Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) used to make this supplication: "O Lord, forgive me my sins, my ignorance, my excesses in my affairs, and what You know better than I. O Allah, forgive me my serious and trivial sins, my mistakes and intentional wrongs - all that is present with me. O Allah, forgive me what I have sent forth and what I have left behind, what I have concealed and what I have made public, and what You know better than me. You are the Bringer Forward and You are the Delayer, and You have power over all things."
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تعلیم امت کے لئے) یہ دعاء
فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میرے گناہ کو، میری نادانی کو اور اعمال کی کوتاہیوں کو اور ان گناہوں کو جن کو مجھ سے
زیادہ آپ جانتے ہیں بخش دیجئے! الٰہی! ان گناہوں کو بخش دیجئے جن کو میں نے قصداً کئے اور مذاق
سے کئے اور نادانستہ کئے اور بلا ارادہ کئے اور یہ سارے گناہ مجھ میں ہیں۔
یا الٰہی! میرے ان گناہوں کو بھی بخش دیجئے جن کو میں نے پہلے کئے ہیں اور بعد میں مجھ سے
سرزد ہوں گے اور جن کو میں نے چھپ کر کیا اور جن کو علی الاعلان کیا اور جن کو آپ مجھ سے زیادہ
جانتے ہیں۔ (نیکیوں میں) آگے بڑھانے والے بھی آپ ہی ہیں اور پیچھے ہٹانے والے بھی آپ
ہی ہیں اور آپ ہی ہر چیز پر قادر ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Malik al-Ashja'i reported from his father (may Allah be pleased with him) who said: "When a man accepted Islam, the Prophet (ﷺ) would teach him how to pray, then instruct him to say these words: 'O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, grant me well-being and provide for me.'"
حضرت ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ان کے
والد نے بیان کیا ہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو
نماز سکھاتے اور اس کو حکم دیتے کہ وہ ان کلمات کے ساتھ دعا کرے:
یا الٰہی! آپ (میرے گناہوں کو) بخش دیجئے اور میرے (عیوب کو چھپا کر) مجھ پر رحم
فرمائیے اور مجھے (صراط مستقیم پر) چلائیے (اور اس پر مجھے قائم رکھیے اور بلاؤں اور خطاؤں سے مجھے
عافیت دیجئے اور مجھے حلال روزی دیجئے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, set right for me my religion which is the safeguard of my affairs. Set right for me my worldly affairs wherein is my livelihood. Set right for me my Hereafter to which is my return. Make this life a source of every good for me, and make death a relief for me from every evil."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یہ دعاء بھی فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میرے دین کو سنوار دیجئے جو میرے تمام کاموں کا محافظ ہے۔ اور آپ میری دنیا کو بھی
سنوار دیجئے جس میں میری زندگانی ہے۔ اور میری آخرت کو بھی سنوار دیجئے جہاں مجھے لوٹنا ہے اور
میری زندگی کو ہر نیکی میں زیادتی کا سبب بنا دیجئے اور موت کو میرے لئے ہر برائی سے راحت کا سبب
بنا دیجئے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: "I memorized this supplication from the Messenger of Allah (ﷺ) which I never abandoned: 'O Allah, make me most grateful to You, most remembering of You, most obedient to Your advice, and most mindful of Your commandments.'"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک دعا یاد کی ہے جس کو (کبھی) نہیں چھوڑتا ہوں (وہ دعا یہ ہے):
یا الٰہی آپ مجھے بڑا شکر گزار اور بڑا شکر گزار اور بڑا ذاکر بنا دیجئے اور آپ کی نصیحتوں (یعنی
حقوق العباد) کو ادا کرنے والا اور آپ کی وصیت (یعنی حقوق اللہ) کی حفاظت کرنے والا
بنا دیجئے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Umm Ma'bad (may Allah be pleased with her) reported that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "O Allah, purify my heart from hypocrisy, my deeds from show, my tongue from lies, and my eyes from treachery. Indeed You know the treachery of the eyes and what the hearts conceal."
حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا فرماتے سنا:
یا الٰہی! آپ میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دکھاوے اور شہرت سے اور میری زبان کو
جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے اور خیانت کرنے والی آنکھوں اور دل کے بھیدوں کو آپ
ہی جانتے ہیں۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
Uthman ibn Hunayf (may Allah be pleased with him) reported that a blind man came to the Prophet (ﷺ) and said: "Invoke Allah to heal me." He said: "If you wish I will supplicate for you, and if you wish you may be patient which is better for you." The man said: "Then supplicate." So the Prophet (ﷺ) instructed him to perform ablution perfectly and say this supplication: "O Allah, I ask You and turn to You through Your Prophet Muhammad, the Prophet of mercy. I turn through him to my Lord to fulfill my need. O Allah, accept his intercession for me."
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ایک
نابینا شخص حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: آپ اللہ تعالیٰ
سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے عافیت دے (یعنی مجھے بینائی عطا کر دے) آپ نے جواب دیا تم چاہو تو
میں اللہ تعالیٰ سے (تمہارے لئے) دعا کر دوں یا چاہو تو تم صبر کرو اور صبر تمہارے لئے بہتر ہے (یہ
سن کر) انہوں نے جواب دیا: آپ دعا ہی فرما دیجئے۔
راوی کا بیان ہے کہ آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں اور اچھی طرح وضو کریں اور پھر ان
کلمات کے ذریعہ دعا کریں:
یا الٰہی! میں آپ سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں آپ کے نبی محمد صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے جو نبی رحمت ہیں (اے نبی) میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف
رجوع ہوتا ہوں تا کہ وہ میری اس حاجت کو میرے لئے پوری کر دے۔ یا الٰہی! حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی شفاعت کو میرے حق میں قبول فرمائیے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (ﷺ) used to say: "O Allah, I ask You for guidance, piety, chastity and self-sufficiency."
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ یہ دعاء بھی فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں آپ سے ہدایت، پرہیزگاری (نفس اور دل کی) پاکی اور (مخلوق سے) بے
نیازی مانگتا ہوں۔ مسلم نے روایت بیان کی ہے۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, I ask You for health, chastity, trustworthiness, good character, and contentment with divine decree."
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء بھی فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں آپ سے صحت اور عافیت و پاک دامنی، امانت داری، اچھے اخلاق اور تقدیر پر
رضامندی مانگتا ہوں۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
Ata ibn as-Sa'ib reported from his father who said: "Ammar ibn Yasir (may Allah be pleased with him) led us in a brief prayer. Some people remarked: 'You made the prayer very short.' He replied: 'Nevertheless, I supplicated during it with supplications I heard from the Messenger of Allah (ﷺ).' When he left, a man from the congregation - who was Ubayy though he concealed his identity - followed him and asked about the supplication. He then returned and informed the people: 'O Allah, by Your knowledge of the unseen and Your power over creation, keep me alive as long as You know life is good for me, and cause me to die when You know death is better for me. O Allah, I ask You for fear of You in secret and in public. I ask You for the word of truth in times of pleasure and anger. I ask You for moderation in poverty and wealth. I ask You for everlasting bliss. I ask You for coolness of the eye that never ends. I ask You for contentment after Your decree. I ask You for pleasant life after death. I ask You for the delight of looking at Your Face and longing to meet You without harmful distress or misleading trials. O Allah, adorn us with the adornment of faith and make us guides who are rightly guided.'"
عطاء بن سائب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتے
ہیں کہ: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں (ایک مرتبہ) نماز پڑھائی اور آپ نے بہت مختصر
نماز پڑھی (یعنی قرأت اور تسبیحات زیادہ نہیں پڑھیں) تو (حاضرین میں سے) بعض لوگوں نے
(اعتراضاً) کہا کہ: آپ نے نماز میں تخفیف کی اور نماز کو بہت مختصر کیا! حضرت عمار نے جواب دیا:
اس تخفیف کا مجھے کچھ افسوس نہیں! اس لئے کہ میں نے اس نماز میں ایسی دعائیں کی ہیں جن کو میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے جب حضرت عمار وہاں سے چلے تو ایک شخص آپ کے
ساتھ ہو گیا اور وہ میرے والد (حضرت سائب) تھے لیکن انہوں نے (بطور تواضع) اپنے آپ کو
ظاہر کئے بغیر اپنے کو شخص کہا اور اس دعاء کو ان سے پوچھا اور واپس آ کر سب کو وہ دعاء بتائی (اور وہ
دعاء یہ ہے):
یا الٰہی! آپ کے علم غیب اور مخلوقات پر آپ کی قدرت کا واسطہ آپ مجھے اس وقت تک زندہ
رکھئے جب تک آپ زندگی کو میرے لئے بہتر جانتے ہیں اور آپ مجھے اس وقت موت دے دیجئے
جب آپ موت کو میرے لئے بہتر جانتے ہوں۔ یا الٰہی باطن اور ظاہر میں آپ کا ڈر مانگتا ہوں اور
خوشی اور غصہ کی حالت میں حق بولنے کی درخواست کرتا ہوں۔ اور محتاجی و تونگری میں اعتدال مانگتا
ہوں۔ اور آپ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو (یعنی جنت مانگتا ہوں) اور آنکھوں کی ایسی
ٹھنڈک مانگتا ہوں جو زائل نہ ہو۔ اور تقدیر پر رضامندی مانگتا ہوں اور مرنے کے بعد زندگی کی ٹھنڈک
مانگتا ہوں۔ اور آپ کے چہرہ کی طرف دیکھنے کی لذت اور آپ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں
(یعنی دیدار کی لذت اور ملاقات کا شوق مانگتا ہوں) جو نقصان پہنچانے والا اور گمراہی کے فتنہ میں
مبتلا کرنے والا نہ ہو۔ یا الٰہی! ہم کو زینت ایمانی سے سنوار دیجئے اور ہم کو راہ راست پر بنا دیجئے۔
اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) reported that the Prophet (ﷺ) used to say after the dawn prayer: "O Allah, I ask You for beneficial knowledge, accepted deeds, and pure provision."
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! میں آپ سے نافع علم اور مقبول عمل اور حلال رزق مانگتا ہوں
اس کی روایت امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔
Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) taught him to say: "O Allah, make my inner self better than my outward appearance, and make my outward appearance righteous. O Allah, I ask You for the best of what You give people regarding family, wealth and children - not those who lead astray or are led astray."
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھلائی ارشاد فرمایا: تم یوں دعاء کرو:
یا الٰہی! آپ میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا دیجئے اور میرے ظاہر کو (بھی نیکیوں
سے) سنوار دیجئے۔ یا الٰہی! میں آپ سے وہ نیک بیوی اور بہتر مال اور نیک اولاد مانگتا ہوں جو آپ
لوگوں کو عطا فرماتے ہیں جو نہ تو (خود) گمراہ ہوں اور نہ (دوسری کو) گمراہ کرنے والے ہوں۔ اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Bakr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the pulpit and wept, then said: "Ask Allah for pardon and well-being, for after certainty of faith, no one has been given anything better than well-being."
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور رونے لگے (اس لئے کہ آپ کو اپنی امت
کے فتنوں میں گرفتار ہونے کا خیال آیا) اور آپ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے عفو (یعنی گناہوں سے
معافی) اور عافیت (یعنی دین اور (دنیا کی سلامتی) مانگا کرو اس لئے کہ ایمان کے بعد عافیت سے
بہتر کوئی نعمت کسی کو نہیں دی گئی۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) reported that a man came to the Prophet (ﷺ) and asked: "O Messenger of Allah, which supplication is best?" He replied: "Ask your Lord for well-being and protection in this world and the Hereafter." The next day the man came again with the same question and received the same answer. On the third day, he repeated the question and the Prophet (ﷺ) said: "If you are granted well-being in this world and the Hereafter, you have succeeded."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ارشاد ہو)
کونسی دعا (میرے لئے) زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے رب سے تندرستی اور دنیا اور
آخرت میں عافیت (یعنی ایک دوسرے کے شرور سے حفاظت اور نیکیوں میں ایک دوسرے کی مدد)
مانگا کرو۔ پھر وہی صاحب آپ کی خدمت میں دوسرے دن حاضر ہوئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ
(ارشاد ہو کہ) کونسی دعاء (میرے لئے) زیادہ بہتر ہے؛ تو آپ نے اسی دعا کو پڑھنے کی تلقین فرمائی
وہ صاحب تیسرے دن پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اسی (دعاء) کے کرنے کی
تاکید فرمائی اور پھر فرمایا: جب تم کو دنیا اور آخرت کی عافیت اور تندرستی دے دی گئی تو تم کامیاب
ہو گئے۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Ali (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Say: 'O Allah, guide me and make me steadfast. Remember that guidance means showing the path, and steadfastness means straightening the arrow.'"
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم یوں دعاء کیا کرو:
یا الٰہی! آپ ہدایت پر مجھے ثابت قدم رکھئے اور مجھے راہ راست پر چلائیے
اور فرمایا کہ حضوری قلب کے لئے جب تم ہدایت کی کی دعاء کرو تو سیدھے راستے کا تصور کرو
اور راہ راست کے لئے جب دعاء کرو تو تیر کے سیدھے پن کا تصور کرو۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the most frequent supplication of the Prophet (ﷺ) was: "O Allah, grant us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire."
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! آپ ہمیں دنیا میں (بھلائی) یعنی صحت، رزق اور توفیق) دیجئے اور آخرت میں بھی
بھلائی (یعنی مراتب عالیہ اور دیدار الٰہی) سے مشرف فرمائیے اور ہم کو (اپنی مغفرت سے) دوزخ
کے عذاب سے بچائیے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی متفقہ طور پر کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) visited a Muslim man who had become as weak as a chick. The Prophet (ﷺ) asked him: "Were you supplicating for something or asking for it?" The man replied: "Yes, I used to say: 'O Allah, whatever punishment You would give me in the Hereafter, bring it forward to me in this world.'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Glory be to Allah! You cannot bear it. Why didn't you say: 'O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire'?" Then he supplicated for him and Allah healed him.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایک مسلمان صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو پرندہ کے بچے کی طرح کمزور ہوگئے
تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز
(یعنی مصیبت) کی دعا کی تھی یا اس کو مانگ لیا تھا (جس کی وجہ سے تمہاری یہ حالت ہوگئی ہے)
۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں! میں اس طرح دعاء کیا کرتا تھا یا الٰہی آپ جو عذاب مجھے آخرت میں
دینے والے ہیں اس کو دنیا ہی میں فوراً دیدیجئے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
:سبحان اللہ! (تو نے عجب دعاء مانگ لی ہے) تو نہ تو (دنیا میں) اس کے عذاب کی طاقت رکھتا ہے
(نہ آخرت میں) اس کو برداشت کرسکے گا (کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کے بدلے میں) تو نے یہ دعا کرلی
راوی کا بیان ہے کہ ان صاحب نے یہی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا دیدی۔
Hudhayfah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It is not proper for a believer to humiliate himself." They asked: "How does one humiliate himself?" He replied: "By exposing himself to trials he cannot bear."
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کو یہ بات مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا کرے
۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ (یا رسول اللہ) مسلمان اپنے آپ کو کس طرح رسوا کرتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا
کہ وہ خود کو وہ ایسی آزمائش اور مشقت میں ڈالے جس کے (پورا کرنے کی) طاقت نہیں رکھتا ہو۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔ اس کی روایت مسلم
نے کی ہے۔
Abdullah ibn Yazid al-Khatmi (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say in his supplication: "O Allah, grant me Your love and the love of those whose love will benefit me with You. O Allah, whatever provision You have given me of what I love, make it strength for me in what You love. O Allah, whatever You have withheld from me of what I love, make it a relief for me in what You love."
عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
فرماتے ہیں کہ حضور یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! آپ مجھے اپنی محبت نصیب فرمائیے اور اس شخص کی محبت بھی جس کی محبت مجھے آپ
کے پاس فائدہ دے۔ یا الٰہی! آپ نے میری پسندیدہ (نعمتیں) جو مجھے دی ہیں ان کو آپ اپنی
خوشنودی (یعنی اپنی اطاعت کے کاموں) میں لگا دیجئے۔ یا الٰہی! آپ نے میری جن خواہشات کو
روک رکھا ہے ان سے مجھے فارغ کر کے اپنی مرضیات میں مشغول فرما دیجئے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Among the supplications of Dawud was: 'O Allah, I ask You for Your love, the love of those who love You, and deeds that will bring me to Your love. O Allah, make Your love dearer to me than myself, my wealth, my family, and cold water.'" The Prophet (ﷺ) added when mentioning Dawud: "He was the most devout of mankind."
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت داود علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام یوں دعا فرمایا
کرتے تھے:
یا الٰہی! میں آپ سے آپ کی محبت اور آپ کے محبین کی محبت اور وہ عمل مانگتا ہوں جو آپ کی
محبت تک پہنچا دے۔ یا الٰہی! آپ اپنی محبت کو مجھے اپنی جان اپنے مال، اپنے اہل و عیال اور ٹھنڈے
پانی سے زیادہ محبوب بنا دیجئے۔
حضرت ابو درداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت داود علیہ السلام کا
ذکر فرماتے اور ان کا کوئی واقعہ بیان فرماتے تو ارشاد فرماتے کہ وہ (اپنے زمانے کے) سب سے
بڑے عبادت گزار بندے تھے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Ibn Umar (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) would rarely leave a gathering without supplicating for his companions with these words: "O Allah, apportion to us such fear of You as will come between us and acts of disobedience; such obedience to You as will bring us to Your Paradise; such certainty as will make the calamities of this world easy for us. Let us enjoy our hearing, our sight and our strength as long as You keep us alive, and make it our last share. Make our revenge upon those who wronged us, and grant us victory over those who oppose us. Do not make our calamity in our religion. Do not make this world our greatest concern nor the limit of our knowledge. Do not give power over us to those who will not have mercy on us."
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی کسی مجلس سے اٹھتے تو اپنے اصحاب کے لئے اکثر دعاؤں کو پڑھا کرتے
تھے:
یا الٰہی! آپ ہمیں اپنی خشیت اس قدر نصیب فرمائیے جس کی وجہ سے آپ ہمارے اور
ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائیں۔ اور ہم کو اس قدر اطاعت نصیب فرمائیے جس کی وجہ
سے آپ ہم کو اپنی جنت میں پہنچا دیں۔ اور اس قدر یقین نصیب فرمائیے جس کی وجہ سے آپ ہم
پر دنیا کی مصیبتیں آسان فرما دیں اور ہماری سماعت کو اور ہماری بصارت کو اور ہماری قوت کو زندگی بھر
ہمارے لئے فائدہ مند بنا دیجئے اور اس (انعام) کو ہماری نسل میں جاری و ساری رکھے اور جنہوں
نے ہم پر ظلم کیا ہے آپ ہی ان سے ہمارا انتقام لے لیجئے۔ اور جنہوں نے ہم سے دشمنی کی ہے ان
کے مقابلہ میں آپ ہماری مدد فرمائیے۔ اور ہماری مصیبتوں کو ہمارے دین میں (کمی) یعنی
بدعقیدگی، حرام خوری اور عبادتوں میں کوتاہی کا سبب نہ بنائیے۔ اور آپ دنیا ہی کو ہماری فکر اور
ہمارے علم کا سب سے بڑا نصب العین نہ بنائیے اور ایسوں کو ہم پر مسلط نہ فرمائیے جو ہم پر رحم نہ
کریں۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور کہا ہے کہ: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
our greatest concern
(1) The statement "our greatest concern" indicates that a small amount of concern for necessary worldly matters is permitted, even recommended, and sometimes obligatory. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: أكبر همنا وفيه أن قليلا من الهم فيما لا بد منه في أمر المعاش، مرخص فيه، بل مستحب، بل واجب. قاله في «المرقاة».
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "O Allah, benefit me through what You have taught me, teach me what will benefit me, and increase me in knowledge. All praise is for Allah in all circumstances. I seek refuge in Allah from the state of the people of the Fire."
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء (بھی) فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! آپ نے مجھے جو علم دیا ہے اس کو میرے لئے نافع بنائیے اور مجھے ایسا علم سکھائیے جو
(دنیا اور آخرت میں) مجھے نفع دے اور مجھے اور زیادہ علم نصیب فرمائیے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر
ہے اور میں دوزخیوں کے حال (یعنی ان کے اعمال سے) میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اس کی
روایت ترمذی، حاکم اور ابن ماجہ نے کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری کی شرط کے
مطابق صحیح ہے۔
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) reported: "When revelation descended upon the Messenger of Allah (ﷺ), a sound like the buzzing of bees could be heard near his face. One day revelation came and we waited for some time until it lifted from him. He faced the qiblah, raised his hands and said: 'O Allah, increase us and do not decrease us, honor us and do not humiliate us, give us and do not deprive us, prefer us and do not prefer others over us, be pleased with us and make us pleased.' Then he said: 'Ten verses have been revealed to me - whoever acts upon them will enter Paradise.' Then he recited: 'Successful indeed are the believers...' (23:1) until he completed ten verses."
امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جس وقت وحی نازل ہوتی تو آپ کے چہرہ کے پاس شہد کی مکھیوں کی
بھنھناہٹ کی طرح ایک آواز سنائی دیتی (ایک دفعہ) دن کے وقت آپ کے اوپر وحی نازل ہوئی تو
ہم کچھ دیر انتظار کرتے رہے (تا کہ وحی کی کیفیت آپ پر سے دور ہو جائے) چنانچہ وہ کیفیت آپ پر
سے زائل ہوگئی (ہم نے دیکھا کہ) آپ قبلہ کی طرف رخ فرما لیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور یہ
دعا فرمائی:
یا الٰہی! (ہماری بھلائیوں اور تعداد میں) اضافہ فرمائیے اور (ان چیزوں میں) کمی نہ کیجئے۔
اور (دنیا و آخرت میں) ہمیں سربلند فرمائیے۔ اور ہمیں (ان میں) ذلیل نہ فرمائیے اور ہم کو سرفراز
فرمائیے اور ہمیں محروم نہ کیجئے اور ہم کو (لوگوں پر) غالب رکھئے اور (ان کا) مغلوب نہ بنائیے اور ہم
کو راضی رکھئے اور ہم سے راضی ہو جائیے۔
پھر آپ نے ارشاد فرمایا: مجھ پر (ابھی ابھی) دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو شخص ان پر عمل
کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ پھر آپ نے (سورہ مومنون کی نازل شدہ ابتدائی دس آیتوں کی)
تلاوت فرمائیں (جن کو) قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ سے شروع فرما کر هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ) پر دس
آیتیں ختم فرمائیں۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3173 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
قوله
(۱)قوله : والله على الناس إلخ : فيفهم من هذه الآية أن الحج فرض لكن لا مطلقا، بل على من استطاع إليه سبيلا. قاله في التفسيرات الأحمدية». وقال في الهداية»: وهو فريضة محكمة ثبتت فرضيته بالكتاب، وهو قوله تعالى: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ (آل عمران: ۹۷) الآية.
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them) reported that the Prophet (ﷺ) used to supplicate: "O Lord, help me and do not help others against me. Support me and do not support others against me. Plan for me and do not plan against me. Guide me and make guidance easy for me. Grant me victory over those who wrong me. O Allah, make me grateful to You, remembering You, fearing You, obedient to You, humble before You, penitent and returning to You. O Lord, accept my repentance, wash away my sins, answer my supplication, establish my proof, make my tongue truthful, guide my heart, and remove all malice from my breast."
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء (بھی) فرمایا کرتے تھے:
اے میرے رب (آپ کے ذکر، شکر اور عبادت کی بجا آوری میں) میری مدد فرمائیے اور
(ان کاموں میں میرے لئے رکاوٹ کا جو سبب بنیں) ان کی مدد آپ مت فرمائیے اور (مخالفین پر)
مجھ کو غلبہ نصیب فرمائیے اور ان کو مجھ پر غالب نہ فرمائیے اور آپ میرے لئے تدبیریں فرمائیے اور
میرے خلاف تدبیریں نہ کیجئے۔ اور مجھے راہ راست پر چلائیے اور راہ راست پر چلنا میرے لئے
آسان فرما دیجئے۔ اور جو مجھ پر ظلم اور زیادتی کریں ان کے مقابلہ میں میری مدد فرمائیے۔ اے
میرے رب مجھے (نعمتوں پر) آپ کا شکر کرنے والا (ہمیشہ) آپ کو یاد کرنے والا (ہر حال میں)
آپ ہی سے ڈرنے والا، آپ کا کامل اطاعت گزار، آپ ہی کے آگے عاجزی کرنے والا، آہ
وزاری کے ساتھ آپ ہی کی طرف رجوع ہونے والا (بندہ) بنا دیجئے اے میرے مالک میری توبہ
قبول فرمائیے، مجھے گناہوں سے پاک کر دیجئے میری دعاؤں کو قبول فرمائیے، اور (قبر میں منکر و نکیر
کے سوال کے جواب میں) اپنی حجت (یعنی اقرار اور تصدیق پر) مجھے ثابت قدم رکھئے اور میری
زبان کو (حق اور صداقت پر) قائم رکھئے اور میرے دل کو (اپنی معرفت کی) راہ دکھائیے اور میرے
سینہ سے (وسوسوں کی سیاہی کو) دور کر دیجئے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اُمیہ بن خالد بن عبداللہ اُسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ فقراء مہاجرین کے وسیلہ سے (کفار پر) فتح کی دعا مانگا کرتے
تھے۔ اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3551 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 1510 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 3830 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
یہ حدیث زجاجۃ المصابیح جلد چہارم کے ”باب فضل الفقراء و ما كان من عيش النبي
صلى الله عليه وسلم“ میں مروی ہے۔ اور اس حدیث کو باب ہذا کے اختتام پر بلحاظ موزونیت
درج کیا گیا ہے۔ (مترجم)۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement "our greatest concern" indicates that a small amount of concern for necessary worldly matters is permitted, even recommended, and sometimes obligatory. As mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: أكبر همنا وفيه أن قليلا من الهم فيما لا بد منه في أمر المعاش، مرخص فيه، بل مستحب، بل واجب. قاله في «المرقاة».