سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: ارواح 1 (اللہ کی طرف سے 2) جمع کردہ لشکر ہیں، جو ان میں سے ایک دوسرے
سے متعارف ہوئیں وہ باہم محبت کیا اور جو ان میں سے اجنبی رہیں وہ اختلاف کیا۔ (بخاری،
مسلم نے ابو ہریرہ سے روایت کی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3336 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2638a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Chapter-heading commentary
Love in Allah and from Allah
(1) His statement: “Love in Allah and from Allah”: In Al-Mirqat, it is said: “In” is for causation, “from” for initiation; meaning, the servant’s love for a servant for the Lord’s pleasure from Allah to the servant, the second resulting from the first.
Note 1
Spirits are conscripted soldiers…
(1) His statement: “Spirits are conscripted soldiers…”: In Al-Lama’at, it is said: This proves spirits are not accidents, and existed before bodies, without implying their eternity.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: الحب في الله ومن الله : قال في «المرقاة»: إن في تعليلية، ومن ابتدائية، والمعنى: حب العبد العبد لأجل رضا الرب الكائن من الله للعبد، والثاني نتيجة الأول.
Note 1
قوله
(۱) قوله: الأوراح جنود مجندة إلخ : قال في اللمعات» فيه دليل على أن الأرواح ليست بأعراض، وعلى أنها كانت موجودة قبل الأجساد، ولا يلزم من ذلك قدمها.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بروز قیامت ارشاد فرمائے گا: میری عظمت و جلال کی وجہ سے آپس
میں محبت کرنے والے کہاں ہیں آج میں اپنے سائے میں انہیں جگہ عطا کروں گا جس دن میرے
سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے۔ (مسلم)۔
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میری محبت
واجب ہوگئی میرے لئے باہم محبت کرنے والوں کے لئے اور میرے لئے ایک دوسرے کے ساتھ
بیٹھنے والوں کے لئے اور میرے لئے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لئے اور میری
خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کیلئے۔ (مالک)۔
اور ترمذی کی روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے عظمت و جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے لوگ ان
کیلئے نور کے منبر ہیں انبیاء و شہداء اُن کی تعریف کریں گے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: بیشک جنت میں یاقوت کے ستون ہیں جن پر زمرد کے بالاخانے ہیں ان کے کھلے ہوئے
دروازے ہیں جو چمکتے ہیں جیسا روشن ستارہ چمکتا ہے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کون
رہیں گے؟ ارشاد فرمایا: آپس میں اللہ کیلئے محبت کرنے والے اللہ کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ
بیٹھنے والے اور اللہ کیلئے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقیناً اللہ کے بندوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ
شہداء، بروز قیامت انبیاء و شہداء ان کی تعریف کریں گے اللہ کے پاس ان کے مرتبہ کی وجہ سے۔
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں بتلائیے وہ کون ہیں؟ فرمایا: وہ ایسے لوگ ہیں
جو اللہ کی رحمت کیلئے بغیر کسی آپسی رشتہ داری کے، بغیر کسی مالی لین دین کے ایک دوسرے سے محبت
کرتے ہیں، پس اللہ کی قسم ان کے چہرے نور کے ہیں اور یقیناً وہ نور پر ہیں، وہ خوف زدہ نہیں ہوں گے
جب کہ لوگ خوفزدہ ہوں گے، اور وہ غم نہیں کریں گے لوگ غمزدہ ہوں گے اور آپ نے اس آیت کریمہ کی
تلاوت فرمائی، سنو! بیشک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔ (ابوداؤد)۔
اور امام بغوی نے مصابیح کے الفاظ پر کچھ اضافہ کے ساتھ ابو مالک کی روایت سے شرح
السنہ میں اسکو بیان کیا ہے اور اسی طرح شعب الایمان میں ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر دو بندے آپس میں اللہ عزوجل کیلئے محبت کریں جن
میں کا ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں ہو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں جمع کریگا
اور ارشاد فرمائیگا، یہ وہی ہے جس سے تو میرے لئے محبت کرتا تھا۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے حضرت ابوذر سے فرمایا: اے ابوذر! ایمان کا کونسا کڑا زیادہ مضبوط ہے عرض کی: اللہ اور اسکے
رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ کیلئے دوستی کرنا اللہ کیلئے محبت کرنا۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کے نزدیک کونسے
اعمال محبوب ترین ہیں، کسی کہنے والے نے کہا نماز و زکوٰۃ، کسی نے جہاد کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: یقیناً اللہ کے نزدیک پسندیدہ اعمال اللہ کیلئے محبت کرنا اور اللہ کیلئے بغض رکھنا ہے۔ (احمد، ابوداؤد)۔
سیدنا ابورزین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ان سے فرمایا: کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں؟ جس پر دین کا دارومدار ہے جس سے تم دنیا و آخرت
کی بھلائی پاؤگے اپنے اوپر اہل ذکر (صالحین) کی مجلسوں کو لازم 1؎ کرلو اور جب تم تنہائی میں 2؎
رہو تو اپنی استطاعت کے مطابق اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں حرکت دیتے رہو اور اللہ کیلئے محبت کرو
اور اللہ کیلئے بغض رکھو، اے ابو رزین! کیا تم کو معلوم ہے؟ جب آدمی اپنے بھائی سے ملاقات کیلئے
گھر سے نکلتا ہے تو ستر (70) ہزار فرشتے اسکے ساتھ چلتے ہیں وہ سب اسکے لئے دعاء رحمت
کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اس نے تیرے لئے تعلق کو جوڑا ہے تو اسکو
جوڑے رکھ، اگر تم اپنے جسم کو اس کام میں لگا سکتے ہو تو ایسا کرو۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
(1) His statement: “Keep to the assemblies of those who remember”: Assemblies of remembrance include scholars’ gatherings, preachers’ sessions, and saints’ where assemblies are filled with Allah’s remembrance and related knowledge of true beliefs, religious laws of bodily and financial worship, halal and haram, encouragement and warning, and the like. [As stated in Al-Mirqat]
Note 2
when alone
(2) His statement: “when alone”: Generally, do not neglect Allah’s remembrance in crowds or solitude. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: عليك بمجالس أهل الذكر : فمجالس الذكر تشتمل مجالس العلماء ومحافل الوعاظ والأولياء ممن يكون مجالسهم مشحونة بذكر الله وما يتعلق به من معرفة العقائد الحقية والشرائع الدينية من العبادات البدنية والمالية، وما يتعلق بالحلال والحرام والترغيب والترهيب وأمثال ذلك. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : وإذا خلوت إلخ ومجمله أنه لا تغفل عن ذكر الله لا في الملأ ولا في الخلا. قاله في «المرقاة».
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ ایک آدمی ایک دوسرے گاؤں میں رہنے والے اپنے بھائی سے ملاقات کیا تو اللہ تعالیٰ
نے اسکے راستہ پر ایک فرشتہ کو مقرر کیا، فرشتہ نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: اس گاؤں میں رہنے
والے میرے بھائی سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہوں، کہا: کیا اس پر تمہارا کوئی احسان ہے جس کا تم
ان کو بدلہ دینا چاہتے ہو؟ کہا: نہیں سوائے اسکے کہ میں اللہ کیلئے اس سے محبت کرتا ہوں کہا: بیشک
میں اللہ کی جانب سے تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم کو محبوب بنا لیا ہے جیسا کہ تم نے اس
سے اسکے لئے محبت 1 کی ہے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2567a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Allah loves you as you love him in Him
(1) His statement: “Allah loves you as you love him in Him”: An-Nawawi said: It extols love in Allah, causing Allah’s love, and the virtue of visiting the righteous. Humans may see angels. I say: Non-prophets and messengers from believers seeing angels in human form is clear, established in Gabriel’s Hadith and others. This is saints’ specifics after prophethood’s seal, verifying no sending angels to saints addressing them conveying aims beyond inspiration level. Allah, Exalted is He, knows best. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: قد أحبك كما أحببته فيه قال النووي: فيه فضل المحبة في الله، وإنها سبب لحب الله وفضيلة زيارة الصالحين وأن الإنسان قد يرى الملائكة. قلت: رؤية غير الأنبياء والرسل من المؤمنين للملائكة على صور البشر أمر واضح ثبت في صدر الكتاب في حديث جبريل وغيره، وإنما يقال هنا فيه دليل على إرسال الله الملائكة إلى الأولياء ومخاطبته إياهم بتبليغ المرام زيادة على مرتبة الإلهام، والظاهر أن هذا من خصائص الأمم السابقة تحقيقا لختم النبوة، والله سبحابه أعلم. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: جب مسلمان اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے یا اس سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے تو مبارک ہے تیرا چلنا مبارک ہے تو نے جنت میں گھر بنا لیا۔ (ترمذی)۔
سیدنا یزید بن نعامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آدمی دوسرے آدمی سے بھائی چارگی کا معاملہ کرے تو
اسے چاہئے کہ اس سے اس کا نام اس کے والد کا نام اور وہ کس قبیلہ سے ہے دریافت کرے۔ (ترمذی)۔
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں جب آدمی اپنے بھائی سے محبت کرے تو چاہئے کہ اس کو خبر کردے کہ وہ اس
سے محبت کرتا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی)۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایک
آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بہت
سے صحابہ موجود تھے حضرت کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یقیناً میں اس
سے اللہ کیلئے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کے علم میں یہ بات
لائے ہو، عرض کی نہیں، فرمایا: اٹھو اور ان کی طرف جاؤ اور انہیں خبر دو تو وہ اٹھے اور ان کی طرف گئے
اور ان کے سامنے اپنی محبت کا تذکرہ کیا: تو انہوں نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے جس کے لئے تم
نے مجھ سے محبت کی، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ لوٹ کر آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے
پوچھا تو انہوں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا: جو کچھ انہوں نے کہا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: تم اسی کے ساتھ رہو گے جس سے تمہیں محبت ہے اور تمہارے لئے وہی ہے جس کی تم نے
نیت کی ہے۔ (بیہقی: شعب الایمان)۔
اور ترمذی کی روایت میں ہے، آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے اسے
محبت ہے اور اس کے لئے وہی ہے جو اس 1 نے کمایا۔
(1) His statement: “what he earned”: Both wordings are close in intended meaning. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: ما اكتسب : قال التوربشتي وكلا اللفظين قريب من الآخر في المعنى المراد منه، قال الطيبي: وذلك لأن معنى ما اكتسب كسب كسبا يعتد به، ولا يرد عليه سبب الرياء والسمعة. وهذا هو معنى الاحتساب. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا
فرماتے ہیں اس آدمی کے بارے میں جو ایک قوم سے محبت کیا اور ان سے نہیں1 ملا تو حضور نے
فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے اسے محبت2 ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6168 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2640a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
does not join them
(1) His statement: “does not join them”: meaning in companionship, action, or knowledge, or all—does not accompany or act like them. Some said: does not see them. [As stated in Al-Mirqat]
Note 2
A person is with whom he loves
(2) His statement: “A person is with whom he loves”: The apparent generality includes good and bad, supported by: “A person follows his friend’s religion.” It encourages and warns, promises and threatens. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: ولم يلحق بهم أي بالصحبة أو العلم أو العلمل أو بمجموعها، أي لم يصاحبهم، ولم يعامل معاملتهم. قيل : أي لم يرهم. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: المرء مع من أحب: وظاهر الحديث العموم الشامل للصالح والطالح، ويؤيده حديث: «المرء على دين خليله. ففيه ترغيب وترهيب ووعد وعيد. كذا في «المرقاة».
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قیامت کب ہے، فرمایا: تم پر اللہ رحم کرے اسکے لئے تم نے کیا تیاری
کی، عرض کی میں نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی سوائے اسکے کہ میں اللہ اور اسکے رسول سے
محبت کرتا ہوں، فرمایا: تم انہیں کے ساتھ رہو گے3 جن سے تمہیں محبت ہے، انس رضی اللہ تعالیٰ
عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو نہیں دیکھا اسلام کے بعد انہیں کسی چیز سے اتنی خوشی ہوئی ہو
جتنی خوشی انہیں آپ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6167 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2639a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
You are with whom you love
(1) His statement: “You are with whom you love”: Here, companionship is special, involving meeting between lover and beloved, not same rank—self-evident invalidity. The meeting’s manner: higher descend to lower, gathering in gardens, recalling Allah’s blessings, praising Him; higher ranks’ people serve them with desires and calls. They are in a garden delighting and enjoying. This companionship, meeting, and fellowship differs with treatment’s goodness. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: أنت من أحبب: قال في «المرقاة»: إن المراد بالمعية هنا معية خاصة، وهي أن تحصل فيها الملاقاة بين المحب والمحبوب، لا أنهما يكونان في درجة واحدة؛ لأنه بديهي البطلان، وبيان كيفية الملاقاة المذكورة أن الأعلين ينحدرون إلى من هو أسفل منهم، فيجتمعون في رياضها، فيذكرون ما أنعم الله عليهم، ويثنون عليه، وينزل لهم أهل الدرجات فيسعون عليهم بما يشتهون وما يدعون به، فهم في روضة يحبرون ويتنعمون، ثم الظاهر أن هذه المعية والمواجهة والمجاملة تختلف باختلاف حسن المعاملة.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے1 تو چاہئے کہ تم میں سے
ہر ایک دیکھ لے وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، بیہقی شعب الایمان)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
A person follows his close friend’s religion
(1) His statement: “A person follows his close friend’s religion”: Al-Ghazali said: Associating with the greedy stirs greed; with the ascetic fosters worldly renunciation; natures are inclined to imitation and following, natures steal from natures unknowingly. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: المرء على دين خليله وقال الغزالي: مجالسة الحريص ومخالطته تحرك الحرص، ومجالسة الزاهد ومخاللته تزهد في الدنيا؛ لأن الطباع مجبولة على التشبه والاقتداء، بل الطبع يسرق من الطبع من حي لا يدري هذا. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور امام نووی نے اس حدیث کی
اسناد کو صحیح قرار دیا۔
سیدنا ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم مومن ہی کی صحبت2 میں رہو اور تمہارا کھانا سوائے متقی
کے کوئی نہ کھائے۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Do not accompany except a believer
(1) His statement: “Do not accompany except a believer”: He warned against accompanying non-God-conscious and mixing/eating with them, as foods induce familiarity and affection in hearts. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله : لا تصاحب إلخ : وإنما حذر من صحبة من ليس بتقي وزجر عن مخالطته ومؤاكلته؛ لأن المطاعم توقع الألفة والمودة في القلوب. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نیک ہم نشین اور3 برے ہم نشین کی مثال مشک اٹھانے
والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے، پس مشک کا اٹھانے والا یا تو تم کو مشک دے گا یا تم اس
سے مشک خریدو گے یا تم اس سے خوشبو پاؤ گے اور بھٹی پھونکنے والا یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا
یا تم اس سے بدبو پاؤ گے۔ (متفق علیہ)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The example of a good companion and a bad one…
(1) His statement: “The example of a good companion and a bad one…”: It guides to desire companionship and sitting with the righteous and scholars, benefiting in this world and Hereafter, and avoiding companionship of the wicked and sinners, harming religion and world. Associating with the good brings good; with the bad brings evil—like wind carrying sweet scent from perfume or foul from foul. [As stated in Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: مثل الجليس الصالح والسوء إلخ فيه إرشاد إلى الرغبة في صحبة الصلحاء والعلماء ومجالستهم؛ فإنها تنفع في الدنيا والآخرة، وإلى الاجتناب عن صحبة الأشرار والفساق، فإنها تضر دينا ودنيا. قيل: مصاحبة الأخيار تورث الخير، ومصاحبة الأشرار تورث الشر، كالريح إذا هبت على الطيب عبقت طيبا، وإن مرت على النتن حملت نتنا. كذا في «المرقاة».
سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تم کو تم میں کے بہترین لوگوں کی خبر نہ دوں؟
صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا تم میں بہترین وہ ہیں جب اُنہیں دیکھا جائے
تو اللہ یاد آ جائے۔ (ابن ماجہ)۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو
بلاتا ہے اور فرماتا ہے: یقیناً میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں ندا کرتے ہیں اور کہتے ہیں
بیشک فلاں سے اللہ محبت کرتا ہے تو تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرنے
لگتے ہیں، پھر اس کے لئے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو
ناپسند کرتا ہے تو جبرئیل کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے: میں فلاں بندے کو ناپسند رکھتا ہوں تم بھی اسے ناپسند
کرو، حضرت فرماتے ہیں: پھر جبرئیل اس کو ناپسند کرنے لگتے ہیں اور آسمان والوں میں آواز لگاتے
ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں کو ناپسند کرتا ہے تو تم بھی اسے ناپسند کرو! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا: وہ اسے ناپسند کرتے ہیں، پھر اس کے لئے نفرت کو زمین میں رکھ دیا جاتا ہے۔ (مسلم)۔
Commentary and footnotes (4)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: “Love in Allah and from Allah”: In Al-Mirqat, it is said: “In” is for causation, “from” for initiation; meaning, the servant’s love for a servant for the Lord’s pleasure from Allah to the servant, the second resulting from the first.
Note 1
(1) His statement: “Spirits are conscripted soldiers…”: In Al-Lama’at, it is said: This proves spirits are not accidents, and existed before bodies, without implying their eternity.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: الحب في الله ومن الله : قال في «المرقاة»: إن في تعليلية، ومن ابتدائية، والمعنى: حب العبد العبد لأجل رضا الرب الكائن من الله للعبد، والثاني نتيجة الأول.
Note 1
(۱) قوله: الأوراح جنود مجندة إلخ : قال في اللمعات» فيه دليل على أن الأرواح ليست بأعراض، وعلى أنها كانت موجودة قبل الأجساد، ولا يلزم من ذلك قدمها.