Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 35

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

38 narrations · In source reading order

Hadith 1635

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1880
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہ رمضان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تہجد کی کیفیت اور تعداد رکعات کے بارے میں دریافت کیا، ام المؤمنین ارشاد فرمائیں: حضور اقدس تہجد میں گیارہ رکعتوں سے زائد نہ پڑھتے تھے، خواہ رمضان ہو یا نہ ہو۔ چار رکعتیں تو ایسی پڑھتے کہ تم ان کی خوبی اور ان کا طول قرأت تو دریافت ہی نہ کرو، اس کے بعد چار رکعتیں اور پڑھتے تھے ان کی خوبی اور درازی بھی ناقابل دریافت ہے (دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی) پھر اخیر میں آپ تین رکعتیں (وتر) کے پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Guard strictly the prayers, and the middle prayer." (Al-Baqarah, 2:238)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1147 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 738a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

then he prayed four rak'ahs

(1) The phrase "then he prayed four rak'ahs" indicates that the night prayer is performed in sets of four rak'ahs. Otherwise, she would have said, "eight rak'ahs—do not ask about their beauty and length." This is mentioned in Fath al-Qadir.

Note 1

قوله

(۱) قوله : ثم يصلي أربعا فهذا الفصل يفيد أن صلاة الليل أربعا أربعا، وإلا لقالت: ثمانيا، فلا تسأل عن حسنهن وطولهن». كذا في فتح القدير».

Note 1

ف: اس حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تہجد کی رکعتوں کی تفصیل بتلا رہی ہیں جس کے آخر میں وتر کا ذکر ہے، اگر وتر ایک رکعت علیحدہ سلام سے ہوتی تو ام المؤمنین یوں ارشاد فرماتیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعتیں دو رکعت ایک سلام سے اور ایک رکعت ایک سلام سے ادا فرماتے تھے، ایسا نہ کہہ کر یہ فرمانا کہ وتر کے تین رکعتیں ادا فرماتے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ وتر کی تین رکعتیں ایک سلام سے ادا کرنا چاہئے۔

Hadith 1636

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1881
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتیراء سے منع فرمائے ہیں (یعنی وتر ہو یا کوئی اور نماز صرف ایک رکعت پڑھی جائے جس کو تکبیر تحریمہ سے شروع کر کے سلام پر ختم کرے اور دوسری رکعت اس کے ساتھ نہ ملائے ایسی نماز کی فرض میں کوئی نظیر ملتی ہے نہ نوافل میں اور نہ سنن میں، اس لئے وتر بھی ایک رکعت نہیں پڑھنی چاہئے۔ (اس کی روایت ابن عبدالبر نے تمہید میں کی ہے۔)

Hadith 1637

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1882
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) پڑھا کرتے تھے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور ترمذی نے کہا ہے کہ علماء صحابہ اور علماء تابعین کا بھی یہی مذہب ہے وہ فرماتے ہیں کہ وتر کے تین رکعات (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) پڑھنا چاہئے۔

[Narrated by Tirmidhi reported: Some scholars among the companions of the Prophet (ﷺ) and others held this opinion, stating that a person should pray Witr with three rak'ahs]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 460 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1638

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1883
عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے کتنے رکعت پڑھا کرتے تھے؟ ام المومنین ارشاد فرمائیں کہ آپ کبھی تہجد کے چار رکعت پڑھتے تھے، اور تین رکعت وتر کے (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) پڑھتے تھے اور کبھی تہجد کے 6 رکعت پڑھتے تھے، اور وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور کبھی تہجد کے آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور کبھی تہجد کے دس رکعت پڑھتے تھے اور وتر کے تین رکعات (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور وتر و تہجد کا مجموعہ سات رکعت سے کم اور تیرہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1357 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

and three

(1) The phrase "and three" indicates that Witr is essentially three rak'ahs, and what precedes it is considered part of the night prayer (Tahajjud). Referring to the entire prayer as Witr is a metaphorical usage. This is supported by the authentic hadith: "Make the last of your night prayer Witr."

Note 1

قوله

(۱) قوله: وثلاث قال العلامة العيني: فقد نصت على الوتر بثلاثة، ولم تذكر الوتر بواحدة، فدل على أنه لا اعتبار للركعة البتيراء. انتهى وقال علي القاري وفي إتيانها بثلاث في كل عدد دلالة ظاهرة بأن الوتر في الحقيقة هو الثلاث، وما وقع قبله من مقدمامته المسمى بصلاة التهجد، فإطلاق الوتر على الكل مجاز، ويؤيده الحديث الصحيح: اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا.

Note 1

ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث شریف سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے تین رکعات ہوتے ہیں، اس لئے کہ ام المومنین نے بار بار وتر کے تین رکعات کا ذکر فرمایا ہے اگر وتر ایک رکعت ہوتی تو ام المومنین اس کو ظاہر فرماتیں، ام المومنین کا ایک رکعت کا ذکر نہ فرمانا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر کے تین رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت کبھی نہیں پڑھی گئی۔ اس لئے کہ وہ بتراء ہے جس کی ممانعت گزر چکی ہے۔

Hadith 1639

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1884
کرخی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وتر کی نماز ایک رکعت پڑھی (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے کہ وہ ایک رکعت پڑھ رہے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو) حضرت ابن مسعود (ایک رکعت کے ثبوت سے) انکار کئے اور فرمائے: یہ کیسی نماز ہے؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس قسم کی بتراء نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا (حضرت ابن مسعود کے اس انکار کی سعد ابن ابی وقاص نے تردید نہیں کی اور خاموش رہے)۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Hadith 1640

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1885
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کی نماز دن کی وتر ہے (اس کے پہلے جتنی فرض نمازیں ہیں سب کی رکعتیں جفت ہیں، مغرب کے فرض کے تین رکعتوں سے تمام نمازیں طاق ہوگئیں۔ ایسے ہی رات کی نماز یعنی تہجد جفت ہے، مثل مغرب کے تین رکعت وتر کو ایک سلام سے پڑھ کر) رات کی نماز کو طاق بناؤ۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے، اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے (اس حدیث شریف میں وتر کو مغرب کے فرض سے تشبیہ دی گئی ہے اس لئے جیسے مغرب کے فرض کی تین رکعتیں ہیں، ایسے ہی وتر کی بھی تین رکعتیں ہی ہوں گی)۔

Hadith 1641

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1886Noor 1887
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر دو ہیں: ایک دن کی نمازوں میں وتر ہے اور دوسری رات کی نمازوں میں وتر ہے۔ دن کی نمازوں میں جو وتر ہے وہ مغرب کے فرض ہیں (جس کے تین رکعت ہیں) ایسا ہی (عشاء اور تہجد) جو رات کی نمازیں ہیں ان میں بھی ایک نماز ہے جس کو وتر کہتے ہیں، وہ بھی مثل مغرب کے فرض کے (تین رکعت والی) ہے۔ اس تشبیہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دن کی وتر جیسے اور دارقطنی کی ایک اور روایت میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مرفوعاً بھی مروی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

فرض ہے ایسا ہی رات کی وتر بھی واجب ہے)۔ (اس حدیث کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔)

Hadith 1642

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1888
ابو خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ رضی اللہ عنہ سے نماز وتر کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعلیم دی ہے کہ نماز وتر مغرب کے فرض کی طرح (تین رکعت والی) ہے (اور واجب ہے) نماز وتر رات کی وتر ہے اور مغرب (کے فرض) دن کی وتر ہے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 1643

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1889
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وتر پڑھا کرتے تو دو رکعت کے بعد (قعدہ کر کے) بغیر سلام کئے کے کھڑے ہو جاتے تھے (پھر تیسری رکعت پڑھ کر ان تینوں رکعتوں کو ایک سلام سے ختم فرمایا کرتے تھے) (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1698 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1644

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1890
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وتر پڑھتے تو دو رکعت کے بعد قعدہ کر کے (تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے اور تیسری رکعت کے ختم پر (مثل مغرب کے فرض کے) آخر میں سلام پھیرتے تھے۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Al-Mustadrak al-Hakim 1140 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Among those who said that Witr is three rak'ahs without separation are Umar, Ali, Ibn Mas'ud, Hudhayfah, Ubayy ibn Ka'b, Ibn Abbas, Anas, Abu Umamah, Umar ibn Abdul-Aziz, and the seven jurists.

(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "Among those who said that Witr is three rak'ahs without separation are Umar, Ali, Ibn Mas'ud, Hudhayfah, Ubayy ibn Ka'b, Ibn Abbas, Anas, Abu Umamah, Umar ibn Abdul-Aziz, and the seven jurists." Ali Al-Qari said: "It is surprising that Imam Nawawi considered praying Witr with one rak'ah as the view of the majority."

Note 2

قوله

(۲) قوله: يوتر بثلاث لا يسلم إلا في آخرهن: قال العلامة العيني: وممن قال: «يوتر بثلاث، لا يفصل بينهن عمر وعلي وابن مسعود وحذيفة وأبي بن كعب وابن عباس وأنس وأبو أمامة وعمر بن عبد العزيز والفقهاء السبعة. انتهى وقال علي القاري: فالعجب من جعل النووي الإيتار بواحدة مذهب الجمهور.

Note 1

ف: واضح ہو کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وتر کی تین رکعات ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہیں۔ مذہب حنفی بھی یہی ہے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس، حضرت انس، حضرت ابو امامہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز اور مشہور فقہاء سبعہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی قول ہے کہ وتر تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہے، اور اسی پر ان حضرات کا عمل درآمد رہا ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے ایسا ہی لکھا ہے۔

Hadith 1645

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1891
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر (کے تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ سے پڑھتے تھے) اس کی پہلی رکعت میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَىٰ“ الخ اور دوسری رکعت میں ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ الخ اور تیسری رکعت میں ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ الخ پڑھا کرتے تھے (دوسری رکعت میں قعدہ کے بعد بغیر سلام کے تیسری رکعت کے لئے اٹھ جاتے تھے) اور سلام صرف ان تینوں رکعتوں کے آخر میں پھیرتے تھے۔ (اس لحاظ سے آپ کی وتر تین رکعت ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ہوتی تھی) اور وتر کا سلام پھیرنے کے بعد ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ“ تین مرتبہ فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1699 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1646

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1892
خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک روز) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پانچ فرض نمازوں پر ایک زائد نماز عطا کی ہے اور وہ وتر ہے (صاحبو جانتے ہو کہ وتر کیا ہے؟ تمہارے سمجھانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ تمہارے پاس جیسے مرغوب ہیں، اور سارے اموال سے زیادہ قیمتی ہیں ایسا ہی) وتر (بلحاظ ثواب کے) ان سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے (12 رکعت سنت مؤکدہ جو فرض نمازوں کے تابع ہیں، ان کی طرح وتر کسی نماز کے تابع نہیں بلکہ وتر ایک مستقل اور زائد نماز ہے اور واجب ہے، اس لئے اس کا وقت تم کو بتایا جاتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت تمہارے لئے عشاء اور صبح صادق کے درمیان رکھا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 452 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1418 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ فرض نمازوں کے سوا دن رات میں سنن مؤکدہ، تہجد اور دیگر نوافل جو پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا جیسے کہ وتر کا ذکر اس حدیث شریف میں کیا گیا ہے۔ حدیث شریف کے الفاظ پر غور کیجئے: وتر کے لئے ارشاد ہوا ہے فرض نمازوں پر وتر زائد کی جا رہی ہے، جو چیز زیادہ ہوتی ہے اور جس پر زائد ہوتی ہے وہ اسی کے جنس سے ہوتی ہے اسی وجہ سے 12 رکعت سنتوں کو فرائض پر زائد کیا گیا نہیں۔ ارشاد فرمایا گیا؛ تہجد کو عشاء پر زائد کیا گیا نہیں، ارشاد فرمایا گیا: ان کے برخلاف ”وتر کو پانچ فرضوں پر زائد کیا گیا“ ارشاد ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ وتر بھی فرائض کے قسم سے ہے اس لئے وتر واجب ہے۔

Hadith 1647

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1893
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح صادق کے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ (اس لئے کہ صبح صادق ہوتے ہی وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 754 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1648

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1894
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے دلی دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مہینہ میں تین دن روزے رکھنے کی، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی اور اس بات کی نصیحت فرمائی ہے کہ سونے سے پہلے وتر پڑھا کروں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1981 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 721a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1649

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1895
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات میں جو جو نمازیں پڑھا کرتے ہو، ان سب نمازوں کے بعد وتر پڑھا کرو (اور وتر کو ان سب نمازوں کے بعد پڑھنا مستحب ہے، اگر کوئی وتر کے بعد اور نفل نمازیں پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 751a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

This is a recommendation, not an obligation.

(2) Ali Al-Qari said: "This is a recommendation, not an obligation."

Note 1

قوله

(۱) قوله: اجعلوا إلخ : وقال علي القاري فيه الأمر للندب.

Hadith 1650

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1896
غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ مجھے یہ تو بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کا غسل اول شب میں کیا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ تو ام المومنین ارشاد فرمائیں کہ کبھی تو آپ اول شب میں غسل فرما لیا کرتے تھے اور کبھی آخر میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! خدا کا شکر ہے کہ جس نے دین میں آسانی فرما دی، پھر میں نے دریافت کیا: اچھا یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اول شب میں وتر پڑھا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ ام المومنین ارشاد فرمائیں کہ کبھی آپ اول شب میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے (اور پھر اپنے وقت پر تہجد پڑھا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ وتر پڑھنے کے بعد اور نمازیں پڑھنا جائز ہے) اور کبھی آخر شب میں (تہجد کے بعد) وتر پڑھا کرتے تھے، میں نے کہا: اللہ اکبر! خدا کا شکر ہے جس نے دین میں وسعت عطا فرمائی۔ پھر میں نے دریافت کیا: اچھا یہ بھی بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن پاک (تہجد میں) آواز سے پڑھا کرتے تھے یا آہستہ؟ ام المومنین ارشاد فرمائیں کہ کبھی آپ قرآن پاک (تہجد میں) آواز سے پڑھتے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، خدا کا شکر ہے جس نے دین میں آسانی کر دی۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے صرف حدیث کے آخری حصہ کو یعنی تہجد میں قرآن پڑھنے کے متعلق جو ذکر ہے صرف اسی کو بیان کیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 226 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1651

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1897
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھتے تھے، کبھی عشاء کے بعد اول شب میں وتر پڑھے ہیں (اس لئے جس کو آخر شب میں بیدار ہونے کا بھروسہ نہ ہو تو اس کو اول شب میں ہی وتر پڑھ لینا افضل ہے) اور کبھی آپ رات کے درمیانی حصہ میں بھی وتر پڑھے ہیں، اور کبھی آپ رات کے آخری حصہ میں بھی وتر پڑھے ہیں (اس لئے جس کو آخر شب میں تہجد کے لئے بیدار ہونے کا بھروسہ ہو تو اس کو آخر شب ہی میں وتر پڑھنا افضل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخر شب میں بیدار ہونے کی عادت تھی اس لئے آپ کی وتر آخری عمر میں رات کے آخری حصہ میں تہجد کے بعد ہوا کرتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 996 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 745a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1652

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1898
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ پچھلی رات میں نہ اٹھ سکے گا تو شروع رات میں (نماز عشاء کے بعد) وتر پڑھ لے (اس اہتمام سے معلوم ہوا کہ وتر واجب ہے اگر وتر واجب نہ ہوتی تو اس طرح اہتمام نہیں کیا جاتا جیسے اور سنتوں کے لئے ایسا اہتمام نہیں کیا گیا) اور جس کو امید ہو کہ پچھلی رات میں اٹھ سکے گا تو وتر آخر شب میں پڑھے کیونکہ آخر شب کی نماز میں رحمت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں (اور اللہ تعالیٰ بھی آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اس لئے ایسے شخص کے لئے آخر شب میں وتر پڑھنا افضل ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 755a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1653

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1899Noor 1900
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ وتر واجب ہے جو وتر نہ پڑھے وہ ہمارے تابعین میں سے نہیں ہے، وتر واجب ہے جو وتر نہ پڑھے وہ ہمارے تابعین میں سے نہیں ہے۔ وتر واجب ہے جو وتر نہ پڑھے وہ ہمارے تابعین میں سے نہیں ہے (تین مرتبہ فرمایا اس لئے کہ میں پابندی سے وتر پڑھا کرتا ہوں، جو میرا تابع ہے اس کو چاہئے کہ وتر کو واجب سمجھ کر پابندی سے پڑھا کرے) (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے، اور حاکم نے بھی اس کی روایت مستدرک میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔) اور دارقطنی کی ایک روایت میں ابوایوب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر حق
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1419 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The statement 'Witr is a right' means it is obligatory. The evidence for this is the statement: 'Whoever does not pray Witr is not from us,' which is a severe warning. Such a statement is only made regarding the abandonment of an obligation or a duty, especially since it is repeated three times. Such emphatic language is not used for recommended acts.

(1) Al-Allamah Al-Ayni said: "The statement 'Witr is a right' means it is obligatory. The evidence for this is the statement: 'Whoever does not pray Witr is not from us,' which is a severe warning. Such a statement is only made regarding the abandonment of an obligation or a duty, especially since it is repeated three times. Such emphatic language is not used for recommended acts." In Al-Maraqat, it is mentioned: "The phrase 'is not from us' may be used for non-obligatory acts, such as the statement: 'Whoever does not clean himself after relieving himself is not from us,' or 'Whoever avoids marriage despite being able to marry is not from me,' even though marriage is a Sunnah, not an obligation by consensus. However, it may also be used for obligatory acts, as in the verse: 'Indeed, those who have divided their religion and become sects—you are not associated with them in anything.' (Al-An'am, 6:159) We hold that Witr is obligatory because the evidence is speculative."

Note 1

قوله

(۱) قوله: الوتر حق: قال العلامة العيني: قوله: الوتر حق أي واجب، والدليل على هذا المعنى قوله: «فمن لم يوتر فليس منا»، وهذا وعيد شديد. ولا يقال مثل هذا إلا في حق تارك فرض أو واجب، ولا سيما وقد تأكد ذلك بالتكرار ثلاث مرات ومثل هذا الكلام بهذه التأكيدات لم يأت في حق السُّنَن. انتهى وقال في المرقاة: ولما كان «ليس منا» قد يقال: في غير الواجب، كقوله : ليس منا من استنجى من الريح، وكقوله في تارك النكاح مع القدرة مع أنه سنة لا واجب إجماعا فمن رغب عن سنتي فليس مني. وقد يقال: في الفرض، كقوله تعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾ (الأنعام: (١٥٩) قلنا بوجوب الوتر؛ لكون الدليل ظنيا.

Note 1

ہے (حق کے دو معنی ہیں: ایک معنی تو ثابت کے ہیں، اور دوسرے معنی واجب کے۔ یہاں حق کے معنی ثابت کے نہیں ہیں بلکہ واجب کے ہیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور عطف تفسیری خود ارشاد فرمایا کہ) وتر حق ہے یعنی واجب ہے۔

Hadith 1654

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1901Noor 1902
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر ہر مسلمان پر واجب ہے۔ (اس کی روایت بزار نے کی ہے۔) اور عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد امام احمد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے اپنی سند سے روایت کی ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام کا سفر کئے تھے تو وہاں دیکھا کہ لوگ وتر نہیں پڑھا کرتے ہیں تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یہاں کے لوگ وتر کیوں نہیں پڑھتے ہیں؟ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ (اس طرح آپ کے حیرت کے ساتھ دریافت کرنے سے مجھے تعجب ہو رہا ہے) کیا وتر واجب ہے؟ (کہ جس کے نہ پڑھنے سے آپ اس طرح دریافت کر رہے ہیں)۔ حضرت معاذ نے فرمایا: ہاں بے شک وتر واجب ہے (اس میں کیا شک ہے؟ وتر واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ میرے رب نے (فرائض پر) ایک اور نماز زیادہ فرمائی ہے اور وہ وتر ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے کہ اللہ تعالیٰ
Commentary and footnotes (1)

Note 1

نے فرائض پر وتر کو زیادہ کیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے اس لئے کہ جو چیز جس پر زیادہ ہوتی ہے وہ اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یہاں وتر فرائض پر زیادہ ہو رہی ہے، اس لئے وتر واجب ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر کو بہت پابندی سے پڑھنا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے، فرائض کے جیسے اوقات بتائے گئے ہیں، ایسے ہی وتر کا ابتدائی اور آخری وقت بھی بتایا گیا ہے کہ) اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ وتر ایک مستقل نماز ہے اور واجب ہے۔)

Hadith 1655

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1903Noor 1904Noor 1905
خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک روز) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پانچ فرض نمازوں پر ایک زائد نماز عطا کی ہے اور وہ وتر ہے (صاحبو! جانتے ہو کہ وتر کیا ہے؟ اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر وتر کو فرض کیا ہے (جو ظن سے ثابت ہے جس کا دوسرا نام واجب ہے، اور یقینی پانچ فرض نمازوں پر) وتر کو زائد کیا ہے (یہ زائد جنس پر زائد ہوا ہے انہی کے جنس کا ہونے سے واجب ہے)۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرائض پر ایک اور نماز زیادہ کی ہے اور وہ وتر ہے (جیسے فرائض کی حفاظت کرتے ہو اور ان کو پابندی سے پڑھتے ہو، ایسے ہی) وتر کی بھی حفاظت کرو، اور اس کو پابندی سے پڑھا کرو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1418 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 452 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1226 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1226

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

(1) The evidence for the obligation of Witr from the text of the hadith is based on several points: The utmost attention and care given to its status, as evidenced by the Prophet's (ﷺ) reddened face, ascending the pulpit, praising Allah, gathering the companions, and emphasizing its superiority over red camels. These are characteristics of obligatory acts. Some narrations explicitly use the wording of command, and the command is inherently indicative of obligation unless there is evidence to the contrary. An addition to something is only meaningful if it is of the same nature as what is being added to. Since what is being added to is obligatory, the addition is also obligatory, though the evidence is not definitive, making it a Wajib.)

Note 2

Abu Dawud remained silent about it

(2) The statement "Abu Dawud remained silent about it" refers to his habit of remaining silent about a hadith he narrated, which indicates that he considered it authentic and was satisfied with it.

Note 1

قوله

(۱) قوله: خرج علينا إلخ أما الاستدلال على وجوب الوتر بمتن الحديث فبوجوه الأول: غاية الاهتمام بشأنه والاعتناء بمكانه، حتى روي احمرار الوجه وصعود المنبر وتمهيد الحمد لله والثناء عليه والأمر باجتماع الصحابة وبيان الخيرية من حمر النعم وغير ذلك، وهذا كله من شواكل الفرائض والثاني: أن متون بعض الطرق مصرحة بصيغة الأمر أو بلفظ الأمر، والأمر حقيقة في الوجوب، ولا يعدل عنه إلا بضرورة والثالث: أن الزيادة على شيء إنما تحقق إذا كان من جنس المزيد عليه، والمزيد عليه فرض فكذا الزائد، إلا أن الدليل غير قطعي، فصار واجبا.

Note 2

قوله

(۲) قوله: سكت أبو داود عنه من عادته إذا سكت عن حديث أخرجه يدل على صحته عنده ورضاه به.

Note 1

تمہارے سمجھانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ تمہارے پاس جیسے مرغوب ہیں اور سارے اموال سے زیادہ قیمتی ہیں ایسے ہی) وتر (بلحاظ ثواب کے) ان سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے (12 رکعت سنت مؤکدہ جو فرض نمازوں کے تابع ہیں، ان کی طرح وتر کسی نماز کے تابع نہیں بلکہ وتر ایک مستقل اور زائد نماز ہے، اور واجب ہے اس لئے کہ اس کا وقت تم کو بتایا جاتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت تمہارے لئے عشاء اور صبح صادق کے درمیان رکھا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔) اور اس کی روایت ابن ماجہ نے بھی کی ہے اور حاکم نے مستدرک میں اور امام احمد نے اپنی مسند میں اور دار قطنی نے اپنی سنن میں اور طبرانی نے اپنی معجم میں اس کی روایت اسی طرح کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ابوداؤد نے اس حدیث کو روایت کر کے سکوت اختیار کیا ہے اور ابوداؤد کا سکوت حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔)

Hadith 1656

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1906
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح صادق ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو، (اس لئے کہ صبح صادق طلوع کرتے ہی وتر کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ (اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 754a (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 469 (unverified) 87% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1657

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1907
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ وتر ہیں یعنی یکتا ہیں (ان کی ذات کے جیسی کسی کی ذات نہیں ساری مخلوقات اپنی ذات میں قابل تقسیم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات قابل تقسیم نہیں، ایسے ہی اللہ کے صفات کے جیسے کسی کے صفات نہیں، صفات کے لحاظ سے مخلوقات ایک دوسرے کے مشابہ ہو سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے صفات کے مشابہ کوئی نہیں، اور اسی طرح اللہ کے افعال کے جیسے کسی کے افعال نہیں، مخلوقات کے افعال میں مدد دینے والے اور شریک رہا کرتے ہیں لیکن اللہ کے افعال میں مدد دینے والا) اور شریک کوئی نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ وتر ہیں یعنی یکتا ہیں) وہ وتر کو پسند فرماتے ہیں (اور چاہتے ہیں کہ ہر چیز وتر یعنی طاق رہے) (جیسے اصل تورات سے مراد یہود ہیں، اور اصل انجیل سے مراد نصاریٰ ہیں، ایسے ہی اصل قرآن سے مراد مسلمان ہیں تو گویا یو ں ارشاد ہو رہا ہے) مسلمانو! تم وتر پڑھا کرو (تاکہ تمہاری رات کی نمازیں بھی طاق ہو جائیں، تمہارے وتر پڑھنے سے تمہاری رات کی نمازیں بھی طاق ہو جائیں گی۔ جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، یہ شان جو بیان ہوئی ہے وہ سنت کی نہیں ہوتی بلکہ واجب ہی کی یہ شان ہوتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ وتر واجب ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 453 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1416 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1675 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 3

so pray Witr

(3) The statement "so pray Witr" is a command, and commands indicate obligation. The phrase "people of the Quran" linguistically includes anyone who has memorized even a single verse, encompassing both those who have memorized the Quran and others, as the Quran was distributed among the companions during the Prophet's time.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فأوتروا أمر وهو للوجوب، وأهل القرآن» بحسب اللغة يتناول كل من معه شيء من القرآن ولو كان آية، فيدخل فيه الحفاظ وغيرهم على أن القرآن كان في زمنه مفرقا بين الصحابة.

Hadith 1658

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1908
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نیند کی وجہ سے وتر نہ پڑھ سکے (اور بغیر وتر پڑھے کے صبح صادق ہوگئی تو چونکہ اب وتر کا وقت ختم ہوچکا ہے اس لئے) ایسے شخص کو وتر کی قضاء پڑھنا چاہئے
Commentary and footnotes (3)

Note 4

The obligation to make up Witr is a consensus among the companions.

(4) The evidence for this is that the obligation to make up a prayer is based on the obligation to perform it. Tahawi said: "The obligation to make up Witr is a consensus among the companions."

Note 2

قوله

(۲) قوله: فليصله إلخ : وجه الاحتجاج أن وجوب القضاء فرع على وجوب الأداء. وقال الطحاوي: إن وجوب قضاء الوتر إجماع من الصحابة.

Note 1

(اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ وتر کا وقت صبح صادق ہونے سے ختم ہوجاتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں وتر کی قضاء کا حکم ہے۔ اور وتر کے واجب ہونے کی یہ کھلی دلیل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے وتر کی قضاء کرلے۔ (اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ابن الحصار نے بھی بیان کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)

Hadith 1659

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1909
امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو یہ روایت (قابل وثوق طریق سے) پہنچی ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتر کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وتر واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اور صحابہ کرام بھی ہمیشہ وتر پڑھا کرتے تھے، چنانچہ وہ بار بار یہ سوال کرتا تھا کہ آیا وتر واجب ہے اور حضرت ابن عمر یہی جواب دیتے جاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اور صحابہ کرام بھی ہمیشہ وتر پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 268 (unverified) 30% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1287 (unverified) 20% confidence

Mishkat (candidate) 1287

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 5

(5) The consistent practice of the Prophet (ﷺ) and the Muslims, especially the companions and successors, is evidence for the obligation of Witr.

Note 3

قوله

(۳) قوله : قد أوتر إلخ : فمواظبته لا سيما مع مواظبة أصحابه والتابعين دليل على وجوب الوتر.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے تھے اور مسلمان بھی ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وتر پڑھنا مسلمانوں کا طریقہ ہے، اور جو شخص وتر ترک کرتا ہے تو وہ مسلمانوں کے طریقے سے ہٹ کر دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے، جس پر قرآن میں سخت وعید ہے اور جس کام کے ترک کرنے پر وعید آتی ہے اس کام کا کرنا واجب ہوتا ہے، اس لئے وتر واجب ہے، اب رہی یہ بات کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صراحت کے ساتھ سائل کے جواب میں وتر کے واجب ہونے کو کیوں نہیں بیان کیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں سائل پنجگانہ نمازوں کی طرح وتر کو فرض نہ سمجھ لے، اس لئے کہ واجب اور فرض میں اصطلاحی فرق ہے ورنہ بلحاظ عمل کے فرض و واجب ایک ہی ہیں۔

Hadith 1660

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1910
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے رہتے تھے اور میں آپ کے سامنے بستر اقدس پر لیٹی رہتی تھی، لیکن جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بیدار کر لیتے اور میں بھی وتر پڑھتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 997 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 6

This indicates the obligation of Witr.

(6) Al-Allamah Al-Ayni said: "This indicates the obligation of Witr."

Note 4

قوله

(٤) قوله : أيقظني إلخ : قال العلامة العيني فيه الدلالة على وجوب الوتر.

Note 1

ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس حدیث شریف میں وتر کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تہجد پڑھتے رہتے تو ام المومنین کو نہیں جگاتے تھے اور جب وتر پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو حضرت ام المومنین کو وتر پڑھنے کے لئے بیدار کرتے۔ اس میں صاف دلیل ہے کہ وتر واجب ہے اس لئے کہ وتر کے لئے ام المومنین کو بیدار کرتے تھے اور چونکہ تہجد واجب نہیں، اس لئے تہجد کے لئے نہیں بیدار فرماتے تھے۔

Hadith 1661

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1911
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے (اس لئے کہ نفل نماز سواری پر جائز۔ جیسا کہ ردالمحتار میں مذکور ہے۔ 12- ہے) پھر جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر زمین پر وتر ادا فرماتے (اس لئے کہ فرض اور وتر بغیر ضرورت کے سواری پر جائز نہیں، اگر وتر واجب نہ ہوتی تو اور نوافل کی طرح حضرت ابن عمر وتر کو سواری پر ہی ادا فرماتے، سواری پر وتر
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اداء نہ کر کے زمین پر وتر پڑھنے سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عمر وتر کو واجب سمجھتے تھے۔) (اس حدیث کی روایت دارقطنی اور امام احمد نے کی ہے۔)

Hadith 1662

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1912
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ وہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے تھے (اس لئے کہ نفل نماز سواری پر جائز - جیسا کہ ردالمحتار میں مذکور ہے۔12- ہے) پھر جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر زمین پر وتر ادا فرماتے تھے (اس لئے کہ فرض اور وتر بغیر ضرورت کے سواری پر جائز (اس کی تحقیق اعلاء السنن میں ملاحظہ ہو۔12) نہیں) اور حضرت ابن عمر یقین سے فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح نفل نماز سواری پر اور وتر زمین پر پڑھا کرتے تھے۔

[Narrated by Tahawi with a Sahih chain]

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(حضرت ابن عمر کے اس طرح فرمانے سے حدیث مرفوع ہوگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل سے بھی وتر کا وجوب ثابت ہوگیا)۔ (اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے صحیح سند کے ساتھ کی ہے۔)

Hadith 1663

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1913Noor 1914Noor 1915Noor 1916
خالد بن ابی عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنی ہی تکلیف پہنچے آپ نے کسی کافر پر بددعا نہیں فرمائی۔ قبیلہ مضر کی طرف سے مسلمانوں کو ناقابل برداشت تکالیف پہنچ رہی تھیں، یہ آپ سے نہیں دیکھا گیا، ایک وقت آپ وتر پڑھ رہے تھے، مضر کے ناقابل برداشت تکالیف یاد آگئے) قبیلہ مضر کو بددعاء دینے لگے، ایسے میں جبرئیل علیہ السلام آگئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ سے بددعاء دینے سے منع فرمائے آپ رک گئے پھر جبرئیل علیہ السلام کہے: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرمائے ہیں کہ ہم آپ کو رحمتہ ا للعالمین بنا کر بھیجے ہیں، (جو عالمین کے لئے رحمت ہو، ان کی شان کی خلاف ہے کہ وہ کسی کو بددعاء دے، ہم کو معلوم ہے کہ قبیلہ مضر سے مسلمانوں کو کیا کیا تکلیف پہنچ رہی ہے اس کا بدلہ دینا ہمارا کام ہے) آپ کا کام نہیں (ہم ان کو دیکھ لیں گے ہم پر چھوڑ دیجئے بجائے بددعاء کے (وتر میں) یہ قنوت اے اللہ (آپ کو معلوم ہے کہ کفار ہم کو کیا کیا تکلیفیں دے رہے ہیں) ہم آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں (کہ ہم کو کفار کے شر سے بچایئے! ممکن ہے کہ گناہوں کی شامت سے یہ ہو رہا ہوگا) ہم آپ سے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں، ہم آپ کے ہیں آپ پر ایمان رکھتے ہیں، ہم آپ کے سامنے نہایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں (ہم کو ہر شر سے بچایئے) (ہم کو معلوم ہے کہ کفار آپ کے دشمن ہیں اس لئے) جو آپ سے کفر کرتا ہے، ہم اس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے اور ترک کر دیتے ہیں (دلی دوستی ان سے نہیں رکھتے ہیں، دنیوی حیثیت سے ظاہری برتاؤ رکھے ہیں) اے اللہ! (آپ کے سوا ہمارا کوئی نہیں) ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں (ہم آپ ہی کے لئے ہیں) آپ ہی کے سامنے ہاتھ باندھے ہوئے کھڑے رہ کر ہم آپ ہی سے دعاء کرتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں، جب آپ کا عظمت وجلال ہمارے دل پر طاری ہوتا ہے تو ہم بے اختیار ہو کر آپ کے سامنے سجدے میں گرتے ہیں (اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی شان عالی ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نہایت عاجزی سے زمین پر سر رکھے ہوئے ہیں)۔ ہماری ساری کوششیں آپ ہی کے لئے ہیں، ہم آپ ہی کی طرف دل سے جھکتے ہیں (ہم کسی قابل نہیں) اے اللہ! ہم آپ کی رحمت سے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہیں۔ (اے اللہ! ہم جانتے ہیں کہ ایمان خوف ورجا کے درمیان ہے، جیسے ہم آپ کی رحمت کے امیدوار ہیں ایسے ہی) آپ کے عذاب سے ہمارے دل پر دہشت بیٹھی ہوئی ہے، ہم آپ کے عذاب کے خیال سے ڈرے ہوئے سہمے ہوئے ہیں۔ (ہم کو معلوم ہے کہ) آپ کا یقینی عذاب کفار کے لئے ہے (مگر ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں آپ کی شان بے نیازی سے ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں۔) (اس کی روایت ابوداؤد نے اپنے مراسیل میں کی ہے اور طبرانی نے بھی اس کی روایت کی ہے۔) اور ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو موقوفاً اے اللہ (آپ کو معلوم ہے کہ کفار، ہم کو کیا کیا تکلیفیں دے رہے ہیں) ہم آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں (کہ ہم کو کفار کے شر سے بچائیے! ممکن ہے کہ گناہوں کی شامت سے یہ ہو رہا ہوگا) ہم آپ سے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں۔ اور ہم آپ ہی کی تعریف کرتے ہیں (ہم کیا اور ہماری تعریف کیا، آپ ویسے ہی ہیں جیسے آپ اپنی تعریف کئے ہیں) ہم آپ کی ناشکری نہیں کرتے ہیں (آپ کی نعمتیں ہم کو گھیرے ہوئے ہیں، ہم ہمیشہ آپ کے شکرگزار ہیں۔ (ہم کو معلوم ہے کہ کفار حقیقی فاجر و فاسق ہیں) ہم آپ کے دشمنوں کو آپ ہی کے لئے ترک کرتے ہیں، دلی دوستی ان سے نہیں رکھتے ہیں، دنیوی حیثیت سے ظاہری برتاؤ رکھتے ہیں۔ اے اللہ! آپ کے سوا ہمارا کوئی نہیں، ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں، ہم آپ ہی کے لئے ہیں، آپ ہی کے سامنے ہاتھ باندھے ہوئے کھڑے ہو کر اپنے بندے پن کا اظہار کرتے ہیں، جب آپ کا عظمت وجلال ہمارے دل پر طاری ہوتا ہے تو ہم بے اختیار ہو کر آپ کے سامنے سجدے میں گر کرتے ہیں (اس سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی شان عالی ہے اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم نہایت عاجزی سے زمین پر سر رکھے ہوئے ہیں، ہماری ساری کوششیں آپ ہی کے لئے ہیں، ہم آپ ہی کی طرف دل سے جھکتے ہیں، (اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ ایمان خوف ورجاء کے درمیان ہے) آپ کے عذاب سے ہمارے دل پر دہشت بیٹھی ہوئی ہے، ہم آپ کے یقینی عذاب کے خیال سے ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! ہم کسی قابل نہیں، ہم آپ کی رحمت سے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہیں، ہم کو معلوم ہے کہ آپ کا یقینی عذاب کفار ہی کو لاگو ہونے والا ہے (مگر ڈرتے ہیں کہ کہیں آپ کی شان بے نیازی سے ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں)۔ اور بیہقی نے سنن کبیر میں ابن ابی شیبہ کی اس روایت کو موقوفاً حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں (منسوخ التلاوۃ) سورتوں کو (وتر میں) بطور دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے، ایک عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ“ اس کی روایت ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے کی ہے۔

Arabic quotation in the English source

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْضَعُ لَكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ. اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخَافُ عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالكُفَّارِ مُلْحِقُ

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنَخْلَعُ(۱) وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ. اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجِدَّ وَنَرْجُوْ رَحْمَتَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالكُفَّارِ مُلْحِقٌ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1290 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 1290

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

we disassociate

(1) The phrase "we disassociate" (ونخلع) is mentioned with the conjunction "and" (واو) in Tahawi's narration, and its presence is evident, as stated in Al-Bahr Al-Ra'iq.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ونخلع وقد أسقط الواو في الحاوي القدسي من نخلع»، والظاهر ثبوتها، كما في رواية الطحاوي. قاله في البحر الرائق».

Note 1

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذیل کی حدیث کو سمجھنے کے لئے اس تمہید کو سن لیجئے: حنفی دعائے قنوت کے دو حصے ہیں، ایک حصہ ”اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ“ سے شروع ہو کر ”مَنْ يَفْجُرُكَ“ پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا حصہ ”اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ“ سے شروع ہو کر ”بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ“ پر ختم ہوتا ہے، یہ دو حصے قرآن مجید کی دو سورتیں ہیں، جیسے آیت رجم منسوخ التلاوہ ہے لیکن عمل اس پر جاری ہے، ایسے ہی یہ دونوں سورتیں بھی منسوخ التلاوہ ہیں یعنی قرآن میں پڑھی نہیں جاتی، مگر ان پر عمل جاری ہے اور وتر میں بطور قنوت پڑھی جاتی ہیں)۔