سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔(متفق علیہ)
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو رحم کرنے والے ہیں ان پر رحمٰن رحم کرتا ہے تم زمین والوں پر
رحم کرو جو آسمان والا ہے وہ تم پر رحم کرے گا۔(ابوداؤد،ترمذی)۔
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مومنوں کو انکے آپس میں رحم کرنے، محبت کرنے اور مہربانی
کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے۔ جب کوئی عضو کو تکلیف لاحق ہوتی ہے تو اس کے خاطر بقیہ
جسم جاگنے اور بخار کو بلا لیتا ہے۔(متفق علیہ)۔
اور انہی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمام مومن ایک شخص کی طرح ہیں اسکی آنکھ جب بیمار ہوتی ہے تو اسکا سارا جسم بیمار ہو جاتا ہے، اگر
اسکا سر بیمار ہوتا ہے تو اسکا تمام بدن بیمار ہو جاتا ہے۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کیلئے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو
مضبوط کرتا ہے پھر آپ نے اپنے انگشت ہائے مبارک کے درمیان جالہ بنایا۔(متفق علیہ)۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،
ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے بھلائی کا حکم نہ دے اور برائی سے نہ روکے۔ (ترمذی)۔
سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ایک اعرابی رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کیا تم بچوں کو بوسہ دیتے ہو، ہم انکو بوسہ نہیں
دیتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے دل سے شفقت نکال لیا ہے تو کیا
تیرے لئے میں اسکا مالک ہوں۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے میں نے ابوالقاسم صادق
ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رحمت نہیں نکالی جاتی مگر بدبخت سے۔ (احمد، ترمذی)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کوئی نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی پیرانہ سالی کی وجہ سے اکرام نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اسکی
پیرانہ سالی کے وقت اس کیلئے ایسے شخص کو مقرر فرمائے1 گا جو اسکا اکرام کریگا۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2022 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Allah appoints for him at his age someone who honors him
(1) His statement: “Allah appoints for him at his age someone who honors him”: This indicates the youth who respects the elder will have a long life. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله : قيض الله له عند سنه من يكرمه وفيه إشارة إلى طول عمر الشاب المعظم للشيخ المكرم. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی تعظیم میں سے ہے بوڑھے مسلمان کی عزت کرنا اور
حامل قرآن کی عزت کرنا جو اس میں غلو نہیں کرتا، اور اس سے دور نہیں رہتا اور انصاف کرنے
والے بادشاہ کی عزت کرنا۔ (ابوداؤد، بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل جنت تین قسم کے ہیں (1) صاحب اقتدار جو انصاف
کرنے والا، احسان کرنے والا1 اور توفیق یافتہ ہو۔(2) اور وہ شخص جو مہربان اور نرم دل ہو
ہر رشتہ دار کے لئے مسلمان کیلئے۔(3) جو پاک دامن اور سوال سے بچنے والا عیال دار ہو۔
اور اہل دوزخ پانچ قسم کے ہیں: وہ کمزور جس کو روک2 نہ ہو جو تم میں تابع بن کر رہتے ہیں نہ بیوی
کی خواہش رکھتے ہیں نہ مال کی اور ایسا خائن جس کی کوئی حرص چھپی ہوئی نہیں رہتی اگر چہ وہ
معمولی ہو مگر وہ اس میں خیانت کرتا ہے اور وہ شخص جو صبح وشام نہیں کرتا مگر وہ تمہارے بیوی
بچوں اور تمہارے مال میں دھوکہ دیتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل کا اور جھوٹ کا اور
شنظیر کا یعنی بداخلاق و بدزبان کا ذکر فرمایا۔(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2865a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
a merciful man
(1) His statement: “a merciful man”: meaning towards young and old. Al-Tayyibi said: If you examine people’s conditions in their variety, you find no one deserving Paradise but falling under these categories. [As stated in Al-Mirqat]
Note 2
without restraint
(2) His statement: “without restraint”: At-Tawrabushti said: meaning no self-control when desires come, not refraining from indecency or forbidden things. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: ورجل رحيم أي على الصغير والكبير، قال الطيبي: وإذا استقريت أحوال العباد على اختلافها لم تجد أحدا يستأهل أن يدخل الجنة، ويحق له أن يكون من أهلها، إلا وهو مندرج تحت هذه الأقسام، غير خارج عنها. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : لا زبر له قال التوربشتي : أي لا تماسك له والمعنى لا تماسك له عند مجيء الشهوات، فلا يرتدع عن فاحشة، ولا يتورع عن حرام. كذا في «المرقاة».
سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ایک خاتون میرے
پاس آئی اور اسکے ساتھ اسکی دو بچیاں تھیں وہ مجھ سے مانگ رہی تھی تو وہ میرے پاس ایک کھجور کے
سوا کوئی چیز نہیں پائی تو میں نے اسکو وہ دیدیا تو وہ اپنی دو لڑکیوں کے درمیان تقسیم کی اور اس سے
کچھ نہیں کھائی پھر وہ پھری اور چلی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے آپ سے
بیان کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان لڑکیوں کی کسی چیز سے آزمایا جائے تو وہ
ان سے اچھا سلوک کرے وہ اس کیلئے دوزخ سے ڈھال ہو جائیں گی۔(متفق علیہ)۔
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو! میں تم کو سب سے افضل صدقہ بتاتا ہوں تمہاری لڑکی جو
تمہاری طرف واپس بھیج دی گئی ہے اور اس کے لئے تمہارے سوا کوئی کمانے والا نہ ہو۔(ابن ماجہ)۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جس کی کوئی لڑکی ہو اور وہ اسکو درگور نہ کرے اور اس کی اہانت نہ کرے اور اپنے
لڑکے کو یعنی نرینہ اولاد کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اسکو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (ابوداؤد)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: جو دو لڑکیوں کی کفالت کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں تو وہ قیامت کے دن آئے گا
میں اور وہ اس طرح ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگشت ہائے مبارک کو ملایا۔ (مسلم)۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا اس کا ہو یا دوسرے کا جنت میں
اس طرح ہوں گے اور انگشت شہادت اور درمیانی انگشت مبارک سے اشارہ فرمایا اور ان دونوں کے
درمیان کچھ کھول دیا۔ (بخاری)۔
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اور سرخی مائل سیاہ رخسار والی خاتون بروز قیامت ان دونوں
انگلیوں کی طرح ہوں گے، یزید بن زریع نے انگشت شہادت اور درمیانی انگشت کی طرف اشارہ کیا
وہ عورت ہے جو اپنے شوہر سے جدا ہوگی بڑے منصب اور حسن و جمال والی ہے اور اس نے اپنے کو
اپنے یتیم بچوں پر روکے رکھا یہاں تک کہ وہ جدا ہوگئے یا وہ انتقال کر گئے۔ (ابوداؤد)۔
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جو کسی یتیم کے سر پر دست شفقت پھیرے اور صرف اللہ کیلئے پھیرے تو اس کیلئے
ہر بال کے بدلے جس پر اس کا ہاتھ گزرا ہو نیکیاں ہوں گی میں اور وہ شخص جو کسی یتیم لڑکی یا یتیم
لڑکے سے حسن سلوک کرے تو میں اور وہ دونوں جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگشت مبارک کو ملایا۔(احمد،ترمذی)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنگدلی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یتیم
کے سر پر دست شفقت پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔(احمد)۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پینے کے ساتھ شامل کرے تو اللہ تعالیٰ یقیناً
اس کیلئے جنت واجب کر دیتا ہے سوائے اس کے وہ ایسا گناہ کرے جو قابل بخشش نہ ہو اور جو تین
لڑکیوں یا ان جیسی بہنوں کی کفالت کرے انہیں ادب سکھلائے ان کے ساتھ مہربانی کا برتاؤ
کرے یہاں تک اللہ انہیں بے نیاز کر دے تو اللہ اس کیلئے جنت واجب کر دیتا ہے تو ایک صاحب
نے عرض کیا: اگر دو کی پرورش کرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا دو ہوں تب بھی یہاں تک کہ
اگر وہ ایک کہتے تو ضرور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک فرماتے اور اللہ جس کی دو کریمتین (دو آنکھیں)
لے جائے تو اس کیلئے جنت واجب ہے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کے کریمتین
کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا: اس کی دونوں آنکھیں ہیں۔(شرح السنہ)۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا
ہو اور بدترین گھر مسلمانوں میں وہ ہے جس میں اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا1 ہو۔(ابن ماجہ)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
treated badly
(1) His statement: “treated badly”: meaning harmed unjustly; striking for discipline or teaching Qur’an is permissible, included in goodness though appearing as harm. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱)قوله: يساء إليه: أي يؤذي بالباطل، فإن ضربه للتأديب وتعليم القرآن جائز فهما داخلان في الإحسان معنى، وإن كان في الصورة إساءة. كذا في «المرقاة».
انہی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے
شوہر اور مسکین کیلئے سعی و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں سعی کرنے والے کی طرح ہے جو نہ تھکے او
ر اس روزے دار کی طرح ہے جو افطار نہ کرے۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: آدمی کا اپنے لڑکے کو ادب1 سکھلانا ایک صاع خیرات کرنے سے بہتر ہے۔
(ترمذی)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
A man educating his child…
(1) His statement: “A man educating his child…”: Even if weak, it is acted upon in virtues unanimously, and apparently education means teaching religious etiquettes. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: لأن يؤدب الرجل ولده إلخ وعلى تقدير ضعفه يعمل به في فضائل الأعمال إجماعا، ولا شك أن المراد بالتأديب هنا تعليم الآداب الشرعية. كذا في «المرقاة».
سیدنا ایوب بن موسیٰ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی
باپ اپنے بچے کو حسن ادب سے بڑھ کر اچھا کوئی عطیہ نہیں دیا۔ (ترمذی، بیہقی شعب الایمان)۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان2 کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا3 ہے اور اس کی مدد نہیں چھوڑتا اور
جو اپنے بھائی کی حاجت4 پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں ہوتا ہے اور جو کسی مسلم
سے کوئی مصیبت دور کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں سے مصیبت کو دور فرمائے
گا اور جو کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی ستر پوشی کریگا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2442 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2580 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Note 2
This footnote could not be resolved in the source.
Note 3
This footnote could not be resolved in the source.
Note 1
قوله
(۱) قوله: المسلم أخو المسلم فيه إشعار بأن المسلم والمؤمن واحد؛ لقوله تعالى: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (الحجرات: (۱۰). قاله في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : لا يظلمه : فإن الظالم ينحط، أولا عن رتبة النبوة لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّالِمِينَ ﴾ (البقرة: ١٢٤)، وثانيا عن درجة الولاية : لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّالِمِينَ ) (هود: (۱۸) ، وثالثًا عن مزيد السلطنة لبيت الظالم خراب ولو بعد حين، ورابعا عن نظر الخلائق: جُبِلَتِ القلوب على حب من أحسن إليها، وبغض من أساء إليها، وخامسا عن حفظ نفسه ولكن كانوا أنفسهم يظلمون. (شعر)
لا تَظْلِمْنَ إذا ما كنت مقتدرا ........ فالظلم آخره يأتيك بالندم
نَامَت عُيُونُك والمظلوم منتبه ......يدعو عليك وعين الله لم تنم
كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله : ولا يسلمه : بضم أوله وكسر اللام أي لا يخذله، بل ينصره. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے اور نہ اسکی
تحقیر کرتا ہے، تقویٰ یہاں ہے اور آپ نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا، آدمی
کے شر کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ کسی مسلمان کی تحقیر کرے، مسلمان کا مسلمان پر پوری طرح اس کا
خون اس کا مال اسکی عزت و آبرو حرام ہے۔ (مسلم)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں
ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کیلئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے 1 اگر وہ اس میں کوئی برائی دیکھے تو اس
سے وہ دور کر دے۔ (ترمذی)۔
ترمذی اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے مومن مومن کا آئینہ ہے اور مومن
مومن کا بھائی ہے وہ اس سے ہلاکت کی چیز کو دور کرتا ہے اور اس کے پیچھے بھی اس کی حفاظت کرتا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 4918 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Each of you is a mirror to his brother…
(1) His statement: “Each of you is a mirror to his brother…”: Meaning, a mirror shows a person what is hidden of his appearance to correct what needs correction; likewise, a believer to another removes faults by informing and alerting him. Ibn Al-Arabi said: Meaning, make yourself pure towards your brother as a mirror is made. [As stated in Badhl Al-Majhud]
Note 1
قوله
(۱) قوله: إن أحدكم مرآة أخيه إلخ : معناه أن المرأة ترى الإنسان ما يخفى عليه من صورته؛ ليصلح ما يحتاج إلى إصلاحه، فكذا المؤمن للمؤمن كالمرآة فيزيل ما فيه من العيوب إعلامه وينبهه عليها، قال ابن العربي: أي ليجعل نفسه صافية في حق أخيه، كما تجعل المرآة كذلك. أخذته من بذل المجهود».
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بھائی کی ظالم ہو یا مظلوم ہو مدد کرو! تو ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم! میں مظلوم کی مدد کروں گا ظالم کی کیسے مدد کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: تم اس کو ظلم کرنے سے روک دو تو وہ اس کے لئے تمہاری مدد ہے۔ (متفق علیہ)۔
انہی سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے
پاس کسی مسلم بھائی کی غیبت کی جائے اور وہ اس کی نصرت و مدد کرنے پر قادر ہو اور وہ اس کی مدد کرے
تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی نصرت و مدد کرے گا اور اگر وہ اس کی نصرت پر قدرت رکھنے کے باوجود
وہ اس کی نصرت نہ کرے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس سے اس کا مواخذہ کرے گا۔ (بغوی، شرح السنہ)
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Allah appoints for him at his age someone who honors him”: This indicates the youth who respects the elder will have a long life. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله : قيض الله له عند سنه من يكرمه وفيه إشارة إلى طول عمر الشاب المعظم للشيخ المكرم. كذا في «المرقاة».