Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Jihad · Chapter 8

The Chapter on The Distribution of Spoils and Misappropriation

38 narrations · In source reading order

Hadith 3919

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5307
ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ نے مجھے انبیاء پر فضیلت دی یا فرمایا کہ میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت دی اور ہمارے لئے اموال غنیمت کو حلال کیا۔ (ترمذی)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Mighty and Exalted: “And know that whatever you take as spoils, a fifth of it is for Allah, His Messenger, the near relatives, the orphans, the needy, and the wayfarer, if you believe in Allah and what We revealed to Our servant on the day of distinction, the day the two armies met. And Allah is capable of all things” [Qur’an 8:41]. And His saying: “O Prophet, urge the believers to fight” [Qur’an 8:65]. And His saying: “Whoever misappropriates will come with what he misappropriated on the Day of Resurrection. Then every soul will be fully repaid for what it earned, and they will not be wronged” [Qur’an 3:161].

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1553 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3920

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5308
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اموال غنیمت ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ناتوانی اور کمزوری کو دیکھا تو اس کو ہمارے لئے حلال کر دیا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3124 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1747a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3921

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5309
اُبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا تو قوم سے فرمایا: میرے ساتھ ایسا کوئی شخص نہ آئے جس نے کسی خاتون سے نکاح کیا ہے اور اس کے ساتھ خلوت کرنا چاہتا ہے مگر ابھی اس کے ساتھ خلوت نہیں ہوئی ہے اور نہ ایسا کوئی شخص جس نے گھر بنائے ہیں اور ابھی ان کے چھت نہیں ڈالے اور نہ ایسا کوئی شخص جس نے بکریاں خریدی ہیں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچے دینے کا انتظار کر رہا ہے۔ پس انہوں نے جنگ کی اور آبادی سے قریب پہنچ گئے عصر کا یا اس سے قریب وقت تھا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا: بے شک تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں۔ اے اللہ تو اس کو ہم پر روک دے پس وہ روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا فرمائی۔ پھر انہوں نے مال غنیمت کو جمع کیا تو آئی یعنی آگ اس کو کھانے کے لئے آئی تو وہ اس کو کھائی نہیں تو (اس نبی نے) فرمایا تم میں کوئی خیانت ہے پس ہر قبیلہ میں ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ پس آپ کے ہاتھ سے ایک آدمی کا ہاتھ چمٹ گیا تو آپ نے فرمایا تم میں خیانت ہے پس اس قبیلہ کے لوگ گائے کے سر کے برابر سونا لے کر آئے اور اس کو رکھ دیا تو آگ آئی اور اس نے اس کو کھالیا۔2 ایک روایت میں یہ زیادہ ہے۔ اموال غنیمت تم سے پہلے کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اموال غنیمت کو حلال کر دیا۔ اس نے ہماری ناتوانی اور کمزوری کو دیکھا تو اس کو ہمارے لئے حلال کر دیا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3124 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1747a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

The fire came and consumed it, etc.

(1) The statement: “The fire came and consumed it, etc.”: If you ask: What is the wisdom in the fire consuming their spoils but making them lawful for us? I say: For them, it was to ensure their fighting was not for spoils due to their lack of sincerity. For this nation, spoils were made lawful because sincerity predominates among them, needing no additional incentive. As stated in (‘Umdat al-Qari).

Note 1

قوله

(١)قوله: فجاءت النار فأكلتها إلخ: فإن قلت: ما الحكمة في أكل النار غنائمهم والتحليل لنا؟ قلت: جعل هذا فيحقهم حتى لا يكون قتالهم لأجل الغنيمة؛ لقصورهم في الإخلاص، وأما تحليلها في حق هذه الأمة فلكون الإخلاصغالبًا عليهم، فلم يحتج إلى باعث آخر. كذا في (عمدة القاري).

Hadith 3922

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5310
خولہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق قبضہ کر لیتے ہیں۔ ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہے۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3118 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3923

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5311
خولہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا تو اس کے لئے اس میں برکت دی جائے گی اور کچھ وہ لوگ جو قبضہ کرنے والے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے مال میں جیسے ان کا نفس چاہتا ہے اس کے لئے قیامت کے دن سوائے آگ کے کچھ نہیں۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2374 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3924

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5312
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے تو مال غنیمت میں چوری کا ذکر فرمایا3 اور اس کو بڑا گناہ بتایا گیا اس کا حکم بھی بڑا (سخت) بتلایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر ایک اونٹ لے کر آ رہا ہے جو بلبلا رہا ہو۔ اور وہ یہ کہے کہ یا رسول اللہ میری مدد فرمائے اور میں کہوں کہ میں تیرے لئے کچھ کام نہیں آؤں گا کیونکہ میں نے تو تجھ کو (دین) پہنچا دیا۔ میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم میں کا کوئی قیامت کے دن اپنی گردن پر گھوڑا لے کر آئے اور وہ گھوڑا ہنہنا رہا ہو۔ وہ کہے گا کہ یا رسول اللہ میری مدد فرمائے تو میں کہوں گا کہ میں تیرے کام نہیں آؤں گا کیونکہ میں نے تجھے (دین) پہنچا دیا۔ میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری لادا ہوا ہو اور وہ ممیا رہی ہو اور وہ کہے یا رسول اللہ میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا کہ میں تمہارے لئے کچھ کام نہیں آؤں گا کیونکہ میں نے تو تم کو دین پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی کو ایسی حالت میں نہ پاؤں قیامت کے دن اپنی گردن پر کپڑے اٹھائے ہوئے آئے جو حرکت کر رہے ہوں اور وہ کہے یا رسول اللہ میری مدد کیجئے میں کہوں گا کہ میں تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا کیونکہ میں نے تجھے پہنچا دیا تھا میں تم میں سے کو کو قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر سونا چاندی ہو اور وہ کہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد فرمایئے تو میں کہوں گا کہ میں تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا میں نے تو تم کو پہنچا دیا تھا۔ (متفق علیہ) اور یہ مسلم کے الفاظ ہیں اور زیادہ مکمل ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3073 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1831a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

Mentioned misappropriation, etc.

(2) The statement: “Mentioned misappropriation, etc.”: Al-Nawawi reported a consensus that misappropriation is a major sin. As stated in (‘Umdat al-Qari).

Note 2

قوله

(٢) قوله: فذكر الغلول إلخ: نقل النووي الإجماع على أن الغلول من الكبائر. كذا في (عمدة القاري).

Hadith 3925

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5313Noor 5314
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ دھاگہ اور سوئی بھی ادا کر دو اور تم خیانت سے بچو کیونکہ یہ اس کے کرنے والے کے لئے قیامت کے دن عیب (شرمندگی) ہے۔ (دارمی) نسائی، عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3688 (unverified) 48% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3926

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5315
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر ایک شخص مقرر تھا جس کو ”کرکرہ“ کہا جاتا تھا جب وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آگ میں ہے پس لوگ دیکھنے کے لئے گئے تو ایک چادر ملی جس کی اس نے خیانت کی تھی۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3074 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3927

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5316
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: مجھ سے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ جب جنگ خیبر کا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ آئے اور انہوں نے کہا کہ فلاں شہید ہے اور فلاں ہے یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے تو کہا فلاں شہید ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے اس کو آگ میں دیکھا ہے اس ایک چادر یا عباء کی بناء پر جس کو اس نے چوری کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب! تم جاؤ اور لوگوں میں تین مرتبہ اعلان کرو کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا سوائے ایمان والوں کے۔ پس میں نکلا اور میں نے تین مرتبہ اعلان کیا: سنو جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا سوائے اہل ایمان کے۔ 4 (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 114 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Only the believers enter Paradise

(1) The statement: “Only the believers enter Paradise”: Ibn al-Malik said: In customary usage, a believer is one who believes in Muhammad (ﷺ) and what he brought. One who misappropriates is as if he did not believe him, failing to act on his belief, so the Prophet (ﷺ) did not count him among the believers to deter others. As stated in (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(١) قوله: لا يدخل الجنة إلا المؤمنون: قال ابن الملك: المؤمن في العرف من آمن بمحمد صلي الله عليه واله وسلم وبما جاء به، ومن غلكأنه لم يصدقه لعدم جريه على موجب تصديقه، ولم يجعله النبي صلي الله عليه واله وسلم من المؤمنين زجرًا لهم عن ذلك. كذا في(المرقاة).

Hadith 3928

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5317
زید بن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک صاحب کا خیبر کے دن انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی پر تم نماز (نماز جنازہ) پڑھو۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں کے رنگ اڑ گئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستہ میں (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے۔ پس ہم نے اس کے سامان کو تلاش کیا تو اس میں یہود کے منکوں میں سے چند منکے ملے جو دو درہم کے مساوی بھی نہیں تھے۔ (مالک، ابوداود، نسائی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2710 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1959 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) Scholars differed on the punishment for misappropriation. The majority said: He is disciplined according to his situation as the leader sees fit, but his belongings are not burned. This is the view of Abu Hanifah, Shafi‘i, Malik, and many Companions, Successors, and later scholars. They interpreted the Hadith as a warning, not an obligation. Bukhari said: Several Hadiths about misappropriation do not mention burning belongings. Al-Hasan, Ahmad, Ishaq, Mukhawwal, and Al-Awza‘i said: His saddle and belongings are burned, except, per Al-Awza‘i, his weapons and clothes, and per Al-Hasan, animals and the Qur’an. The Hadith from Ibn Umar via Amr about burning the misappropriator’s saddle is narrated solely by Salih ibn Muhammad, weak from Salim. The Prophet (ﷺ) did not burn the belongings of the one with the beads or cloak. As stated in (‘Umdat al-Qari) and (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(١) قوله: وقال الإمام الطحاوي إلخ: اختلفوا في عقوبة الغال، فقال الجمهور: يعذر بقدر حاله على ما يراه الإمام، ولا يحرقمتاعه. وهذا قول أبي حنيفة والشافعي ومالك وجماعة كثيرة من الصحابة والتابعين فمن بعدهم، وحملواالحديث على الزجر والوعيد دون الإيجاب، قالالبخاري: قد روي في غير حديث عن النبي في الغال ولم يأمربحرق متاعه. وقال الحسن وأحمد وإسحاق ومكحول والأوزاعي فد: يحرق رحله ومتاعه كله، قال الأوزاعي: إلا سلاحهوثيابه التي عليه، قال الحسن: إلا الحيوان والمصحف، وقال: ما حديث ابن عمر عن عمرو مرفوعًا في تحريقرحل الغال فهو حديث تفرد به صالح بن محمد، وهو ضعيف عن سالم، ولأن النبي صلي الله عليه واله وسلم لم يحرق رحل الذي وجدعنده الخرز والعباءة من (عمدة القاري) و(المرقاة) بالتقاط.

Note 1

امام طحاوی نے کہا5 اگر تحریق یعنی سامان کو جلا ڈالنے کی حدیث صحیح ہے تو اس کو محمول کیا جائے گا ایسے زمانہ پر جب کہ مال کے ذریعہ سزائیں دی جاتی تھیں جیسے زکوۃ دینے والوں سے آدھا مال لینا اور گمشدہ اونٹ کا مسئلہ اور کھجور چوری کرنے والے کی سزا سے متعلق حکم۔ اور یہ سب منسوخ ہیں۔

Hadith 3929

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5318Noor 5319
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ پیش کیا۔ جن کو مدعم کہا جاتا تھا۔ اس وقت جب کہ مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کجاوہ کو اتار رہا تھا تو اس کو ایک نامعلوم تیر آ کر لگا اور اس کی جان لے لی۔ لوگوں نے کہا اس کے لئے جنت مبارک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ چادر، جس کو اس نے خیبر کے دن مال غنیمت میں سے جس کی ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی، لے لیا تھا، وہ آگ بن کر اس پر بھڑکے گی۔ پس لوگ جب اس بات کو سنے تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا6 تو آپﷺ نے فرمایا ایک تسمہ آگ کا یا دو تسمہ آگ کے ہیں۔ (متفق علیہ) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مالِ غنیمت کے پاس پہنچے تو حضرت سیدنا بلالؓ کو حکم فرماتے پس وہ لوگوں میں اعلان کرتے۔ لوگ اموالِ غنیمت لے کر آتے تو آپ ﷺ اس میں پانچواں حصہ الگ کرتے اور تقسیم فرماتے تھے۔ پس ایک شخص اس کے ایک دن بعد بالوں کی ایک لگام لایا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ یہ اس مال میں سے ہے جس کو ہم نے مالِ غنیمت میں سے پایا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے بلال کو تین مرتبہ اعلان کرتے ہوئے سنا تھا تو اس نے کہا ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس کو لانے سے کس چیز نے روکا تھا۔ پس اس نے عذر پیش کیا۔ راوی نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح رہ، تو اس کو قیامت کے دن لے کر آئے گا میں اس کو تیری طرف سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔7 (ابوداود)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4234 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 115 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

A man brought one or two sandal straps, etc.

(1) The statement: “A man brought one or two sandal straps, etc.”: Scholars agree the misappropriator must return what he took to the distributor before the army disperses. They differed on what to do after dispersal. Some said: He gives the fifth to the leader and gives the rest in charity. This is the view of Al-Hasan, Malik, Al-Awza‘i, Al-Layth, Az-Zuhri, Ath-Thawri, Ahmad, Ibn Mas‘ud, Ibn Abbas, and Mu‘awiyah. Shafi‘i said: If he owns it, he need not give it in charity; if not, he cannot give away another’s property. It must be given to the leader like lost property. Hanafis, per (As-Siyar al-Kabir), say: If someone misappropriates, then repents and brings it to the leader after dispersal, the leader may reject his claim, saying: “I don’t know your truthfulness; you bear the consequence until you deliver it to its rightful owners.” Or he may accept it, as the person holds the property and is legally trusted about its status. The fifth goes to those Allah specified, and the rest is like lost property. If he hopes to find the owners, the ruling is as stated; if not, he may give it to the poor or keep it in the treasury, noting its status. If the misappropriator repents but does not bring it to the leader, it is recommended to give it in charity if he cannot find the owners. Delivering it to the leader is preferred, as with lost property. The leader may give it in charity but must allocate the fifth to those Allah specified, as the person’s admission is valid.

Note 2

I will not accept it from you

(2) The statement: “I will not accept it from you”: Because misappropriation was not confirmed, per Imam Muhammad in (As-Siyar al-Kabir).

Note 1

قوله

(١) قوله: جاء رجل بشراك أو شراكين إلخ: أجمع العلماء أن الغال عليه أن يرد ما غَلّ إلى صاحب المقاسم ما لم يفترقالناس. واختلفوا فيما يفعل بعد ذلك إذا افترق الناس، فقالت طائفة: يدفع إلى الإمام خمسه ويتصدق بالباقي، وهوقول الحسن ومالك والأوزاعي والليث والزهري والثوري وأحمد، وروي عن ابن مسعود وابن عباس ومعاويةوكان الشافعي لا يرى ذلك،ويقول: إن كان ملكه، فليس عليه أن يتصدق به، وإن كان لم يملكه، فليس له التصدقبمال غيره، قال: والواجب أن يدفع إلى الإمام كالأموال الضائعة. وأما قول الحنفية في ذلك فما قال في (السير الكبير): ولو أن رجلًا غلَّ شيئًا من الغنائم ثم ندم فأتى به الإمام بعدالقسمة وتفرق الجيش، فللإمام في ذلك رأي إن شاء كذَّبه فيما قال، وقال: أنا لا أعرف صدقك. وقد التزمت وَبَالًابزعمك، وأنت أبصر بما التزمته حتى توصل الحق إلى مستحقه، وإن شاء أخذ ذلك منه، وجعل خمسه لمن سمى اللهتعالى؛ لأنه وجد المال في يده، وصاحب المال مصدَّق شرعًا فيما يخبر به مِن حال ما في يده، وباعتبار صدقه خمسهلأرباب الخمس فيصرف إليهم، والباقي يكون بمنزلة اللقطة في يده إن طمع أن يقدر على أهله، فالحكم فيه ما ذكرنا،وإن لم يطمع في ذلك قسمه بين المساكين إن أحب، وإلا جعله موقوفا في بيت المال، وكتب عليه أمره وشأنه.ولو أن صاحب الغلول لم يأتِ به الإمام، ولكنه تاب من الغلول، وهو في يده، فإن لم يطمع في أن يقدر علىأهله فالمستحب له أن يتصدق به هو، وإن طمع في ذلك، فالحكم فيه ما هو الحكم في اللقطة في جميع ما ذكرنا، ودفعهذلك إلى الإمام أحب إلي كما هو الحكم في اللقطة أيضًا، وبعد ما دفعه إليه فالإمام بالخيار في تصدّقه إلا أنه ينبغي له أنلا يدع الخمس في يده؛ لأنه قد أقر أن خمس ما في يده لمن سمى الله تعالى في كتابه وإقراره فيما في يده صحيح في حقه،فينبغي له أن يأخذ الخمس منه، ويصرفه إلى المصارف حتى لا يكون مضيعا حق أرباب الخمس.

Note 2

قوله

(٢) قوله: فلن أقبله عنك: لأنه لم يتيقن بالغلول على ما قاله الإمام محمد في (السير الكبير).

Hadith 3930

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5320
سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جو کسی خیانت کرنے والے چور کو چھپائے گا تو وہ بھی اسی کے جیسا ہے۔ (ابوداود)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2716 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3931

Volume 3

اردو

جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہم مقام دابق میں اترے۔ ابو عبیدہ بن جراح ہمارے امیر تھے تو حبیب بن مسلمہ کو یہ خبر پہنچی کہ قبرس کا حاکم آذر بیجان کے راستہ کا ارادہ کرتے ہوئے نکلا ہے اور اس کے ساتھ زمرد، یاقوت اور موتی وغیرہ ہیں۔ تو وہ اس کی طرف گئے اور اس کو قتل کر دیا اور اس کے ساتھ جو کچھ بھی تھا اس کو لے کر آئے۔ ابو عبیدہ نے اس میں سے خُمس نکالنے کا ارادہ کیا تو حبیب بن مسلمہ نے کہا: اللہ نے مجھے جو کچھ عطاء کیا ہے آپ مجھ کو اس سے محروم مت کیجئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب (مقتول کا مال) قتل کرنے والے کے لئے قرار دیا ہے۔ تو معاذؓ نے کہا اے حبیب! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کے سوا نہیں کہ آدمی کے لئے وہ ہے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں جنگ بدر کے دن صف میں ٹھہرا ہوا تھا میں نے اپنی سیدھی اور بائیں جانب دیکھا تو انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے تمنا کی کاش میں ان دونوں سے زیادہ طاقتور کے درمیان رہتا پس ان میں سے ایک نے مجھے انگلی چبھا کر کہا چچا کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہیں۔ تو میں نے کہا ہاں، مگر اے بھتیجے اس سے تمہاری کیا حاجت ہے؟ تو انہوں نے کہا ”مجھے یہ خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ برا کہتا ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میرا جسم اس کے جسم سے الگ نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کو بھی جلد موت آنی ہے وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا“۔ مجھے اس پر تعجب ہوا پھر دوسرے لڑکے نے بھی مجھے انگلی چبھائی اور اس نے بھی مجھ سے اسی طرح کہا۔ پس میرا کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ میں نے ابوجہل کو دیکھا وہ لوگوں میں گشت لگا رہا ہے تو میں نے (ان لڑکوں سے) کہا کیا تم دیکھتے نہیں یہی تمہارا وہ آدمی ہے۔ جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ پس وہ دونوں اپنی تلواروں کے ساتھ اس پر جھپٹے اور اس پر ضرب لگائی یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اس کو قتل کیا تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے کہا میں نے اس کو قتل کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں نے اپنی تلواروں کو پونچھ لیا؟ تو ان دونوں نے کہا ”نہیں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھ کر فرمایا تم دونوں نے اس کو قتل کیا ہے اور اس کے سلب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں فیصلہ فرمایا10 اور وہ دو آدمی معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء ہیں۔ (متفق علیہ) اور ان دونوں کی ایک روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن فرمایا ہمارے لئے کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل نے کیا کیا ہے؟ عبداللہ بن مسعود گئے تو اس کو اس حالت میں پائے کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اس پر ضرب لگائی ہے اور وہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ تو ابن مسعود نے اس کی داڑھی پکڑ کر کہا تو ابوجہل ہے تو اس نے کہا کیا تم نے اس آدمی سے بڑھ کر آدمی قتل کیا ہے؟۔ اور ایک روایت میں ہے اس نے کہا کاش کسان کے سوا کوئی اور مجھے قتل کرتا۔ (متفق علیہ) اور دارمی نے ان سے روایت لائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی جنگ حنین میں فرمایا جو کوئی کسی کافر کو قتل کرے گا تو اس کو اس کا سلب ملے گا پس ابوطلحہ نے اس دن بیس (20) کو قتل کیا اور ان کے سلب کے لئے۔11 (دارمی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4020 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 4020

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (9)

Note 1

The woman only gets what her imam willingly gives her.

(1) The statement: "The woman only gets what her imam willingly gives her." The summary of what is in the explanation of As-Sir al-Kabir is that the term "anfal" in the terminology of jurists refers to what the imam allocates to some of the warriors, and this act is called tanfil, and that wealth is called nafl. There is no disagreement that tanfil is permissible before the spoils are acquired to encourage fighting, as it is an instructed act known as incitement, based on the words of Allah Almighty: O Prophet, urge the believers to fight [Al-Anfal: 65]. This address is to the Messenger of Allah (ﷺ) and to everyone who takes his place. Brave warriors rarely risk their lives if they are not singled out with something from the spoils. When the imam allocates something to them, it motivates them to risk their lives and confront the enemy’s onslaught. According to our view, the killer does not deserve the spoils without the imam’s tanfil. According to Shafi’i, whoever kills a polytheist in single combat, while advancing and not retreating, deserves his spoils, even without prior tanfil from the imam, because the statement of the Messenger of Allah (ﷺ): "Whoever kills an enemy has his spoils" establishes a legal ruling. Such a statement from the lawgiver clarifies the cause, like his saying (ﷺ): "Whoever changes his religion, kill him." However, we say: Even if the Messenger of Allah (ﷺ) said this in Madinah in the presence of his companions, it was not reported except after the need for incitement arose. Malik ibn Anas (may Allah be pleased with him) said: "It has not reached us that the Prophet (ﷺ) said in any of his battles: 'Whoever kills an enemy has his spoils,' except on the Day of Hunayn, and that was after the Muslims were defeated and there was a need to incite them to charge, as Allah Almighty said: Then you turned back, fleeing [At-Tawbah: 25]." Muhammad ibn Ibrahim at-Taymi mentioned that he said it on the Day of Badr and Hunayn as well. The need for incitement on the Day of Badr was evident, so we understand that he said it as a form of tanfil for incitement, not as a general legal ruling. This is supported by what Abdullah ibn Shaddad reported: The Prophet (ﷺ) was besieging and distributing villages. A man came to him and asked about the spoils. He said: "For Allah Almighty is a share, and for these four." The man said: "What about the spoil a man takes?" He said: "If you are struck in your side with an arrow, you are no more entitled to it than your Muslim brother." This is clear evidence that the killer is not entitled to the spoils without tanfil. This is agreed upon by the scholars of Iraq and Hijaz. Abu Hanifah (may Allah be pleased with him) said: "There is no tanfil after securing the spoils." This is the view of the scholars of Iraq and Hijaz, while the scholars of Sham permit tanfil after securing the spoils, and among those who held this view is Al-Awza’i. Our view invalidates their opinion because tanfil is for inciting fighting, which occurs before acquiring the spoils, not after. Tanfil is to establish exclusive allocation initially, not to nullify an established right of the warriors or the right to the fifth for its recipients. Tanfil after acquiring the spoils nullifies an established right. Then, he cited the hadith of Al-Hasan regarding the rein, that a man asked the Messenger of Allah (ﷺ) for a rein of hair from the spoils, and he said: "Woe to you, you have asked me for a rein of fire," [the rest of the hadith]. And by the hadith of Mujahid, that a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) with a tuft of hair from the spoils and said: "Grant me this." He said: "As for my share of it, it is yours." And by the hadith of Abu al-Ash’ath as-San’ani, who said: A man came to the Prophet (ﷺ) with a rein of hair [the rest of the hadith]. Then he said: If tanfil were permissible after acquiring the spoils, the Messenger of Allah (ﷺ) would not have prohibited it despite a genuine need. He further said: What is narrated that the Prophet (ﷺ) performed tanfil after securing the spoils is interpreted as him giving it from the fifth, considering the recipient as one of the needy, or giving it from his own share of the fifth, or from the selected spoils that were his, or giving what Allah Almighty bestowed upon him without exertion of horses or camels. The matter was delegated to the Messenger of Allah (ﷺ), as Allah Almighty said: Say, the spoils are for Allah and the Messenger [Al-Anfal: 1]. It is mentioned about Khalid ibn Walid (may Allah be pleased with him) and Awf ibn Malik (may Allah be pleased with him) that they did not take the fifth from the spoils. Habib ibn Maslamah and Mahkul said: The spoils are part of the booty, and the fifth applies to it. This was also narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him). We adopt their view based on the words of Allah Almighty: And know that anything you obtain of war booty [Al-Anfal: 41]. The spoils are part of the booty. The interpretation of what is narrated from Khalid and Awf is that it applies if the imam declares tanfil in advance by saying: "Whoever kills an enemy has his spoils." In our view, in this case, the spoils are not subject to the fifth. However, without tanfil, the fifth applies.

Note 2

This is a good hadith due to its multiple narrations.

(2) The statement: "This is a good hadith due to its multiple narrations." It is mentioned in Al-Fath that the hadith is weak, but its weakness does not harm it, as we take it as supporting evidence for one of the possible interpretations of the hadith about spoils, namely the saying of the Prophet (ﷺ): "Whoever kills an enemy has his spoils," by interpreting it as tanfil. Not every weak hadith is false, and when weak hadiths have multiple chains, they can rise to the level of hasan, making it likely that it refers to tanfil. The full verification of this matter is in Radd al-Muhtar.

Note 3

He said: Both of you killed him, then he awarded the spoils to Mu’adh ibn Amr ibn al-Jamuh.

(3) The statement: "He said: Both of you killed him, then he awarded the spoils to Mu’adh ibn Amr ibn al-Jamuh." The evidence is that if the spoils belonged to the killer, they would have been divided between them. The fact that he (ﷺ) gave it to one of them indicates that the matter is delegated to the imam. This is stated in Nasb ar-Rayah.

Note 4

Abu Talhah killed...

(4) The statement: "Abu Talhah killed..." In Al-Marqah, it is said: Ibn al-Malik said: Shafi’i used the hadith of Abu Qatadah to argue that the spoils belong to the killer. Abu Hanifah (may Allah be pleased with him) said: The spoils do not belong to the killer unless the imam grants tanfil. The hadith is interpreted as tanfil to reconcile it with another hadith: "You have no right to the spoils of your killed enemy except what your imam willingly gives." Al-Taybi said in Sharh al-Mishkat: Shafi’i is supported by the hadith of Awf ibn Malik in the second section, as it is absolute, and the default is the absence of restriction. I say: There is no doubt that he (ﷺ) said it in the hadith of Abu Qatadah after the battle, but it is possible that it was a reiteration of what he said before. As for the hadith of Awf, it awards the spoils to the killer with restriction. As for the hadith of Anas in the second section, narrated by Ad-Darimi, he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said on that day, meaning the Day of Hunayn: "Whoever kills a disbeliever has his spoils." Abu Talhah killed twenty men that day and took their spoils. This clearly shows that the killing occurred after the statement, thus restricting the absolute.

Note 1

قوله

(١) قوله: إنما للمرأ ما طابت به نفس أمامه: وملخص ما في شرح (السير الكبير) أن لفظ الأنفال في عبارة الفقهاء مايخص الإمام به بعض الغانمين، فذلك الفعل يسمى تنفيلا، وذلك المال يسمى نفلا، ولا خلاف أن التنفيل جائز قبلالإصابة للتحريض على القتال؛ فإنه مأمور يسمى بالتحريض؛ لقوله تعالى: ﴿يَتَأَيُّهَا النَّبِىُّ حَرِّضِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَىاُلْقِتَّالِ﴾ (الأنفال: ٦٥)، فهذا الخطاب لرسول الله صلي الله عليه واله وسلم ولكل من قام مقامه، فإن الشجعان قلما يتخاطرون بأنفسهمإذا لم يخصوا بشيء من المصاب، فإذا خصهم الإمام بذلك فذلك يغيرهم على المخاطرة بأرواحهم وإيقاع أنفسهمفي جلبة العدو، ولا يستحق القاتل السلب بدون تنفيل الإمام عندنا،وعلى قول الشافعي من قتل مشركا على وجهالمبارزة، وهو مقبل غير مدبر استحق سلبه، وإن لم يسبق التنفيل من الإمام؛ لأن قول رسول الله صلي الله عليه واله وسلم :(من قتلقتيلا فله سلبه) لنصب الشرع، ومثل هذا الكلام في لسان صاحب الشرع لبيان السبب كقوله صلي الله عليه واله وسلم : (من بدل دينهفاقتلوه) ولكنا نقول: إن لو قال رسول الله صلي الله عليه واله وسلم هذه الكلمة بالمدينة بين يدي أصحابه، ولم ينقل أنه قال هذا إلا بعدتحقق الحاجة إلى التحريض، فإن مالك بن أنس قال: ولم يبلغنا أن النبي صلي الله عليه واله وسلم ، قال في شيء من مغازيه: (من قتلقتيلا فله سلبه) إلا في موضع يوم حنين، وذلك بعد ما انهزم المسلمون ووقعت الحاجة إلى تحريضهم ليكروا كما قالالله تعالى: ﴿ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّذْبِرِينَ ﴾ (التوبة: ٢٥). وذكر محمد بنإبراهيم التيمي أنه قال ذلك يوم بدر وحنين أيضًا. وقد كانت الحاجة إلى التحريض يوم بدرمعلومة، فعرفنا أنه إنما قال ذلك بطريق التنفيل للتحريض لا بطريق نصب الشرع وأيد ما قلنا ما ذكر عبد الله بنشقيق، قال: كان النبي صلي الله عليه واله وسلم محاصرا وأدى القرى، فأتاه رجل، فقال: ما تقول في الغنائم، فقال: لله تعالى سهم ولهؤاءالأربعة، قال: فالغنيمة يغنمها الرجل، قال: إن رميت في جنبك بسهم، فلست بأحق به من أخيك المسلم، فهذا دليلظاهر على أن القاتل لا يستحق السلب بدون التنفيل، وعلى هذا القول اتفق أهل العراق والحجاز. وقال أبو حنيفة: لا نفل بعد إحراز الغنيمة.وهذا مذهب أهل العراق والحجاز، وأهل الشام يجوزون التنفيل بد الإحراز، وممن قال به الأوزاعي ، وماقلنا: دليل على فساد قولهم؛ لأن التنفيل للتحريض على القتال، وذلك قبل الإصابة لا بعدها، ولأن التنفيل لإثباتالاختصاص ابتداء، لا لإبطال حق ثابت للغانمين أو لإبطال حق ثابت في الخمس لأربابها، وفي التنفيل بعد الإصابةإبطال الحق، ثم استدل بحديث الحسن في الزمام أن رجلًا سأل رسول الله صلي الله عليه واله وسلم زماما من شعر من المغنم، فقال:ويلك سألتني زماما من نار، الحديث. وبحديث مجاهد أن رجلًا جاء إلى رسول الله صلي الله عليه واله وسلم بكبة من شعر من المغنم،فقال: هب لي هذه، فقال: أما نصيبي منها فلك، وبحديث أبي الأشعث الصنعاني قال: جاء رجل إلى النبي صلي الله عليه واله وسلم ومعهزمام من شعر، الحديث. ثم قال: ولو جاز التنفيل بعد الإصابة لما حرمه رسول الله صلي الله عليه واله وسلم ذلك مع صدق حاجة، ثم قال: والذي روي أنالنبي صلي الله عليه واله وسلم نفل بعد الإحراز، فإنما يحمل على أنه أعطى ذلك من الخمس باعتبار أنه من المساكين، أو أعطى ذلك منسهم نفسه من الخمس أو من الصفى الذي كان له أو أعطى ذلك ما أفاء الله تعالى عليه لا بإيجاف الخيل والركاب. فقدكان الأمر فيها مفوَّضًا إلى رسول الله صلي الله عليه واله وسلم كما قال الله تعالى: ﴿قُلِ الْأَنْقَالُ لِلْهِ وَالرَّسُولِ﴾ (الأنفال: ١)، وذكر عنالخالد بن وليد وعوف بن مالكأنهما كان لا يخمسان الأسلاب، وعن حبيب بن مسلمة ومحكول: أن السلبمغنم، وفيه الخمس، وهكذا روي عن ابن عباس، وإنما نأخذ بقول هؤلاء؛ لقوله تعالى: ﴿وَأَعْلَمُوَاْ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّنشَىْءٍ﴾ (الأنفال: ٤١) والسلب من الغنيمة. وتأويل ما نقل عن خالد وعوف إذا تقدم التنفيل من الإمام بقوله: (منقتل قتيلا فله سلبه). وعندنا في هذا الموضع لا يخمس السلب، وأما بدون التنفيل يخمس، انتهى ملخصا.

Note 2

قوله

(٢) قوله: هذا حديث حسن لتعدد طرقه: وذكر في (الفتح): أن الحديث ضعيف، ولا يضر ضعفه؛ لأنا نستأنس بهلأحد محتملي حديث السلب أي قوله صلي الله عليه واله وسلم : (من قتل قتيلا فله سلبه) بحمله على التنفيل، وليس كل ضعيف باطلاوقد تظافرت أحاديث ضعيفة تفيدأن حديث السلب ليس نصبا عاما مستمرا، والضعيف إذا تعددت طرقهيرتقي إلى الحسن، فيغلب الظن بأنه تنفيل، وتمام تحقيق المقام فيه. كذا في (رد المحتار).

Note 3

قوله

(٣) قوله: فقال: كلاكما قتله ثم قضى بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح: وجه الدليل: أن السلب لو كان للقاتل لقضيبه بينهما، وكونه عليه السلام دفعه إلى أحدهما دليل على أن الأمر فيه مُفوَّض إلى الإمام. كذا في (نصب الراية).

Note 4

قوله

(٤) قوله: فقتل أبو طلحة إلخ: قال في (المرقاة): قال ابن الملك: استدل الشافعي بحديث أبي قتادة على أن السلبللقاتل. وقال أبو حنيفة: السلب لا يكون للقاتل إذا لم ينفل الإمام به، والحديث محمول على التنفيل جمعًا بينه، وبينحديث آخر(ليس لك من سلب قتيلك إلا ما طابت به نفس إمامك). وقال الطيبي في (شرح المشكاة): ويؤيدالشافعي حديث عوف بن مالك في الفصل الثاني؛ لأنه مطلق، والأصل عدم التقييد. قلت: لا شك أنه صلي الله عليه واله وسلم قاله فيحديث أبي قتادة بعد الفراغ، لكنه يحتمل أن يكون إعادة لما قاله قبله، وأما حديث عوف قضى في السلب للقاتي فقاتلللتقييد، وأما حديث أنس في الفصل الثاني، رواه الدارمي قال: قال رسول الله صلي الله عليه واله وسلم يومئذ يعني يوم حنين: (من قتلكافرًا فله سلبه)، فقتل أبو طلحة يومئذٍ عشرين رجلًا، وأخذ أسلابهم، فصريح في أن القتل وقع بعد القول، فيقيدالمطلق به.

Note 1

8قولہ: انما للمرء ما طابت به نفس امامه الخ (اس کے سوا نہیں کہ آدمی کے لئے وہ ہے جس کو اس کے امیر کا نفس اچھا سمجھتا ہے) سیر کبیر میں جو کچھ ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لفظ ”انفال“ فقہاء کی عبارتوں میں اس مال کو کہا جاتا ہے جس کو امیر مالِ غنیمت پانے والوں میں سے کسی کے لئے خاص کرتا ہے اور اس عمل کو تنفیل کہا جاتا ہے۔ اور اس مال کو نفل کہتے ہیں۔ تنفیل یعنی جنگ پر ابھارنے کے لئے مالِ غنیمت کے حاصل ہونے سے پہلے اگر کسی کے لئے زائد مال مقرر کیا جاتا ہے تو اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ امیر، جنگ کے لئے ابھارنے پر مامور ہے اللہ تعالی کے ارشاد کی بناء پر ”يٰأَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ“(8-سورۃ الانفال، آیت نمبر:65)(اے نبی مومنین کو جنگ پر ابھارنے) یہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔ اور ہر اس شخص کے لئے جو آپ ﷺ کا قائم مقام (خلیفہ) ہے کیونکہ فوجوں کے لئے جب حاصل ہونے والی اشیاء میں کوئی چیز خاص نہ کی جائے تو وہ اپنے آپ کو بہت کم خطرات میں ڈالتے ہیں اور جب امام ان کے لئے اس میں کوئی چیز خاص کر دیتا ہے تو وہ اس چیز کی وجہ سے اپنی جانوں کے ذریعہ خطرات سے کھیلتے ہیں اور دشمن کے ہنگاموں میں اپنے آپ کو ڈال دیتے ہیں۔ اور نفل کا جب تک امام اعلان نہ کرے قاتل مقتول کے مال (سلب) کا حق دار نہیں بنتا یہ ہمارے (احناف) کے پاس ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق تو آدمی کسی مشرک کو مقابلہ کرتے ہوئے قتل کرے جب کہ وہ رو در رو ہو، پیٹھ پلٹایا ہوا نہ ہو تو وہ سلب کا حق دار ہو جاتا ہے اگرچہ حاکم کی طرف سے تنفیل کا اعلان نہ ہوا ہو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”جو کوئی کسی آدمی کو قتل کر دے تو اس کو سلب ملے گا“ شرعی حکم مقرر کرنے کے لئے ہے اور اس طرح کا کلام صاحب شریعت کی زبان مبارک سے اس کا سبب بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ”من بدل دينه فاقتلوه“ (جو کوئی اپنا دین بدل دے اس کو قتل کر دو) لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں صحابہ علیہم الرضوان کے درمیان فرماتے۔ (تو حکم شرعی بنتا) مگر ایسا منقول نہیں ہے، بلکہ آپ ﷺ نے تحریض کی ضرورت کی وجہ سے جنگ میں ایسا فرمایا ہے کیونکہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم کو یہ بات نہیں پہنچی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جنگ میں ”من قتل قتيلا فله سلبه“ (جو کوئی کسی آدمی کو قتل کر دے تو اس کو سلب ملے گا) فرمایا ہو سوائے جنگ حنین کے مقام پر۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ مسلمانوں میں کچھ کمزوری آ گئی تھی اور ان کو ابھارنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ پلٹ کر دوبارہ حملہ کریں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ”تم منہ پھیر کر لے تھے پیٹھ پلٹا کر“(9-سورۃ توبہ، آیت نمبر:25) اور محمد بن ابراہیم تیمی نے کہا ایسا جنگ بدر میں اور حنین میں بھی ہوا ہے۔ اور جنگ بدر کے موقعہ پر جنگ کے لئے تحریض کی ضرورت معلوم ہے۔ تو تم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تنفیل کے طور پر جو کچھ فرمایا ہے وہ تحریض کے لئے ہے، شریعت کے حکم کے طور پر نہیں ہے۔ اور ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کی تائید اس حدیث سے ہے جس کا عبداللہ بن شقیق نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی قرٰی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے تو آپ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا: آپ ﷺ اموالِ غنیمت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی کے لئے ایک حصہ ہے اور چار حصے ان لوگوں کے لئے ہیں۔ اس نے کہا: مالِ غنیمت تو آدمی حاصل کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تو اپنے بازو میں کوئی تیر چلائے تو اپنے مسلم بھائی (مجاہد) سے زیادہ حق دار نہیں ہو جاتا۔...... ...... پس یہ کھلی دلیل ہے اس امر کی کہ حاکم کے تنفیل مقرر کے بغیر قاتل سلب کا حق دار نہیں بن سکتا۔ اور اس قول پر اہل عراق وحجاز سب متفق ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا مال غنیمت جمع کرنے کے بعد تنفیل نہیں ہے۔ اور اہل عراق اور اہل حجاز کا یہی مذہب ہے۔ اور اہل شام مال غنیمت جمع ہوجانے کے بعد بھی تنفیل کو جائز قرار دیتے ہیں اور یہی قول امام اوزاعی رحمہ اللہ کا ہے۔ اور ہم جو بات کہہ رہے ہیں اس میں ان کے قول کے درست نہ ہونے کی دلیل موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ تنفیل جنگ پر ابھارنے کے لئے ہے اور یہ مال غنیمت حاصل ہونے سے پہلے ہوتی ہے نہ کہ مال غنیمت حاصل ہونے کے بعد۔ کیونکہ تنفیل غانمین کا حق ثابت ہونے کے بعد باطل کرنے کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ یہ کسی کے لئے ابتداء ہی میں مال مختص کرنے کے لئے ہے اور مال غنیمت جمع ہونے کے بعد تنفیل میں دوسرے کے حق کا ابطال ہے۔ پھر حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے جو لگام (رسی) سے متعلق وارد ہے استدلال کیا گیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال غنیمت میں سے بالوں کی ایک رسی کے لئے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ افسوس مجھ پر تو نے آگ کی رسی مانگی۔ (الحدیث)۔ اور رباح کی حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مال غنیمت میں سے بالوں کا ایک بنڈل لایا اور عرض کیا آپ مجھے یہ دیدیجئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس میں سے جو تیرا حصہ ہے وہ تجھے دے سکتا ہوں اور ابوالاشعث صنعانی سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت آیا اور اس کے ساتھ بالوں کی ایک لگام تھی۔ (الحدیث) پھر انہوں نے کہا اگر مال غنیمت حاصل ہوجانے کے بعد بھی تنفیل جائز ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو باوجود یہ کہ وہ سچا حاجت مند تھا محروم نہیں کرتے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یہ جو مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کے جمع ہونے کے بعد بھی تنفیل دی ہے تو اس کو اس امر پر محمول کیا جائے گا کہ آپ ﷺ نے مال کے جمع ہونے کے بعد جو نفل دیا ہے تو وہ خمس میں سے دئے ہوں گے کیونکہ وہ مساکین میں سے تھے یا پھر آپ ﷺ نے اس خمس کے اپنے حصے میں سے دیا ہو یا اس مال میں سے دیا ہو جو آپ ﷺ کے لئے خاص تھا یا آپ ﷺ نے اس کو اللہ کے دیئے ہوئے مال فئی میں سے دیا ہو جو گھوڑے اور اونٹ وغیرہ دوڑائے بغیر ملا ہو اور اس کا معاملہ آپ ﷺ کے حوالہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ“ آپ فرما دیجئے کہ انفال اللہ اور رسول کے لئے ہے (8۔ سورۃ انفال، آیت نمبر:1) اور خالد بن الولید رضی اللہ عنہ اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ دونوں حضرات سلب کے مال میں خمس نہیں نکالتے تھے۔ حضرت حبیب بن مسلمہ اور مکحول سے مروی ہے کہ سلب مال غنیمت ہے اور اس میں خمس ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی اسی طرح کی روایت آئی ہے اور بے شک ہم نے ان بزرگوں کے اقوال کو لیا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ہے: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ“ (8۔ سورۃ انفال، آیت نمبر:41) (اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت جمع کرتے جاؤ) اور سلب مال غنیمت سے ہے۔ اور خالد اور عوف سے جو روایت آئی ہے اس کی تاویل یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہوا ہے کہ پہلے تنفیل کا حاکم کی جانب سے اعلان ہو چکا تھا کہ من قتل قتيلا فله سلبه (جو شخص کسی آدمی کو قتل کرے تو اس کے لئے اس کا سلب (مقتول کا چھوڑا ہوا مال) ہے) اور ہمارے پاس ایسے مواقع میں سلب سے خمس بھی نہیں نکالا جائے گا اور بغیر تنفیل کے ہو تو اس میں خمس نکالا جائے گا۔ (لخص) امام طبرانی نے اس کو اپنے مُعجم کبیر اور معجم اوسط میں روایت کیا ہے یہ حدیث متعدد سندوں کی وجہ سے درجہ حسن کی ہے۔9 اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی امام بخاری و مسلم نے تخریج کی ہے۔

Hadith 3932

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5326Noor 5327
مجمع بن جاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اہل حدیبیہ پر خیبر کی تقسیم عمل میں آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو (18) حصوں میں تقسیم فرمایا اور فوج ایک ہزار پانچ سو(1500) تھی اس میں تین سو گھوڑا سوار تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا۔12 (ابوداؤد) نعیم بن حماد سے روایت ہے کہ ہم کو ابن مبارک نے حدیث بیان کیا اور وہ عبید اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں وہ نافع سے روایت کرتے ہیں وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سوار کے لئے دو حصے اور پیادہ کے لئے ایک حصہ دیا۔ (ابن ابی شیبہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2736 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

He gave the horseman two shares and the foot soldier one share

(1) The statement: “He gave the horseman two shares and the foot soldier one share”: Scholars differed on the entitlement of fighters, whether foot soldiers or horsemen. A foot soldier receives one share by consensus. For a horseman, Abu Hanifah and Zufar say he and his horse get two shares. Abu Yusuf and Muhammad say he gets three shares—one for himself and two for his horse—this being the view of Shafi‘i, Malik, and Ahmad. The majority cite the Hadith of Ibn Umar and similar narrations. Abu Hanifah relies on this Hadith of Mujammi‘ ibn Jariyah. As for Ibn Umar’s Hadith, it does not specify when that division occurred—before or after Khaybar. If before, it could be abrogated; if it was discretionary, the Prophet (ﷺ) could divide as he wished, or it could be tanfil (extra allocation), so it is not conclusive. For further details, refer to (Badhl al-Majhud), which is valuable in this context.

Note 2

Al-Hafiz Shams ad-Din, etc.

(2) The statement: “Al-Hafiz Shams ad-Din, etc.”: Abu Dawud weakened the Hadith without evidence. As stated in (Badhl al-Majhud).

Note 1

قوله

(١) قوله: فأعطى الفارس سهمين والراجل سهما: واختلف العلماء في بيان مقدار الاستحقاق للمقاتل، فهو إما أنيكون راجلا وإما أن يكون فارسا، فإن كان راجلا فله سهم واحد بالاتفاق، وإن كان فارسا فله ولفرسه سهمان عندأبي حنيفة وزفر. وعند أبي يوسف ومحمد له ثلاثة أسهم، سهم له وسهمان لفرسه، وهو قول الشافعي ومالكوأحمد، واستدل الجمهور بحديث ابن عمر وأمثاله، وأما الإمام أبو حنيفة ، فاستدل له بهذا الحديث حديث مجمعبن جارية، وأما الجواب من حديث ابن عمر أنه لم يبين فيه أنه تلك القسمة متى وقعت، هل وقعت قبل خيبر أوبعدها؟ فلما احتمل أن يكون قبل خيبر، لا يكون فيه حجة؛ لأنه محتمل للنسخ، ومحتمل أن يكون قسمة الغنيمة فيذلك الوقت مفوّضا إلى رأي رسول الله صلي الله عليه واله وسلم يقسمها كيف يشاء، ويعطيها من يشاء. ويحتمل أن يكون أعطى السهمالواحد تنفيلا فلا حجة فيه، وإن شئت زيادة تفصيل في هذا المقام فارجع إلى (بذل المجهود)؛ فإنها نفيسة في بابها.

Note 2

قوله

(٢) قوله: وقال الحافظ شمس الدين إلخ: وفي قول أبي داود تضعيف للحديث، ولم يأت عليه بدليل. كذا في (بذلالمجهود)

Note 1

اور حافظ شمس الدین ذہبی13 نے اپنی کتاب تلخیص میں اس حدیث شریف کی تخریج کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور صاحب الجواہر النقی نے کہا ہے کہ حاکم نے مستدرک میں اس کی تخریج کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بڑی حدیث ہے۔ اس کی سند صحیح ہے اس میں مجمع بن یعقوب معروف آدمی ہیں۔ اور صاحب کمال نے کہا ہے کہ امام قعنبی، یحیی، وعلی، اسماعیل بن ابی اویس یونس مؤدب اور ابو عامر عقدی کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی ان سے روایت کی ہے اور ابن سعد نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ میں ان کی وفات ہوئی اور ثقہ ہیں، ابو حاتم اور ابن معین نے کہا ہے کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے اور امام نسائی نے ان کی روایت کی تخریج کی ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ابن معین کسی کے بارے میں جب ”لیس بہ باس“ کہتے ہیں تو اس سے ان کی توثیق یعنی ان کو ثقہ قرار دینا ہوتا ہے۔

Note 2

شیخ ابن ہمام نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ نعیم ثقہ ہیں اور ابن مبارک زیادہ مضبوط لوگوں میں ہیں۔

Hadith 3933

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5328Noor 5329
یزید بن ہرمز نے کہا کہ نجدہ حروری نے ابن عباسؓ سے خط لکھ کر پوچھا کہ غلام اور عورت دونوں مال غنیمت کے پاس حاضر تھے۔ کیا ان دونوں کو بھی تقسیم میں مال غنیمت دیا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے یزید سے کہا ان کو جواب لکھو کہ ان دونوں کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ ان کو (بطور احسان) کچھ عطا کیا جائے۔14ـ اور ایک روایت میں ہے، ابن عباسؓ نے ان کو لکھا کہ تم مجھ سے دریافت کرنے کے لئے لکھتے ہو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورت کو غزوہ میں شریک کئے ہیں اور کیا ان کے لئے کوئی حصہ بھی مقرر کئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غزوہ میں شریک فرمایا ہے وہ بیماروں کا علاج کرتی تھیں اور مال غنیمت میں سے ان کو ملتا تھا لیکن ان کے لئے حصہ مقرر نہیں تھا۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1812a (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1812b (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

They do not receive a share unless they are given a discretionary portion

(1) The statement: “They do not receive a share unless they are given a discretionary portion”: Ibn al-Humam said: No share is given to a slave, woman, child, or dhimmi, but they may receive a discretionary portion (radkh), which is less than a share, as determined by the leader. This applies whether the slave fights with or without his master’s permission. Per Hanafis, radkh is taken from the spoils before the fifth, as per Shafi‘i and Ahmad. In another view, narrated from Ahmad, it is from four-fifths. Shafi‘i, in one view, says from one-fifth of the fifth. Malik says from the fifth. A slave receives radkh only if he fights, as do a child or dhimmi, as they are capable of fighting if the child is able. For women, they receive it for fighting or serving the army, even without fighting, as they are incapable of it, so service substitutes. As stated in (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(١)قوله: ليس لهما سهم إلا أن يحذيا: قال ابن الهمام: ولا يسهم لمملوك ولا امرأة ولا صبي ولا ذمي، ولكن يرضخلهم، فالرضخ لا يبلغ السهم، ولكن دونه على حسب ما يراه الإمام، وسواء قاتل العبد بإذن سيده أو بغير إذنه، ثمالرضخ عندنا من الغنيمة قبل إخراج الخمس، وهو قول الشافعي وأحمد، وفي قول وهو رواية عن أحمد: من أربعةالأخماس، وفي قول للشافعي: من خمس الخمس. وقال مالك من الخمس: ثم إن العبد إنما يرضخ له إذا قاتل، وكذاالصبي والذمي؛ لأنهم يقدرون على القتال إذا فرض الصبي قادرًا عليه، فلا يقام غير القتال في حقهم مقامه، بخلافالمرأة؛ فإنها تعطى بالقتال وبالخدمة لأهل العسكر وإن لم تقاتل؛ لأنها عاجزه عنه، فأقام هذه المنفعة منها مقامه.كذا في (المرقاة).

Hadith 3934

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5330
عمیر مولیٰ ابی اللحم سے روایت ہے کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے بارے میں گفتگو کی اور بتلایا کہ میں غلام ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے حکم فرمایا تو میرے گلے میں تلوار ڈال دی گئی پس میں اس کو کھینچ رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے کچھ معمولی سامان دینے کا حکم فرمایا اور میں آپ کی خدمت میں ایک رقیہ (دم کرنے کا عمل) پیش کیا جس کو میں دیوانوں پر دم کرتا تھا آپ ﷺ نے مجھے اس کے بعض حصہ کو نکال دینے اور بعض حصہ کو رکھنے کا حکم فرمایا (ترمذی، ابوداؤد) مگر ابوداؤد کی روایت لفظ ”المتاع“ پر ختم ہو جاتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1557 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2730 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3935

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5331
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، ہمارے غزوات میں ہم کو شہد اور انگور ملتے تو ہم اس کو کھا لیتے تھے۔ اس کو اٹھا کر نہیں رکھتے تھے۔ 15 (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3154 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

We ate without taking them for division

(1) The statement: “We ate without taking them for division”: In (Ad-Durr al-Mukhtar) and (Radd al-Muhtar): Fighters may use fodder, food, firewood, weapons, and oil in the land of war without division, as per (Al-Kanz). (Al-Wiqayah) restricts weapons to need, which is correct. In (Ad-Durr al-Muntaqa): (Fath al-Qadir) states using weapons, mounts, or horses is permissible only if needed, e.g., if one’s horse dies or sword breaks. Using them to preserve one’s own is impermissible and sinful, but no compensation is owed if damaged. For food and similar items, (As-Siyar as-Saghir) requires need, which is analogy-based, but (As-Siyar al-Kabir) does not, which is istihsan (preferred), as do the three Imams. Both rich and poor may partake. As in (Ash-Sharnablaliyyah). Istihsan is preferred here, as chosen by the author of (Al-Multaqa), and is correct.

Note 1

قوله

(١)قوله: فنأكله ولا نرفعه: قال في (الدر المختار) و(رد المحتار): وللغانمين الانتفاع في دار الحرب وبعلف وطعاموحطب وسلاح ودهن بلا قسمة، أطلق الكل تبعا لـ(الكنز). وقيد في (الوقاية) السلاح بالحاجة، وهو الحق. قال في (الدر المنتقى): اعلم أنه ذكر في (فتح القدير) أن استعمال السلاح والكراع والفرس إنما يجوز بشرط الحاجة بأن ماتفرسه أو انكسر سيفه، أما إذا أراد أن يوفر سيفه باستعمال ذلك، فلا يجوز، ولو فعل أثم ولا ضمان عليه إن تلف، وأماغير السلاح ونحوه مما مرَّ كالطعام، فشرط في (السير الصغير) الحاجة إلى التناول من ذلك، وهو القياس، ولميشترطها في (السير الكبير) وهو الاستحسان، وبه قالت الأئمة الثلاثة، فيجوز لكل من الغني والفقير تناوله. ملخصا، وهكذا ذكره في (الشرنبلالية). ولا يخفى ترجيحالاستحسان ههنا. قلت: هو ما اختاره الماتن، يعني صاحب (الملتقى) وهو الحق كما علمت اهـ.

Hadith 3936

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5332
انہیں سے روایت ہے کہ ایک لشکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مالِ غنیمت میں غلہ اور شہد ملا تو ان سے خمس نہیں لیا گیا۔16 (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2700 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

The fifth was not taken from what they ate

(1) The statement: “The fifth was not taken from what they ate”: Per (Al-Mirqat): This refers to what they consumed. In (Badhl al-Majhud): Likely, they ate only what they needed, leaving nothing for the fifth or division. In (Al-Hidayah): There is no harm in the army using fodder, eating found food, using firewood, oil for anointing, or weapons for fighting in the land of war without division if needed. They may not sell or accumulate wealth from it. Using clothes or items without need before division is disliked.

Note 1

قوله

(١) قوله: قوله: فلم يؤخذ منهم الخمس: أي فيما أكلوا منهما. قاله في (المرقاة). وقال في (بذل المجهود): ولعله لميكن زائد على قدر الحاجة، فأكلوه هناك، ولم يبق منه شيء، حتى يؤخذ منه الخمس، ويقسم الباقي. قال في (الهداية):ولا بأس بأن يعلف العسكر في دار الحرب، ويأكلوا مما وجدوه من الطعام؛ لقوله عليه السلام في طعام خيبر:(كلوها.واعلفوها ولا تحملوها).ويستعملوا الحطب، ويدهنوا بالدهن، ويوقحوا به الدابة، ويقاتلوا بما يجدونه من السلاحكل ذلك بلا قسمة إذا احتاج إليه، ولا يجوز أن يبيعوا من ذلك شيئًا، ولا يتمولونه، وأما الثياب والمتاع فيكرهالانتفاع بها قبل القسمة من غير حاجة.

Hadith 3937

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5333
محمد بن ابو المجالد عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کرتے ہیں میں نے دریافت کیا: کیا آپ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اشیاء خوردنی میں سے خمس نکالتے تھے۔ تو انہوں نے کہا خیبر کے موقعہ پر ہم کو خوردنی اشیاء ملتی تھیں تو ہر آدمی آتا اور اتنی مقدار جو اس کے لئے کافی ہوتی اس میں سے لے لیتا پھر چلے جاتا۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2704 (unverified) 84% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3938

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5334
قاسم مولیٰ عبدالرحمن، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ہم غزوہ میں اونٹ کو کھاتے اور اس کو تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب ہم اپنے مقامات کو واپس ہوتے17 تو ہماری تھیلیاں بھری ہوتی تھیں۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2706 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Until we returned to our abodes, etc.

(1) The statement: “Until we returned to our abodes, etc.”: “Abodes” refers to their dwellings during campaigns. Ibn al-Humam said: When Muslims leave the land of war, they may not use or eat from the spoils, as the necessity has ended. The permissibility in the land of war was due to need. After securing, rights are confirmed, unlike before removal. Excess food or fodder must be returned to the spoils if undivided in the land of war per conditions. If used after securing but before division, its value is repaid. This is the view of Malik, Ahmad, and Shafi‘i in one opinion. Another view from Shafi‘i likens it to a scout who takes something and keeps it. We say: Spoils are tied to the fighters’ rights, and exclusivity was for need, which has ended, unlike a scout, whose right persists. After division, the rich give it or its value in charity if sold; the poor may use it, as it becomes like lost property due to the impossibility of returning it to dispersed fighters. If consumed, nothing is owed. The value of what was used after securing is given in charity by the rich, not the poor. As in (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(١) قوله: إذا كنا لنرجع إلى رحالنا إلخ: والمراد من الرحال منازلهم في سفر الغزو. قال ابن الهمام: فإذا خرجالمسلمون من دار الحرب لم يجز أن يعلفوا من الغنيمة، ولا يأكلوا منها؛ لأن الضرورة اندفعت، والإباحة التي كانتفي دار الحرب إنما كانت باعتبارها، ولأن الحق قد تأكد حتى يورث نصيبه، ولا كذلك قبل الإخراج، ومن فضل معهطعام أو علف يردُّه إلى الغنيمة إذا لم يكن قُسِّمَ الغنيمة في دار الحرب بشرطه، ولو انتفع به قبل قسمتها بعد الإفرازيرد قيمته، وهو قول مالك وأحمد والشافعي في قول. وعنه أنه لا يرد اعتبارًا بالمتلصص، وهو الواحد الداخلوالاثنان إلى دار الحرب إذا أخذ شيئًا، فأخرجه يختص به. قلنا: مال تعلق به حق الغانمين، والاختصاص كان للحاجة، وقد زالت، بخلاف المتلصص؛ لأنه دائما أحققبل الإخراج وبعده، وأما بعد القسمة فيتصدقون بعينه إن كان قائما، وبقيمته إن كانوا باعوه، هذا إذا كانوا أغنياء،وانتفعوا به إن كانوا محاويج؛ لأنه صار في حكم اللقطة؛ لتعذر الرد على الغانمين لتفرقهم، وإن كانوا تصرفوا فيه فلاشيء عليهم، وعلى هذا قيمة ما انتفع به بعد الإحراز يتصدق به الغني لا الفقير. كذا في(المرقاة).

Hadith 3939

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5335
عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے خیبر میں مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی 18؎ تو بس میں اس کو رکھ لیا اور کہا کہ میں آج اس میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ اور میں پلٹا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1772a (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3153 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

I obtained a sack of fat, etc.

(2) The statement: “I obtained a sack of fat, etc.”: Ibn al-Malik said: This shows fighters may take needed food from the spoils. Eating food and using fat for the body or lamps are equivalent. As in (Al-Mirqat).

Note 2

قوله

(٢) قوله: أصبت جرابا من شحم إلخ: قال ابن الملك: فيه جواز أخذ المجاهدين من طعام الغنيمة قدر ما يحتاج إليهاهـ. وتقدم أن الانتفاع بالادهان في البدن له حكم أكل الطعام. وقد يحتاج أيضًا إلى الشحم للسراج ونحوه. كذا في (المرقاة).

Hadith 3940

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5336
رُویفع بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کے کسی بھی جانور پر سواری نہ کرے 19؎ کہ وہ اس کو دبلا کر کے واپس کرے اور مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ اس کو پرانا کر کے واپس کرے۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2708 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 3

Should not ride an animal, etc.

(3) The statement: “Should not ride an animal, etc.”: This applies when not needed. If needed, e.g., if his horse dies in battle and he takes an enemy’s horse to fight, or wears clothes due to cold, it is permissible. When the need ends, it is returned to the spoils. As in (Badhl al-Majhud).

Note 3

قوله

(٣)قوله: فلا يركب دابة إلخ: هذا محمول على ما إذا لم يحتج إليه، وأما إذا احتاج إليه كما إذا هلك فرسه في المعركة،فأخذ فرس العدوّ يقاتل عليها، وكذلك الثياب إذا أخذه البرد مثلًا يجوز لبسه، فإذا انقضت حاجته ردَّها في الغنيمة.كذا في (بذل المجهود).

Hadith 3941

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5337
ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال غنیمت کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم ہو جائیں۔20(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1563 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Prohibited buying spoils until they are divided

(1) The statement: “Prohibited buying spoils until they are divided”: In (Al-Hidayah) and (Al-Binayah): Selling spoils before division in the land of war is impermissible, as ownership is not established. Shafi‘i disagrees, saying it is permissible, as ownership begins with capture. Per Hanafis, ownership is not established until secured in the land of Islam.

Note 1

قوله

(١) قوله: نهى رسول الله صلي الله عليه واله وسلم عن شراء المغانم حتى تقسم: قال في (الهداية) و(البناية): لا يجوز بيع الغنائم قبلالقسمة في دار الحرب؛ لأنه لا ملك قبلها، وفيه خلاف الشافعي، فعنده يجوز؛ لأن سبب الملك عنده الاستيلاء.وقد بيَّنًا الأصل أي إن الملك للغانمين قبل الإحراز بدار الإِسلام لا يثبت عندنا، وعنده يثبت.

Hadith 3942

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5338
ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حصوں کو بیچے جانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم ہو جائیں۔ (دارمی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4019 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 2478 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 4019

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3943

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5339
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، ہم لوگ حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے جس وقت آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کیا تھا۔ اور آپ ﷺ نے اس میں سے حصہ دیا، انہوں نے یہ کہا کہ آپ ﷺ نے ہم کو اس میں سے عطا فرمایا۔ اور فتح خیبر میں آپ ﷺ کے ساتھ جو شریک تھے ان کے سوا کسی کو بھی جو شریک نہیں تھا، اس میں سے کچھ بھی تقسیم نہیں فرمایا سوائے ہم سفینہ والے، جعفر اور ان کے ساتھیوں کے کہ ان کو بھی ان کے ساتھ عطا فرمایا۔ (ابوداؤد) اور قاضی نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو اس لئے حصہ عطا فرمایا21 وہ لوگ غنیمت جمع
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2725 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

He only allocated shares for them, etc.

(2) The statement: "He only allocated shares for them, etc.": It is stated in (Mercy of the Ummah): They agreed that if the spoils were divided and taken possession of, and then reinforcements arrived, the reinforcements would have no share in it. However, if the reinforcements arrived after the battle ended but before the spoils were taken to the abode of Islam or before they were divided, Abu Hanifa said: They are entitled to a share as long as the spoils have not been taken to the abode of Islam or divided. Malik and Ahmad said: They are not entitled to a share in any case. As for Shafi‘i, there are two opinions: one that they are entitled to a share, and the other that they are not. Ibn al-Humam said: If reinforcements join in the abode of war before the spoils are taken to the abode of Islam, according to Shafi‘i, there are two opinions about whether the reinforcements share in the spoils. What we mentioned is based on the premise that ownership is not complete for those who acquired the spoils until they are taken to the abode of Islam. Thus, it is permissible for the reinforcements to share in them if there is evidence for it. The right of the reinforcements is not cut off except by three things: taking the spoils to the abode of Islam, dividing them in the abode of war, or the leader selling the spoils before the reinforcements arrive. This is based on our established principle that confirms or negates the right. As for what Shafi‘i cited as evidence from [Narrated by Bukhari] from Abu Huraira (may Allah be pleased with him), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent Aban on an expedition toward Najd. Aban and his companions arrived at Khaybar after the Messenger of Allah (ﷺ) had conquered it, and he did not allocate shares for them. There is no evidence in this, because the arrival of reinforcements in the abode of Islam does not necessitate their participation, and Khaybar became an abode of Islam immediately upon its conquest. Thus, their arrival occurred when the spoils were already in the abode of Islam. As for the allocation of shares to Abu Musa al-Ash‘ari, as narrated in [Narrated by Bukhari and Muslim], he said: We heard of the departure of the Messenger of Allah (ﷺ) while we were in Yemen. So, I set out with two brothers of mine, migrating to him, with me being the youngest. One was Abu Burda, and the other was Abu Ruhm, along with fifty-some men from my people. We boarded a ship, which took us to the Negus, where we met Ja‘far ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) and his companions. Ja‘far said: The Messenger of Allah (ﷺ) sent us here and ordered us to stay, so stay with us. We stayed until we came to the Messenger of Allah (ﷺ) when he conquered Khaybar. He allocated shares for us, but he did not allocate shares for anyone who was absent from the conquest of Khaybar except for the people of our ship. Ibn Hibban said in his Sahih: He gave them from the fifth of the fifth to win their hearts, not from the spoils, and this is sound. Do you not see that he did not give to others who did not witness it? Some Shafi‘is interpreted this as them having witnessed it before the spoils were taken, contrary to their school, as they make no distinction in the lack of entitlement whether the arrival was before or after taking the spoils, as long as it was after the conquest. In summary: According to us, the cause is crossing the boundary between the abode of Islam and the abode of war with the intention of fighting. According to Shafi‘i, it is witnessing the battle. Thus, according to us, those who acquire the spoils and the reinforcements share in the spoils because they are equal in this cause. This is taken from the commentaries of (The Kanz).

Note 2

قوله

(٢) قوله: إنما أسهم لهم إلخ: قال في (رحمة الأمة): واتفقوا على أنهم إذا قسموا الغنيمة وحازوها، ثم اتصل بهم مددلم يكن للمدد في ذلك حصة، فإن اتصل المدد بعد انقضاء الحرب وقبل حيازة الغنيمة في دار الإسلام أو بعد أنأخذوها وقبل قسمتها. قال أبو حنيفة: يسهم لهم ما لم تحز إلى دار الإسلام أو يقسموها. وقال مالك وأحمد: لا يسهملهم على كل حال. وعن الشافعي قولان، أحدهما: يسهم، والثاني: لا يسهم، انتهى. وقال ابن الهمام: وإذا لحقه المددفي دار الحرب قبل أن يخرجوا الغنيمة إلى دار الإسلام شاركهم المدد فيها عن الشافعي فيه قولان، وما ذكرناه بناء علىما مهدناه من أن الملك لا يتم للغانمين قبل إحراز الغنيمة بدار الإسلام، فجاز أن يشاركهم المدد إذا قام به الدليل،ولا ينقطع حق المدد إلا بثلاثة أمور: الإحراز بدار الإسلام والقسمة بدار الحرب وبيع الإمام الغنيمة قبل لحاقالمدد هذا، وعلى ما حققناه المبني تأكد الحق وعدمه. وما استدل به الشافعي من (صحيح البخاري) عن أبي هريرة قال: بعث صلي الله عليه واله وسلم أبانا على سرية قِبَل نجد، فقدم أبان وأصحابه على رسول الله صلي الله عليه واله وسلم بخيبر بعد ما فتحها، إلى أنقال: فلم يقسم لهم، لا دليل فيه؛ لأن وصول المدد في دار الإسلام لا يوجب شركة، وخيبر صارت دار إسلامبمجرّد فتحها، فكان قدومهم والغنيمة في دار الإسلام. وأما إسهامه لأبي موسى الأشعري على ما في (الصحيحين) عنه، قال: بلغنا مخرج رسول الله صلي الله عليه واله وسلم ونحنباليمن، فخرجنا مهاجرين إليه أنا وأخوان لي أنا أصغرهم، أحدهما: أبو بردة، والآخر: أبو رهم في بضع وخمسينرجلًاً من قومي، فركبنا سفينة، فألقتنا إلى النجاشي، فوافينا جعفر بن أبي طالب وأصحابه عنده، فقال جعفر: إنرسول الله صلي الله عليه واله وسلم بعثنا ههنا وأمرنا بالإقامة فأقيموا معنا، فأقمنا حتى قدمنا، فعافينا رسول الله صلي الله عليه واله وسلم حين افتتح خيبر،فأسهم لنا ولم يسهم لاحد غاب عن فتح خيبر إلا أصحاب سفينتنا، فقال ابن حبان في صحيحه: إنما أعطاهم منخمس الخمس؛ ليستميل قلوبهم لا من الغنيمة، وهو حسن. ألا ترى أنه لم يعط غيرهم ممن لم يشهدها وحمل بعض الشافعية على أنهم شهدوا قبل حوز الغنائم خلافمذهبهم؛ فإنه لا فرق عندهم في عدم الاستحقاق بين كون الوصول قبل الحوز أو بعده بعد كونه بعد الفتح. حاصله:أن السبب عندنا هو مجاوزة الدرب الفاصل بين دار الإسلام ودار الحرب على قصد القتال. وعند الشافعي شهودالوقعة، فالغانمون والمدد هما يشتركان عندنا في الغنيمة؛ لاستوائهما في هذا السبب. أخذته من شروح (الكنز).

Note 1

......اس میں ملکیت قائم نہیں ہوتی پس جب کوئی دلیل قائم ہوجائے تو امدادی دستہ کو ان کے ساتھ حصہ دیا جاسکتا ہے۔ امدادی دستہ کا حق تین امور سے قبل ساقط نہیں ہوتا۔ 1۔ دارالاسلام میں مال کو محفوظ کرنا۔ 2۔ دارالحرب میں مال کی تقسیم ہونا 3۔ امدادی دستہ کے آنے سے پہلے ہی امام کا مال غنیمت کو بیچ دینا۔ یہ ہماری تحقیق کے مطابق حق کے ثابت ہونے اور نہ ہونے پر مبنی ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جس حدیث شریف سے استدلال کیا ہے بخاری شریف میں وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان کو ایک فوجی دستہ میں امیر بنا کر نجد کی جانب روانہ فرمایا تو ابان اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر میں اس کے فتح ہونے کے بعد پہنچے۔ حدیث کے آخر میں ہے کہ ’’ان کو مال غنیمت تقسیم نہیں کیا گیا‘‘۔ اس حدیث شریف میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ امدادی دستہ کا دارالاسلام میں پہنچنا (حصہ میں) شرکت کا موجب نہیں ہے اور خیبر، اس کی فتحیابی کے ساتھ ہی دارالاسلام بن گیا تھا۔ پس ان کی آمد اس وقت ہوئی جب کہ مال غنیمت دارالاسلام میں تھا۔ اب رہا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حصہ دینا جیسا کہ صحیحین میں ان سے روایت ہے کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کی خبر پہنچی اور اس وقت ہم یمن میں تھے۔ تو ہم یعنی میرے دو بڑے بھائی جن میں میں چھوٹا تھا ایک ابو بردہ، دوسرے ابو رُہم میری قوم کے پچاس پر چند افراد کے قافلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کے ارادہ سے نکلے۔ اور ایک کشتی میں بیٹھ گئے تو وہ کشتی ہم کو نجاشی کے پاس پہنچا دی تو اس کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھی تھے۔ تو حضرت جعفر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہاں روانہ فرمایا ہے اور ہم کو یہاں قیام کا حکم فرمایا تو تم بھی ہمارے ساتھ قیام کرو۔ تو ہم وہاں ٹھہر گئے پھر (یہاں) پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی جب کہ خیبر فتح ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے ہمارے لئے حصہ عطا فرمایا۔ ہماری کشتی والوں کے سوا کسی ایسے کے لئے حصہ نہیں عطا فرمایا جو فتح خیبر سے غائب رہا ہو۔ ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح میں کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے قلوب کے میلان کے لئے خمس کے خمس میں سے عطا فرمایا مال غنیمت میں سے نہیں عطا فرمایا اور یہ بات عمدہ ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ آپ ﷺ نے ان کے کسی بھی رد و بدل خیبر میں شریک نہیں تھے حصہ نہیں عطا فرمایا۔ اور بعض شافعی حضرات نے اس کو اپنے مذہب کے خلاف اس بات پر محمول کیا ہے کہ وہ حضرات مال غنیمت جمع ہونے سے پہلے آئے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس (مذہب شافعی میں) فتح ہوجانے کے بعد مال غنیمت کو جمع کرنے سے پہلے یا بعد آنے میں کوئی فرق نہیں ہے وہ کسی صورت میں بھی حقدار نہیں ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کا سبب جنگ کے لئے اس سرحد سے آگے بڑھ جانا ہے جو دارالاسلام اور دارالحرب میں حد فاصل ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس جنگ میں شریک رہنا ہے پس ہمارے پاس مال غنیمت کو جمع کرنے والے اور امدادی دستہ دونوں مال غنیمت میں شریک ہیں کیونکہ وہ دونوں اس میں برابر موجود ہیں۔ (ماخوذ از: شروح کنز) کرنے پہلے آپ ﷺ کی خدمت میں آئے تھے۔

Hadith 3944

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5340
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی جنگ بدر کے موقعہ پر اور فرمایا کہ عثمان، اللہ اور اس کے رسول کی حاجت میں گئے ہوئے ہیں اور بیشک میں ان کے لئے بیعت کرتا ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے حصہ مقرر فرمایا22؎ اور ان کے سوا کسی اور کے لئے جو غائب تھا حصہ عطا نہیں فرمایا۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2726 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Gave him a share

(1) The statement: “Gave him a share”: Abu Hanifah cited this to argue the leader may give shares to those absent for a need he assigned. As in (Nayl al-Awtar). At-Tahawi said: Likewise, anyone absent from a battle due to a task assigned by the leader, like fighting elsewhere or fetching weapons or men from the land of Islam, shares in the spoils as if present, even if they do not return until after the spoils are taken. Similarly, one intending to join but assigned another task by the leader shares as if present. Abu Hurayrah’s Hadith suggests Aban was sent to Najd before Khaybar’s preparations, so his absence was not a task assigned to miss Khaybar, unlike one intending to join but reassigned.

Note 1

قوله

(١) قوله: فضرب له رسول الله صلي الله عليه واله وسلم بسهم: قد استدل أبو حنيفة بإسهامه صلي الله عليه واله وسلم لعثمان يوم بدر على أنه يسهم الإماملمن كان غائبًا في حاجة له بعثه لقضائها. أخذته من (نيل الأوطار). وقال الطحاوي: وكذلك كل من غاب عن وقعةالمسلمين بأهل الحرب بشغل يشغله به الإمام من أمور المسلمين مثل أن يبعثه إلى جانب آخر من دار الحرب لقتالقوم آخرين، فيصيب الإمام غنيمة بعد مفارقة ذلك الرجل إياه، أو يبعث برجل ممن معه من دار الحرب إلى دارالإسلام؛ ليمده بالسلاح والرجال، فلا يعود ذلك الرجل إلى الإمام حتى يغنم غنيمة، فهو شريك فيها،وهو كمن حضرها، وكذلك من أرادها فرده الإمام عنها، وشغله بشيء من أمور المسلمين فهو شريك فيها، وهو كمن حضرها واما حديث ابي هريرة فانما ذلك عندنا -والله اعلم – ان النبي صلي الله عليه واله وسلم وجه ابانا الي نجد قبل ان يتهيأ خرجه إلى خيبر، فتوجه أبان في ذلك، ثم حدث من خروج النبي صلي الله عليه واله وسلم إلى خيبر ما حدث، فكان ما غاب فيه أبانمن ذلك عن حضور خيبر ليس هو شغلا شغله النبي صلي الله عليه واله وسلم به عن حضورها بعد إرادته إياه، فيكون كمن حضرها.

Hadith 3945

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5341Noor 5342
سلمہ ابن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام رباح کے ساتھ روانہ فرمایا اور میں ان کے ساتھ تھا اور جب ہم صبح کئے تو اچانک عبدالرحمن فزاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہو گیا اور مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور تین مرتبہ آواز دیا ”حملہ ہو گیا“، پھر اس میں قوم کے پیچھے نکل پڑا ان پر تیر برساتا جاتا اور رجز پڑھتے ہوئے کہتا جاتا تھا۔ میں ابن اکوع ہوں اور آج کا دن (ماں کا) دودھ پینے والوں کا ہے۔ پس میں مسلسل ان پر تیر چلاتا رہا اور ان کا راستہ کاٹا یہاں تک کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سواری کے اونٹوں کو، جن کو اللہ نے پیدا کیا، میں نے ان کو اپنی پیٹھ کے پیچھے کر لیا پھر میں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا، ان پر تیر چلاتے ہوئے یہاں تک کہ وہ تیس سے زائد چادریں اور تیس نیزے، اپنا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے چھوڑ دئے اور وہ نہیں چھوڑتے کوئی چیز مگر میں اس پر پتھر کے نشان رکھ دیتا تا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اور آپ ﷺ کے صحابہ اس کو پہچان لیں۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سواروں کو دیکھا اور ابوقتادہ جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے گھوڑا سوار تھے عبدالرحمن کے پاس پہنچ گئے اور اس کو قتل کر ڈالا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا آج ہمارے بہترین گھوڑے سوار ابوقتادہ ہیں اور ہماری پیدل فوج میں بہترین سلمہ ہیں۔ پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مجھے دو حصے عطا فرمائے گھوڑے سوار کا ایک حصہ اور پیدل فوج کا ایک حصہ23پس آپ ان دونوں کو میرے لئے جمع کئے پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے مدینہ منورہ کو واپس ہوتے عضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا ہے۔ (مسلم) اور ابن حبان نے اس کی روایت کی اور کہا ہے کہ سلمہ بن اکوع اس جنگ میں پیدل تھے آپ ﷺ نے انہیں اپنے خمس میں سے عطا فرمایا نہ کہ مسلمانوں کے سہمین میں سے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1807a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

He gave me two shares—a horseman’s and a foot soldier’s

(1) The statement: “He gave me two shares—a horseman’s and a foot soldier’s”: He gave me a horseman’s share alongside a foot soldier’s because most of the spoils’ recovery was due to Salamah. The leader may give extra from the fifth, not the Muslims’ shares, to one who exerts great effort. He did not give all due to no prior tanfil before the battle. Post-battle tanfil is from the fifth, as detailed by As-Sarakhsi. As in (Al-Mirqat), (Fath al-Qadir), and (Radd al-Mukhtar).

Note 1

قوله

(١) قوله: ثم أعطاني رسول الله صلي الله عليه واله وسلم سهمين سهم الفارس وسهم الراجل إلخ: أي أعطاني سهم فارس مع سهمراجل؛ لأن معظم أخذ تلك الغنيمة كانت بسبب سلمة،وللإمام أن يعطي من كثر سعيه في الجهاد شيئًا زائدًا علىنصيبه من الخمس لا من سهمان المسلمين، وإنما لم يعطه صلي الله عليه واله وسلم الجميع؛ لأنه لم ينفل صلي الله عليه واله وسلم قبل القتال، وكل ما وردمن التنفيل بعد القتال فهو محمول عندنا على أنه من الخمس، كما بسطه السرخسي. التقطته من (المرقاة) و(فتحالقدير) و (رد المختار).

Hadith 3946

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5343
ابوالجویریہ جرمی سے روایت ہے کہ معاویہ کی امارت کے زمانے میں مجھے روم کی سرزمین میں ایک سرخ گھڑا ملا۔ اس میں اشرفیاں تھیں۔ اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے صحابہ میں سے قبیلہ بنی سلیم کے ایک صاحب ہمارے امیر تھے۔ ان کو معن بن یزید کہا جاتا ہے میں اس کو ان کے پاس لے کر آیا تو انہوں نے اس کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا اور مجھے بھی اس کے برابر دیا جو آپ نے ان میں سے کسی آدمی کو دیا تھا۔ پھر انہوں نے کہا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نہ ہوتا کہ ”نفل نہیں ہے مگر خمس نکالنے کے بعد“24 تو تم کو ضرور دے دیتا۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2753 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.897

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

No tanfil except after the fifth

(1) The statement: “No tanfil except after the fifth”: This indicates that he did not give Abu al-Juwayriyah extra from the dinars due to the Prophet’s (ﷺ) saying, which prohibited tanfil before the fifth. This suggests tanfil comes from the four-fifths for the fighters, as per the previous Hadith. The jar was likely considered fay’ (booty returned to the treasury), so no tanfil was given from it. As in (Al-Mirqat). In (Bidayat al-Mujtahid): Scholars agree the leader may give tanfil to whomever he wishes beyond their share. They differ on its source: some say from the fifth for the Muslim treasury (Malik’s view); others say from one-fifth of the fifth, the leader’s share (Shafi‘i’s choice); others say from the total spoils (Ahmad’s view). In (Fath al-Qadir): Per Hanafis, tanfil is from the four-fifths before securing in the land of Islam; after securing, it is only from the fifth. If fighting occurs in the land of Islam due to an enemy attack, tanfil is only from the fifth, as spoils are secured upon capture.

Hadith 3947

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5344
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض فوجی دستوں کو جن کو آپ ﷺ روانہ فرماتے تھے عام لشکر کی تقسیم کے سوا خاص ان کے لئے نفل عطا فرماتے تھے۔25 (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3135 (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

Would give tanfil to some he sent on expeditions, etc.

(2) The statement: “Would give tanfil to some he sent on expeditions, etc.”: In (As-Siyar al-Kabir): This tanfil involves saying, “Whoever kills an enemy gets his spoils,” or “Whoever captures a captive keeps him,” as the Prophet (ﷺ) ordered announced on Badr and Hunayn. Or, he sent an expedition, saying, “You get a third of what you take after the fifth,” or left it unrestricted. If unrestricted, they get a third of the spoils before their exclusive share, sharing the rest with the army after the fifth. If specified, the spoils are divided after the fifth, with a third exclusively for them, and they share the rest with the army. Elsewhere, it says: If the leader sends an expedition from the land of Islam and assigns a third after or before the fifth, this tanfil is invalid, as it only cancels the fifth or the horseman’s preference over the foot soldier, which is impermissible. In the land of war, tanfil allocates a specific portion to them, as the army shares the spoils, making it valid. As in (Radd al-Muhtar): Though this cancels the fifth for spoils, the intent is encouragement, prioritizing those who cancel the army’s share in spoils, and the fifth’s cancellation follows. What cannot be intended directly may follow indirectly.

Note 2

قوله

(٢) قوله: كان ينفل بعض من يبعث من السرايا إلخ: قال في (السير الكبير)؛ وصورة هذا التنفيل: أن يقول: من قتلقتيلا فله سلبه، ومن أسر أسيرا فهو له، كما أمر به رسول الله صلي الله عليه واله وسلم المنادي حين نادى يوم بدر ويوم حنين أو يبعثسرية، فيقول: لكم الثلث مما تصيبون بعد الخمس، أو يطلق بهذه الكلمة، فعند الإطلاق لهم ثلث المصاب قبل أنيختصون به، وهم شركاء الجيش فيما بقي بعد ما يرفع منه الخمس. وعند التقييد بهذه الزيادة يخمس ما أصابوا،ثم يكون لهم الثلث مما بقي، يختصون به، وهم شركاء الجيش فيما بقي. وقال فيه في محل آخر: ولو أن الإمام بعثسرية من دار الإسلام، فنفل لهم الثلث بعد الخمس، أو قبل الخمس، كان هذا التنفيل باطلا؛ لأن ما خص بعضهمبالتنفيل، ولا مقصود من هذا التنفيل سوى إبطال الخمس، وإبطال تفضيل الفارس على الراجل، وذلك لا يجوزبخلاف ما إذا التقوا في دار الحرب، ففي التنفيل هناك معنى التخصيص لهم لأن الجيش شركاء في الغنيمة ففني التنفيلتخصيصهم ببعض المصاب، وذلك مستقيم اهـ. وقال في (رد المحتار): وهذا وإن كان فيه إبطال الخمس عنالأسلاب، لكن المقصود منه التحريض وتخصيص القائلين بإبطال شركة العسكر عن الأسلاب، ثم يثبت إبطالالخمس عنها تبعًا. وقد يثبت تبعًا ما لا يثبت قصدًا.

Hadith 3948

Volume 3

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 5345
حبیب بن مسلمہ فہری سے روایت ہے انہوں نے کہا میں حاضر رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ ﷺ نے شروع میں ایک چوتھائی اور واپسی کے موقعہ پر ایک تہائی بطور نفل عطا فرمایا۔26؎(ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2749 (unverified) 70% confidence · Validation similarity: 0.640

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Give a quarter for the initial engagement and a third for the return

(1) The statement: “Give a quarter for the initial engagement and a third for the return”: If a group from the army engages the enemy before the army arrives, they get a quarter of the spoils, with the army sharing three-quarters. If they engage on the return from battle, they get a third due to greater hardship and risk, with the army sharing two-thirds. The expedition and army share the same goal initially, so reinforcements reach them, unlike the return. As in (Al-Mirqat).

Note 1

قوله

(١)قوله: نفل الربع في البداءة والثلث في الرجعة: أي إذا انهضت طائفة من العسكر، فوقعت بطائفة من العدوّ قبلوصول الجيش كان لهم الربع مما غنموا، ويشركهم سائر العسكر في ثلاثة أرباعه، وإن رجعوا من الغزو، ثم وقعطائفة من العسكر بالعدو كان لهم الثلث مما غنموا الزيادة مشقتهم وخطرهم ويشركهم سائرهم في الثلثين؛ لأنوجهة السرية والجيش في البداء واحدة، فيصل مددهم إليهم بخلاف الرجعة. كذا في (المرقاة).