ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش
پہنچے تو میرا ایک ہار ٹوٹ کر گر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی تلاش کے لئے ٹھہرنا پڑا اور
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ کو بھی، اور ہمارا یہ قیام پانی پر تھا اور نہ تو لوگوں کے پاس پانی
تھا تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ نے دیکھا عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا
کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ٹھہرا لیا اور دوسروں کو بھی حالانکہ یہ قیام پانی پر ہے اور نہ
کسی کے پاس پانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر میرے پاس) تشریف لائے اور اس وقت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوگئے تھے آتے ہی فرمایا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور لوگوں کو بھی روک رکھا ہے، حالانکہ ان کا
قیام پانی پر ہے اور نہ ان کے ساتھ پانی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے
مجھے برا بھلا کہا اور حسب مشیت الٰہی، بہت کچھ ڈانٹا اور میرے کولہے میں ہاتھ سے کچوکے دینے لگے
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میرے ران پر تھا اس وجہ سے میں حرکت نہ کرسکی، پھر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور پانی بالکل نہ تھا تب اللہ تعالیٰ نے آیت
تیمّم نازل فرمائی۔
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خاندان والو تمہاری یہ پہلی برکت
نہیں ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی
تو اس کے نیچے ہار مل گیا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "And if you are ill or on a journey or one of you comes from the place of relieving himself, or you have touched women, and you do not find water, then perform tayammum with clean soil and wipe over your faces and hands. And the saying of Allah: 'And do not approach prayer while you are in a state of janabah (major impurity) until you have washed yourselves.'" (Surah Al-Ma'idah: 6)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 334 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 367a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کے لئے پانی (کے قائم مقام ہے) اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے
اور جب اس کو پانی مل جائے تو غسل کر لے یہ اس کے لئے بہتر ہے۔
(اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے اور نسائی کی روایت میں بھی
عشر سنین (دس سال) کے الفاظ تک اسی طرح ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
زجاج نے کہا کہ ”صعید“ زمین کی سطح کو کہتے ہیں خواہ اس پر مٹی ہو یا نہ ہو یا ایسی چٹان ہو کہ اس پر
گرد نہ ہو، زجاج نے یہ بھی کہا ہے کہ ”صعید“ کو سطح زمین کہنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔
ہمارے علماء نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تیمم وضوء کا مطلقاً
یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضوء کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے
ملنے تک رافع حدث یعنی ناپاکی کو ایسا ہی دور کر دینے والا ہے جیسا کہ پانی اور تیمم اپنے اصل یعنی پانی کی
طرح ایسا ہی پاک کرنے والا ہوگا، جیسا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گزر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس
طرح وقت کے گزرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا بلکہ تیمم کا حکم بعینہ وضوء کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر
اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نمازیں چاہیں ادا کر سکتے ہیں اور ان ہی وجوہ
کی بنا پر تیمم اور وضوء کو جمع نہیں کیا جا سکتا کہ بدل اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں
ہے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم
باطل ہو جائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح دوران
نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہو جائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے
الفاظ (عشر سنین) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی برابر تیمم کرنا رہے، سے اس بات کی
دلیل ملتی ہے کہ تیمم مطلقاً وضوء کا قائم مقام ہے نہ کہ ضرورتاً، یہ حنفی مذہب ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتاً وضوء کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتاً قائم مقام
ہونے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہوگا بلکہ حدث
کے باقی رکھتے ہوئے ادائی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہوگا، یہی وجہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ
کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیمم جائز نہیں کیوں کہ وقت نماز کے شروع ہونے پر ادائی فرض
کے لئے تیمم کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ)12
حضرات علی، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور
ابوذر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، ان سب حضرات نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
میرے لئے تمام روئے زمین، نماز کی جگہ اور تمام روئے زمین پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔ (اس
کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بخاری کی روایت بھی اسی طرح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 335 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 317 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد مبارک ہے کہ میرے لئے تمام روئے زمین کو نماز کی جگہ بنا دیا گیا
ہے، اس سے اس امت کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح سابقہ امتوں پر نماز بجز کلیسوں
اور عبادت خانوں کے جائز نہیں تھی اس کے برخلاف اس امت کو یہ امتیاز عطا فرمایا گیا ہے کہ یہ جہاں
نماز ادا کرنا چاہیں وہاں جائز ہوجائے گی، اس حدیث میں دوسرا ارشاد یہ ہے کہ تمام روئے زمین
میرے لئے طہور یعنی پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے، اس سے مقصود یہ ہے کہ جہاں پانی نہ ملے تو مٹی یا
اس کی جنس سے تیمم کرلے جو وضو اور غسل ہر دو کے لئے کافی ہوجائے گا۔ (مرقات)12۔
عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاضرین کو نماز پڑھائی، جب
آپ (نماز سے) فراغت کے بعد (قوم کی جانب) متوجہ ہوئے تو آپ نے اچانک ایک شخص کو
دیکھا کہ وہ دور بیٹھا ہوا ہے اور اس نے جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے فلاں شخص کس چیز نے تم کو قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے روک رکھا ہے؟
اس شخص نے جواب دیا کہ مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے اور پانی نہیں ہے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا کہ تم پاک مٹی سے تیمّم کرلو، یہی تمہارے لئے غسل کے بجائے کافی ہے۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے قول باری تعالیٰ ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا
عَابِرِي سَبِيلٍ﴾ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ یہ آیت مسافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس کو
جنابت لاحق ہوگئی ہو (وہ پانی نہ ملنے کی صورت میں) تیمّم کرکے نماز ادا کرے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ نہانے کی حاجت ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ ہاں
مسافر ہو اور پانی نہ ملے تو پانی کے حاصل ہونے تک تیمّم کرکے نماز ادا کرلیا کرو۔
(اس کی روایت بیہقی، ابن ابی شیبہ، فریابی، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قول باری تعالیٰ ”وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ“ کے متعلق
روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب تمہیں پانی مل گیا ہے تو (غسل کرنے تک) نماز کے قریب نہ جاؤ
، اگر تم نے پانی نہیں پایا تو تمہارے لئے جائز قرار دیا گیا ہے کہ زمین پر ہاتھ مار کر تیمّم کرلو۔ (اس کی
روایت ابن جریر نے کی ہے)۔
اور عبد بن حمید نے بھی متعدد اسناد سے اس کی روایت کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قول باری تعالیٰ: ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾
کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اس آیت میں وہ مسافر مراد ہے جس کو پانی نہ ملے تو وہ
تیمّم کر کے نماز پڑھ لے۔ (اس کی روایت طبرانی، ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جنگل میں چند رہنے
والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان لوگوں نے کہا کہ ہم
ریگستان میں تین چار مہینے رہا کرتے ہیں اور ہم میں جنبی اور نفاس و حیض والی عورتیں ہوا کرتی ہیں اور
ہمیں پانی نہیں ملتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم زمین پر تیمّم کر لیا کرو، پھر آپ
نے چہرے کے لئے زمین پر ایک دفعہ ہاتھ مار کر چہرے پر مل لیا اور دوسری مرتبہ زمین پر ہاتھ مار کر
دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا۔ (اس کی روایت امام احمد، طبرانی اور ابویعلیٰ نے کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے جنابت لاحق ہوگئی تو میں مٹی میں لوٹ گیا، یہ سن کر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیں بلکہ اس طرح زمین پر ہاتھ مارو کہہ کر حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار کر چہرے کا مسح فرمایا پھر دوبارہ دونوں ہاتھوں کو زمین
پر مار کر دونوں ہاتھوں کا مسح کہنیوں سمیت فرمایا۔
(1) In the original text of the author, it says: "He struck his hands up to the elbows."
Note 1
(۱) وفي أصل المؤلف: «ضرب يديه إلى المرفقين».
Note 1
(اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور وضاحت کی ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح
ہے اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنے
کے بعد کنکریوں کے گرانے کے لئے ہر ہاتھ کے انگوٹھے کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پر مار کر جھٹک دیا۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تیمّم یہ ہے کہ ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مارنا چہرے
کے لئے اور دوسری دفعہ ہاتھ مارنا کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لئے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
(اور وضاحت کی ہے کہ اس حدیث کے جملہ راوی ثقہ ہیں اور حاکم کی روایت بھی اسی طرح
ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما، سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تیمّم دو دفعہ (زمین پر) ہاتھ مارنا ہے، ایک دفعہ تو چہرے کے لئے اور دوسری
دفعہ کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لئے۔ (اس کی روایت حاکم اور دارقطنی اور ابن عدی نے کی ہے۔)
اور بزار نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بہ سند مرفوع روایت کی
ہے۔
اسلع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
مجھ کو (تیمّم کرنے کا طریقہ) بتلایا کہ کس طرح مسح کروں۔ پس آپ نے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار
کر چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے لئے دونوں ہاتھوں کو اٹھالیا پھر دوسری دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر دونوں
ہاتھوں کے اندرون و بیرون دونوں حصوں کا مسح اس طرح فرمایا کہ دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت مسح میں
آگئے اور کچھ حصہ بھی نہیں چھوٹا۔ (اس کی روایت بیہقی، دارقطنی اور طبرانی نے کی ہے۔)
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو غزوہ ذات السلاسل کے ساتھ روانہ فرمایا تو مجھے ایک نہایت سردی کی رات
میں احتلام ہوگیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر غسل کرلوں تو ہلاک ہو جاؤں گا چنانچہ میں نے تیمّم کرلیا پھر میں نے
اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو میں نے
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو (رضی
اللہ عنہ) تم نے اپنے ساتھیوں کی نماز ایسی حالت میں پڑھا دی کہ تم جنبی تھے میں نے عرض کیا کہ
ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہایت ٹھنڈی یا سخت سردی کی رات محتلم ہوگیا اور خوف کیا کہ
اگر غسل کرلوں تو میں ہلاک ہوجاؤں گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَلَا تَقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ
كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا﴾ (سورہ نساء۔ آیت نمبر:29) اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو تحقیق اللہ تم
پر بڑے مہربان ہیں) یاد آیا تو میں نے تیمم کیا پھر اسی سے نماز ادا کی یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ہنس پڑے اور کچھ نہیں فرمایا۔
(اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، حاکم، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے کی ہے اور طبرانی کی
روایت بھی اسی طرح ہے۔)
علی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے متعلق روایت ہے جو سفر میں ہو اور اس کو
جنابت لاحق ہوجائے اور اس کے ساتھ تھوڑا سا پانی ہو، اگر اس پانی سے غسل کرلے تو پیاسا رہنے کا
اندیشہ کرنا ہو تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ تیمم کرلے اور غسل نہ کرے۔ (اس کی روایت دارقطنی
نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ آجائے اور تم بے وضوء ہو (اور وضوء کرنے کا تک نماز جنازہ
کے فوت ہوجانے کا خوف ہو) تو تیمم کرلو۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ نماز جنازہ تیار ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر وضوء کرنے لگیں تو نماز
جنازہ فوت ہوجائے گی تو ایسی صورت میں جائز ہے کہ تیمم کرلے اور نماز جنازہ میں شریک ہوجائے
کیونکہ نماز جنازہ کا بدل اور قائم مقام کوئی اور نماز نہیں ہے البتہ میت کا ولی یعنی ایسے قریبی رشتہ دار ہو کہ
جس کو نماز جنازہ پڑھانے کا حق ہے اور اسی طرح بادشاہ اور قاضی یہ تینوں مذکورہ بالا صورت میں تیمم نہیں
کریں گے بلکہ وضوء ہی کریں گے اس لئے کہ ان کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب تم کو اندیشہ ہو
کہ جنازہ کی نماز تم سے چھوٹ جائے گی اور تم بے وضوء ہو تو تیمم کرلو اور نماز جنازہ پڑھ لو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کی راوی صرف مغیرہ رضی اللہ عنہ کے سوا
سب کے سب مسلم کے راوی ہیں اور زیلعی نے کہا ہے کہ مغیرہ بھی ثقہ اور قابل حجت ہیں۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک جنازہ لایا گیا اور اس وقت ابن عمر
رضی اللہ عنہما بے وضوء تھے تو انہوں نے تیمم کیا اور نماز جنازہ پڑھ لی۔
(اس کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے ”معرفہ“ میں کی ہے۔)
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایسے شخص کے متعلق دریافت
کیا گیا جو نماز جنازہ پڑھنا چاہتا تھا مگر بے وضوء ہے اور اگر وہ وضوء کرنے کے لئے جائے تو نماز
جنازہ چھوٹ جاتی ہے تو حسن بصری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ تیمم کرلے اور نماز جنازہ پڑھ
لے۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے۔)
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے متعلق روایت ہے کہ جس کے پاس
یکایک جنازہ آجائے اور وہ بے وضوء ہے تو آپ نے فرمایا کہ تیمم کرلے اور اس جنازہ کی نماز پڑھ
لے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب جنبی ہو جاتے تھے اور سونے کا ارادہ فرماتے تو وضوء فرماتے یا تیمّم کرتے۔
(اس کی روایت بیہقی نے اسناد حسن کے ساتھ کی ہے۔)
ابوالجہیم بن الحارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ”بئر جمل“ کی جانب سے (جو ایک کنواں تھا) تشریف فرما ہوئے تو
ایک شخص آپ سے ملا اور آپ کو اس نے سلام کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب
نہیں دیا، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کی طرف بڑھے اور اپنے چہرے اور دونوں
ہاتھوں کا مسح فرمایا (یعنی تیمّم فرمائے) اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب
دیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
واضح ہو کہ عبادتیں دو طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے
جیسے نماز جمعہ کہ اس کا قائم مقام ظہر ہے اور نماز پنجگانہ کہ ان کا قائم مقام اور بدل ان کی قضاء
ہے اور دوسری وہ عبادتیں کہ جن کا بدل اور قائم مقام موجود نہیں جیسے نماز جنازہ اور عیدین وغیرہ، ہمارے
علماء نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا ان حدیثوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی عبادتیں کہ جن کا قائم مقام
اور بدل موجود نہیں ہے اور وضوء کرنے تک وقت کے گزر جانے یا نماز کے ختم ہو جانے سے ان کے
فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادتوں میں باوجودیکہ صحت مند ہوں اور پانی موجود ہو اور پانی کے
استعمال پر قدرت بھی حاصل ہو، ان ساری صورتوں کے باوجود تیمم جائز ہے جیسے نماز جنازہ و عیدین،
نماز کسوف، سلام اور جواب سلام وغیرہ اور ایسی عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے، ان کے
فوت ہو جانے کے اندیشہ سے تیمم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان کا بدل اور قائم مقام موجود ہے جیسے جمعہ اور
پنجگانہ نمازیں۔12
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب پانی نہ پائے تو تیمم کو نماز
کے آخری وقت تک کے لئے (پانی کی تلاش اور انتظار میں) مؤخر کر دے۔
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ دو آدمی سفر کو نکلے
جب نماز کا وقت آ گیا تو دونوں کے ساتھ پانی نہ تھا، دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کر کے نماز ادا کی،
بعد ازاں دونوں نے وقت نماز کے اندر ہی پانی پا لیا تو ان میں سے ایک شخص نے وضوء کر کے نماز
دہرائی لیکن دوسرے نے نہیں دہرائی پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور دونوں نے اپنے واقعہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے اس شخص سے مخاطب ہو کر فرمایا جس نے نماز دہرائی نہ تھی کہ تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری
نماز تم کو کافی ہو گئی اور جس نے وضوء کر کے نماز دہرائی تھی، ان سے فرمایا کہ تمہارے لئے دگنا
اجر ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے)
اور نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔
اور نسائی اور ابوداؤد نے بطور مرسل عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی
ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
For the one who did not repeat [the prayer], etc.
(1) The statement: "For the one who did not repeat [the prayer], etc." – The scholars agree that if one finds water after completing the prayer, there is no need for a repeat of the prayer, even if time for prayer is still remaining. However, there is a difference of opinion regarding what should be done if water is found after one has already started the prayer. The majority hold that the prayer remains valid and should not be interrupted. On the other hand, Abu Hanifa and Ahmad (according to a narration) say that the Tayammum is invalidated. If a person performs Tayammum and then finds water before entering the prayer, the consensus is that their Tayammum becomes invalid. This is mentioned in "al-Mirqat."
Note 1
قوله
(۱) قوله : للذي لم يعد إلخ : أجمعوا على أنه إذا رأى الماء بعد فراغه من الصلاة لا إعادة عليه وإن كان الوقت باقيا، واختلفوا فيما إذا وجد الماء بعد دخوله في الصلاة فالجمهور على أنه لا يقطعها وهي صحيحة، وقال أبو حنيفة وأحمد في رواية: يبطل تيممه، أما إذا تيمم ثم وجد الماء قبل دخول الصلاة فالإجماع على بطلان تيممه، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اگر تیمّم سے نماز پڑھنے والا نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد پانی
دیکھ لے تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں اگرچہ وقت باقی ہو، البتہ علماء کا اختلاف اس صورت میں ہے کہ نماز
شروع کرنے کے بعد نماز کی حالت میں پانی مل جائے تو احناف کے سوا جمہور کا مسلک یہ ہے کہ نماز کو نہ
توڑے اس کی نماز درست ہو جائے گی، چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس اور امام احمد رحمہ اللہ کی ایک
دوسری روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ اس شخص کا تیمّم باطل ہو جائے گا اور اگر تیمّم کرنے کے بعد نماز
شروع کرنے سے قبل پانی مل جائے تو اس شخص کے تیمّم کے باطل ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔12
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پٹیوں (یعنی بندے کی کھپچیوں) پر مسح فرمایا کرتے تھے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے
کی ہے۔)
زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اپنے دادا حضرت
امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت علی ابن
ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی
تو میں نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
مجھ کو حکم دیا کہ بندے کی کھپچیوں پر مسح کیا کرو، اور تیمّم کی ضرورت نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ،
بیہقی اور دارقطنی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He ordered me to wipe over the bandages
(1) The statement "He ordered me to wipe over the bandages" indicates that wiping over the bandages is sufficient, and washing the rest of the body with water is not required, according to the opinion of Abu Hanifa. This contrasts with the opinion of Al-Shafi'i, who holds that both wiping and washing the rest of the body with water are necessary. This interpretation is derived from "Al-Mirqat."
Note 1
قوله
(۱) قوله: فأمرني أن أمسح على الجبائر : هذا يدل على الاكتفاء بالمسح والغسل، كما هو مذهب أبي حنيفة، دون الجمع بين التيمم وغسل سائر البدن بالماء، كما ذهب إليه الشافعي. أخذته من «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زخم پر پٹی باندھی گئی ہو تو پٹی پر مسح کیا جائے اور
بدن کے باقی صحیح حصہ کو دھولیا جائے اور صحیح حصہ بدن کو دھوکر پٹی پر مسح کے بجائے تیمم کرنا جائز نہیں ہے
کیوں کہ اس سے وضوء اور تیمم کو جمع کرنا لازم آتا ہے، حالانکہ بدل اور مبدل کو جمع کرنا درست نہیں
ہے، یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ پٹی پر مسح
کرنے کے بجائے تیمم کیا جائے اور باقی حصہ بدن کو دھولیا جائے۔ (مرقات اور ملتقی)12۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے ایسی حالت میں وضوء کیا کہ
آپ کی ہتھیلی پر پٹی باندھی ہوئی تھی تو آپ نے (ہتھیلی کے دوسرے جانب کے) اس حصہ پر مسح کیا جو
زخم کی پٹی کی وجہ سے کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا (اور ہتھیلی کی) پٹی پر بھی مسح کیا، اس کے بعد دوسرے
اعضاء وضوء کو دھولیا اور تیمم نہیں فرمایا۔ (اس کی روایت منذری نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث سے بھی حنفی مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے
زخم کے علاوہ باقی حصہ بدن کے دھونے اور زخم پر مسح کرنے کو جمع فرمایا اور دھونے اور تیمم کو جمع نہیں فرمایا
ہے۔ (ملتقی میں ایسا ہی مذکور ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
زجاج نے کہا کہ ”صعید“ زمین کی سطح کو کہتے ہیں خواہ اس پر مٹی ہو یا نہ ہو یا ایسی چٹان ہو کہ اس پر گرد نہ ہو، زجاج نے یہ بھی کہا ہے کہ ”صعید“ کو سطح زمین کہنے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ ہمارے علماء نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تیمم وضوء کا مطلقاً یعنی کامل طور پر قائم مقام ہے تیمم کا وضوء کے کامل طور پر قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تیمم پانی کے ملنے تک رافع حدث یعنی ناپاکی کو ایسا ہی دور کر دینے والا ہے جیسا کہ پانی اور تیمم اپنے اصل یعنی پانی کی طرح ایسا ہی پاک کرنے والا ہوگا، جیسا کہ خود پانی اور نماز کے وقت کا گزر جانا تیمم کو نہیں توڑے گا جس طرح وقت کے گزرنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا بلکہ تیمم کا حکم بعینہ وضوء کے حکم کی طرح ہے کہ وقت کے اندر اور وقت کے قبل بھی جائز ہے اور تیمم سے فرض اور نفل جتنی نمازیں چاہیں ادا کر سکتے ہیں اور ان ہی وجوہ کی بنا پر تیمم اور وضوء کو جمع نہیں کیا جا سکتا کہ بدل اور مبدل یعنی قائم مقام اور اصل کا جمع کرنا درست نہیں ہے اور تیمم کے مطلق قائم مقام ہونے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں کہ خارج نماز پانی کے ملنے پر بھی تیمم باطل ہو جائے بلکہ جس طرح خارج نماز پانی مل جانے سے تیمم باطل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح دوران نماز میں بھی پانی کے مل جانے کے علم سے بھی تیمم باطل ہو جائے گا، علاوہ ازیں اس حدیث کے الفاظ (عشر سنین) یعنی دس برس تک پانی نہ ملنے کی صورت میں بھی برابر تیمم کرنا رہے، سے اس بات کی دلیل ملتی ہے کہ تیمم مطلقاً وضوء کا قائم مقام ہے نہ کہ ضرورتاً، یہ حنفی مذہب ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تیمم ضرورتاً وضوء کا قائم مقام ہے، تیمم کے ضرورتاً قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امام موصوف کے پاس تیمم حقیقت میں حدث کو دور کرنے والا نہ ہوگا بلکہ حدث کے باقی رکھتے ہوئے ادائی فرض کے لئے تیمم ان کے پاس جائز ہوگا، یہی وجہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ کے مسلک کے لحاظ سے وقت کے پہلے تیمم جائز نہیں کیوں کہ وقت نماز کے شروع ہونے پر ادائی فرض کے لئے تیمم کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ)12