Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 29

Chapter on What is Required of the Follower and the Ruling on One Who Joins Prayer Late

14 narrations · In source reading order

Hadith 1514

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1732
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ افعال نماز میں امام سے سبقت نہ کرو (بلکہ امام کے ہر فعل کے بعد ہی تم بھی اسی فعل کو امام کے فعل سے ملا ہوا ادا کرو) جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر (اس طرح) کہو (کہ امام کے اللہ اکبر کی راء سے مقتدی کے اللہ اکبر کا الف ملا رہے، بخلاف اس کے اگر مقتدی امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے خود تکبیر تحریمہ کہہ لے تو مقتدی کی نماز ہی نہ ہوگی) (اور جب امام سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے تو مقتدی سنتا رہے) اور جب امام ”وَلَا الضَّالِّينَ“ پڑھ کر (آمین کہنے کا ارادہ کرے تو) تم مقتدی بھی (امام کی طرح آہستہ سے) آمین کہو، اور جس وقت امام رکوع کرے تو تم بھی امام کے رکوع کے بعد اس کے رکوع سے متصل رکوع کرو، پھر جب امام رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے (تو امام کو چاہئے کہ ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ نہ کہے) مقتدی کو چاہئے کہ (جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ“ نہ کہے صرف) ”اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 415a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 734 (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.578

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1515

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1733
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ختم کی تو ہماری جانب رخ کر کے ارشاد فرمایا لوگو! میں تمہارا امام ہوں (اور امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی متابعت کی جائے) لہذا تم مجھ سے نہ رکوع کرنے میں سبقت کرو اور نہ سجدہ کرنے میں، نہ قیام میں اور نہ سلام پھیرنے میں (اگر سبقت کرو گے تو متابعت نہ رہے گی) (تم سمجھتے ہوں گے کہ) میں سامنے ہی دیکھتا ہوں، ایسا نہیں بلکہ میں اپنے پیچھے سے بھی ایسا ہی دیکھتا ہوں، جیسا کہ سامنے سے (اس لئے میں دیکھ لیتا ہوں کہ افعال نماز میں تم میری متابعت کرتے ہو یا مجھ سے سبقت کرتے ہو)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 426a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1516

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1734
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز میں (مثلاً رکوع یا سجدے سے) امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا کیا اس بات سے بے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو مسخ کر کے گدھے کا سر بنا دیں (اس حدیث شریف میں اس طرف اشارہ ہے کہ افعال نماز میں جو امام سے سبقت کرتا ہے وہ حماقت اور بلاوت میں گدھے کا جیسا ہے کیونکہ امام اس لئے بنایا تھا کہ متابعت کی جائے لیکن متابعت چھوڑ کر امام سے سبقت کرنا امام بنانے کے منشاء کے خلاف ہے اس لئے یہ گدھے کے جیسا احمق ہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 691 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 427a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مسخ کا ذکر ہے کہ امام سے سبقت کرنے والے کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مسخ ہونا اس حدیث کے خلاف نہیں ہے جس میں ارشاد ہے کہ اس امت مرحومہ میں مسخ نہیں ہوگا، اس لئے کہ اس حدیث شریف کا منشاء یہ ہے کہ عام مسخ نہ ہوگا یعنی اور امتوں کی طرح یہ تمام امت مسخ میں مبتلا نہ ہوگی، اگر بعضوں کو سزائے مسخ کردیا جائے تو اس حدیث شریف کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ دمشق کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ وہ اپنا منہ ہمیشہ ڈھانکے رہتا تھا، ایک روز جب اس کا چہرہ نظر آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا سر گدھے کا سر ہے، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ اس نے حدیث کو سن کر یہ خیال کیا تھا کہ انسان کا سر گدھے کا سر کیسے ہوسکتا ہے اور عمداً امام سے پہلے سر اٹھایا تو اس کا سر مسخ ہوکر گدھے کا سر ہوگیا اور اس کو معلوم کرا دیا گیا کہ مسخ ایسے ہوسکتا ہے ”نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْهُ“ حدیث شریف سے بے ادبی کرنے اور حدیث شریف کا انکار کرنے کی یہی سزا ہے دنیا میں، اور آخرت میں جدا عذاب ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث شریف کے انکار سے بچائے۔ (ماخوذ از مرقات)12

Hadith 1517

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1735
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص (مثلاً رکوع اور سجدہ سے) امام سے پہلے اپنے سر کو اٹھاتا ہے اور (ایسا ہی رکوع اور سجدہ میں جانے کے لئے) امام سے پہلے اپنے سر کو جھکاتا ہے تو وہ شیطان کے ہاتھ میں کٹ پتلی بنا ہوا ہے (کہ شیطان جو چاہتا ہے اس سے کروا رہا ہے، اس لئے وہ افعال نماز میں امام سے سبقت کر کے سنت اور شریعت کی نافرمانی کر رہا ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1142 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 203 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 1142

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1518

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1736Noor 1737
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے (کچھ عجیب اتفاق ہوا کہ باوجود شہسوار ہونے کے) گھوڑے سے زمین پر گر پڑے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا دایاں پہلو گرا چھل گیا (جس کی وجہ سے آپ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکے) اس لئے ایک فرض نماز کو آپ نے بیٹھے ہوئے پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے مقتدی ہو کر بیٹھے ہوئے اس فرض نماز کو ادا کیا، جب آپ سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا اے (صاحبو! تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ امام بنانے کا مقصد کیا ہے؟ سنو!) امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ امام جیسا کرے مقتدی بھی ویسا ہی کریں (یعنی) جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جس وقت وہ رکوع کرے تو تم بھی اس کے بعد ہی متصل بلا فصل رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے تو تم ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہو، اور جب (یہ ایک اضافہ ایک روایت میں مذکور ہے۔ مرقات۔12) وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب امام (کسی عذر سے) بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: تم امام سے اختلاف نہ کرو! جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 689 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور امام بخاری اس حدیث کو بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ان کے استاد حمیدی نے کہا: ”وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا“ (جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مرض الموت سے بہت پہلے زمانہ کا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کا واقعہ اس کا ناسخ ہے۔ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر امامت فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کی اور صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ اس لئے امام کا کسی عذر سے بیٹھ کر امامت کرنا اور مقتدیوں کا بھی بلا عذر بیٹھ کر اقتداء کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے واقعہ سے منسوخ ہوگا اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی مسئلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کا فعل ایک ہو اور آخری زمانہ کا فعل دوسرا ہو تو آخری فعل واجب العمل ہوتا ہے، پہلا فعل منسوخ ہوتا ہے اور آخری فعل ناسخ، اس لئے امام کسی عذر سے بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کو کھڑے ہو کر اقتداء کرنا چاہئے۔ (یہ بخاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔)

Hadith 1519

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1738Noor 1739
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس مرض سے بیمار ہوئے جس کے سبب سے آپ دنیا سے تشریف لے گئے اور جب آپ کی بیماری بہت بڑھ گئی اور آپ باہر تشریف نہ لیجا سکے تو حسب عادت بلال رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع دی تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ وہ امام ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ (حکم کی تعمیل کر کے) حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے دنیا سے تشریف لیجانے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے (اس اثناء میں ایک نماز کے موقع پر ابوبکر رضی اللہ عنہ امام بن کر نماز پڑھا رہے تھے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیماری میں کچھ کمی معلوم ہوئی (اور باہر تشریف لانے کی قوت محسوس ہوئی، جماعت کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر اہتمام تھا کہ بیماری میں کچھ کمی معلوم ہونے کے بعد آپ تنہا نماز پڑھنا مناسب نہیں سمجھے اس لئے) آپ دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا دے کر جماعت کے لئے باہر تشریف لائے۔ (ام المومنین فرماتی ہیں کہ اس وقت کا منظر اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (قدم اٹھانے کی قوت نہ ہونے کی وجہ سے) زمین پر اپنے پیر کھینچتے ہوئے تشریف لے جا رہے تھے یہاں تک کہ آپ اسی حالت میں مسجد میں داخل ہوئے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریف لانے کی آہٹ محسوس کی اور پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ سے پیچھے نہ ہٹیں، اور خود تشریف لیجا کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں جانب بیٹھ گئے (جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مکبر ہونے پر بخاری اور مسلم کی یہ دوسری روایت دلالت
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 713 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 418a (unverified) 86% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے امامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدھی جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے جو مقتدی کا مقام ہے اور امامت کے منتقل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرأت اسی جگہ سے شروع فرمائی جہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام ہو کر عذر کی وجہ سے بیٹھے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مثل ساری جماعت کے مقتدی ہو کر مکبر بن کر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور ساری جماعت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تکبیر کی آواز پر نماز پڑھ رہی تھی۔

Note 2

کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ”يُسْمِعُ أَبُوْبَكْرٍ النَّاسَ التَّكْبِيْرَ“ یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکبیر کی آواز لوگوں کو پہنچا رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مکبر تھے امام نہیں تھے اور خود ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ساری جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کر رہی تھی اور امامت کا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منتقل ہو جانا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا اوروں کے لئے ایسے موقع پر یہ حکم ہے کہ جب تک پہلا امام ہٹ کر کہیں اور نہ چلا جائے دوسرا شخص امام نہیں بن سکتا۔ مثلاً اگر امام کو حدث ہو جائے تو وہ وضوء کے لئے چلا جائے گا اور اس کی جگہ دوسرا شخص امام بن کر نماز پڑھائے گا۔ پہلا امام ہوتے ہوئے دوسرا امام نہیں بن سکتا۔ دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ کسی عذر سے امام بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھائے تو جماعت کھڑی ہوئی حالت میں نماز ادا کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل ہونے سے ناسخ ہے اور اسی پر عمل در آمد ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے اور اس سے پہلے کی حدیث میں جو مذکور ہے کہ امام بیٹھ کر نماز پڑھیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تو یہ پہلا فعل ہونے سے منسوخ ہے، جیسا کہ اوپر کی حدیث میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Hadith 1520

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1740
حضرت علی اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کو آئے اور دیکھے کہ جماعت ہو رہی ہے (تو وہ نیت کر کے کھڑے ہوئے تکبیر تحریمہ ادا کرے) اور امام جس حالت میں ہو اسی حالت میں شریک ہو جائے اور ویسا ہی کرے جیسا امام کر رہا ہو (اس حدیث میں اس
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 591 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

بات کی دلیل ہے کہ مسبوق امام کی موافقت کرے خواہ امام قیام میں ہو یا رکوع میں ہو، سجدہ میں ہو یا قعدہ میں اور امام کے قیام کی طرف رجوع کرنے کا انتظار نہ کرے جیسا کہ عوام کیا کرتے ہیں، البتہ رکعت پانے کے لئے امام کے ساتھ رکوع پانا ضروری ہے اور رکوع پانے کی حد یہ ہے کہ امام کے ساتھ کم از کم ایک دفعہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ“ کہہ لے، اگر امام کے رکوع کرنے کے بعد سجدہ یا قعدہ میں امام کے ساتھ جا ملا ہے تو اس رکعت کا شمار نہیں ہوگا)۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)

Hadith 1521

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1741
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے مسجد میں آؤ اور دیکھو کہ میں (یا کوئی اور امام) سجدہ میں ہو تو (تم ہمارے قیام میں آنے کا انتظار نہ کرو) سجدہ میں شریک ہو جاؤ اور سجدہ کے ملنے سے یہ نہ سمجھو کہ رکعت مل گئی ہے بلکہ رکوع ملنے سے رکعت ملتی ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 893 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ اَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ اَدْرَكَ الصَّلٰوةَ“، یعنی جس نے رکوع پا لیا تو اس نے رکعت پالی، یہاں رکعت کے معنی رکوع کے اس وجہ سے کئے گئے ہیں کہ احادیث شریفہ میں جب لفظ رکعت کے ساتھ سجدہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے رکوع ہی مراد ہوتا ہے، چنانچہ اس حدیث شریف میں پہلے سجدہ کا ذکر ہے، اور پھر رکعت کا اس لئے یہاں رکعت سے مراد رکوع ہی ہے نہ کہ پوری رکعت۔ یہ اعلاء السنن میں مذکور ہے۔

Hadith 1522

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1742
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص (نیت کرے اور کھڑے ہوئے تو تکبیر تحریمہ ادا کر کے اس حالت میں رکوع پائے (کہ رکوع میں امام کے ساتھ کم از کم ایک دفعہ ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمُ“ کہنے کا موقع ملا ہو) تو اس کو وہ رکعت پوری مل گئی (اگر وہ شروع سے امام کے ساتھ شریک رہتا تو امام کے سورۂ فاتحہ کی قرأت کرنے سے اس کے طرف سے بھی سورۂ فاتحہ کی قرأت ادا، ہو جاتی اور اس کو خیر کثیر حاصل ہو جاتا) رکوع میں ملنے والے کو گو رکعت تو مل گئی مگر سورۂ فاتحہ کی قرأت نہ ملنے سے وہ خیر کثیر سے محروم رہا (اس لئے کوشش کر کے شروع سے امام کے ساتھ شریک رہے تاکہ سورۂ فاتحہ ملنے سے اس کو خیر کثیر حاصل ہو جائے)۔ (اس حدیث کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 162 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1149 (unverified) 45% confidence

Mishkat (candidate) 1149

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1523

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1743
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اخلاص کے ساتھ اللہ ہی کے لئے چالیس دن پانچوں نمازیں جماعت سے اس طرح ادا کی ہوں کہ امام کے تکبیر تحریمہ کہنے کے وقت حاضر تھا اور اس نے امام کی تکبیر تحریمہ کے بعد ہی تکبیر تحریمہ ادا کی ہو تو اس کے لئے دو طرح کی نجات لکھ دی جاتی ہے: ایک نجات دوزخ سے مل جاتی ہے کہ وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا اور دوسری نجات نفاق سے مل جاتی ہے (کہ دنیا میں منافقوں کے اعمال مثلاً جھوٹ بولنے، وعدہ خلافی کرنے اور نماز کو سستی اور ریاء سے ادا کرنے سے بچا رہے گا اور اہل اخلاص کے اعمال کی اس کو توفیق دی جائے گی اور آخرت میں منافقین کے لئے جو عذاب خاص ہے اس سے بھی بچا لیا جائے گا)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 241 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1524

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1744
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (سنن اور مستحبات کی پابندی کے ساتھ حضور دل سے) اچھی طرح وضو کرے اور جماعت کے ارادے سے مسجد کو جائے وہاں جا کر کیا دیکھتا ہے کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں (اس کو جماعت نہ ملنے سے بڑی حسرت ہوئی۔ چونکہ وہ جماعت کی نیت سے نکلا تھا اور اتفاق سے اس کو جماعت نہیں ملی اس لئے) اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی (اس کی نیت اور پچھتاوے کی وجہ سے) جماعت میں حاضر ہونے والوں اور جماعت سے نماز پڑھنے والوں کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں (اس کو جماعت کا جو اجر و ثواب دیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی قدردانی ہے اس لئے اس شخص کو اجر دینے سے جو جماعت سے نماز پڑھ چکے ہیں، ان کے اجر و ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی)۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 564 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 855 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1525

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1745
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحب (مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے) ایسے وقت حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جماعت سے) نماز پڑھ چکے تھے (جو لوگ جماعت کے پابند ہوتے ہیں ان کو جماعت نہ ملنے کا بہت رنج ہوتا ہے، یہ محسوس فرما کر جماعت ہونے کے بعد آنے والے صحابی کی تسلی کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (چونکہ ان کو جماعت نہیں ملی ہے اس لئے) کوئی صاحب ان پر احسان کر کے ان کے ساتھ صورۃً جماعت بنا کر نماز ادا کریں (اس سے جماعت نہ ملنے والے کو جماعت کا جو ثواب ملے گا وہ پہلی جماعت کا ثواب نہ ہوگا مگر پھر بھی جو کچھ اجر ملے گا، جو شخص شریک ہو کر ان کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے سمجھا جائے گا کہ یہ شخص اس پر ثواب خیرات کر رہا ہے) یہ سن کر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ جماعت بنا کر نماز ادا کئے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 220 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 574 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو، اس مسجد میں دوبارہ پھر جماعت کرنا حنفی، شافعی اور مالکی تینوں (عمدۃ القاری، اعلاء السنن بحوالہ رحمۃ الامۃ) مذاہب میں مکروہ تحریمی ہے، جماعت ثانیہ کا مکروہ تحریمی ہونا رد المحتار میں مذکور ہے۔ اب رہا اس حدیث سے بظاہر جماعت ثانیہ کا جائز ہونا جو معلوم ہو رہا ہے، اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اس حدیث میں جس جماعت کا ذکر ہے وہ حقیقۃً جماعت نہیں ہے بلکہ صورۃً جماعت ہے۔ اور صورۃً جماعت یہ ہے کہ امام تو فرض نماز ادا کر رہا ہو، اور مقتدی نفل کی نیت سے اس کی اقتداء کر رہا ہے اور حقیقۃً جماعت یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کر رہے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہاں صورۃً جماعت ہوئی ہے اور ایسی جماعت کے بارے میں ہمارے ائمہ میں سے کسی امام نے کراہت نہیں بتائی ہے، اس کے برخلاف حقیقۃً جماعت کی صورت میں جب کہ کوئی امام اور مقتدی دونوں فرض نماز ادا کرنے کے لئے جماعت ثانیہ قائم کریں تو ایسی جماعت کو اکثر ائمہ نے مکروہ قرار دیا ہے، جیسا کہ ابھی اوپر بیان ہو چکا ہے۔ (یہ بذل المجہود میں مذکور ہے۔)

Hadith 1526

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1746
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی دینی کام کے لئے) مدینہ منورہ کے اطراف کسی مقام پر تشریف لے گئے (وہاں سے واپس ہونے میں دیر ہوگئی) نماز کے لئے جب آپ اپنی مسجد میں تشریف لائے تو دیکھے کہ جماعت ہوچکی ہے تو آپ (مسجد میں جماعت ثانیہ نہ بنا کر) اپنے گھر تشریف لے گئے اور گھر والوں کو جمع کر کے ان کے ساتھ (با جماعت نماز ادا فرمائی۔ (اس کی روایت طبرانی نے کبیر اور اوسط میں کی ہے، اور ہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔)
mentioned in "Radd al-Muhtar."
Commentary and footnotes (3)

Note 1

He gathered his family and led them in prayer

(1) The statement "He gathered his family and led them in prayer": It is mentioned in "Radd al-Muhtar" that it is strongly disliked (makruh tahriman) to repeat the congregation in a neighborhood mosque with a second adhan and iqamah, unless the first prayer was led by someone other than the regular imam or by the regular imam but with a low adhan. If the family repeats the prayer without a second adhan, or if it is a mosque on a travel route, it is permissible by consensus, as in the case of a mosque without a fixed imam or muadhin where people pray in groups. It is preferable for each group to pray with its own adhan and iqamah, as mentioned in "Amali Qadi Khan." The restriction applies to a neighborhood mosque with a fixed imam and congregation, as mentioned in "Ad-Durar" and other sources. In "Al-Manba'," it is stated that the restriction to a neighborhood mosque is to distinguish it from a public mosque, and the restriction to a second adhan is to exclude cases where a congregation prays in a neighborhood mosque without an adhan, which is unanimously permissible. In arguing against Imam Ash-Shafi'i, who denies the dislike of repetition, it is said: We have this hadith, and if repeating the congregation were permissible, he would not have chosen to pray at home over praying in congregation in the mosque. Moreover, unrestricted repetition diminishes the significance of congregation, as people would not gather if they knew the prayer would not be missed. As for a public mosque, people are equal there, and no group has a special claim over it. This reasoning implies that repetition is disliked in a neighborhood mosque even without a second adhan. This is supported by what is mentioned in "Az-Zahiriya": If a group enters the mosque after its residents have prayed, they should pray individually, which is the apparent ruling. This contradicts the earlier consensus. In the chapter on Adhan, it is mentioned in "Sharh al-Munyah" that Abu Yusuf said: If the congregation is not in the same form as the first, it is not disliked; otherwise, it is disliked, and this is the correct view. Changing the position of the imam alters the form, as mentioned in "Al-Bazzaziya." In "At-Tatarkhaniya," it is narrated from "Al-Walwaljiya": This is our position. End of the summary from "Radd al-Muhtar."

Note 1

قوله

(۱) قوله: فجمع أهله فصلي بهم: قال في رد المحتار» يكره تحريما تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان وإقامة إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله أو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما، أو كان مسجد طريق جاز إجماعا، كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة، كما في «أمالي قاضي خان». انتهى ونحوه في الدرر»، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون، كما في الدرر» وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احتراز عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعا انتهى ثم قال في الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه: ولنا هذا الحديث، ولو جاز تكرار الجماعة لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد، ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنها لا تفوتهم. وأما مسجد الشارع فالناس فيه سواء، لا اختصاص له بفريق دون فريق. انتهى ومثله في البدائع وغيرها، ومقتضى هذا الاستدلال: كراهة التكرار في مسجد المحلة ولو بدون أذان. ويؤيده ما في الظهيرية»: لو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى فيه أهله يُصلُّون وحدانا، وهو ظاهر الرواية. انتهى وهذا مخالف الحكاية الإجماع المارة، وقدمنا في باب الأذان» عن آخر شرح المنية» عن أبي يوسف: أنه إذا لم تكن الجماعة على الهيئة الأولى لا تكره، وإلا تكره، وهو الصحيح. وبالعدول عن المحراب تختلف الهيئة، كذا في «البزازية». وفي التتارخانية» عن «الولوالجية»: وبه نأخذ. تم كلام رد المحتار» مختصرا.

Note 1

ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد میں جماعت ثانی مکروہ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں دوسری جماعت نہیں کی بلکہ گھر میں جماعت کی، رہا یہ احتمال کہ اس وقت آپ کو مسجد میں جماعت کرنے کے لئے آدمی نہ ملے ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو آپ مدینہ منورہ سے باہر تنہا کبھی نہ جاتے تھے بلکہ کچھ صحابہ ضرور آپ کے ہمراہ ہوتے تھے اس لئے ظاہر یہ ہے کہ اس وقت بھی کچھ لوگ ہمراہ ہوں گے، دوسرے یہ کہ آپ گھر والوں کو بھی مسجد میں بلا کر مسجد میں جماعت کر سکتے تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی ممانعت نہ تھی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دوسری جماعت مسجد ہی میں مکروہ ہے مسجد سے باہر جائز ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی جماعت کے بعد گھر میں دوسری جماعت کی مگر یہ بھی اس شخص کے لئے جائز ہے جو جماعت اولیٰ میں سستی نہ کرے بلکہ اس کے حاصل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرے، پھر کبھی اتفاقاً فوت ہوجائے تو مسجد سے باہر جماعت کر سکتا ہے ورنہ مسجد سے باہر جماعت ثانی کا عادی ہونا بھی مکروہ ہوگا۔ ”والله اعلم“ کیونکہ اس سے جماعت اولیٰ کی اہمیت باقی نہ رہے گی اور جماعت اولیٰ قلیل ہوجائے گی۔ حالانکہ جماعت اولیٰ واجب اور مؤکد ہے (اعلاء السنن)

Hadith 1527

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1747Noor 1748
اسود بن یزید تابعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ جب کبھی ان کو اپنے محلّہ کی مسجد میں جماعت نہیں ملتی تو وہ (اپنے محلّہ کی مسجد میں جماعت ثانی نہ کرتے) دوسرے محلّہ کی مسجد میں (جماعت اولیٰ) حاصل کرنے کے لئے جایا کرتے تھے (مگر اپنے محلّہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ کے لئے جانا واجب ہے اور دوسرے محلّہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ حاصل کرنے کے لئے جانا مستحب ہے، یہ بدائع میں مذکور ہے)۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے)۔ اور بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقاً کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 645 (unverified) 45% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.