عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: جو شخص ہمارے اس (دین) میں ایسی بات پیدا کرے جو اس دین میں نہیں ہے تو وہ قابلِ
رد ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
And the words of Allah, the Almighty: {And hold firmly to the rope of Allah all together} (Aal Imran: 103), and His words: {Indeed, you have in the Messenger of Allah an excellent example} (Al-Ahzab: 21), and His words: {Say, "If you love Allah, then follow me, and Allah will love you and forgive you your sins, and Allah is Forgiving and Merciful"} (Aal Imran: 31), and His words: {And whatever the Messenger has given you — take it, and what he has forbidden you — refrain from it} (Al-Hashr: 7), and His words: {And whoever obeys Allah and the Messenger, those are with the ones upon whom Allah has bestowed favor, of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs, and the righteous} (An-Nisa: 69), and His words: {Whoever obeys the Messenger has obeyed Allah} (An-Nisa: 80).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2697 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1718a (unverified) 99% confidence
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا: واضح رہے کہ سب سے بہترین کلام، اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین
سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین امور (دین میں) نئی باتیں ہیں، اور ہر بدعت
گمراہی ہے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں زیادہ مبغوض تین شخص ہیں: (1) حرم (مکہ مکرمہ)
میں بے دینی کا رواج دینے والا، (2) اسلام میں جاہلیت کا طریقہ چاہنے والا، (3) ناحق کسی مسلم کے
خون کا خواہاں کہ اس کی خونریزی کرے۔ (بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی بجز اس شخص کے جو انکار کرے، دریافت کیا گیا کہ انکار
کرنے والے سے مراد کون ہے؟ فرمایا: جس نے میری فرمانبرداری کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس
نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ (بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند
فرشتے حاضر ہوئے اور آپ نیند میں تھے، انہوں نے کہا کہ تمہارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے
ایک مثال ہے اس کو بیان کرو، بعض فرشتوں نے کہا کہ وہ نیند میں ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھ
سو رہی ہے لیکن دل بیدار ہے تو پھر وہ کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس شخص کی طرح
ہے جس نے ایک مکان تعمیر کیا اور مکان میں کھانا تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا جس نے
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کیا تو مکان میں داخل ہوا اور کھانا کھایا اور جس نے دعوت قبول
نہیں کی تو وہ نہ گھر میں داخل ہوا اور نہ کھانا کھایا، فرشتوں نے آپس میں کہا کہ اس کی وضاحت بیان
کرو تاکہ وہ اس کو سمجھیں، بعضوں نے کہا: وہ تو سو رہے ہیں اور بعضوں نے کہا کہ آنکھ نیند میں ہے اور
دل بیدار ہے، فرشتوں نے اس مثال کی وضاحت یوں کی کہ وہ مکان جنت ہے اور (بلانے والے)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور
جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں
میں فرق کرنے والے ہیں یعنی مومن اور کافر میں فرق کرنے والے ہیں۔ (بخاری نے اس کی روایت
کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7281 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرق کرنے والے ہیں کہ فرق کردیا کافر اور مومن میں، حق
اور باطل میں، صالح اور ⟦?⟧ میں، کھانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں اور شخص سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں،
یہ دونوں باتیں بالکل ظاہر تھیں اس لئے فرشتوں نے ان کی وضاحت نہیں کی۔12
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین شخص (یعنی علی، عثمان
بن مظعون اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں کی خدمت میں حاضر
ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت گذاری کے متعلق دریافت کریں جب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی عبادت گذاری کی ان کو تفصیل سنائی گئی تو گویا انہوں نے اس کو کم سمجھا اور انہوں نے کہا: ہم
کہاں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں، اللہ نے تو آپ کو اگلے پچھلے گناہوں سے محفوظ رکھا، ان میں سے
ایک نے کہا: اب میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا، دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ دن میں
روزے رکھوں گا اور کسی دن کا روزہ نہیں چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے کنارہ کش
رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف فرما ہوئے
اور فرمایا: تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا ہے، سنو! خدا کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا
ہوں، اور سب سے زیادہ تقویٰ کرتا ہوں، اور کبھی (نفل) روزے رکھ لیتا ہوں اور کبھی اس کو چھوڑ دیتا
ہوں، رات میں نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ تو جو
میرے طریقے سے روگردانی کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
کوئی کام کیا اور لوگوں کو اس کے متعلق رخصت دے دی۔ ایک قوم نے اس کے کرنے سے پرہیز کیا،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے خطبہ دیا، اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: اس قوم کا کیا
حال ہے کہ ایسی بات سے پرہیز کرتی ہے جس کو میں کرتا ہوں، خدا کی قسم میں ان تمام کی نسبت اللہ
سے زیادہ واقف اور ان سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی
روایت کی ہے)۔
رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ (کھجور کے نر درخت کے پھول، مادہ درخت میں ڈالا کرتے
تھے) آپ نے فرمایا: کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کیا کرتے ہیں، فرمایا: اگر تم ایسا نہ
کرو تو اچھا ہے، تو ان لوگوں نے (یہ طریقہ) چھوڑ دیا تو کھجور کم نکلے، راوی نے کہا کہ ان لوگوں نے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: میں ایک انسان ہوں، اگر میں تم کو
تمہارے دین کی کوئی بات کہوں تو تم اس کو لے لو اور جب میں تم کو اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں ایک
انسان ہوں (یعنی ہوسکتا ہے کہ اس میں چوک ہو جائے اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے)۔ (امام مسلم
نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور اس دین کی مثال جس کو اللہ نے مجھے دیکر بھیجا ہے اس آدمی کے
مانند ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے اے قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے ایک فوج کو دیکھا جس
سے میں تم کو یقین کے ساتھ ڈراتا ہوں جلد سے جلد یہاں سے نکل جاؤ، قوم کے ایک حصہ نے اس
بات کو مان لی اور اخیر رات میں نکل پڑے اور اطمینان سے چلے اور نجات پا گئے اور قوم کے دوسرے
حصہ نے اس کو جھوٹا سمجھا وہ اسی جگہ پڑے رہے، فوج نے ان پر صبح صبح حملہ کر دیا اور ان کو پوری طرح
ہلاک کر دیا۔ یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے میری اطاعت کی اور میری لائی ہوئی باتوں کی پیروی
کی (یعنی نجات پایا) اور یہ اس شخص کی بھی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور اس حق کی تکذیب
کی جس کو لے کر میں آیا ہوں (یعنی عذاب میں گرفتار ہوا) (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی
روایت کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے آگ سلگائی جب اس کے اطراف
(یعنی چاروں حصے) روشن ہو گئے تو پتنگے اور آگ میں گرنے والے کیڑے آگ میں گرنے لگے، ایسا
ہی میں تم کو آگ میں گرنے سے بچانے کے لئے تمہاری کمر کو پکڑ رہا ہوں اور تم آگ میں گرتے
جا رہے ہو۔ (یہ بخاری کی روایت ہے)۔
اور مسلم میں بھی یہاں تک اسی طرح ہے جس کے آخر میں یوں ہے: پس یہ میری
اور تمہاری مثال ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑے ہوئے ہوں کہ تم کو آگ سے بچاؤں، میری طرف آؤ
آگ سے بچو! میری طرف آؤ آگ سے بچو! مگر تم مجھ پر غالب ہو کر آگ میں گر رہے ہو (یعنی میرا
کہنا نہیں سنتے ہو)۔
ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ہدایت اور علم کی مثال جس کو دے کر خدا نے مجھ کو بھیجا ہے کثیر بارش کے
مانند ہے جو کسی زمین پر برسے، زمین کا(1)ایک عمدہ حصہ تھا کہ جس نے پانی کو قبول کرلیا اور اس سے
خشک گھاس اور سبز گھاس کو بکثرت اگایا، اور زمین کا(2)دوسرا حصہ سخت تھا جس نے پانی کو روک رکھا،
اللہ نے اس سے لوگوں کو نفع پہنچایا، لوگ خود پیئے اور جانوروں کو پلائے اور کھیتی باڑی کی، زمین کا
(3) تیسرا حصہ چٹیل میدان تھا نہ تو وہ پانی کو روک رکھا اور نہ گھاس پات اُگائے، یہ مثال اس شخص
کی ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو علم و ہدایت سے نفع پہنچایا جس کو مجھے دے کر بھیجا
ہے کہ اس نے خود علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور یہ اس شخص کی بھی مثال ہے جس نے اس ہدایت کی
جانب توجہ نہیں کی اور نہ اللہ کی اس ہدایت کو قبول کیا جس کو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے (بخاری اور مسلم
نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
(سورہ آل عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7، کی) یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ
(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) وہی (ذات پاک) جس نے تم پر (یہ) کتاب اُتاری جس میں
بعض آیتیں پکی (یعنی صاف اور صریح) ہیں کہ وہی اصل کتاب ہیں اور بعض دوسری مبہم (کہ ان کے
معنوں میں کئی پہلو نکل سکتے ہیں) تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ تو (دین میں فساد پیدا کرنے
اور ان کے اصل مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے قرآن کی انہیں مبہم آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں
حالانکہ اللہ کے سوا ان کا اصلی مطلب کسی کو معلوم نہیں اور جو لوگ علم (دین میں) پختہ ہیں وہ تو اتنا ہی
کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور
نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جن کو عقل اور سمجھ ہے۔
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس وقت تم دیکھے۔ اور مسلم میں یوں ہے: جب تم ان کو دیکھو کہ جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑ گئے ہیں
تو سمجھو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا نام اللہ نے (اس آیت میں) کج روی کرنے والے رکھا ہے تو تم
ایسے لوگوں سے دور رہو۔ (بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر اس کی روایت کی ہے)۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن
دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو ایک آیت کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم برآمد ہوئے اور آپ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار تھے، فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اللہ کی
کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2666 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہاں اختلاف سے مراد گمراہ فرقوں کا اختلاف ہے، ائمہ مجتہدین کا اختلاف مراد نہیں، ایسا
اختلاف تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بھی منقول ہے جو باعث رحمت ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کا
سوال کیا جو مسلمانوں پر حرام نہ تھی مگر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔ (مسلم نے اس کی
روایت کی ہے اور بخاری کی روایت بھی اسی طرح ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: آخری زمانہ میں بہت سے دجال اور کذاب پیدا ہوں گے جو (عقائد فاسدہ اور احکام باطلہ
ثابت کرنے کے لئے) ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو نہ تو تم نے سنا اور نہ تمہارے باپ دادا
نے، ان سے تم دور رہو، کہیں وہ تم کو گمراہ نہ بنا دیں اور فتنہ میں مبتلا نہ کر دیں۔ (مسلم نے اس کی
روایت کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اہل کتاب تورات کو
عبرانی زبان میں پڑھ کر اہل اسلام کے لئے عربی میں اس کی تفسیر کیا کرتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تو تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ یوں کہو ۞ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا
أُنْزِلَ إِلَيْنَا ”الخ“ ۞ (سورہ بقرہ، پ:1، ع:16، آیت نمبر:136) ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس
کتاب پر ایمان لائے جو ہمارے لئے نازل کی گئی ہے۔ (امام بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ جو کچھ سن لے اس کو (بلا تحقیق)
بولتا پھرے۔ (اس کی روایت امام مسلم نے کی ہے)۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کسی امت میں بھیجا ہے لازماً اس نبی
کے لئے اس کی امت میں چند مددگار اور ساتھی رہے ہیں جو اس نبی کے طریقہ پر پابند رہے اور اس
کے حکم کی پیروی کرتے رہے ان کے بعد ان کے برے جانشین آئے جو ایسی باتیں کہتے رہے جو خود
نہیں کرتے تھے اور ایسے کام کرتے رہے جن کے کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، ایسے لوگوں کے ساتھ
جس نے ہاتھ سے جہاد کیا وہ مومن ہے اور جس نے ان کے ساتھ زبان سے جہاد کیا (یعنی منع کیا) وہ
بھی مومن ہے اور جس نے ان کے ساتھ دل سے جہاد کیا وہ بھی مومن ہے اور اس کے سوا ایمان کا کوئی
درجہ رائی کے دانہ کے برابر بھی نہیں ہے (یعنی جس نے دل سے برا نہ جانا تو گویا بری بات پر راضی ہوا؛
پس یہ کفر ہے)۔ (اس کی روایت امام مسلم نے کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس ہدایت پر عمل
کرنے والے کو ملے گا اور ان پیروی کرنے والوں کے ثواب میں سے یہ ثواب کچھ کمی نہ کرے گا، اور
جس نے گمراہی کی جانب بلایا تو اس پر اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اس گمراہی کے عمل کرنے والوں پر ہوگا اور
یہ گناہ اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کوئی کمی نہیں کرے گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کا آغاز غریب الوطنی میں ہوا اور عنقریب لوٹ کر ایسا ہی غریب الوطن بن
جائے گا جیسا کہ شروع ہوا تھا، پس خوشی ہو غریب الوطنوں کے لئے۔(اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ کی جانب سمٹ کر آ جائے گا جس طرح کہ سانپ چوطرف پھر کر پھر اپنی
بل میں آ جاتا ہے۔(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
ربیعۃ الجرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
خواب میں چند فرشتے دکھائی دئیے اور آپ سے کہا گیا کہ تمہاری آنکھ سو جائے اور کان سنتے رہیں اور
دل سمجھتا رہے، آپ نے فرمایا: میری آنکھ سو گئی ہے اور میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرا دل سمجھا
(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کہا گیا کہ ایک سردار نے مکان بنایا اور اس میں کچھ کھانا
تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت کو قبول کیا تو گھر میں داخل
ہوا اور کھانا تناول کیا اور اس سے سردار خوش ہوا، اور جس نے دعوت قبول نہیں کی تو وہ گھر میں داخل
نہیں ہوا اور کھانا بھی نہیں کھایا اور اس سے سردار ناراض ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ سردار تو اللہ ہے اور محمد
صلی اللہ علیہ وسلم دعوت پہنچانے والے ہیں اور مکان اسلام ہے اور کھانا جنت ہے۔(اس کی روایت
دارمی نے کی ہے۔)
ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہ پاؤں میں تم سے کسی کو اس طرح کہ وہ اپنی کرسی پر ٹیک لگائے ہوا اور اس
کے پاس میری کوئی حدیث پہنچے، جس میں میں نے حکم کیا ہے یا جس میں منع کیا ہے اور اس پر وہ کہے
کہ میں نہیں جانتا (یعنی اس حدیث کو نہیں مانتا) اللہ کی کتاب میں جو کچھ ہم نے پایا ہے اس کی ہم
پیروی کریں گے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں کی
ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منکرین حدیث کے متعلق واضح
اشارہ فرمایا ہے کہ وہ از راہ جہالت یہ کہا کریں گے کہ کتاب اللہ کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے اور اس کے
سوا ہم کسی کی پیروی نہیں کرتے حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح قرآن عطا ہوا ہے اسی
طرح حدیث بھی عطا ہوئی ہے اور شریعت کے احکام جس طرح قرآن سے ثابت ہوتے ہیں، اسی طرح
احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوئے ہیں اس کے بعد جو حدیثیں آ رہی ہیں وہ بھی اس کی
تائید کرتی ہیں۔
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی طرح سن لو مجھے قرآن دیا گیا اور اسی کے ساتھ اس کے مماثل
حدیث دی گئی سن لو! عنقریب ایک شخص پیٹ بھرا ہوا اپنی کرسی پر تکیہ کئے ہوئے کہے گا کہ اس قرآن کو
لے لو، اس میں جو چیز حلال پاؤ اس کو حلال سمجھو، اور جس چیز کو حرام پاؤ اس کو حرام سمجھو حالانکہ خدا کے
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بعض چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جس طرح اللہ نے حرام قرار دیا
ہے آگاہ ہو جاؤ کہ گھریلو گدھا تمہارے لئے حلال نہیں ہے اور ہر کچلی والا درندہ بھی حلال نہیں ہے
اور ذمی کافر کی راستہ میں پڑی ہوئی چیز بھی حلال نہیں ہے لیکن ایسی صورت میں کہ اس کا مالک اس
راستہ میں گری ہوئی چیز کی پرواہ نہ رکھتا ہو، اور جو شخص کسی قوم کے پاس مہمان جائے تو اس قوم پر اس
کی مہمانی ضروری ہے، اگر وہ اس کی مہمانی نہ کرے تو مہمان اس سے بقدر مہمانی جبراً حاصل کر سکتا
ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور دارمی نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے اور ابن ماجہ
نے ”كَمَا حَرَّمَ اللّٰهُ“ تک ایسا ہی روایت کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Unnumbered commentary
ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي
The statement "ألا لا يحل لكم لحم الحمار الأهلي" (Know that the flesh of the domesticated donkey is not lawful for you) marks the beginning of a clarification based on the Sunnah, which does not have a direct mention in the Qur'an. This is not a specification but an example, as noted by al-Tibi.
As for the phrase "ولا لقطة معاهد" (nor the property of a treaty-bound person), the reason for specifying the property of a treaty-bound person is due to the special consideration for the covenant (عهد) that such individuals have. The reasoning behind this is that there might be a tendency for one to unjustly take possession of the property of a non-Muslim, who is a disbeliever, due to an assumption of their lack of rights. This interpretation is also found in the Mirqaat.
Ali al-Qari, may Allah have mercy on him, said: "His saying: 'They must honor him (i.e., provide hospitality) and if they do not, he may retaliate by giving them the same amount of hospitality' was in the early days of Islam. The command to take an equivalent amount of hospitality from the wealth of the host was one of the penalties that was abrogated with the obligation of Zakat."
Note 2
They must honor him…
(2) His saying: “They must honor him…” This was in the early days of Islam when the Prophet ﷺ would send military expeditions for Jihad. They would pass through the Arab tribes’ settlements without any markets to buy food from and without provisions. Therefore, hospitality was made obligatory to ensure that they did not interrupt their journey for Jihad. However, as Islam became stronger and compassion and mercy grew among the people, the obligation was abrogated, and it remained as permissible and recommended. This was stated in “al-Mirqat.”
Note 1
قوله
(1) قوله : ألا لا يحل لكم الحمار الأهلي: شروع في بيان ما ثبت بالسنة، وليس له أثر في الكتاب على سبيل التمثيل لا التحديد، كذا قاله الطيبي. وقوله: ولا لقطة معاهد وجه التخصيص الاهتمام بشأن المعاهد لعهده؛ لأن النفس ربما تستأهل في لقطته؛ لكونه كافرا. كذا في «المرقاة».
وَقَالَ عَلِيٌّ الْقَارِي رَحِمَهُ اللهُ الْبَارِي: قَوْلُهُ: «فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ(۲) فَإِنْ لَمْ يَقْرُوْهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ كَانَ فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ، وَالْأَمْرُ بِأَخْذِ مِقْدَارِ الْقِرَى مِنْ مَالِ الْمَنْزُوْلِ بِهِ كَرْهًا كَانَ مِنْ جُمْلَةِ الْعُقُوْبَاتِ الَّتِي نُسِخَتْ بِوُجُوبِ الزَّكَاةِ.
Note 1
ف(1): ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”فَعَلَيْهِمْ أَنْ
يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ۔“ (قوم کے مہمان کی ضیافت قوم پر ضروری ہے
اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو وہ ان سے بقدر مہمانی جبراً حاصل کر سکتا ہے) یہ حکم ابتداء اسلام میں
ضروری تھا اور میزبان سے بقدر میزبانی حاصل کر لینا منجملہ ان واجبات کے ہے جو وجوب زکوٰۃ سے
منسوخ ہو چکے ہیں۔
ف(2): اس حدیث میں گھریلو گدھے کی حرمت کا ذکر ہے جو صرف سنت یعنی حدیث سے
ثابت ہے، کتاب اللہ میں اس کا ذکر نہیں ہے اور یہ حکم بطور مثال بیان کیا گیا ہے، اسی پر انحصار مقصود
نہیں، اس کا ذکر طیبی نے کیا ہے اور اسی طرح بہت سی چیزیں حدیث سے حرام کر دی گئی ہیں اور حدیث
میں ذمی کی گری ہوئی چیز کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا گیا ہے کہ اس سے معاہدہ کے اہتمام کا اظہار
مقصود ہے کیوں کہ کافر کی ملک ہونے کی وجہ سے اس کو اٹھا لینے اور اس کو لے لینے کا خیال پیدا ہوتا ہے
حالانکہ کافر سے معاہدہ ہونے کے بعد معاہدہ کا لحاظ شریعت میں نہایت ضروری ہے۔ (از مرقات)۔
ف(3): ”فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ“ راہ خدا کے مجاہد کی مہمانی کے لزوم کا حکم ابتداء اسلام میں تھا
کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لئے فوج کے جتھے روانہ فرماتے تھے جن کا گذر عرب کے
قبیلوں پر ہوتا تھا، مہمان کے لئے نہ تو کوئی بازار ہوتا کہ کھانا خرید لیں اور نہ فوجیوں کے ساتھ توشہ ہوتا،
اس لئے قبیلوں پر ان فوجیوں کی مہمانی لازمی قرار دی گئی تا کہ ان کا سفر منقطع نہ ہو جائے مگر جب اسلام
قوی ہو گیا تو عام طور سے رحم و کرم کا سلوک بھی عام کر دیا گیا اور میزبانی کا لزوم منسوخ کر دیا گیا البتہ
صرف جواز اور استحباب باقی رہ گیا۔ (از مرقات)۔
عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ اپنی
کرسی پر ٹیک لگائے ہوئے یہ گمان کرے کہ اللہ نے سوائے ان چیزوں کے کسی کو حرام نہیں فرمایا جن کا
ذکر قرآن میں ہے! سنو خدا کی قسم میں نے حکم بھی دیا ہے، وعظ بھی کہا ہے اور کئی ایسی چیزوں سے منع
کیا ہے جو قرآن کی ممنوعہ چیزوں کے مثل ہیں یا ان سے زائد ہی ہیں، چنانچہ اللہ نے یہ جائز قرار نہیں
رکھا ہے کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہو جاؤ اور نہ اس کی اجازت دی
ہے کہ تم ان کی عورتوں کو مار پیٹ کرو، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کے میووں کو کھالو، جبکہ وہ اس رقم
کو ادا کریں، جس کی ادائی ان پر واجب ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور
ایسا بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا کہ آنسو نکل پڑے اور دل خوف سے لرز گئے، ایک شخص نے کہا کہ یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وعظ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک رخصت کرنے والے شخص کا
وعظ ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کچھ وصیت فرمائیے، ارشاد ہوا: میں تم کو خدا سے
ڈرتے رہنے اور (حاکم کی) اطاعت اور تابعداری کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تمہارا امیر حبشی
غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لئے میرے بعد جو بھی تم میں زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات
دیکھے گا، ایسی حالت میں تم پر میری سنت اور نیک ہدایت یافتہ خلفاء کا طریقہ اختیار کرنا
ضروری ہوگا، ان طریقوں کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لو، اور نئی نئی باتوں سے بچتے رہو، اس
لئے کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (امام احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن
ماجہ نے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی اور ابن ماجہ میں نماز پڑھانے کا ذکر نہیں ہے)۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم
علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا اور پھر فرمایا: یہ خدا کا راستہ ہے، پھر اس خط کے
سیدھے اور بائیں جانب چند خطوط کھینچے اور فرمایا: یہ چند راستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستہ پر ایک
شیطان ہے جو اپنی طرف بلاتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ انعام، پ:8، ع:19، آیت
نمبر:153 کی) یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿وَأَنَّ هٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ...... الخ﴾
(یہ میرا راستہ سیدھا ہے اس کی پیروی کرو!)۔ (اس کی روایت امام احمد، نسائی اور دارمی نے کی
ہے)۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش اس دین کی
تابع نہ بن جائے جس کو میں لایا ہوں (امام بغوی نے شرح السنہ میں اس کی روایت کی ہے اور امام
نووی نے اپنی اربعین میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو ہم نے کتاب الحجہ میں صحیح اسناد کے
ساتھ روایت کیا ہے)۔
بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری کسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہوگئی تھی (یعنی
اس پر خود عمل کیا اور لوگوں کو اس پر عمل کرایا) تو اس کو اس پر عمل کرنے والوں کے ثواب کی طرح بھی
ثواب ملے گا اور اس سے ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی اور جس نے کوئی نئی گمراہ کن بات ایجاد
کی جس کو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے ہیں تو اس کو اس کے عمل کرنے
والوں کا گناہ بھی ملے گا اور اس سے ان عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔ (اس
کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین، حجاز میں سمٹ کر آ جائے گا جس طرح سانپ (چو طرف گھوم کر) پھر اپنی
بل میں آ جاتا ہے اور دین حجاز میں اس طرح پناہ گزیں ہوگا جس طرح پہاڑ کی بکری پہاڑ کی چوٹی میں
پناہ گزیں ہوتی ہے اور دین کی ابتداء غریب الوطنی سے ہوئی ہے اور عنقریب پھر اس کی یہی حالت
ہوگی۔ جس طرح کہ اس کی ابتداء، ہوئی تھی۔
پس غریب الوطنوں کو خوشخبری ہو، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو میری سنت کو درست کریں گے
جس کو میرے بعد لوگوں نے بگاڑ دیا تھا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرق کرنے والے ہیں کہ فرق کردیا کافر اور مومن میں، حق اور باطل میں، صالح اور ⟦?⟧ میں، کھانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں اور شخص سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں، یہ دونوں باتیں بالکل ظاہر تھیں اس لئے فرشتوں نے ان کی وضاحت نہیں کی۔12