ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں دن میں ستر (70) مرتبہ سے زائد اللہ تعالیٰ
سے استغفار کرتا ہوں۔ اور اس کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اس حدیث کی روایت بخاری نے کی
ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں استغفار اور توبہ کی ترغیب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
معصوم ہونے کے باوجود دن میں ستر (70) بار سے زائد استغفار فرمائیں تو ہم گنہ گاروں کو بطریق
اولیٰ استغفار اور توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ
کے عذاب سے امن دو چیزوں کی وجہ سے تھا ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا ہے تم کو چاہیے کہ دوسرے کو
مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں۔ ایک امن جو اٹھا لیا گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات
گرامی ہے۔ اور جو امن باقی ہے وہ استغفار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۂ انفال، آیت
نمبر:33، میں) ”وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ، وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ
يَسْتَغْفِرُونَ“ (اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ (اے نبی!) آپ کے ان میں ہوتے ہوئے ان کو عذاب
میں مبتلا کریں اور ایسا بھی نہ کریں گے کہ ان کو عذاب دیں اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔
حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار فرمانے کا جو ذکر ہے اس بارے میں صاحب
مرقات نے لکھا ہے کہ: حضور کا یہ استغفار امت کی طرف سے ہوا کرتا تھا جو امت کے حق میں آپ کی
جانب سے بطور سے شفاعت کے تھا۔12
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کبھی ایک مجلس میں سو(100) مرتبہ ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ
الْغَفُورُ“ پڑھ کر استغفار فرمایا کرتے اور ہم آپ کے اس استغفار کو سن کر گن لیا کرتے تھے۔ اس کی
روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1516 (unverified) 99% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3434 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3814 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کرنے کا جو ذکر ہے وہ
امت کی تعلیم کے لئے تھا۔ ورنہ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ سب معاف کردئے گئے تھے اس لئے کہ
انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کو تعلیم دینا مقصود تھا کہ
آدمی اپنے مالک کے سامنے تضرع اور عاجزی زیادہ سے زیادہ کرے اس لئے کہ جو جتنا زیادہ مقرب
ہوگا اس کو اتنا ہی زیادہ اپنے مالک سے خوف رہے گا۔ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ
کا جلال اور استغناء بھی ظاہر کرنا منظور تھا کہ بندہ کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے مالک کے آگے اپنی
خطاؤں کی معافی مانگتا رہے۔12
اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں (کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک یہ تھی کہ آپ کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے حضوری رہا کرتی تھی بعض وقت
امت کی تعلیم اور منصب رسالت کی بجا آوری میں) آپ کے قلب مبارک پر کچھ حجابات آتے تھے
(اور اس یکسوئی اور حضوری میں کچھ فرق آجاتا تھا) تو آپ فرماتے ہیں کہ: میں اس حالت کے لئے
اللہ تعالیٰ سے دن میں سو(100) مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے میرے بندو! میں
نے اپنی ذات پر ظلم حرام کرلیا ہے (یعنی میں کسی پر ظلم نہیں کرتا) اور ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام قرار
دیا ہے اس لئے آپس میں ایک دوسرے پر ظلم مت کیا کرو۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ
ہو مگر وہ شخص (گمراہ نہیں) جس کو میں ہدایت دوں پس تم مجھ سے ہدایت طلب کیا کرو میں تم کو
ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو مگر وہ شخص (بھوکا نہیں) جس کو میں
کھلاؤں گا۔ پس تم مجھ سے کھانا مانگو میں تم کو کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کے سب برہنہ
ہو مگر وہ شخص (برہنہ) نہیں جس کو میں کپڑا دوں پس تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس دوں گا۔ اے
میرے بندو! تم رات دن گناہوں میں مبتلا رہتے ہو اور میں تمہارے گناہ بخشتا رہتا ہوں پس تم مجھ
سے (اپنے گناہوں کی) معافی مانگو میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو تم (نافرمانی کر کے) میرا
کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور (تم اطاعت کر کے) مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے بلکہ تمہاری
فرمانبرداری سے تم ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ اور نافرمانی کر کے تم خود ہی اپنا نقصان کرو گے میری ذات
ان سب سے بے نیاز ہے۔
اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو گزر چکے ہیں اور (جو موجودہ
ہیں)۔ اور جو قیامت تک پیدا ہوں گے یہ تمام اگر (پرہیزگاری اختیار کر کے) سب سے زیادہ متقی
شخص کے دل کی طرح پاک دل ہو جائیں (تو یہ تمہاری پاک دلی) میری مملکت اور بادشاہت میں
کسی قسم کی زیادتی نہیں کر سکے گی۔ میرے بندو! اگر! تمہارے سب کے سب جن و انس گزر چکے ہیں
(اور جو موجود ہیں) اور جو (قیامت تک) آنے والے ہیں۔ یہ تمام اگر (برائی کر کے) بدترین سیاہ
دل والے کی طرح سیاہ دل یعنی (ابلیس کی طرح ہو جائیں۔ تو یہ تمہاری (سیاہ دلی) میری مملکت اور
بادشاہت میں کسی قسم کی کمی نہیں کر سکتی۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے سب کے سب جن و انس جو
گزر چکے ہیں اور آئندہ آنے والے ہیں سب کے سب ایک مقام میں جمع ہو جائیں اور یہ سب اپنی
اپنی مراد مانگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مراد دے دوں تو میرے پاس جو بھی خزانے ہیں ان میں
(بخشش کی وجہ سے) کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔ (اتنا بھی نہیں جتنا کہ ایک سوئی دریا میں ڈال کر نکالی
جائے) تو اس کے پانی میں جتنا کم کر سکتی ہے (اتنی بھی میرے خزانوں میں کمی نہیں ہوگی)۔
اے میرے بندو! صرف یہی نہیں کہ تمہارے نیک و بد اعمال کو میں جانتا ہوں بلکہ ان کا پورا
پورا بدلہ دیتا ہوں۔ پس جو شخص نیک عمل ہو تو وہ (اس نیک توفیق میں) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور
جو شخص بدعمل ہو تو وہ خود اپنی ملامت کرے (اس لئے کہ وہ اپنے نفس کے شرارت کی وجہ سے گمراہی پر
باقی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا ہے ”يٰعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلٰى
نمبر:53) اے میرے بندو! جنہوں نے گنہ کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت
سے ناامید مت رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے (اس کی تلاوت کے بعد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو اس بات کی پروا نہیں کہ کافر کفر سے توبہ کرے تو اس
کے پچھلے سارے گناہ معاف فرمائیں گے اور مسلمان خواہ وہ توبہ کرے یا نہ کرے اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس
کے گناہ معاف فرما دیں)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، اور ترمذی نے کی ہے۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت کے مقابلہ میں میرے پاس
ساری دنیا اور اس کی لذتیں ہیچ ہیں (وہ آیت یہ ہے)۔ ”يٰعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰى اَنْفُسِهِمْ
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ“ (اس آیت کا ترجمہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے۔12)
(تا آخر یہ آیت) سن کر ایک شخص نے عرض کیا (اور وضاحت چاہی): کیا مشرک بھی اس
میں شامل ہے؟ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور (تھوڑی دیر
بعد) پھر ارشاد ہوا کہ ہاں مشرک بھی اس میں داخل ہے (بشرطیکہ وہ شرک سے توبہ کر لے) حضور نے
اس جملہ کو تین بار ارشاد فرمایا۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک
پہنچ جائیں۔ پھر تو مجھ سے مغفرت چاہے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ
نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تُو زمین بھر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے اور تُو مجھ سے اس حالت میں
ملے تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا تو میں بھی زمین بھر مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور امام احمد اور دارمی نے اس حدیث کو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: شیطان نے (اللہ تعالیٰ سے) عرض کیا: اے میرے رب تیری
عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں یعنی ان کی زندگی
بھر ان کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ (اس کے جواب میں) رب العزّت نے فرمایا: میری عزّت کی قسم!
میرے عظمت و جلال کی قسم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم میں ان کو ہمیشہ بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ
سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ
الْمَغْفِرَةِ“ (سورہ مدثر، آیت نمبر:56) (اس کی شانِ قہاری تو یہ ہے کہ بندوں کو اس سے ڈرنا
چاہئے اور اس کی شانِ رحیمی یہ ہے کہ) بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میں اس لائق ہوں کہ لوگ مجھ سے ڈریں۔ جو
مجھ سے ڈرے گا میں اس لائق ہوں کہ اس کو بخش دوں۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ
نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو لے جاوے گا یعنی نیست و نابود کر دے گا اور (پھر تمہاری بجائے) ایسی قوم کو
لائے گا جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش
دیں گے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اہل خوف اور گنہ گاران تائب کے لئے بڑا دلا سہ ہے
اور اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ گناہ حکمت الٰہی کے خلاف نہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور غفاری
کی صفت ظاہر ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنے گناہوں سے نڈر ہو جائے کیونکہ یہ تو صریحاً کفر
ہے۔ (مشکاۃ)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ایک بندہ نے گناہ کیا اور پھر عرض کیا: اے میرے رب میں نے گناہ
کیا ہے اس کو بخش دیجئے تو رب العزت نے (فرشتوں سے) فرمایا: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا
ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے پس میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا پھر وہ
جب تک اللہ نے چاہا یعنی ایک عرصہ تک (اپنی توبہ پر) قائم رہا۔
پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے (پھر) گناہ کر لیا ہے اس کو بخش
دیجئے تو رب العزت نے (فرشتوں سے) فرمایا: کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو
گناہوں کو بخشتا ہے اور پھر اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے، پس میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا پھر جب تک
اللہ نے چاہا یعنی ایک مدت تک اپنی توبہ پر قائم رہا۔ پھر گناہ کر دیا اور عرض کیا: اے میرے رب میں
نے گناہ کیا ہے آپ اس کو بخش دیجئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب
ہے۔ جو گناہ کو بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا، اب وہ جو چاہے
کرے (یعنی گناہ کے بعد توبہ کرے تو مغفرت ملے گی اور گناہ کے بعد توبہ نہ کرے تو مواخذہ ہوگا۔)
”اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ: خدا کی قسم اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے
فرمایا: وہ کون شخص ہے جو مجھ پر قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا۔ میں نے تو اس کو بخش
دیا (تجھے ذلیل کرنے کے لئے۔ اور تیرے تکبر کی وجہ سے) تیرے اعمال ضائع کر دئے (کہ اعمال
کا ثواب نہیں ملے گا) اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں دو شخص آپس میں گہرے دوست تھے۔ ان میں
سے ایک عبادت میں مشقت اٹھاتا تھا اور دوسرا کہتا کہ میں تو گنہ گار ہوں۔ وہ (عابد گنہ گار سے) کہتا
کہ تو جس گناہ میں مبتلا ہے اس کو چھوڑ دے۔ تو گنہ گار کہتا کہ: تو مجھے میرے رب کے حوالہ کر دے۔
(وہ غفور رحیم ہے) یہاں تک کہ اس عابد نے اس گنہ گار کو ایک بڑا گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا کہ
اس گناہ سے باز آ۔ تو اس (گنہ گار) نے پھر وہی کہا: مجھے میرے رب کے حوالہ کر دے۔ کیا تو مجھ پر
داروغہ بنا کر بھیجا گیا ہے؟ تو اس (عابد) نے جواب دیا کہ: قسم خدا کی اللہ تعالیٰ تجھے ہرگز نہیں بخشے گا
اور نہ تجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پاس (موت کے) فرشتوں کو
بھیجا تو اس نے ان دونوں کی روح قبض کر لی۔ پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ
تعالیٰ نے گنہ گار سے کہا: تو میری رحمت کے سبب سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے فرمایا۔
کیا تو میرے گنہ گار بندہ کو میری رحمت سے محروم کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا:
نہیں اے میرے رب! تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا: اس کو دوزخ کی طرف لے جاؤ
(تاکہ وہ اپنے غرور کی سزا بھگتے)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو یقین کے ساتھ دوزخی کہنا درست نہیں اس لئے کہ
نجات کا مدار خاتمہ پر ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔ (حاشیہ مشکوۃ)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سید الاستغفار یعنی بہترین استغفار یہ ہے کہ تو اس طرح
کہے:
یا الٰہی تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ
ہوں اور میں اپنی حسب استطاعت آپ کے عہد میثاق اور وعدہ (آخرت پر) قائم ہوں۔ میں اپنے
کئے ہوئے گناہوں کی برائی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ کی جو نعمتیں مجھ پر ہیں۔ میں ان کا
اقرار کرتا ہوں اور میں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں پس آپ مجھے بخش دیجئے اس وجہ سے
کہ آپ کے سوا گناہوں کا بخشنے والا کوئی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس استغفار کو یقین کے ساتھ دن میں پڑھے
اور شام ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ جنتی ہے اور جو اس کو رات میں یقین کے ساتھ پڑھے اور صبح
ہونے سے پہلے مر جائے تو وہ (بھی) جنتی ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
حضرت بلال بن یسار بن زید جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ یعنی
آزاد کردہ غلام ہیں ان سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے میرے دادا سے
روایت کی ہے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو
(صدق دل سے) اس استغفار کو پڑھے: اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ
وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ۔ میں اللہ تعالیٰ سے (اپنے گناہوں کی) مغفرت چاہتا ہوں، وہ اللہ جس کے سوا کوئی
معبود نہیں جو زندہ جاوید ہے اور (ساری کائنات کو) سنبھالنے والا ہے اور اسی کی طرف رجوع ہوتا
ہوں)۔ تو اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اگرچیکہ وہ (میدان) جہاد سے بھاگا ہوا ہو (جو گناہ کبیرہ
ہے)۔
اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔ اور ابوداؤد کی روایت بلال بن یسار کے بجائے
ہلال بن یسار سے ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص (گناہ کے بعد یا کسی مصیبت میں) استغفار کو پڑھے (یا استغفار
پر مداومت کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نجات دیں گے۔ اور ہر غم سے چھٹکارہ دیں گے۔ اور
اس کو ایسی جگہ سے حلال روزی دیں گے جس کا اس کو گمان بھی نہ ہو۔
اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ بزرگ اور برتر نیک بندہ کے درجہ کو جنت میں بلند فرماتے
ہیں تو وہ بندہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے: اے میرے پروردگار! یہ درجہ مجھے کیوں کر ملا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں
گے: تیری اولاد کے تیرے لئے استغفار کرنے کی وجہ سے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: مردہ قبر میں ڈوبنے والے فریادی کی طرح ہے جو
اپنے باپ، ماں، بھائی یا کسی دوست کی دعاؤں کا منتظر ہو۔ اور جب یہ دعا اس کو پہنچتی ہے تو یہ دعا
اس کے پاس دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ یقیناً زمین والوں کی دعاؤں کی وجہ
سے اہل قبور کو پہاڑوں جیسا ثواب پہنچاتا ہے یعنی (بے شمار رحمتیں ان پر نازل فرماتا ہے) اور بے
شک زندوں کا مردوں کے لئے تحفہ ان کے لئے استغفار کرنا ہے۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: خوش حالی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے نامہ اعمال
میں زیادہ استغفار پائے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور نسائی نے اس کی روایت ”عَمَلُ
الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ“ میں کی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ شخص (گناہ پر) اصرار کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا
جو (گناہ کے بعد) استغفار کرتا ہوگا اگرچہ کہ وہ دن میں 70 مرتبہ ایسا کرے۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1514 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3559 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں پر اصرار کرنے والا وہ شخص ہے جو
استغفار نہ کرے اور اپنی بداعمالیوں پر شرمسار نہ ہو۔ واضح ہو کہ گناہوں پر اصرار برا ہے کیونکہ گناہ صغیرہ
اصرار سے کبیرہ ہوتا ہے اور کبیرہ پر اصرار کفر تک پہنچا دیتا ہے اسی لئے ارشاد ہوا ہے کہ جو کوئی استغفار
کرتا ہو۔ اور شرمندہ ہو گناہوں پر خواہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ ہو وہ گناہوں پر اصرار کرنے والا نہیں ہوگا۔
(حاشیہ مشکوٰة)۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے):
الٰہی مجھے ان لوگوں میں کر دے کہ وہ جب نیکی کریں تو خوش ہوں اور جب کوئی برائی کریں تو
استغفار کریں۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی دعوات کبیر میں کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کیا کرو میں خود بھی دن میں سو
(100) بار اللہ کی طرف توبہ کیا کرتا ہوں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے (99) انسانوں
کو قتل کیا تھا پھر (اپنی توبہ کی قبولیت کے بارے میں لوگوں سے) پوچھتے ہوئے نکلا۔ یہاں تک کہ
ایک راہب کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ: کیا ایسے شخص کی توبہ قبول ہوسکتی ہے (جس نے
ننانوے قتل کئے ہوں) اس نے جواب دیا نہیں۔ تو اس شخص نے اس (راہب) کو قتل کردیا پھر اپنی
توبہ کی قبولیت کے بارے میں پوچھنے لگا تو ایک آدمی نے اس سے کہا: تُو فلاں بستی میں چلا جا
(جہاں نیک لوگوں کی کثرت ہے وہ اس بستی کی طرف چل پڑا۔ اور راستہ میں) اس کو موت آگئی۔ تو
اس نے مرتے وقت اپنے سینہ کو اس بستی کی طرف جھکایا۔ تو رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے
اس بارے میں جھگڑنے لگے (کہ کون اس کی روح کو لے جائے) اور اللہ تعالیٰ نے (اس بستی والی)
زمین کو (جس کی طرف وہ جا رہا تھا) وحی نازل فرمائی کہ تُو قریب ہوجا اور (دوسری بستی کو وحی فرمائی
کہ تو دور ہوجا (فرشتوں سے) فرمایا کہ: تم دونوں بستیوں کے فاصلہ کو ناپو تو یہ بستی جس میں نیک لوگ
تھے ایک بالشت قریب نکلی اور اس کی بخشش کردی گئی۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3470 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2766a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ گناہ کبیرہ کے بعد توبہ قبول
ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس جگہ گناہ کیا ہو وہاں سے ہجرت کرنا مستحب ہے۔ اور تیسرے یہ کہ مدعا
اور مدعا علیہ کا ⟦?⟧ درست ہے۔ چوتھے یہ کہ رحمت الٰہی کی کوئی حد نہیں۔ ادھر بندہ نے خالص دل
سے توبہ کی اور ادھر دریائے رحمت و مغفرت جوش میں آئی۔ (حاشیہ مشکاۃ)۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندہ جب (گناہوں کا) اعتراف کرتا ہے اور
پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس شخص کو اس بات کا یقین
ہو کہ میں گناہوں کو بخشنے پر قدرت رکھتا ہوں تو میں اس کو بخش دیتا ہوں۔ اور مجھے کسی کی پرواہ نہیں
جب تک کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔
اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ رات کے وقت اپنی رحمت کا
ہاتھ پھیلا دیتے ہیں تاکہ رات کا گناہ گار دن میں توبہ کرلے (بخشش کا یہ سلسلہ) سورج کے مغرب
سے نکلنے (یعنی قیامت) تک جاری رہے گا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص آفتاب کے مغرب سے نکلنے سے پہلے تک توبہ کرلے
تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
صفوان بن عسّال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغرب کی طرف توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے
(جو کھلا ہوا ہے) جس کو چوڑائی 70 برس کی مسافت ہے اور وہ آفتاب کے مغرب سے طلوع ہونے
تک بند نہیں کیا جائے گا۔ اور یہ معنی آفتاب کا طلوع ہونا قبولیت توبہ کو روکنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے
اس قول کے مطابق ہے (سورۃ انعام، آیت نمبر:158، میں) ”يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ
لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ“، جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے
گی کسی شخص کو ایمان لانا نفع نہ دے گا جو اس (نشانی کے ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہ لایا)۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ہجرت (یعنی کفر سے ایمان کی طرف اور دارکفر سے دارالاسلام کی
طرف اور گناہوں سے توبہ کی طرف آنا) توبہ کے منقطع ہونے تک بند نہیں ہوگی۔ اور توبہ (کا
دروازہ) بند نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ آفتاب اپنے مغرب سے طلوع کرے۔
اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 2479 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Migration will not cease...
(1) The statement: "Migration will not cease..." In At-Tafsirat Al-Ahmadiyyah, it is said: "In the early days of Islam, migration was obligatory, whether one could practice his religion or not. There is no doubt that this was later abrogated. In this era, if one cannot practice his religion due to oppression or disbelief, migration becomes obligatory—and this is the correct view."
Note 1
قوله
(۱)قوله : لا تنقطع الهجرة إلخ : وقال في التفسيرات الأحمدية: إن في بدء الإسلام كانت الهجرة البتة واجبة، سواء قدر على إقامة دينه أو لا، ولا شك في نسخه، وفي هذا الزمان أن لم يتمكن من إقامة دينه بسبب أيدي الظلمة أو الكفرة يفرض عليه الهجرة، وهو الحق.
Note 1
ف: واضح ہو کہ حدیث شریف میں توبہ کے منقطع ہونے سے توبہ کا قبول ہونا مراد ہے غرض یہ
ہے کہ جب تک آفتاب مغرب سے نہیں نکلتا۔ بندہ توبہ کر کے پاک ہوسکتا ہے اور جب آفتاب مغرب
سے نکلا تو پھر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ (از حاشیہ مشکوٰۃ:12)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں استغفار اور توبہ کی ترغیب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہونے کے باوجود دن میں ستر (70) بار سے زائد استغفار فرمائیں تو ہم گنہ گاروں کو بطریق اولیٰ استغفار اور توبہ کرتے رہنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن دو چیزوں کی وجہ سے تھا ایک کو تو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا ہے تم کو چاہیے کہ دوسرے کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کریں۔ ایک امن جو اٹھا لیا گیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اور جو امن باقی ہے وہ استغفار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (سورۂ انفال، آیت نمبر:33، میں) ”وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ، وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ“ (اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ (اے نبی!) آپ کے ان میں ہوتے ہوئے ان کو عذاب میں مبتلا کریں اور ایسا بھی نہ کریں گے کہ ان کو عذاب دیں اس حالت میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار فرمانے کا جو ذکر ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ: حضور کا یہ استغفار امت کی طرف سے ہوا کرتا تھا جو امت کے حق میں آپ کی جانب سے بطور سے شفاعت کے تھا۔12