Martad ibn Abdullah reported that some of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) narrated to him that they heard the Prophet (ﷺ) say: “The shade of the believer on the Day of Resurrection will be his charity.”
مَرْثَد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے مجھ سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ ان صحابی نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مسلمان کا صدقہ اس کے لئے سایہ کا
کام دے گا (یعنی قیامت کی گرمی سے راحت و آرام کا سبب ہوگا)۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that they slaughtered a sheep, and the Prophet (ﷺ) asked: “What is left of it?” She said: “Only its shoulder is left.” He said: “All of it is left except its shoulder.”
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ (حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے) کسی نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کو فقراء اور
پڑوسیوں میں تقسیم کیا) جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گھر) تشریف لائے تو دریافت فرمایا
(کیا اس بکری میں سے تقسیم کے بعد) کچھ باقی رہ گیا ہے؟ تو ام المومنین جواب دیں کہ (صرف)
ایک دست باقی رہ گیا ہے اس میں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (نہیں) پوری بکری
باقی ہے سوائے اس دست کے جو (گھر میں) رہ گیا ہے۔ (یعنی جو کچھ اللہ کی راہ میں دیا گیا، اس کا
ثواب اللہ کے پاس باقی ہے اور جو گھر میں بچ گیا وہ فانی ہے)۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated in a marfu’ narration: “Three people are loved by Allah: a man who stands at night reciting the Book of Allah, a man who gives charity with his right hand and conceals it from his left hand, and a man who is in a military expedition and his companions flee, but he faces the enemy.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ) تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے
ہیں: ایک وہ شخص جو رات کے وقت (نیند سے) اٹھ کر کلام اللہ (کو نماز یا غیر نماز میں) پڑھا کرتا ہو،
دوسرا وہ شخص جو اپنے داہنے ہاتھ سے چھپا کر اس طرح خیرات کرے (کہ) بائیں ہاتھ کو اس کی خبر
نہ ہو۔ تیسرا وہ شخص جو کسی جہاد میں شریک ہو، اور اس کے ساتھیوں کے قدم اکھڑ گئے لیکن وہ (تنہا)
دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Three are loved by Allah, and three are hated by Allah. Those loved by Allah are: a man who comes to a people and asks them by Allah, not by any kinship between him and them, but they refuse him, so a man stays behind and gives him secretly, so that no one knows of his gift except Allah and the one who gave it; a people who travel at night until sleep becomes dearer to them than anything else, so they stop and rest, and one of them stands and flatters me and recites My verses; and a man who is in a military expedition, and his companions flee, but he faces the enemy until he is killed or victory is achieved. The three hated by Allah are: the old adulterer, the poor show-off, and the oppressive rich man.”
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین شخص ایسے
ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ پس وہ تین آدمی جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں ان
میں سے ایک وہ ہے (جس نے اللہ کے نام پر مانگنے والے کو صدقہ دیا) جبکہ ایک سائل ایک جماعت
کے پاس آیا اور اللہ کے نام پر مانگا اور ان لوگوں سے قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، ان لوگوں میں
سے کسی نے اس کو کچھ نہیں دیا۔ انہیں میں سے ایک شخص (چپکے سے اٹھ کر) باہر آیا اور اس مانگنے
والے کو اس طرح چھپا کر دیا کہ سوائے خدا اور اس شخص کے جس کو دیا گیا کسی کو معلوم نہ ہوسکا (یہی وہ
سائل کو دینے والا شخص ہے جس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں۔ دوسرا وہ شخص ہے جو سب کو رات میں
سوتا چھوڑ کر خدا کی عبادت کرتا ہو، جبکہ لوگ رات میں سفر کر رہے ہوں، یہاں تک کہ جب نیند ان پر
غالب آگئی اور وہ سو گئے انھیں میں سے ایک شخص (سب کو سوتا چھوڑ کر) اٹھا (اللہ تعالیٰ فرماتے
ہیں) اور میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میرے کلام کی تلاوت میں مشغول ہو گیا۔ اور (تیسرا) وہ
شخص ہے جو کسی لشکر میں (شریک جہاد) تھا اور دشمن سے مقابلہ ہوا، اور اس کے ساتھیوں کے قدم
اکھڑ گئے اور وہ (دشمن کے مقابلہ میں) سینہ تانے ثابت قدم رہا۔ یہاں تک کہ اپنی جان دیدی، یا
اس کو فتح حاصل ہوئی (ایسا شخص بھی اللہ تعالیٰ کے پاس محبوب ہے) اور وہ تین شخص جن پر اللہ تعالیٰ
غضبناک ہوتے ہیں (وہ یہ ہیں: ایک) زناکار بوڑھا (دوسرے) تکبر کرنے والا فقیر اور
(تیسرے) وہ دولتمند جو ظلم کرتا ہو۔ اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Allah created the earth, it began to shake. He created the mountains and placed them on it, and it became stable. The angels were amazed at the strength of the mountains. They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than the mountains?’ He said: ‘Yes, iron.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than iron?’ He said: ‘Yes, fire.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than fire?’ He said: ‘Yes, water.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than water?’ He said: ‘Yes, wind.’ They said: ‘O Lord, is there anything in Your creation stronger than wind?’ He said: ‘Yes, the son of Adam, who gives charity with his right hand and conceals it from his left hand.’”
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی تو (اس کو تھامنے کے لئے)
اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کئے اور پہاڑوں کو زمین پر ٹھہرایا تو زمین (کا ہلنا بند ہو گیا اور اس) کو قرار
حاصل ہو گیا تو فرشتے پہاڑوں کی سختی (کو دیکھ کر اس) سے حیران رہ گئے اور عرض کئے: اے
پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں پہاڑوں سے بڑھ کر بھی کوئی سخت چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ہاں (وہ) لوہا ہے (جو پہاڑ سے سخت ہے کہ وہ پتھر کو توڑ دیتا ہے) فرشتوں نے (حیرت سے) پھر
پوچھا: اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں لوہے سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد
فرمایا: ہاں (وہ) آگ ہے (جو لوہے سے سخت ہے کہ لوہے کو نرم کر دیتی ہے) فرشتوں نے پھر عرض
کیا اے پروردگار! کیا آپ کی مخلوق میں آگ سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں
(وہ) پانی ہے (جو آگ کو بجھا دیتا ہے) فرشتوں نے پھر عرض کیا: اے پروردگار! کیا آپ کی
مخلوق میں پانی سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ہاں (وہ) ہوا ہے (جو پانی پر
غالب ہے کہ پانی کو اڑا لے جاتی ہے، تو فرشتوں نے پھر عرض کیا: اے پروردگار! کیا آپ کے مخلوق
میں ہوا سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ہاں (وہ) انسان ہے (جو سب سے
زیادہ سخت اور قوی ہے) کہ جو اپنے سیدھے ہاتھ سے اس طرح چھپا کر خیرات کرتا ہے کہ اس کے
بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی (اس لئے کہ اس نے نفس کو ریا اور دکھاوے اور شیطانی وسوسوں سے
بچایا اور جبلی عادتوں کا مقابلہ کیا اور اخلاص سے خیرات کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کی اور
اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کیا) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Any Muslim who clothes a Muslim in need, Allah will clothe him from the green garments of Paradise. Any Muslim who feeds a Muslim in need, Allah will feed him from the fruits of Paradise. Any Muslim who gives water to a Muslim in need, Allah will give him from the sealed pure drink.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: جو مسلمان کسی برہنہ مسلمان کو کپڑے پہنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کو
جنت کا سبز لباس پہنائیں گے اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت
کے پھل کھلائیں گے اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی مہر لگی
ہوئی شراب (طہور) پلائیں گے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No Muslim clothes another Muslim except that he remains under the protection of Allah as long as a thread of that garment remains on him.”
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس کسی مسلمان نے کسی مسلمان کو کوئی کپڑا (جیسے تہ
بند، چادر وغیرہ) پہنا دے تو یہ (پہنانے والا مسلمان) اس وقت تک اللہ کی حفاظت (اور امان) میں
رہے گا جب تک کہ اس کپڑے کی ایک دھجی بھی اس کے (یعنی پہننے والے کے جسم) پر باقی رہے گی۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Sa’d ibn Ubadah (may Allah be pleased with him) said: “O Messenger of Allah, my mother has died. What is the best charity I can give on her behalf?” He said: “Water.” So he dug a well and said: “This is for Umm Sa’d.”
سعد بن عُبَادَۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سعد رضی اللہ عنہا میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے (اور میں ان کی روح پر ایصال ثواب
کے لئے کچھ خیرات کرنا چاہتا ہوں ارشاد ہو کہ) کونسی خیرات افضل ہے (جس سے ان کو ثواب
پہونچے)؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ پانی (بہترین صدقہ ہے، اس لئے تم کنواں
کھدوا دو تا کہ سب کو اس سے فائدہ پہونچے) تو حضرت سعدؓ نے کنواں کھدوایا، اور کہا یہ کنواں ام سعد
(پر ایصال ثواب) کے لئے (وقف) ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever is generous to his family on the day of Ashura, Allah will be generous to him for the rest of the year.” Sufyan said: “We have tried this and found it to be true.” [Narrated by Razin]
Al-Bayhaqi narrated it in Shu’ab Al-Iman from him, Abu Hurairah, Abu Sa’id, and Jabir, but he weakened it. Al-Iraqi said: “It has chains, some of which are authentic, and some meet the conditions of Muslim.”
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر نفقہ میں (یعنی کھانا
کھلانے وغیرہ میں) وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر سال بھر وسعت کریں گے (یعنی خیر و برکت
نازل کریں گے) سفیان ثوری (جو اس حدیث کے راویوں میں ہیں) فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا
بارہا تجربہ کیا (اور خوب ہی پایا کہ سال بھر وسعت رہی)۔
اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔
اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
Abu Hurairah and Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best charity is that which is given out of sufficiency, and begin with those who are under your care."
ابو ہریرہ اور حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یہ دونوں حضرات فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بہترین خیرات وہ ہے جو ضرورت سے
زائد مال میں سے دی جائے (کہ خیرات کے بعد بھی مال اہل وعیال کی ضرورت کے لئے باقی
رہے) اور خرچ کی ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر پرورش ہوں۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے صرف حکیم بن حزام سے روایت کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man asked, "O Messenger of Allah, which charity is the best?" He replied, "The charity given by a poor person, and begin with those who are under your care."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ!
کونسی خیرات (ثواب کے اعتبار سے) بہترین ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ
(بہترین خیرات یہ ہے کہ) غریب آدمی (محنت اور مشقت کر کے جو مال حاصل کرتا ہے اس میں
سے اپنی) وسعت کے لحاظ سے خیرات کر دے اور خرچ کی ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہارے
زیر پرورش ہوں۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بہترین خیرات یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کو (خواہ وہ مسلمان ہو، یا کافر ہو، یا
جانور) پیٹ بھر کھانا کھلا دے۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best dinar a man spends is the dinar he spends on his family, the dinar he spends on his riding animal in the way of Allah, and the dinar he spends on his companions in the way of Allah."
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بہترین دینار (یعنی رقم) وہ دینار ہے جس کو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ
کرے اور وہ دینار (بھی بہترین) ہے جس کو آدمی اپنی جہاد کی سواری پر خرچ کرے، اور (اسی
طرح) وہ دینار (بھی بہترین) ہے جس کو آدمی اپنے جہاد کرنے والے ساتھیوں پر خرچ کرے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I have a dinar." He said, "Spend it on yourself." He said, "I have another." He said, "Spend it on your child." He said, "I have another." He said, "Spend it on your wife." He said, "I have another." He said, "Spend it on your servant." He said, "I have another." He said, "You know better (where to spend it)."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کئے: (یا رسول اللہ!) میرے پاس دینار ہیں (ارشاد
ہو کہ میں ان کو کیسے خرچ کروں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (پہلے) تو اس کو اپنی
ذات پر خرچ کر۔ انھوں نے عرض کیا کہ (اس کے بعد بھی) میرے پاس دینار (باقی) رہ جاتے ہیں
تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کو تو اپنی اولاد پر خرچ کر انھوں نے (پھر) عرض کیا
کہ (اس کے بعد بھی) میرے پاس اور دینار (باقی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے کہ تو اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر، انھوں نے (پھر) عرض کیا: (اس کے بعد بھی) میرے
پاس اور دینار (باقی) رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تو اس کو اپنے خادم
پر خرچ کر، انھوں نے (پھر) عرض کیا کہ میرے پاس اور دینار رہ جاتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے کہ تم خود سمجھدار ہو (اس لئے تم جس کو مستحق سمجھے ہواس کو دیدو)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Abu Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a Muslim spends on his family with the intention of reward, it is counted as charity for him."
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے
تو اس پر اس کو خیرات کا ثواب ملتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A dinar you spend in the way of Allah, a dinar you spend to free a slave, a dinar you give in charity to a poor person, and a dinar you spend on your family—the greatest of these in reward is the one you spend on your family."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (انسان اپنے مال کو کئی طریقوں سے خرچ کرتا ہے) ایک (خرچ تو)
وہ دینار ہے جس کو تم راہ خدا (یعنی جہاد، یا حج، یا طلب علم) میں خرچ کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے
جس کو تم غلام باندی آزاد کرنے میں خرچ کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جس کو تم مسکین پر خیرات
کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جس کو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو (یوں تو ان میں سے تم کو
ہر ایک دینار کے خرچ پر ثواب ملتا ہے لیکن) وہ دینار جس کو تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہو وہ
ثواب کے اعتبار سے سب سے افضل ہے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said: "I asked, 'O Messenger of Allah, will I be rewarded for spending on the children of Abu Salamah? They are my children.' He said, 'Spend on them, and you will be rewarded for what you spend on them.'"
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بچوں پر جو میرے ہی بطن سے ہیں
خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ تم ان پر خرچ کرتی
جاؤ تم جو کچھ خرچ کرو گی اس کا ثواب تم کو برابر ملے گا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Maymunah bint al-Harith (may Allah be pleased with her) narrated that she freed a slave girl during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). She mentioned this to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said, "If you had given her to your maternal uncles, it would have increased your reward."
ام المومنین میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (وہ کہتی ہیں) کہ
انہوں نے ایک باندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں آزاد کیا پھر (بعد میں) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر فرمایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اگر تم اس
(باندی) کو اپنے ماموؤں کو دے دیتیں (جن کو ایک خادم کی ضرورت تھی) تو اس کا ثواب (آزاد
کرنے سے) زیادہ ہوتا (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلہ رحمی کا ثواب خیرات کرنے سے بڑھ کر ہے)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Sulaiman ibn ‘Amir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Charity to the poor is charity, and charity to a relative is two things: charity and maintaining family ties."
سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (اجنبی) مسکین کو خیرات دینے سے (صرف) ایک
خیرات کا ثواب ملتا ہے اور (غریب) قرابت دار کو خیرات دینے سے دوہرا ثواب ملتا ہے، ایک تو
خیرات کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: Abu Talhah was the wealthiest among the Ansar in Madinah in terms of palm trees, and the dearest of his properties to him was Bayruha’, which was facing the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) used to enter it and drink from its good water. Anas said: When the verse You will not attain righteousness until you spend from what you love (Al-Imran 3:92) was revealed, Abu Talhah went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said, "O Messenger of Allah, Allah says: You will not attain righteousness until you spend from what you love (Al-Imran 3:92), and the dearest of my wealth to me is Bayruha’. It is a charity for Allah, and I hope for its reward and treasure with Allah. Place it, O Messenger of Allah, where Allah shows you." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Well done! That is a profitable wealth. I have heard what you said about it, and I think you should give it to your relatives." Abu Talhah said, "I will do so, O Messenger of Allah." So Abu Talhah distributed it among his relatives and cousins.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ، انصار
مدینہ میں کھجوروں کے اعتبار سے بہت مالدار تھے اور ان کو سب سے زیادہ محبوب وہ باغ تھا جس کو
بَیْرَحَاء کہتے تھے جو مسجد نبوی کے مقابل واقع تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں تشریف
لے جایا کرتے اور اس کا عمدہ (اور شیریں) پانی پیا کرتے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ
آیت ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“ (تم خیر کامل بھی حاصل نہ کرسکو گے یہاں
تک کہ تم اپنی پیاری چیز کو خرچ نہ کرو گے) (سورۃ آل عمران:92)
تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کئے: یا
رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“ اور ”بَیْرَحَاء
“(نامی باغ) مجھ کو اپنے مال میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اس لئے میں اس کو خدا کے نام پر
خیرات کرنا چاہتا ہوں اور اس (کو خیرات کرنے سے) اللہ تعالیٰ کے پاس نیکی اور ذخیرہ (آخرت)
کی امید رکھتا ہوں۔ پس یا رسول اللہ ﷺ! آپ اس کو جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں (یعنی: جس کو
چاہیں دیدیں) (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: بَخْ بَخْ (واہ واہ! شاباش،
شاباش) یہ باغ نہایت نفع دینے والا ہے، تم نے جو کچھ کہا میں نے سن لیا (یعنی مجھے تمہارا منشا معلوم
ہوگیا) اب میری رائے میں مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم اس کو اپنے (محتاج) قرابت داروں میں
تقسیم کردو۔ (تا کہ صدقہ کا بھی ثواب حاصل ہو، اور صلہ رحمی کا بھی)، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایسا ہی کروں گا اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس باغ کو اپنے قرابت
داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Rabitah bint ‘Abdullah, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with them), reported: She was a skilled woman from Sana’a, and ‘Abdullah ibn Mas’ud had no wealth. She used to spend on him and their children from her earnings. She said, "By Allah, you and your children have kept me so busy that I cannot give charity." He said, "I do not like that you should not have a reward for what you do." So she and her family asked the Messenger of Allah (ﷺ). She said, "O Messenger of Allah, I am a skilled woman, and I sell from my work. My children and husband have nothing, and they keep me so busy that I cannot give charity. Do I get a reward for spending on them?" He said, "You will be rewarded for what you spend on them, so spend on them."
رائطہ بنت عبداللہ جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور جو ایک
ہنرمند صحابیہ ہوئی ہیں ان سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، بیروزگار تھے تو یہ
(اپنے ہنر کی آمدنی کو روزانہ) ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ (چونکہ حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے عورتوں کو حکم (جیسا کہ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں مذکور ہے، جو زینب زوجہ ابن
مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔12) دیا تھا کہ وہ خیرات کیا کریں، یہ ارشاد سن کر) انہوں نے
(اپنے شوہر سے) کہا خدا کی قسم! تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے خیرات کرنے سے روک رکھا ہے
(کہ میرے ہنر کی پوری آمدنی تم پر خرچ ہو جاتی ہے) جس کی وجہ سے میں کچھ بھی خیرات نہیں کر سکتی
ہوں (یہ سن کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر ہم پر خرچ کرنے کی وجہ سے تم ثواب
سے محروم ہو رہی ہو تو مجھے بھی پسند نہیں کہ تم ہم پر خرچ کرو، تو یہ دونوں حضرات (میاں بیوی) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (حاضر ہوئے اور) رائطہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور (چیزیں بنا کر) فروخت کرتی ہوں اور (اس وقت)
میرے بچے اور میرے خاوند کے پاس کچھ بھی (مال) نہیں ہے (چونکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں)
اس لئے میں خیرات نہیں کر سکتی ہوں (حضور ﷺ! ارشاد ہو کہ) میری آمدنی جو ان پر خرچ ہو رہی
ہے کیا اس کا مجھے اجر و ثواب ملے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب تک تم ان پر
خرچ کرو گی تم کو اس کا (برابر) ثواب ملتا رہے گا۔ اس لئے تم ان پر خرچ کرتی جاؤ۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
(1) The statement: "A woman from Sana’a" etc. In Sharh Ma’ani al-Athar, it is said: "This indicates that the charity mentioned was voluntary and not obligatory. Rabitah was Zainab, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud. It is not known that ‘Abdullah had another wife during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The evidence that this charity was voluntary is her statement: 'I was a skilled woman, and I used to sell from my work and spend on ‘Abdullah.' The response of the Messenger of Allah (ﷺ) in this hadith and the previous one was in answer to her question. In this hadith of Rabitah, it is mentioned: 'I used to spend from that on ‘Abdullah and his children.' It is unanimously agreed that a woman cannot spend her Zakat on her children. Since what she spent on her children was not from Zakat, similarly, what she spent on her husband was also not from Zakat."
Note 1
قوله
(۱) قوله: امرأة صنعاء إلخ : وقال في شرح معاني الآثار»: ففي هذا الحديث أن تلك الصدقة مما لم يكن فيه زكاة، ورابطة هذه هي زينب امرأة عبد الله لا تعلم أن عبد الله كانت له امرأة غيرها في زمن رسول الله ﷺ. والدليل على أن تلك الصدقة كانت تطوعًا كما ذكرنا قولها: «كنت امرأة صنعاء، أصنع بيدي فأبيع من ذلك، فأنفق على عبد الله»، فكان قول رسول الله ﷺ الذي في هذا الحديث وفي الحديث الأول جوابا لسؤالها هذا. وفي حديث رابطة هذا: كنت أنفق من ذلك على عبد الله على ولده مني. وقد أجمعوا على أنه لا يجوز للمرأة أن تنفق على ولدها من زكاتها، فلما كان ما أنفقت على ولدها ليس من الزكاة، فكذلك ما أنفقت على زوجها ليس هو أيضًا من الزكاة.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رائطہ رضی اللہ عنہا اپنی روزانہ کی کمائی
سے اپنے شوہر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور اپنی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔
واضح ہو کہ حضرت رائطہؓ کا ان پر خرچ کرنا مد زکات سے نہ تھا اس کی دلیل شرح معانی الآثار
میں اس طرح مذکور ہے کہ خود حضرت رائطہؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور اپنی دستکاری
سے (روزانہ) جو کچھ بناتی ہوں اور اس کی آمدنی کو حضرت ابن مسعود پر خرچ کرتی ہوں۔ (اس سے
ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی آمدنی کو ہر روز خرچ کر دیا کرتی تھیں، اس لئے مال پر سال کے نہ
گزرنے کی وجہ سے زکات کے نصاب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔
لہذا معلوم ہوا کہ ان کا خرچ مد زکات سے نہ تھا) چنانچہ حضرت رابطہ نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بچوں پر خرچ کرنا ثواب کا
موجب ہے یا نہیں۔ اس سوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال نفل خیرات کے ثواب سے متعلق تھا
نہ کہ زکات سے۔
حضرت رابطہ کا خرچ مد زکات سے نہ ہونے پر شرح معانی الآثار میں دوسری دلیل یہ ہے کہ
عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکات کے مال کو اپنے بچوں پر خرچ کرے، چونکہ حضرت
رابطہؓ جس مال کو اپنے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں، اسی مال میں سے اپنے شوہر پر بھی خرچ کیا کرتی
تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ مال جس کو بچوں پر خرچ کرتی تھیں وہ مد زکات میں سے نہ تھا۔ اس
سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مال حضرت رابطہؓ اپنے شوہر پر خرچ کرتی تھیں وہ بھی مد زکات سے نہ تھا۔12
‘Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: "O Messenger of Allah, I have two neighbors. To which of them should I give a gift?" He said, "To the one whose door is closer to you."
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دو
میں کس کو تحفہ دوں؟ تو حضور ارشاد فرمائے کہ جس کا دروازہ تمہارے (دروازے) سے قریب ہو
(اس کے پاس تحفہ بھیجو)۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Candidate: Sahih al-Bukhari 6020 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 2259 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The one whose door is closer to you
(1) The statement: "The one whose door is closer to you" refers to the neighbor whose house is adjacent to yours, according to the opinion of Abu Hanifah. Others said: "The one who lives in your neighborhood and shares the same mosque with you." This is considered the most appropriate view. Al-Shafi’i said: "The neighbor includes up to forty houses in every direction." The correct opinion is that of the Imam, as mentioned in Al-Durr al-Muntaqa, and clarified by Al-‘Allamah Qasim. This is the analogy. Among the rights of a neighbor is not to forget them in food, drink, and clothing, and to assist them in every difficulty. If one can feed them, they should do so; otherwise, they should not let the effects of cooking, such as smoke, be seen, as it may cause them distress. This is the summary of what is mentioned in Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah and Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar in the book of Wills. This is why ‘Ali al-Qari said in Al-Mirqat: "Perhaps the reason is that they are more connected and more aware, making them more deserving of good companionship and visible kindness." Allah says: And do good to parents, relatives, orphans, the needy, the near neighbor, the distant neighbor, the companion at your side (Al-Nisa 4:36). This indicates that the closer neighbor is more deserving of kindness, but it does not mean that giving is restricted to the closest neighbor, as is apparent from the hadith.
Note 1
قوله
(۱) قوله: أقربهما منك بابا جارك من يلاصق داره دارك هذا على رأي أبي حنيفة. وقالا: من يسكن في محلتك ويجمعكم مسجد المحلة، وهو استحسان. وقال الشافعي: الجار إلى أربعين دارًا من كل جانب، والصحيح قول الإمام كما أفاده في الدر المنتقى، وصرح به العلامة قاسم، وهو القياس ومن حقوق الجار أن لا ينسه في الطعام والشراب واللباس، ويعاونه في كل هم وغم، فإن يقدر على إطعامه فليطعم، وإلا فلا يظهر أثر الطبخ من الدخان وغيره؛ لأنه يصير مغموما به. هذا حاصل ما في التفسيرات الأحمدية» و«الدر المختار ورد المحتار» في كتاب الوصايا. ولهذا قال علي القاري في المرقاة»: ولعل وجهه أنه أكثر اختلاطا وأظهر اطلاعا، فيكون بحسن العشرة وظهور المودة أولى، وقد قال تعالى: ﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَنَا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ) (النساء : (٣٦) فدل على أن الجار الأقرب بمزيد الإحسان أنسب، وليس المراد انحصار الإهداء إلى الأقرب، كما هو ظاهر الحديث.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں پڑوسی کا ذکر ہے، پڑوسی کے تعین میں ائمہ کے اقوال حسب ذیل
ہیں:۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پڑوسی وہ ہے کہ جس کا گھر تمہارے گھر سے ملا ہوا ہو اور
صاحبین کا قول یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو تمہارے محلہ میں رہتا ہو اور محلہ کی مسجد کا مصلی ہو وہ پڑوسی ہے اور
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پڑوس کا شمار اپنے گھر کے ہر جانب سے چالیس گھر تک ہوتا ہے۔
در منتقی میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے اور اسی کی صراحت علامہ قاسم
نے بھی کی ہے اور قیاس بھی یہی ہے کہ پڑوسی وہی ہے جس کا گھر تمہارے گھر سے متصل ہو۔
(درمنتقی کی عبارت یہاں ختم ہوئی)۔
پڑوسی کے تعین کے بعد پڑوسی سے متعلق حقوق یہ ہیں کہ اگر پڑوسی نادار ہو تو اس کے کھانے،
کپڑے اور اس کی امداد سے غافل نہ ہو اور اگر پڑوسی کسی مصیبت اور پریشانی میں مبتلا ہو جائے تو اس
کے دکھ درد میں شریک رہے اور اگر گھر میں کھانے وغیرہ کا اہتمام ہو تو اس میں اپنے پڑوسی کو بھی شریک
کرے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو کم از کم اپنے گھر پر پکوان وغیرہ کے انتظامات کو نمایاں نہ کرے تا کہ وہ
رنجیدہ نہ ہو۔ جیسا کہ تفسیرات احمدیہ، درمختار اور ردالمحتار کی ”کتاب الوصایا“ میں مذکور ہے12
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you cook a stew, add more water and take care of your neighbors."
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب تم (گوشت کا) شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کردو تاکہ (تم اس
کے ذریعہ سے) اپنے پڑوسیوں کی مدد کرسکو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Ibn ‘Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Shall I inform you of the best of people in status? A man who holds the reins of his horse in the way of Allah. Shall I inform you of the one who follows him? A man who isolates himself with his sheep, fulfilling the rights of Allah regarding them. Shall I inform you of the worst of people? A man who is asked in the name of Allah but does not give."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کیا میں تم کو سب سے بہتر آدمی کا پتہ نہ دوں؟ سنو! سب سے بہتر
آدمی وہ ہے جو (ہر وقت) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار رہتا ہے (پھر
آپ ارشاد فرمائے): کیا میں تم کو اس شخص کا پتہ نہ دوں جو (درجہ میں) اس کے قریب ہے؟ (سنو
یہ) وہ شخص ہے جو چند بکریوں کے ساتھ گوشہ تنہائی اختیار کرلے اور ان بکریوں پر جو اللہ تعالیٰ کا حق
ہے (یعنی زکات ہے) اس کو ادا کرتا ہے (پھر آپ ارشاد فرمائے): کیا میں تم کو سب سے برے
آدمی کی خبر نہ دوں؟ (سنو یہ) وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے اور
(وہ باوجود قدرت رکھنے کے) نہ دیتا ہو۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1652 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Asked in the name of Allah
(1) The statement: "Asked in the name of Allah" in Al-Mukhtarat, it is said: Ibn al-Mubarak said, "If someone asks for the sake of Allah or for the right of Allah, I prefer not to give them anything, as they have elevated what Allah has made insignificant." This is understood to apply when the need is not known. I say: One should consider the prohibition along with what our teacher Al-Jarahi mentioned from Al-Tabarani with a chain of narrators who are reliable, from Abu Musa (may Allah be pleased with him) that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "Cursed is the one who asks in the name of Allah, and cursed is the one who is asked in the name of Allah and then refuses, unless the request is inappropriate." This is the summary of what is in Al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله : يسأل بالله : وفي المختارات»: قال ابن المبارك: سأل لوجه الله أو لحق الله يعجبني أن لا يعطيه شيئًا؛ لأنه عظم ما حقر الله محمول على ما إذا لم يعلم ضرورته، أقول: وليتأمل المنع مع ما ذكره شيخ مشايخنا الجراحي مما عند الطبراني بسند رجاله رجال الصحيح عن أبي موسى الله أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: ملعون من سأل بوجه الله، وملعون من سئل بوجه الله، ثم منع سائله ما لم يسأل هجرا، يعني قبيحا.
ولأبي داود والنسائي وصححه ابن حبان، وقال الحاكم: على شرط الشيخين عن ابن عمر الله رفعه: «من يسأل الله بوجه فأعطوه». وللطبراني: ملعون من سأل بوجه الله، وملعون من يسأل بوجه الله فيمنع سائله، إلا أن يحمل على السؤال من غير الدنيا أو على ما إذا علم عدم حاجته، وأن سؤاله للتكثر، تأمل. هذا حاصل ما في «الدر المختار» ورد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جس سے
سائل اللہ کے نام کا واسطہ دیکر مانگے اور وہ نہ دے۔ اس بارے میں ابن مبارک کا قول مختارات میں
اس طرح مذکور ہے کہ جو شخص اللہ کا واسطہ دے کر یا اللہ کا حق بتا کر مانگے، مجھے یہ بات پسند ہے کہ ایسے
سائل کو کچھ نہ دیا جائے، اس لئے اس نے (دنیوی مال) جس کو اللہ نے حقیر قرار دیا ہے (اس کے
حاصل کرنے کے لئے) اس نے اللہ کے نام کو جو عظمت اور شان والا ہے (ایسی حقیر چیز کے لئے)
استعمال کیا۔
یہ قول اس وقت پر محمول ہے جب کہ معلوم ہو کہ سائل حقیقت میں ضرورت مند نہیں ہے۔ اس
خصوص میں طبرانی نے قوی سند کے ساتھ ایک حدیث ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور وہ یہ
ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اس شخص پر
لعنت ہے جو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہو اور وہ شخص بھی ملعون ہے جس سے اللہ کے نام کا
واسطہ دے کر سوال کیا جائے اور (وہ قدرت رکھنے اور سائل کی ضرورت سے واقف ہونے کے
باوجود) سائل کو نہ دے اگر سائل سوال کرتے وقت برا بھلا کہہ دے تو ایسی صورت میں نہ دینے والا
لعنت کا مستحق نہیں ہوگا۔ اور ابوداؤد اور نسائی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک روایت کی ہے جس کو ابن
حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق قرار دیا ہے اور ابن عمرؓ نے اس
حدیث کو مرفوع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کا
واسطہ دے کر مانگے تم اس کو دیدو۔
صاحب درمختار اور ردالمحتار نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی
حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے کہ مانگنے والا اور نہ دینے والا یہ دونوں اس صورت میں لعنت کے
مستحق قرار دئے جائیں گے جب کہ مانگنے والا بے ضرورت اور اپنے مال کو بڑھانے کے لئے سوال
کرے اور نہ دینے والا اس وقت ملعون ہوگا جب کہ وہ دینے کی قدرت رکھنے اور سائل کی ضرورت
سے واقف ہونے کے باوجود نہ دے۔12
Ibn ‘Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever seeks refuge in Allah, grant him refuge. Whoever asks in the name of Allah, give him. Whoever invites you, respond to him. Whoever does you a favor, repay him. If you cannot repay him, pray for him until you feel you have repaid him."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص (بطور فریاد کے کسی کے شر سے) اللہ کے نام پر تم سے پناہ مانگے
تو تم اس کو پناہ دے دو اور جو شخص تم سے سوال کرے اور اللہ کے نام پر کوئی چیز مانگے تو تم اس کو دیدو،
اور جو شخص کھانے کی دعوت دے تو تم اس کی دعوت کو قبول کرو، اور کوئی شخص تمہارے ساتھ احسان
کرے تو تم بھی اس کے احسان کا بدلہ دو (یعنی اس کے ساتھ کوئی نیکی کرو) اور اگر تم ایسا نہ کرسکو تو
اس کے لئے دعاء کرتے رہو، یہاں تک کہ تم کو یقین ہوجائے کہ تم نے اس (کے احسان) کا بدلہ چکا
دیا۔ اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ احسان کرنے والے کا بدلہ احسان سے نہ کرسکیں
تو کم از کم ”جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا“ (اللہ تعالیٰ تم کو اس کا بہتر بدلہ دے) کہہ دیں تو یہ دعا اس کے
احسان کا بدلہ ہوجائیگی۔12
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Nothing should be asked for in the name of Allah except Paradise."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات (یا اس کے نام کا واسطہ دیکر نہ اللہ سے نہ اس کے غیر سے) بجز
جنت (کے کوئی اور چیز) نہ مانگی جائے (یعنی لوگوں سے اللہ کا واسطہ دے کر دنیا کی کوئی چیز نہیں مانگنا
چاہئے)۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات۔12) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
ام بجید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سائل کو (خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ کچھ نہ کچھ ضرور دو) اگرچہ یہ وہ جلا ہوا کھر ہی
کیوں نہ ہو۔
اس کی روایت امام مالک، نسائی نے کی ہے اور ترمذی اور ابوداؤد نے بھی اسی کے قریب
قریب روایت کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When a woman spends from the food of her house without wasting, she will have her reward for what she spent, her husband will have his reward for what he earned, and the storekeeper will have a similar reward. None of them will diminish the reward of the others in the least."
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب بیوی اپنے گھر کے کھانے میں سے (راہ خدا
میں کچھ خیرات کرتی ہے اور اس (خیرات) میں اسراف نہیں ہورہا، ہو تو اس عورت کو اس خیرات کا
ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو بھی اس کمائی کا ثواب ملتا ہے (جس مال میں سے خیرات دی گئی
ہے) اور اسی طرح اس داروغہ کو بھی (خیرات کا ثواب ملتا ہے جو اپنے مالک کی جانب سے اس کے
مال میں سے کچھ خیرات کردے) تینوں کو برابر پورا ثواب ملتا ہے) ایک کا ثواب کم کرکے دوسرے
کو نہیں دیا جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1024a (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1425 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
When she spends.
(1) The statement: "When she spends." In Al-Mirqat, it is said: "The scholars have generally agreed that it is not permissible for a woman to give charity from her husband's wealth without his explicit or implicit permission. Similarly, a servant is not allowed to do so. The hadith that indicates permissibility is based on the custom of the people of Hijaz, who would allow family members and servants to give charity and spend when a beggar arrives or a guest is present." This is what Al-Sharif Al-Jurjani said in the commentary of Al-Mishkat. Al-Allamah Al-Ayni said in Umdat Al-Qari: "The hadiths in this chapter differ. The way to reconcile them is that it varies according to the customs of different regions, the husband's attitude—whether he is lenient and approves or dislikes it—and the nature of what is spent, whether it is something insignificant that he would overlook or something significant that he would not tolerate. It also depends on whether the item is perishable and might spoil if delayed or something that can be stored without fear of spoilage."
Note 1
قوله
(۱) قوله: إذا أنفقت: وقال في المرقاة»: قال محي السنة: عامة العلماء على أنه لا يجوز لها التصدق من مال زوجها بغير إذنه صريحا أو دلالة، وكذا الخادم والحديث الدال على الجواز أخرج على عادة أهل الحجاز يطلقون الأمر للأهل والخادم في التصدق والإنفاق عند حضور السائل ونزول الضيف انتهى. كذا قال الشريف الجرجاني في حاشية المشكاة». وقال العلامة العيني في عمدة القاري: أحاديث هذا الباب مختلفة، كيفية الجمع بينها أن ذلك يختلف باختلاف عادات البلاد وباختلاف حال الزوج من مسامحته ورضاه بذلك أو كراهته لذلك، وباختلاف الحال في الشيء المنفق بين أن يكون شيئًا يسيرًا يتسامح به، وبين أن يكون له خطر في نفس الزوج يخل بمثله، وبين أن يكون ذلك رطبا يخشى فساده إن تأخر، وبين أن يكون يدخر ولا يخشى عليه الفساد.
Note 1
ف: مرقات میں محی السنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے
لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر خیرات کرے، خواہ وہ اجازت
صراحت کے ساتھ ہو یا اشارۃً ہو۔
اور اسی طرح خادم کے لئے بھی جائز نہیں کہ اپنے مالک کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر
خیرات کرے، اب باذکورہ حدیث شریف اور وہ حدیثیں جو بعد میں آ رہی ہیں ان میں بغیر اجازت
کے بیوی اور خادم کے خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ اس بنا پر ہے کہ اہل حجاز کی عام عادت یہ تھی کہ وہ
اپنی بیویوں اور خادموں کو اجازت دے رکھتے تھے کہ اگر سائل آئے تو دیدیا کریں اور مہمان آئے تو
مہمان نوازی کیا کریں، علامہ شریف جرجانی نے بھی مشکوۃ کے حاشیہ میں ایسا ہی کہا ہے۔
اور علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ اس بارے میں مختلف حدیثیں آئی ہیں، ان میں
تطبیق یعنی اختلاف کو دور کرنے کی صورت یہ ہے کہ بیوی اور خادم کو خیرات کرنے کی اجازت کا انحصار
ملک کے رواج، شوہر اور مالک کی طبیعت اور جو چیز خیرات کی جارہی ہے اس کی حیثیت پر ہوگا۔ مثلاً
کسی ملک کا رواج یہ ہے کہ شوہر اور مالک کی اجازت کے بغیر وہاں خیرات دی جاتی ہو، یا شوہر کی
طبیعت یہ ہے کہ وہ اجازت کے بغیر اپنی بیوی کی خیرات پر اور مالک اپنے خادم کی خیرات پر راضی
رہتے ہوں یا جو چیز خیرات میں دی جا رہی ہے وہ معمولی حیثیت کی ہے اور زیادہ مدت تک رکھنے سے
خراب ہو جاتی ہے تو ان تمام صورتوں میں بیوی یا خادم کا بغیر اجازت کے خیرات کرنا جائز ہوگا اس کے
برخلاف مالک کا رواج ایسا نہ ہو، یا شوہر اور مالک کی طبیعت میں بخل ہو اور وہ اجازت کے بغیر خیرات کو
پسند نہ کرتے ہوں یا جو چیز خیرات دی جا رہی ہو شوہر اور مالک کے پاس اہم ہو تو ان تمام صورتوں میں
شوہر یا مالک کی اجازت کے بغیر خیرات کا دینا جائز نہ ہوگا۔12
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When a woman spends from her husband's earnings without his permission, she will have half of his reward."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب بیوی اپنے شوہر کے مال سے اس کے حکم کے بغیر کچھ خیرات
کرے تو اس کو (پورے ثواب کا) آدھا ثواب ملے گا (اور باقی نصف اس کے شوہر کو ملے گا)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Umamah (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say in his sermon during the Farewell Pilgrimage, "A woman should not spend anything from her husband's house except with his permission." It was said, "O Messenger of Allah, not even food?" He said, "That is the best of our wealth."
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ فرماتے سنا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے گھر سے اس کی
اجازت کے بغیر کوئی مال خرچ نہ کرے (اس پر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول
اللہ! کیا کھانے میں سے بھی (اجازت کے بغیر بیوی کے لئے خیرات کرنا جائز نہیں ہے حالانکہ وہ
روپیہ پیسہ کے مقابلہ میں معمولی چیز ہے تو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (نہیں کھانا بھی
خیرات نہ کرے) کھانا تو ہمارا اہم ترین مال ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "A woman from Sana’a" etc. In Sharh Ma’ani al-Athar, it is said: "This indicates that the charity mentioned was voluntary and not obligatory. Rabitah was Zainab, the wife of ‘Abdullah ibn Mas’ud. It is not known that ‘Abdullah had another wife during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The evidence that this charity was voluntary is her statement: 'I was a skilled woman, and I used to sell from my work and spend on ‘Abdullah.' The response of the Messenger of Allah (ﷺ) in this hadith and the previous one was in answer to her question. In this hadith of Rabitah, it is mentioned: 'I used to spend from that on ‘Abdullah and his children.' It is unanimously agreed that a woman cannot spend her Zakat on her children. Since what she spent on her children was not from Zakat, similarly, what she spent on her husband was also not from Zakat."
Note 1
(۱) قوله: امرأة صنعاء إلخ : وقال في شرح معاني الآثار»: ففي هذا الحديث أن تلك الصدقة مما لم يكن فيه زكاة، ورابطة هذه هي زينب امرأة عبد الله لا تعلم أن عبد الله كانت له امرأة غيرها في زمن رسول الله ﷺ. والدليل على أن تلك الصدقة كانت تطوعًا كما ذكرنا قولها: «كنت امرأة صنعاء، أصنع بيدي فأبيع من ذلك، فأنفق على عبد الله»، فكان قول رسول الله ﷺ الذي في هذا الحديث وفي الحديث الأول جوابا لسؤالها هذا. وفي حديث رابطة هذا: كنت أنفق من ذلك على عبد الله على ولده مني. وقد أجمعوا على أنه لا يجوز للمرأة أن تنفق على ولدها من زكاتها، فلما كان ما أنفقت على ولدها ليس من الزكاة، فكذلك ما أنفقت على زوجها ليس هو أيضًا من الزكاة.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رائطہ رضی اللہ عنہا اپنی روزانہ کی کمائی سے اپنے شوہر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور اپنی اولاد پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ واضح ہو کہ حضرت رائطہؓ کا ان پر خرچ کرنا مد زکات سے نہ تھا اس کی دلیل شرح معانی الآثار میں اس طرح مذکور ہے کہ خود حضرت رائطہؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک ہنرمند عورت ہوں اور اپنی دستکاری سے (روزانہ) جو کچھ بناتی ہوں اور اس کی آمدنی کو حضرت ابن مسعود پر خرچ کرتی ہوں۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی آمدنی کو ہر روز خرچ کر دیا کرتی تھیں، اس لئے مال پر سال کے نہ گزرنے کی وجہ سے زکات کے نصاب کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ لہذا معلوم ہوا کہ ان کا خرچ مد زکات سے نہ تھا) چنانچہ حضرت رابطہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور بچوں پر خرچ کرنا ثواب کا موجب ہے یا نہیں۔ اس سوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال نفل خیرات کے ثواب سے متعلق تھا نہ کہ زکات سے۔ حضرت رابطہ کا خرچ مد زکات سے نہ ہونے پر شرح معانی الآثار میں دوسری دلیل یہ ہے کہ عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی زکات کے مال کو اپنے بچوں پر خرچ کرے، چونکہ حضرت رابطہؓ جس مال کو اپنے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں، اسی مال میں سے اپنے شوہر پر بھی خرچ کیا کرتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ مال جس کو بچوں پر خرچ کرتی تھیں وہ مد زکات میں سے نہ تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مال حضرت رابطہؓ اپنے شوہر پر خرچ کرتی تھیں وہ بھی مد زکات سے نہ تھا۔12