ادا کریں گے میں نے عرض کیا حضور ایسے وقت
کیلئے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم نمازوں کو ان کے مستحب
وقت پر پڑھا کرو اور اگر اُسی نماز کو اُن حکام کے ساتھ پھر پا لو تو دوبارہ باجماعت پڑھ لو کیوں کہ وہ بعد
والی نماز تمہارے لئے نفل ہوگی۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 648a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.
(1) “His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: منسوخ مضى تحقيقه في باب المواقيت».
Note 1
ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی
اس حدیث سے منسوخ ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو طلوع
آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل گئی اور
اس نے باقی نماز کو طلوع یا غروب کے بعد ادا کرلی تو اس کو فجر اور عصر کی پوری پوری نماز مل گئی ”مَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے متعارض ہورہی ہے کیونکہ ”
مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث میں تاخیر صلوٰۃ کا جواز مذکور ہے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر
حدیث سے تاخیر صلوٰۃ کا عدم جواز ثابت ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں سے کوئی
ایک حدیث منسوخ قرار پائے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے منسوخ نہیں ہوسکتی کہ ام
المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (حدیث نمبر:51/931) سے بصراحت ثابت ہے کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری عمر شریف میں کبھی کسی نماز میں تاخیر نہیں فرمائی بلکہ ہر نماز کو ہمیشہ اس کے
مستحب وقت پر ادا فرمایا ہے، اس لئے ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث ناسخ ہے اور ”مَنْ
أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث منسوخ۔ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کے منسوخ ہونے کی تفصیلی
بحث اور مزید ناسخ حدیثوں کا ذکر ”بَابُ الْمَوَاقِيْتِ“ کی حدیث نمبر (9/861) کے فائدہ میں مذکور
ہے؛ ملاحظہ فرمایا جائے۔12
Narrated by Ubadah bin As-Samit (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: "After me, there will be rulers who will be preoccupied with affairs, causing them to neglect prayers at their due times until their time has passed. So, perform the prayer at its proper time." A man asked: "O Messenger of Allah, should I pray with them?" He (ﷺ) replied: "Yes."
عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جن کو بروقت نماز ادا
کرنے سے ان کے دنیاوی مشغولیات اس طرح مانع ہوں گے کہ نماز کا وقت ہی گزر جائے گا، اس
لئے تم نماز کو اس کے مستحب وقت پر پڑھ لیا کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کیا میں (علیحدہ بروقت تنہا نماز پڑھ لینے کے بعد) ایسے امیروں کے ساتھ بھی نماز پڑھ لوں تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں پڑھ لو۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Narrated by Nafi: Ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say: "Whoever performs the Maghrib or Fajr prayer, and then catches up with them, should not repeat it, except for what he has already prayed." [Narrated by Malik, and a similar narration was
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس
شخص نے مغرب یا صبح کی نماز تنہا پڑھ لی اور اس کے بعد یہ نمازیں باجماعت مل گئیں تو وہ ان دونوں
نمازوں کو پھر دوبارہ نہ پڑھے۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے)۔
اور دارقطنی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح اس حدیث کی روایت مرفوعاً
کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ایسے زمانہ میں جب کہ حکام نمازوں میں تاخیر کرکے نمازوں کو مکروہ اوقات میں ادا کرتے
ہوں تو مناسب یہ ہے کہ نمازیں تنہا مستحب اوقات میں ادا کرلی جائیں اور پھر حکام کے ساتھ نماز
باجماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوجائیں یہ واضح رہے کہ نفل کی نیت سے شرکت صرف ظہر اور
عشاء کی حد تک رہے گی کیوں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل نمازیں جائز نہیں اور تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد
نفل کی نیت سے مغرب کی نماز میں شرکت اس لئے ناجائز ہے کہ نفل نماز تین رکعت والی نہیں ہوا کرتی،
اگر ایک رکعت کے اضافہ سے نفل کی چار رکعتیں پوری کرلی جائیں تو امام کی نماز کے خلاف ہوتا ہے، یہی
وجہ ہے کہ تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی جماعت میں شریک ہونا ناجائز ہے
اگرچہ کہ مغرب کی نماز کے بعد نفل نمازیں ادا کرسکتے ہیں۔ (اشعۃ اللمعات۔)
Narrated by Anas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it, 2 the expiation for it is to pray it when he remembers it." In another narration: "There is no expiation for it other than this."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا اس نماز کو ادا نہ کرکے سو رہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ
نماز جب یاد آئے (اور وہ مکروہ وقت نہ ہو) اسی وقت ادا کرلے۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ اس کا کفارہ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 597 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 684a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Whoever forgets a prayer or sleeps through it...
(2) The statement: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it..." Imam Al-Shafi'i used this narration as evidence to allow the performance of missed prayers during the time when it is prohibited to pray. However, according to our position, it is disliked to pray during these prohibited times, whether it is a missed prayer, obligatory, or voluntary, because it is not necessary to pray immediately upon remembering. The main point here is that remembering the prayer makes it obligatory to perform it. If one remembers it during the prohibited time and delays it until the prohibited time has passed, then they would be acting in accordance with both hadiths—this one and the one that forbids praying during the prohibited times. I took this from "Umdat al-Qari," and it is supported by the hadith regarding the practice of resting, which comes later.
Note 2
قوله
(۲) قوله: من نسي صلاة أو نام عنها إلخ احتج به الشافعي على جواز قضاء الفوائت في الوقت المنهي عن الصلاة فيه، وعندنا كره تحريمها صلاة مطلقا، ولو قضاء أو واجبة أو نفلا في هذه الأوقات المنهية؛ لأنه ليس بلازم أن يصلي في أول حال الذكر، غاية ما في الباب أن ذكره سبب لوجوب القضاء، فإذا ذكرها في الوقت المنهي وأخرها إلى أن يخرج ذلك وصلّى، يكون عاملا بالحديثين، أحدهما هذا، والآخر حديث النهي في الوقت المنهي عنه. أخذته من عمدة القاري، ويؤيده حديث التعريس الذي يأتي بعده.
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا نیند کی وجہ سے نماز ادا نہ کر سکے
اور اس نماز کا وقت گزر جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب وہ اس نماز کو یاد کرے اسی وقت پڑھ لے اس
سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے استدلال کیا ہے کہ ممنوعہ اوقات میں قضا نمازوں کا ادا کرنا اس لئے
جائز ہے کہ حدیث میں وارد ہے کہ جب نماز یاد آ جائے پڑھ لے، چونکہ نماز ممنوعہ اوقات میں یاد آئی ہے
اس لئے ممنوعہ اوقات میں ہی نماز ادا ہونی چاہئے یہ امام شافعی رحمۃ علیہ کا قول ہے لیکن ہمارے پاس ان
اوقات ممنوعہ میں فوت شدہ نماز یاد بھی آ جائے تو اس کا ان اوقات میں ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے خواہ وہ نماز
قضا ہو یا ادا ہو یا نفل۔ اس حدیث سے ہمارے پاس فوت شدہ نماز کے یاد آتے ہی اس کا وجوب ثابت
ہوتا ہے نہ کہ اس نماز کا اسی وقت ادا کرنا، اور چونکہ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ممنوعہ اوقات میں
نمازوں کا ادا کرنا ناجائز ہے اس لئے ممنوعہ اوقات کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے فوت شدہ نمازوں کو
ممنوعہ اوقات میں ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ ممنوعہ اوقات کے بعد وہ نمازیں ادا ہوں گی اور یہی وہ صورت
ہے جس سے دونوں حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے اس کے برخلاف انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر عمل
کر کے ممنوعہ اوقات میں فوت شدہ نمازوں کے یاد آتے ہی فوراً انہی اوقات میں نمازیں ادا کر لی
جائیں تو اس حدیث پر عمل ہو جاتا ہے مگر ممنوعہ اوقات والی حدیث پر عمل نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ہمارے
قول کی تائید حدیث تعریس سے بھی ہوتی ہے جو آگے آ رہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سفر میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم راستہ میں آرام فرمائے یہاں تک کہ سورج نکل پڑا
اور نماز فجر قضا ہو گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ فوراً سب اس جگہ سے کوچ کریں چنانچہ آگے
جا کر سورج کے بلند ہونے کے بعد فوت شدہ نماز فجر ادا کی گئی۔ اگر ممنوعہ اوقات میں نماز کے یاد آتے
ہی نماز کا اسی وقت پڑھ لینا جائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر طلوع آفتاب کے ساتھ ہی
نماز پڑھ کر آگے کوچ فرماتے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا جو حنفی مسلک پر قوی دلیل
ہے۔ (عمدۃ القاری)12۔
From Abu Qatadah, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There is no negligence in sleep. Negligence occurs in wakefulness. If any of you forgets a prayer or sleeps through it, let him pray it when he remembers it; for indeed, Allah, the Almighty, said: 'And establish the prayer for My remembrance.'" (Quran 20:14)
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ (کسی وقت) نیند کی وجہ سے (کسی نماز کا وقت گزر جائے) تو کوئی قصور نہیں
(بروقت نماز نہ پڑھنے کا گناہ تو نہیں ہوگا مگر نماز کی قضا ضروری ہوگی) البتہ بیداری میں (کسی وجہ
سے کوئی نماز فوت ہو جائے) تو (ایسا شخص) قصوروار ہوگا (کہ اس نماز کی قضا بھی لازم ہوگی اور گناہ
بھی ہوگا) اس لئے تم میں سے کوئی شخص کسی نماز کو بھول جائے یا اتنی دیر سو جائے کہ اس نماز کا وقت
گزر جائے تو جب یاد آ جائے (اور مکروہ وقت نہ ہو) نماز ادا کر لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
ہے ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ (سورۂ طہ، پ:16، ع:1، آیت نمبر:14) میرے (خوف) سے
جب نماز یاد آ جائے تو نماز ادا کر لیا کرو۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
From Abu Sa’id, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever sleeps through the Witr or forgets it, let him pray it when he remembers it or when he wakes up."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر نہ پڑھ کر سو جائے یا وتر پڑھنا بھول جائے وہ وتر کو اس وقت
پڑھ لے جب یاد آ جائے یا جب نیند سے بیدار ہو (اور مکروہ وقت نہ ہو)۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 465 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1431 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1188 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں وتر کے فوت ہو جانے پر ارشاد ہو رہا ہے: ”فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ“، یعنی
جب نماز وتر یاد آ جائے تو پڑھ لے اور یہی انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (قضاء نماز کب ادا کرنا چاہئے والی
حدیث دو احادیث) میں فرض نماز کے بھول جانے پر بھی اسی قسم کے الفاظ وارد ہیں اور وہ یہ ہیں: ”أَنْ
يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا“، یعنی جب نماز کو یاد کر لے تو اسی وقت پڑھ لے جب وتر کیلئے ایسے الفاظ
استعمال کئے گئے ہیں جیسے فرض نماز کیلئے تو اس سے وتر کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔12۔
From Sa'id ibn al-Musayyib, who reported: When the Messenger of Allah (ﷺ) returned from Khaybar, and it was near the end of the night, he rested. He said to Bilal: "Guard the morning for us." The Messenger of Allah (ﷺ) and his companions slept, and Bilal ate what was available to him. Then, he leaned against his mount facing the dawn. He was overcome by sleep, and neither the Messenger of Allah (ﷺ), Bilal, nor anyone else in the caravan woke up until the sun struck them. The Messenger of Allah (ﷺ) then woke up startled and said: "O Bilal!" Bilal replied: "O Messenger of Allah, I was overtaken by sleep just as you were." The Prophet (ﷺ) said: "Get up and continue your journey." They set out, and the Prophet (ﷺ) commanded Bilal to establish the prayer. Bilal led them in the morning prayer, and after completing the prayer, the Prophet (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer, let him pray it when he remembers it; for indeed, Allah, the Almighty, says: 'And establish the prayer for My remembrance.'" [Narrated by Malik and Muslim]
The scholars have said: The reason for them continuing their journey and leaving that valley was because the Prophet (ﷺ) woke up when the sun had risen, and it is a sunnah not to pray at the time of sunrise or sunset. Therefore, it is not permissible to perform the missed prayer during the times when the Prophet (ﷺ) forbade praying. The mention of "remembrance" applies to times outside these restricted hours.
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب
خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ باقی رہ گیا تو آرام
کیلئے ایک مقام پر اتر پڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا اے بلال
(رضی اللہ عنہ) تم بیدار رہ کر صبح کی نماز کیلئے ہم کو بیدار کر دو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جہاں تک ہو سکا بیدار رہے پھر
بلال رضی اللہ عنہ اپنی سواری کو ٹیکا دے کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ رہے، یہاں تک کہ ان کو
بھی نیند لگ گئی اور دھوپ اوپر آنے تک نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور نہ بلال رضی
اللہ عنہ اور نہ کوئی صحابی قافلہ سے جاگ سکے، سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے
اٹھے اور فرمایا اے کیا بلال؟ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اسی
نے سلا دیا جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سلا دیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
کجاوے کسو اور یہاں سے چلو! تو سب نے اپنی سواریوں کو اٹھایا کجاوے کس دئیے اور کچھ دور چلے
(اور جب آفتاب ایک نیزہ بلند ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا
اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو سنتیں اطمینان کے ساتھ
ادا فرمائے (سنتوں کا پڑھنا التعلیق الممجد میں ”مسند امام احمد“ کے حوالے سے مذکور ہے) اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اقامت کا حکم دیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو نماز صبح کی قضا پڑھائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے
فارغ ہونے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو (اس طرح) بھول جائے (کہ نماز قضا ہوگئی) تو
وہ فوت شدہ نماز کی قضا اس وقت ادا کرلے جب اس کو یاد آجائے (اور وہ وقت مکروہ نہ ہو) کیوں کہ
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ سورہ طہ، پ:16، ع:1، آیت نمبر:14)
(جب نماز یاد آجائے تو پڑھ لیا کرو) (اس آیت کا ترجمہ ”لِذِكْرِي“ دال کے فتح اور الف مقصورہ
کی قرأت کے لحاظ سے ہے، جس کی تحقیق ذیل کے فائدہ نمبر 1 میں آرہی ہے۔
(اس کی روایت امام مالک اور مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 680a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ میں دو قرأت:
(1) ایک لِذِكْرِي (راء کے زیر اور یا متکلم کے ساتھ) اور دوسرے ”لِذِكْرَى“ (راء کے
زبر اور الف مقصورہ کے ساتھ)۔
ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (58/938) میں پہلی قرأت ”لِذِكْرِي“ کے لحاظ سے
ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی حدیث (60/940) میں دوسری قرأت
لِلذِّكْرَى کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس آیت سے
جو استدلال فرمایا ہے وہ دوسری قرأت کی بناء پر جو راوی کے تصرف سے ”لِلذِّكْرَى“ ہوگیا ہے۔
چنانچہ ابوداؤد نے اسی روایت میں ”لِلذِّكْرَى“ کہا ہے اور ابن شہاب جن کو زہری کہا جاتا ہے اور جو
اس حدیث کے راوی ہیں وہ بھی للذِّكرى کی قرأت پڑھا کرتے تھے۔ (التعلیق الممجد میں تنویر کے
حوالہ سے ایسا ہی نقل کیا گیا ہے۔)12
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی سواریوں کو اس مقام سے لے کر
چلے یہاں تک کہ اس وادی سے باہر ہوگئے، چاہے تو یہ تھا کہ فوت شدہ نماز کو وہیں ادا کرتے اور پھر روانہ
ہوتے ایسا نہ کر کے وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز اس وقت ادا فرمائی جب کہ آفتاب ایک نیزہ بلند ہوچکا
تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نمازِ ادا آتے ہی نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ ممنوع وقت گزرنے
کے بعد فوت شدہ نماز کو ادا کرنا چاہئے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ (عمدة القاری۔)12
From Shu'bah, who said: I asked al-Hakam and Hamad about a man who sleeps through the prayer, and upon waking, some of the sun has risen. They both said: "He should not pray until the sun has fully risen."
شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حکم اور حماد رضی اللہ
عنہما سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو سوتا رہا یہاں تک کہ نمازِ فجر کا وقت گزر گیا اور ایسے وقت
بیدار ہوا کہ آفتاب کا کچھ حصہ طلوع ہو چکا تھا۔ دونوں نے جواب دیا کہ وہ اس وقت تک نماز نہ ادا
کرے جب تک کہ آفتاب بلند نہ ہو جائے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
From Ibn Umar, who said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever forgets a prayer and does not remember it until he is with the Imam and has finished his prayer, then when he finishes his prayer, let him repeat the one he forgot, and then let him repeat the one he prayed with the Imam."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ ایسا (صاحب ترتیب) شخص جو کسی نماز کو بھول جائے اور اس قضا نماز کو ادا کئے بغیر
دوسری نماز میں امام کے ساتھ شریک ہو جائے (فوت شدہ نماز جماعت میں شریک ہونے تک یاد نہ
آئی اور شریک ہونے کے بعد یاد آگئی اور اس نے امام کے ساتھ پوری نماز ادا کی اور سلام پھیرا
(اب) اس کا حکم یہ ہے کہ نماز باجماعت سے فراغت کے بعد پہلے اس فوت شدہ نماز کو ادا کرلے جس
کو بھول گیا تھا اور اس کے بعد اس نماز کو دہرائے جس کو امام کے ساتھ پڑھا ہے۔
(اس کی روایت دار قطنی اور بیہقی نے کی ہے اور طبرانی اور خطیب نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
(1) His saying: "And from Ibn Umar..." These hadiths are meant to clarify the rulings regarding making up missed prayers for the one who follows the proper sequence. Ibn al-Humam in Fath al-Qadir and the author of Bahr al-Ra'iq in the commentary on al-Manar have lengthy discussions on what our scholars have concluded regarding the condition of performing the missed prayer before the regular prayer for the validity of the performance. Those who wish may refer to them.
Note 1
قوله
(۱) قوله: وعن ابن عمر إلخ هذه الأحاديث لبيان الأحكام المتعلقة بقضاء الصلوات الفائتة لصاحب الترتيب. ولابن الهمام في فتح القدير وصاحب البحر الرائق» في شرح المنار» كلام طويل على ما ذهب إليه أصحابنا من اشتراط أداء القضاء قبل الأداء لصحة الأداء، من شاء فليراجع إليهما.
Note 1
ف: یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں صاحب ترتیب کے احکام سے متعلق ہیں جو فوت
شدہ نمازوں کو ادا کرنا چاہتا ہے، اس بارے میں مذہب حنفی یہ ہے وقتی نماز صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ
قضا نماز پہلے ادا کی جائے کیوں کہ صاحب ترتیب کیلئے ترتیب اس طرح فرض ہے کہ وہ پہلے قضا نماز ادا
کرے پھر وقتی نماز ادا کرے اس کی وضاحت نہایت شرح و بسط سے ابن الہمام نے فتح القدیر میں اور
صاحب بحر الرائق نے شرح المنار میں کی ہے تفصیل کیلئے ان کتب کا مطالعہ کیا جائے۔12
From Habibullah, who was from the companions of the Messenger of Allah ﷺ: The Prophet ﷺ prayed Maghrib and forgot Asr. He asked his companions, "Did you see that I prayed Asr?" They replied, "No, O Messenger of Allah, you did not pray it." He instructed the mu'adhin to call the adhan, then he stood for prayer and prayed Asr, then he repeated Maghrib.
حبیب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے روایت
ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب ادا فرمائی اور نمازِ عصر ادا کرنا بھول گئے تھے (غالباً یہ واقعہ کسی
جنگ کا ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے نماز
عصر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں یارسول اللہ آپ نے نماز عصر نہیں پڑھی
ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا تو مؤذن نے اذان دی پھر اقامت کہی اور حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بغیر جو مغرب کی نماز پڑھی گئی تھی اس کو شمار میں نہ لا کر دوبارہ
نماز مغرب ادا فرمائی۔ (اس کی روایت امام احمد طبرانی اور ابو نعیم نے کی ہے۔)
From Jabir, Allah be pleased with him: On the day of the Battle of the Trench, Umar ibn al-Khattab said: "O Messenger of Allah, I nearly missed Asr until the sun was almost setting." The Messenger of Allah ﷺ replied: "By Allah, I did not pray it." We then descended to Butahan, where the Messenger of Allah ﷺ made wudu, and we made wudu as well. Then, he prayed Asr after the sun had set, and after that, he prayed Maghrib.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ مشرکین
قریش کو خندق کی لڑائی کے موقع پر برا بھلا کہنے لگے اور وجہ یہ بتائی کہ یارسول اللہ میں آفتاب غروب
ہونے کے قریب تک نماز عصر ادا نہ کر سکا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا میں نے
بھی نماز عصر نہیں پڑھی ہے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم بطحان کی وادی میں اترے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء فرمایا اور ہم سب نے بھی وضوء کیا اور اس وقت تک آفتاب غروب ہو چکا
تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نمازِ عصر ادا فرمائی اور اس کے بعد نماز مغرب پڑھی۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔