Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) fell ill, and his illness became severe. He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." Aisha said, "He is a soft-hearted man. If he stands in your place, he will not be able to lead the people in prayer." He said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer." She repeated her objection, and he said, "Tell Abu Bakr to lead the people in prayer, for you are like the companions of Yusuf (Joseph)." The messenger went to Abu Bakr, and he led the people in prayer during the lifetime of the Prophet (ﷺ). [Narrated by Bukhari and Muslim]
I say: Bukhari's chapter heading indicates that the most deserving of leading the prayer is the most knowledgeable, as he said, "Chapter on The people of knowledge and virtue are the most deserving of leading the prayer." Our scholars said: This Hadith is evidence that the most knowledgeable takes precedence over the one who is more proficient in recitation, because Abu Bakr was the most knowledgeable among them and was given precedence over Ubayy, who was the most proficient in recitation. The evidence for the first is the statement of Abu Sa'id: "Abu Bakr was the most knowledgeable among us." The evidence for the second is the Prophet's (ﷺ) statement: "The most proficient among you in recitation is Ubayy." This is the later of the two statements of the Messenger of Allah (ﷺ), so it is the one to be relied upon. This is mentioned in Fath Al-Qadir and Jami' Al-Athar.
In a narration by Al-Hakim and Al-Daraqutni: "The most knowledgeable among them in religion. If they are equal in knowledge, then the most proficient in Quranic recitation." In a narration by Muslim: "The earliest among them in migration. If they are equal in migration, then the eldest among them in age. Let no man lead another in his authority, nor sit in his house on his honor except with his permission." In another narration by Muslim: "Let no man lead another in his family."
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جب اس مرض سے بیمار ہوئے (جس کے بعد آپ دنیا سے تشریف لے گئے) اور یہ بیماری
بہت بڑھ گئی (اور ناتوانی بیحد ہوگئی جس کی وجہ سے آپ باہر نہیں تشریف لاسکتے تھے، اس حالت میں
مؤذن نے حاضر ہوکر جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع دی) تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد
فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ (امام ہوکر) وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (اس پر) ام المؤمنین
عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: حضور! وہ بہت نرم دل (آدمی) ہیں (جب آپ کی جگہ خالی دیکھیں
گے تو ان پر ایسی رقت غالب ہوگی کہ) وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوکر (گریہ و بکا کی وجہ سے) لوگوں کو
نماز نہیں پڑھا سکیں گے (یہ سن کر) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نہیں جی! ابوبکر ہی سے
کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وہی عرض کیا جو پہلے عرض
کیا تھا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے (پھر) ارشاد فرمایا: نہیں! ابوبکر ہی سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز
پڑھائیں، عائشہ! تم تو حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو
کہ جیسے وہ اپنی بات منوانے اڑی ہوئی تھیں تم بھی اپنی بات منوانے اڑی ہوئی ہو (یہ سن کر ام
المؤمنین خاموش ہوگئیں) اور حضور کی طرف سے پیام پہونچانے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر
آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیام پہنچایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ (حکم کی تعمیل کر کے) حضور علیہ
الصلوٰۃ السلام کے دنیا سے تشریف لے جانے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 678 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 420 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ
شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرأت جاننے والا بھی ہو تو عالم
کے مقابلہ میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور یہی حنفی مذہب ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی
اسی کے قائل ہیں، اسی لئے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے
الفاظ یہ ہیں۔ ”بَابُ اَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْاِمَامَةِ“ (علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار
ہیں) اس حدیث شریف سے حنفی مذہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ
قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے جن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ہے: ”اَقْرَؤُكُمْ اُبَيٌّ“ (تم میں سب سے بڑے قاری اُبی ہیں) اس لئے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ
نے فرمایا ہے ”كَانَ اَبُوْبَكْرٍ اَعْلَمَنَا“ (ہم میں سب زیادہ علم والے ابوبکر ہیں) اگر قاری امامت
کے لئے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کے لئے حضرت اُبی کو منتخب فرماتے، ایسا
نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لئے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف
ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے سب سے بڑے عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لئے ترجیح دی اور یہ آپ کے
آخری زمانہ کا واقعہ ہے، اس لئے اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ
امامت کے لئے زیادہ علم والے کی زیادہ قرأت والے پر ترجیح قطعی امر ہے۔ (یہ مضمون عمدۃ القاری،
فتح القدیر، جامع الآثار اور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دارقطنی کی روایت میں اس طرح
ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو،
اور سب سے زیادہ علم دین کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت
کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرأت جاننے کے لحاظ سے
یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (اگر سب کے سب
قرأت کے جاننے میں برابر ہوں تو) امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو گناہوں
سے ہجرت (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، یعنی سب
سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقویٰ میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے
زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو ان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دوسرے کے حلقہ اثر میں (بغیر اس کی اجازت
کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے مخصوص
بستر وغیرہ پر اس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے
گھر میں (گھر والے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کہ یہ اس سے افضل ہو)۔
Abu Atiyyah Al-Uqayli reported that Malik ibn Al-Khuwayrith used to come to our prayer place and talk to us. One day, when the prayer time came, Abu Atiyyah said, "We said to him, 'Go forward and lead us in prayer.' He said to us, 'Let one of you lead the prayer, and I will tell you why I do not lead you: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say, "Whoever visits a people should not lead them in prayer. Let one of them lead the prayer."
ابو عطیہ عُقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مالک ابن الحویرث
رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بیان
فرمایا کرتے تھے اور بھی مسائل کا تذکرہ رہا کرتا تھا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ وہ تشریف فرما تھے اور نماز
کا وقت آ گیا، ہم نے ان سے عرض کیا: تشریف لائیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے فرمایا تم اپنے
لوگوں میں سے کسی کو امام بناؤ جو تمہیں نماز پڑھائے اور میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ میں تمہیں کس
لئے نماز نہیں پڑھا رہا ہوں؟ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے
کہ جو شخص لوگوں کی ملاقات کو جائے تو ان کا امام نہ بنے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی امام بنے۔ اس
کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے اور نسائی نے صرف متن حدیث کی روایت کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جو شخص لوگوں کو ملاقات کو جائے تو ان لوگوں کا امام نہ
بنے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی امام بنے“ یہ حکم بظاہر مطلق معلوم ہوتا ہے یعنی خواہ مقامی لوگ
اجازت دیں یا نہ دیں کسی حال میں بھی ملاقات کے لئے جانے والے کو امام نہ بننا چاہئے۔ مگر حضرت
ابن مسعود اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اسی قسم کی جو حدیثیں مروی ہیں ان میں ”إِلَّا بِإِذْنِهِ“ کا
استثناء صاف موجود ہے یعنی ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان لوگوں کی امامت
کر سکتا ہے، اس لئے صدر کی حدیث جو مالک ابن الحویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بھی ان
حدیثوں میں جو اجازت مروی ہے اس سے مقید ہو جائے گی اس لئے ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں
کی اجازت سے ان کی امامت کر سکتا ہے۔
اب رہا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے مقامی لوگوں کی اجازت کے باوجود جو امامت نہیں
کی تو یہ ان کا اپنا احتیاط تھا کہ انہوں نے اس حدیث شریف کے مطلق حکم کو مطلق رکھا اور باوجود اجازت
کے امامت نہیں فرمائی۔ (منتقی، اشعۃ اللمعات)۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "A boy should not lead the prayer until he reaches puberty, and let the best among you call the Adhan." [Narrated by Abdur-Razzaq]
In a narration by Al-Athram from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): "A boy who is not subject to legal penalties should not lead the prayer."
In Al-Binayah: Al-Khattabi said, "The Hadith of Amr ibn Salamah was weakened by Al-Hasan, and he once said, 'Leave it, it is nothing.' Abu Dawud said, 'It was said to Ahmad: What about the Hadith of Amr?' He said, 'I do not know what this is.' It is astonishing that they did not consider the statements of Abu Bakr, Umar, and the senior companions as evidence, yet they used the action of a six-year-old boy as evidence, who did not even know the obligations of ablution and prayer. How could he lead the prayer? Prohibiting it is more cautious in religion." This is mentioned in Al-Mirqah.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لڑکا بالغ ہونے تک نہ
(فرض نماز کی) امامت کرے (اور نہ نفل نماز کی) اور تمہارے لئے اذان وہ لوگ دیا کریں جو تم میں
سب سے زیادہ نیک ہوں۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
اور اثرم کی سنن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ ایسا لڑکا
امامت نہ کرے جس پر حد و دیگر شرعی سزائیں قائم نہیں ہوتیں۔
ف: واضح ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ارشاد ہے کہ ”لڑکا بالغ ہونے تک
امامت نہ کرے“ چونکہ یہ ارشاد مطلق ہے اور اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے، اس لئے نابالغ لڑکا نہ تو
فرض نماز میں امامت کرے اور نہ تو نفل نماز میں۔ چنانچہ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ نابالغ لڑکے کے
امامت نہ کرنے کا جو مطلق حکم ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکے کی امامت بالغ مرد اور عورتوں کے
لئے تمام نمازوں میں جائز نہیں ہے، فرض نمازوں میں لڑکے کی امامت کے جائز نہ ہونے پر ہمارے
جمیع ائمہ احناف رحمہم اللہ متفق ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکا احکام شرعی کا مکلف نہیں ہوتا، اس لئے اس
کی فرض نماز بھی نفل ہی سمجھی جائے گی۔ اور اگر بالغ مرد یا عورتیں اس کی اقتداء کریں تو اس کا مطلب یہ
ہوگا کہ فرض نماز پڑھنے والے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتداء کر رہے ہیں، حالانکہ فرض نماز پڑھنے
والوں کی اقتداء بالاتفاق نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے جائز نہیں ہے۔
اب رہا تراویح اور دیگر نفل نمازوں میں نابالغ بچے کا امام بننا تو اس بارے میں واضح ہو کہ مشائخ
شیخ نے تراویح اور نفل نمازوں میں لڑکے کی امامت کو جائز قرار دیا ہے لیکن ہدایہ میں ہے کہ فتویٰ اس پر
ہے کہ لڑکے کی امامت تمام نمازوں میں خواہ فرض ہو یا تراویح ہو، یا نفل جائز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے
کہ لڑکے کی نفل نماز اور بالغ شخص کی نفل نماز میں بڑا فرق ہے، وہ یہ کہ اگر بالغ شخص نفل نماز شروع
کر کے توڑ دے تو اس پر اس نفل کی قضاء لازم ہے، اس کے برخلاف اگر نابالغ بچہ نفل نماز شروع
کر کے توڑ دے تو بچے پر اس نفل کی قضا لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی نفل بالغ شخص کی نفل
نماز کے مقابلہ میں بہت کم درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے نابالغ بچہ جس کی نفل نماز کم درجہ کی ہوتی ہے وہ
ایسے نفل نماز پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا جن کی نفل نماز کامل درجہ کی ہوتی ہے۔
(یہ پورا مضمون عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) appointed Ibn Umm Maktum to lead the people in prayer, and he was blind. [Narrated by Abu Dawud]
Sa'id ibn Mansour reported something similar.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (اپنی غیر موجودگی میں) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بناتے (جب آپ مدینہ سے باہر
غزوات میں تشریف لے جایا کرتے تھے) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ امام ہو کر لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے
حالانکہ وہ نابینا تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Ghalib ibn Al-Hudhayl reported: I entered a mosque with Sa'id ibn Jubayr, and he prayed with them. Their Imam was blind, and they began to criticize him. Sa'id said, "This is why Umar ibn Al-Khattab disliked a blind man leading the prayer or calling the Adhan." Ibn Abi Shaybah also reported a similar narration from Sa'id ibn Jubayr and Anas (may Allah be pleased with him).
اور سعید بن منصور نے غالب بن ہذیل رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی
ہے، غالب بن ہذیل کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میں سعید ابن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مسجد
میں داخل ہوا (نماز شروع ہو چکی تھی) تو سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے (مقتدی ہو کر) لوگوں کے
ساتھ نماز ادا کی۔ غالب کہتے ہیں: میں کیا دیکھتا ہوں کہ جو امام بن کر نماز پڑھا رہے تھے وہ نابینا تھے۔
لوگ امام کو ملامت کرنے لگے (کہ تم نے نابینا ہو کر کیسے امامت کی پس کر) سعید بن جبیر رضی اللہ
عنہ نے فرمایا: اسی وجہ سے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نابینا امام اور نابینا مؤذن کو ناپسند فرماتے تھے۔
ابن ابی شیبہ نے بھی سعید بن جبیر اور انس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Umar ibn Al-Khattab disliked a blind Imam and a blind Mu'adhdhin
(1) The statement: "Umar ibn Al-Khattab disliked a blind Imam and a blind Mu'adhdhin" is because a blind person cannot see impurities to avoid them and may deviate from the Qiblah without realizing it. However, upon reflection, we find that the reason for dislike in the case of a blind person is lighter compared to others. Therefore, the three Imams (Abu Hanifah, Malik, and Ahmad) did not consider it disliked to appoint a blind person as Imam. This was stated by Al-Halabi in Sharh Munyat Al-Musalli.
Al-Allamah Al-Ayni said in Sharh Kanz Ad-Daqa'iq: "A blind person cannot avoid impurities, but if there is no one equal to him in virtue, then he is more deserving. Indeed, the Prophet (ﷺ) appointed Ibn Umm Maktum over Madinah (to lead the people)." Al-Halabi said: "It is only disliked to appoint a blind person as Imam if someone better than him is available. It is established that the Prophet (ﷺ) appointed Ibn Umm Maktum to lead the people in prayer, and he was blind." [Narrated by Abu Dawud]
Note 1
قوله
(۱) قوله : كره عمر بن الخطاب إلخ لأن الأعمى لا يرى النجاسة؛ ليتحرز عنها، وقد ينحرف عن القبلة، وهو لا يشعر. وإذا تأملنا وجدنا سبب الكراهة في الأعمى أخف من غيره، ولذا لم يكره تقديمه عند الأئمة الثلاثة، قاله الحلبي في شرح منية المصلي».
وقال العلامة العيني في شرح كنز الدقائق لأن الأعمى لا يتوقى النجاسة، وإذا كان لا يوازيه غيره في الفضيلة فهو أولى، وقد استخلف النبي ﷺ ابن أم مكتوم على المدينة. انتهى وقال الحلبي : إنما يكره تقديم الأعمى إذا كان غيره أفضل منه، وقد ثبت أن النبي ﷺ استخلف ابن أم مكتوم يؤم الناس، وهو أعمى، رواه أبو داود.
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ ابوداؤد کی مذکور الصدر حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، معلوم
ہوا کہ نابینا کی امامت بی نصفہ جائز ہے، اس لئے کہ ابوداؤد کی اس روایت میں کسی قید کے بغیر نابینا کی
امامت کا ذکر ہے۔
اب رہا سعید بن منصور اور ابن ابی شیبہ کی روایت سے نابینا کی امامت کا مکروہ ہونا جو ثابت
ہو رہا ہے وہ اس احتمال سے ہے کہ شاید نابینا اپنی نابینائی کی وجہ سے اپنے جسم یا کپڑے کو نجاست سے
نہ بچاتا ہو مگر یہ احتمال، بہت ضعیف ہے اس لئے اس ضعیف احتمال کی وجہ سے نابینا کی امامت کو مکروہ
تنزیہی کہا گیا ہے، اگر نابینا جماعت میں سب سے زیادہ عالم ہو تو اس کمزور احتمال کا لحاظ کئے بغیر نابینا
کی امامت کو اولی اور افضل قرار دیا گیا ہے البتہ اگر جماعت میں نابینا سے زیادہ کوئی عالم ہو تو ایسے موقع
میں اس ضعیف احتمال کا لحاظ کر کے نابینا کو امام نہ بنانا چاہئے۔
اور سعید بن منصور کی اس روایت میں لوگوں نے نابینا امام کو جو ملامت کی اس کی تائید میں سعید
بن جبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نابینا کی امامت کو پسند نہ فرمانے کا ذکر کیا ہے اور قوم
نے امام کو جو ملامت کی اس وجہ کی یہ تھی کہ قوم میں نابینا سے زیادہ عالم موجود ہوتے ہوئے نابینا نے
امامت کی تھی۔ (مرقات، ردالمحتار، عمدۃ الرعایہ، اعلاء السنن)
It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that he said: When the first Muhajireen (emigrants) arrived in Madinah, Salim, the freed slave of Abu Hudhaifa, used to lead them in prayer, and among them were Umar and Abu Salama ibn Abdul Asad. [Narrated by Al-Bukhari]
In another narration from Ibrahim, he said: There is no harm if a Bedouin, a slave, or the child of adultery leads them in prayer, provided he recites the Quran well. [Narrated by Muhammad in Al-Athar, and he said: We follow this opinion if the person is knowledgeable and well-versed in the matters of prayer. This is the opinion of Abu Hanifa.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ہجرت فرمانے سے پہلے آپ کے حکم سے) جو صحابہ ہجرت کر کے سب سے پہلے مدینہ منورہ پہنچے تو
ان کی امامت سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، سالم
رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرنے والوں میں حضرت عمر بن خطاب اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
اور ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں اس طرح ہے وہ فرماتے ہیں
کہ اس میں حرج نہیں کہ اعرابی (دیہاتی) غلام اور ولد الزنا لوگوں کی امامت کریں جبکہ انھوں نے
قرآن پڑھ لیا ہو۔ اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے اور امام محمد نے فرمایا ہے کہ ہم
بھی اسی کے قائل ہیں جبکہ وہ عالم ہو اور نماز کے احکام جانتا ہو اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول
ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7175 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 692 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ بخاری اور کتاب الآثار دونوں کی مذکورہ روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام و دیہاتی
اور ولدالزنا تینوں کی امامت فی نفسہ جائز ہے اس لئے کہ بخاری کی روایت میں بغیر کسی قید کے غلام کے
امامت کرنے کا ذکر ہے اور کتاب الآثار کی روایت میں جو ”لَا بَأْسَ“ کا ذکر ہے اس سے قدرے کراہت کی
طرف اشارہ ہوتا ہے وہ اس احتمال سے ہے کہ شاذ ان تینوں کو تربیت کا موقع نہ ملا ہو جس کی وجہ سے یہ ان
پڑھ رہ گئے ہوں مگر یہ احتمال بہت ضعیف ہے۔ اس لئے اس ضعیف احتمال کی وجہ سے غلام، دیہاتی اور
ولدالزنا کی امامت کو مکروہ تنزیہی کہا گیا ہے، اگر یہ جماعت میں سب سے زیادہ عالم ہوں تو اس کمزور احتمال
کا لحاظ کئے بغیر ان کی امامت کو اولی اور افضل قرار دیا گیا ہے۔12 (عمدۃ الرعایۃ، اعلاء السنن)۔
It is narrated from Abu Umamah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer of three people does not rise beyond their ears: a runaway slave until he returns, a woman who spends the night while her husband is angry with her, and a leader of a people who they dislike."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کی نماز (قبول ہو کر آسمان کی طرف چڑھنا تو
کہاں) ان کے کانوں سے بھی آگے نہیں بڑھتی (یعنی قبول نہیں ہوتی، گو فرض ان کے ذمہ سے
ساقط ہو جاتا ہے): ایک (اپنے آقا سے) بھاگا ہوا غلام کہ اس کی نماز اپنے مالک کے پاس واپس
ہونے تک قبول نہیں ہوتی۔ دوسرے اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو ایسی حالت میں رات گزار
دے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہے (بشرطیکہ قصور عورت کا ہو، اگر قصور مرد کا ہے تو پھر عورت اس
وعید میں داخل نہیں ہوگی) تیسرے اس امام کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی جس سے جماعت (اس وجہ
سے) ناراض ہے (کہ وہ شرعی احکام کا خلاف کرتا ہے۔ اگر جماعت اپنی ذاتی عداوت کی وجہ سے
ناراض ہے تو ایسا امام اس وعید میں داخل نہیں ہوگا)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn Umar (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer of three people is not accepted: someone who leads a people in prayer while they dislike him, a man who comes to prayer after its time has passed, and a man who re-enslaves a freed slave."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ (گو فرض تو ان کے ذمہ
سے ساقط ہو جاتا ہے لیکن ثواب نہیں ملتا): ایک وہ شخص ہے جو امامت کے لئے آگے بڑھ گیا، باوجود
یہ کہ جماعت اس سے ناراض ہے (اس لئے کہ یہ احکام شرعی کا خلاف کرتا ہے) دوسرے اس شخص کی
نماز قبول نہیں ہوتی (جس کو بغیر عذر کے) آخر وقت نماز کے لئے آنے کی (عادت ہو) تیسرے
اس شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی جو اپنے غلام باندی کو آزاد کر کے پھر ان کو غلام باندی بنا لے، ایسا
ہی اگر کوئی شخص کسی حُر کو جو غلام یا باندی نہ ہوں زبردستی غلام یا باندی بنا لے تو ایسے شخص کی بھی نماز
قبول نہیں ہوتی۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The prayer of three people does not rise above their heads even a handspan: a man who leads a people in prayer while they dislike him, a woman who spends the night while her husband is angry with her, and two brothers who are in conflict with each other."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں (جن کی نماز قبول ہو کر آسمان کی طرف چڑھنا تو کہاں) ان کے
سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی: ایک ایسا شخص جو لوگوں کی امامت کرے باوجود یہ کہ
جماعت اس سے ناراض ہے (اس لئے کہ یہ شرعی احکام کا خلاف کرتا ہے) دوسرے اس عورت کی
نماز قبول نہیں ہوتی جو ایسی حالت میں رات گزار دے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہے (بشرطیکہ
قصور عورت کا ہو) تیسرے ان دو بھائیوں کی بھی نماز قبول نہیں ہوتی جو ایک دوسرے سے (تین دن
سے زیادہ) قطع تعلق کر کے (سلام و کلام موقوف کر دئے ہوں) ایسا ہی ایسے دو مسلمانوں کی نماز بھی
قبول نہیں ہوتی، جو ایک دوسرے سے (تین دن سے زیادہ) قطع تعلق کر کے (سلام و کلام موقوف
کر دئے ہوں) (اگر یہ قطع تعلق اللہ تعالیٰ کے واسطے ہوا ہو تو یہ اس وعید میں داخل نہ ہوں گے)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
It is narrated from Salamah bint Al-Hurr 1 (may Allah be pleased with her) that she said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Among the signs of the Hour is that the people of the mosque will push one another, and they will not find an imam to lead them in prayer." 2 [Narrated by Ahmad, Abu Dawud, and Ibn Majah]
In a narration by Muslim: "If there are three people, let one of them lead them in prayer." Ali Al-Qari said: This indicates the permissibility of a less virtuous person leading the prayer.
سلامۃ بنت الحر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ (جہالت اور
مسائل سے ناواقفیت ایسی عام ہو جائے گی کہ) مسجد میں لوگ نماز کے لئے جمع ہوں گے، اور ہر ایک
خود نماز نہ پڑھا کر دوسرے کو نماز پڑھانے کہے گا (اور نااہل ہونے کی وجہ سے) کوئی ان کو نماز
پڑھانے والا نہیں ملے گا (اس سے معلوم ہوا کہ امامت کی اہلیت رکھنے کے باوجود امامت سے گریز
کرنا اور امامت نہ کرنا مکروہ ہے) اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے کہ تین شخص بھی ہوں تو ان میں کوئی ایک
امام بنے (اور ایک دوسرے پر نہ ڈھکیلیں)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 581 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 672 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 982 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Salamah bint Al-Hurr
(1) The statement "Salamah bint Al-Hurr" in the original text of the author is "Salamah bint Al-Harith."
Note 2
They will not find an imam to lead them in prayer
(2) The statement "They will not find an imam to lead them in prayer": Ali Al-Qari said that this is why later scholars from our companions permitted taking wages for imamate, adhan, and similar acts like teaching the Quran, unlike the earlier scholars who prohibited taking wages for acts of worship.
Note 1
قوله
(۱) قوله: سلامة بنت الحر وفي أصل المؤلف: «سلامة بنت الحارث».
Note 2
قوله
(٢) قوله: لا يجدون إماما يصلي بهم : قال علي القاري ولذا أجاز المتأخرون من أصحابنا أخذ الأجرة على الإمامة، والأذان ونحوهما من تعليم القرآن، بخلاف المتقدمين؛ فإنهم كانوا يحرمون الأجرة على العبادة.
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Jihad is obligatory upon you with every leader, whether he is righteous or sinful, 1 even if he commits major sins. And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful, even if he commits major sins. And prayer is obligatory upon every Muslim, whether he is righteous or sinful, even if he commits major sins."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر امیر کی سرکردگی میں تم پر جہاد فرض ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ اور
اگرچہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو، اور تم کو ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھ لینا چاہئے خواہ وہ نیک ہو یا
بد اگرچہ کہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو۔ (ایسے امام کے پیچھے جماعت کا ثواب ضرور مل
جائے گا اب رہی مقبولیت اور فضیلت جو متقی امام کے پیچھے حاصل ہوتی ہے، وہ ایسے امام کے پیچھے
حاصل نہیں ہوگی اس لئے فقہاء نے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تنزیہی (درمختار۔12)
قرار دیا ہے اور ہر مسلمان میت پر نماز جنازہ پڑھنا فرض ہے خواہ وہ میت نیک ہو یا بد، اور اگرچہ وہ
کبیرہ کا مرتکب ہی کیوں نہ رہا ہو۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 594 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 2533 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful
(1) The statement "And prayer is obligatory upon you behind every Muslim, whether he is righteous or sinful": Ali Al-Qari said that the command to pray behind a sinful person, even though praying behind a corrupt or innovator is disliked according to us, is evidence for the obligation of congregational prayer. Reflect on this.
Note 1
قوله
(۱) قوله: والصلاة واجبة عليكم إلخ : قال علي القاري في أمره بالصلاة خلف الفاجر، مع أن الصلاة خلف الفاسق والمبتدع مكروهة عندنا، دليل على وجوب الجماعة، فتأمل.
It is narrated from Ubaidullah ibn Adi ibn Al-Khiyar that he visited Uthman (may Allah be pleased with him) while he was under siege. He said: "You are the leader of the general public, and what we see has befallen you. An imam of fitnah (discord) leads us in prayer, and we feel uneasy." Uthman replied: "Prayer is the best of what people do. So when people do good, do good with them, and when they do evil, avoid their evil."
عبیداللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوئے جب کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باغیوں میں
محصور تھے۔ عبیداللہ نے آپ سے عرض کیا کہ خلیفہ المسلمین تو آپ ہیں لیکن آپ ملاحظہ فرما رہے
ہیں کہ اس وقت آپ پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے، فتنہ انگیز باغی ہم کو نماز پڑھا رہے ہیں اور ہم ان
کے پیچھے مقتدی ہو کر نماز پڑھنے سے گنہگار ہو رہے ہیں، اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا: (ایسا نہیں) نماز سب اعمال میں بہترین عمل ہے، اگر کسی فاسق کے ساتھ مل کر تم نیک عمل
کریں تو تم پر اس کے فسق کا کوئی اثر نہ ہوگا اور تم گنہگار نہ ہوگے، ہاں اگر فاسق کے ساتھ اس کے فسق
وفتنہ میں تم بھی شریک ہوگے تو اس وقت تم بھی فاسق سمجھے جائیں گے، ایسا ہی باغی امام پر بغاوت کا
گناہ ہوگا چونکہ تم دل سے اس بغاوت کو برا سمجھ رہے ہو، اس لئے باغی کی اقتداء کر کے نماز پڑھنے
سے تمہاری نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے ثابت ہوا
کہ فاسق امام کے پیچھے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر نیک وبد کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرأت جاننے والا بھی ہو تو عالم کے مقابلہ میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور یہی حنفی مذہب ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اسی لئے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”بَابُ اَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْاِمَامَةِ“ (علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار ہیں) اس حدیث شریف سے حنفی مذہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے جن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اَقْرَؤُكُمْ اُبَيٌّ“ (تم میں سب سے بڑے قاری اُبی ہیں) اس لئے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ”كَانَ اَبُوْبَكْرٍ اَعْلَمَنَا“ (ہم میں سب زیادہ علم والے ابوبکر ہیں) اگر قاری امامت کے لئے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کے لئے حضرت اُبی کو منتخب فرماتے، ایسا نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لئے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بڑے عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لئے ترجیح دی اور یہ آپ کے آخری زمانہ کا واقعہ ہے، اس لئے اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ امامت کے لئے زیادہ علم والے کی زیادہ قرأت والے پر ترجیح قطعی امر ہے۔ (یہ مضمون عمدۃ القاری، فتح القدیر، جامع الآثار اور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دارقطنی کی روایت میں اس طرح ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اور سب سے زیادہ علم دین کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرأت جاننے کے لحاظ سے یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (اگر سب کے سب قرأت کے جاننے میں برابر ہوں تو) امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو گناہوں سے ہجرت (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، یعنی سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقویٰ میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو ان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دوسرے کے حلقہ اثر میں (بغیر اس کی اجازت کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے مخصوص بستر وغیرہ پر اس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے گھر میں (گھر والے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کہ یہ اس سے افضل ہو)۔