ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز جس کو وضوء نہ ہو بغیر وضوء کے قبول نہیں ہوتی۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: بغیر طہارت اور وضوء کے نماز قبول نہیں کی جاتی اور مال حرام سے خیرات بھی قبول نہیں ہوتی۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
منذر ابو یعلیٰ ثوری رحمہ اللہ محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، منذر
کہتے ہیں: میں محمد بن الحنفیہ کو ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ ان
کے والد یعنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا: مجھے مذی کثرت سے آیا کرتی تھی تو میں نے مقداد رضی
اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں اور مجھے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے میں شرم محسوس ہوتی تھی کیوں کہ آپ کی صاحبزادی میرے
نکاح میں تھیں۔
And if it is pre-ejaculate, then wudu is required.
(1) The saying: "And if it is pre-ejaculate, then wudu is required." Al-Tahawi said: Some scholars are of the view that it is obligatory for a man to wash his private parts (the penis) when he experiences pre-ejaculate (madhiy) or after urination. However, others disagreed with them, stating that the Prophet (ﷺ) did not mandate washing the private parts in such cases, but rather to prevent the pre-ejaculate from flowing. Do you not see that when Ali (may Allah be pleased with him) narrated what the Prophet (ﷺ) prescribed for him in such situations, he mentioned performing wudu for prayer? Therefore, it is established that anything other than the wudu for prayer prescribed by the Prophet (ﷺ) was for a different reason and not for the same cause that requires wudu for prayer. This is the view of Abu Hanifa, Abu Yusuf, and Muhammad ibn al-Hasan (may Allah have mercy on them).
Note 1
قوله
(۱) قوله : وإذا كان المذي ففيه الوضوء: قال الطحاوي: ذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أَمْذَى وإذا بال. وخالفهم في ذلك آخرون، فقالوا: لم يكن ذلك من رسول الله ﷺ على إيجاب غسل المذاكير، ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج. أفلا ترى أن عَليًّا لما ذكر عن النبي ﷺ ما أوجبه عليه في ذلك ذكر وضوء الصلاة، فثبت بذلك أن ما كان سوى وضوء الصلاة مما أمر به فإنما كان ذلك لغير المعنى الذي وجب له وضوء الصلاة. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن (رحمهم الله).
Note 1
مذی اس رقیق پانی کو کہتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مذاق کرنے یا ان کو شہوت کے ساتھ دیکھنے
سے نکلتا ہے۔
مقداد رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ ہر جوان مرد کو
مذی آتی ہے، اگر منی خارج ہو تو غسل واجب ہے اور اگر مذی نکلے تو اس پر صرف وضوء واجب ہے،
غسل واجب نہیں ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور بخاری اور مسلم سے بھی اسی طرح
روایت کی ہے۔)
ف: مرد سے جب مذی نکلے تو اس پر وضوء ضروری ہے، اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ
علیہ نے اولاً ایک جماعت کے مسلک کو نقل کیا ہے جو حنفیوں کے خلاف ہے جن کا قول یہ ہے کہ مرد کو
جب مذی نکلے تو اس پر شرمگاہ کا دھونا واجب ہے، جس طرح پیشاب کرنے کے بعد شرمگاہ کا دھونا
ضروری ہے لیکن احناف نے ان کی مخالفت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ بعض حدیثوں سے مذی نکلنے پر شرمگاہ کا جو
دھونا معلوم ہوتا ہے اس سے شرمگاہ کے دھونے کا واجب کرنا مقصود نہیں بلکہ اس کی غرض مذی کی آمد کا بند کرنا
ہے، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف وضوء
کرنے کا ذکر ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں، امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف
اور محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا یہی ارشاد ہے۔
عائش بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے علی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ میں ایسا شخص تھا کہ مجھ سے مذی بکثرت خارج ہوا کرتی
تھی تو میں اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا چاہا مگر آپ کی صاحبزادی
میرے نکاح میں ہونے کی وجہ سے مجھے شرم محسوس ہوئی تو میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو دریافت کرنے کے
لئے کہا، عمار رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
اس کے لئے وضوء کافی ہے۔ (امام طحاوی نے اس کی روایت کی ہے۔)
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
مذی کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: مذی کے نکلنے سے وضوء لازم آتا ہے اور منی کے نکلنے سے
غسل۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب مرد سے
مذی خارج ہو جائے تو حشفہ یعنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور نماز کے وضوء کی طرح وضوء کر لے۔ (اس کی
روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے بکری کا دست تناول فرمایا اور اس کے بعد نماز پڑھی اور وضوء نہیں فرمایا۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت تناول فرمایا پھر اس ٹاٹ سے ہاتھ صاف فرمایا جس پر آپ
تشریف فرما تھے، پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی، (گوشت تناول فرمانے کی وجہ سے وضوء نہیں
فرمایا)۔ (ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے۔)
ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنے ہوئے پہلو کا گوشت پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کچھ تناول
فرمایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور وضوء نہیں فرمایا۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
محمد بن منکدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات (رضی اللہ عنہن) میں سے ایک کی خدمت میں حاضر ہوا اور
عرض کیا کہ اس چیز کے متعلق کوئی حدیث بیان فرمائیے جو آگ سے پکائی گئی ہو، انہوں نے کہا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی ہمارے پاس تشریف لاتے تو اکثر ہم آپ کے لئے ایک غلہ کی
دانہ دار قسم کی چیز جو مدینہ میں پائی جاتی ہے تل دیا کرتے تو آپ اس کو تناول فرماتے اور نماز پڑھتے
اور (تازہ) وضو نہیں فرماتے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ
میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری کا دل اور کلیجی بھونتا اور آپ اس کو تناول فرما کر نماز ادا
فرماتے اور (تازہ) وضو نہیں فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور طحاوی کی روایت بھی
اسی طرح ہے۔)
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابو رافع کے پاس بکری کا
گوشت بطور ہدیہ بھیجا گیا تو انہوں نے اس کا گوشت پکانے کے لئے ہانڈی میں چڑھایا تو
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اے ابو رافع! یہ کیا ہے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم یہ بکری کا گوشت ہے جو ہمارے یہاں تحفۃً آیا ہے جس کو میں نے ہانڈی میں پکا لیا
ہے، آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابو رافع! اس کا ایک دست مجھے دو، پس میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں دست پیش کر دیا، ارشاد ہوا مجھے دوسرا دست دو، میں نے دوسرا دست پیش کر دیا، پھر
ارشاد فرمایا: ایک اور دست لا دو، ابو رافع نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے دو ہی
دست ہوتے ہیں، آپ نے فرمایا: اے ابو رافع! تم اگر خاموش رہتے تو تم دست پر دست دیتے جاتے
جب تک تم خاموش رہتے، پھر آپ نے پانی منگوا کر کلی فرمائی اور انگلیوں کے سروں کو دھو ڈالا، پھر
کھڑے ہو کر نماز ادا فرمائی، پھر آپ دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے ہاں ٹھنڈا گوشت
موجود پایا پھر اس کو تناول فرمایا اور پھر مسجد میں جا کر نماز ادا فرمائی اور پانی استعمال نہیں کیا۔ (اس کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور دارمی نے اس کو ابو عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس میں پانی منگوانے
سے لے کر آخر تک کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اور اُبی بن
کعب اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی کھائی، پھر میں
نے وضوء کے لئے پانی منگوایا تو دونوں نے کہا: وضوء کیوں کرتے ہو، میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ
سے جس کو ہم نے کھایا ہے، تو ان دونوں نے کہا: کیا پاکیزہ چیزیں کھا کر وضوء کرتے ہو، حالانکہ جو تم
سے بہتر۔ (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم) تھے انہوں نے تو پکی ہوئی چیز کھا کر وضوء نہیں فرمایا۔ (امام
احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فتح خیبر کے سال حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور جب مقام صہباء پر پہنچے جو خیبر سے قریب تر ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے عصر کی نماز ادا فرمائی، پھر آپ نے توشہ طلب فرمایا تو صرف ستو حاضر کیا گیا تو ستو کے متعلق
فرمایا کہ بھگویا جائے تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تناول فرمایا اور ہم بھی کھائے، پھر آپ نماز
مغرب کے لئے اٹھے اور آپ نے کلی کی ہم نے بھی کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضوء نہیں
فرمایا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور امام طحاوی اور امام محمد نے بھی اسی کے مثل روایت کی
ہے۔)
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
شوربا گوشت کے ساتھ تناول فرمایا پھر نماز پڑھی۔ (اس کو ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے
روایت کی ہے)۔
وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر
بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے گوشت
تناول فرمایا، پھر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن
خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شام کا کھانا کھایا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور وضوء نہیں
کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے۔)
ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے
گوشت اور روٹی تناول فرمائی، پھر کلی کی اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں کو چہرے پر مل دیا، اس
کے بعد نماز فرمائی اور وضوء نہیں کیا۔ (اس کی روایت امام محمد نے موطا میں کی ہے)۔
سعید بن ابی بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اپنے والد ابو بردہ رضی
اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ وہ چیز
کھا کر وضوء کرنے سے متعلق کیا کہتے ہیں جس کو آگ نے پکایا ہے؟ فرمایا: وضوء کیجئے۔ ابن عمر رضی
اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: آپ چکنی چیز اور گرم پانی کی نسبت کیا فرماتے ہیں کہ آیا ان کے استعمال سے
وضوء کیا جائے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم قریشی ہو اور میں قبیلہ دوس کا ہوں۔ ابن عمر رضی اللہ
عنہما نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) شائد آپ (سورہ زخرف، پ:25، ع:6، آیت
نمبر:58، کی) اس آیت سے استدلال کر رہے ہیں ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ (بلکہ یہ جھگڑالو
قوم ہے)۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کا آخری عمل آگ سے پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضوء نہ کرنا تھا۔ (طحاوی اور نسائی نے اس کی
روایت کی ہے اور شرح مسلم میں امام نووی نے کہا ہے کہ یہ صحیح حدیث ہے۔)
جابر بن سَمُرَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ: آیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد ہم وضوء کریں؟
ارشاد ہوا: اگر تم چاہو تو وضوء کر لو اور اگر نہیں چاہتے ہو تو مت کرو، کیا اونٹ کا گوشت کھائیں تو وضوء
کر لیں؟ فرمایا: ہاں اونٹ کا گوشت کھانے سے (یعنی کھانے کے بعد) وضوء کر لیا کرو (اونٹ کا
گوشت کھا کر وضوء کرنے کا حکم بطورِ استحباب ہے واجب نہیں، علامہ شامی رحمت اللہ علیہ نے اس کی
صراحت کی ہے) میں نے عرض کیا کہ بکریوں کے باندھنے کی جگہ نماز ادا کر سکتا ہوں؟ ارشاد ہوا:
ہاں، عرض کیا کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ نماز پڑھ سکتا ہوں؟ فرمایا: نہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی
ہے۔)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پینے کے بعد کلی کی اور فرمایا اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ
والتسلیم نے فتح مکہ کے روز کئی نمازیں ایک ہی وضوء سے ادا فرمائیں اور موزوں پر مسح کیا، عمر رضی اللہ
عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے آج ایسا کام کیا ہے جس کو آپ نے اس سے قبل نہیں کیا ہے (یعنی ایک
ہی وضوء سے جملہ نمازیں ادا کیں) ارشاد ہوا: اے عمر! (رضی اللہ عنہ) میں نے قصداً ایسا کیا ہے
،(تا کہ اس کا جواز معلوم ہو)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ (حرکت) پائے اور اس پر شبہ ہو کہ اس سے کچھ
ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں تو وہ ہرگز مسجد سے نہ نکلے جب تک کہ آواز نہ سن لے یا ہوا نہ محسوس کر لے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 362 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
until he hears
(2) The statement "until he hears" – In "Al-Durr Al-Mukhtar" with "Radd al-Muhtar," it is mentioned: "Even if he is certain of purity and doubts about the state of impurity, or vice versa, he should act according to certainty."
Note 2
قوله
(۲) قوله: حتى يسمع: وفي الدر المختار مع رد المحتار: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس، أخذ باليقين.
Note 1
ف: درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر وضوء رہنے پر یقین ہو اور وضوء کے ٹوٹنے پر شک ہو یا
اس کے برعکس ہو یعنی وضوء ٹوٹنے پر یقین ہو اور وضوء قائم رہنے پر شک ہو تو جس پر یقین ہو اس پر عمل
کرے۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: آواز سے ہوا خارج ہو، یا بدبو (ظاہر ہونے) سے وضوء کرنا لازم ہو جاتا ہے البتہ صرف
شک کی وجہ سے وضوء لازم نہیں ہوتا۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص سے (بلا آواز کے) ہوا خارج ہو تو وضوء کرلے اور تم اپنی عورتوں سے
لواطت مت کرو۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ دونوں آنکھیں سرین کی بندش ہیں جب آنکھیں نیند سے بند ہو جائیں تو سرین کی گرہ کھل
جاتی ہے۔ (یعنی نیند میں اعصاب ڈھیلے ہو جاتے اور ہوا خارج ہو جاتی ہے تو وضوء ٹوٹ جاتا ہے)۔
(اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔)
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ سرین کا بند دونوں
آنکھیں ہیں تو جو شخص سو جائے تو اسے چاہئے کہ وہ وضوء کرلے۔ (ابوداؤد نے اس کی روایت کی
ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے حدیث صحیح میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
اصحاب کے سر نیند کی وجہ سے نماز عشاء کے انتظار میں جھک جاتے تھے پھر وہ نماز ادا فرماتے اور دوبارہ
وضو نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے اپنی روایت میں ”يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ حَتّٰى تَخْفِقَ رُؤُسُهُمْ“ کے بجائے
”يَنَامُونَ“ (یعنی بیٹھے ہوئے بغیر کسی چیز کے سہارے کے) سو جایا کرتے تھے، نقل کیا ہے۔
جیسا کہ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوبارہ وضو کرنا اس شخص پر واجب نہیں جو بیٹھنے کی حالت میں یا کھڑے
ہوئے یا سجدے میں سو جائے بشرطیکہ اس نے کروٹ نہ سویا ہو، کیوں کہ زمین پر کروٹ لیٹ جائے تو
اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ (اور ہوا نکلنے کا شبہ ہو جاتا ہے) اور ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا
ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
اور بیہقی نے دوسری روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کی ہے جس کی
سند جید ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The saying: "And if it is pre-ejaculate, then wudu is required." Al-Tahawi said: Some scholars are of the view that it is obligatory for a man to wash his private parts (the penis) when he experiences pre-ejaculate (madhiy) or after urination. However, others disagreed with them, stating that the Prophet (ﷺ) did not mandate washing the private parts in such cases, but rather to prevent the pre-ejaculate from flowing. Do you not see that when Ali (may Allah be pleased with him) narrated what the Prophet (ﷺ) prescribed for him in such situations, he mentioned performing wudu for prayer? Therefore, it is established that anything other than the wudu for prayer prescribed by the Prophet (ﷺ) was for a different reason and not for the same cause that requires wudu for prayer. This is the view of Abu Hanifa, Abu Yusuf, and Muhammad ibn al-Hasan (may Allah have mercy on them).
Note 1
(۱) قوله : وإذا كان المذي ففيه الوضوء: قال الطحاوي: ذهب قوم إلى أن غسل المذاكير واجب على الرجل إذا أَمْذَى وإذا بال. وخالفهم في ذلك آخرون، فقالوا: لم يكن ذلك من رسول الله ﷺ على إيجاب غسل المذاكير، ولكنه ليتقلص المذي فلا يخرج. أفلا ترى أن عَليًّا لما ذكر عن النبي ﷺ ما أوجبه عليه في ذلك ذكر وضوء الصلاة، فثبت بذلك أن ما كان سوى وضوء الصلاة مما أمر به فإنما كان ذلك لغير المعنى الذي وجب له وضوء الصلاة. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن (رحمهم الله).
Note 1
مذی اس رقیق پانی کو کہتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ مذاق کرنے یا ان کو شہوت کے ساتھ دیکھنے سے نکلتا ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو ارشاد ہوا کہ ہر جوان مرد کو مذی آتی ہے، اگر منی خارج ہو تو غسل واجب ہے اور اگر مذی نکلے تو اس پر صرف وضوء واجب ہے، غسل واجب نہیں ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور بخاری اور مسلم سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) ف: مرد سے جب مذی نکلے تو اس پر وضوء ضروری ہے، اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ علیہ نے اولاً ایک جماعت کے مسلک کو نقل کیا ہے جو حنفیوں کے خلاف ہے جن کا قول یہ ہے کہ مرد کو جب مذی نکلے تو اس پر شرمگاہ کا دھونا واجب ہے، جس طرح پیشاب کرنے کے بعد شرمگاہ کا دھونا ضروری ہے لیکن احناف نے ان کی مخالفت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ بعض حدیثوں سے مذی نکلنے پر شرمگاہ کا جو دھونا معلوم ہوتا ہے اس سے شرمگاہ کے دھونے کا واجب کرنا مقصود نہیں بلکہ اس کی غرض مذی کی آمد کا بند کرنا ہے، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ صرف وضوء کرنے کا ذکر ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں، امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف اور محمد بن الحسن رحمہم اللہ کا یہی ارشاد ہے۔