Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں · Chapter 4

(تقدیر پر ایمان لانے کے بیان میں)

44 narrations · In source reading order

Hadith 74

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 82
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دی تھیں، آپ نے فرمایا: اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "Allah is the Creator of everything" (Az-Zumar: 62), and His saying: "He does what He wills" (Hud: 107), and His saying: "There is no seed in the darkness of the earth, nor anything fresh or dry, but it is written in a clear record" (Al-An'am: 59), and His saying: "And you do not wish except that Allah, Lord of the worlds, wishes" (At-Takwir: 29).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2653a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 75

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 83
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز تقدیر سے ہے حتیٰ کہ نادانی اور دانائی بھی۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2655 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 76

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 84
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام نے اپنے پروردگار کے سامنے مناظرہ کیا، آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر حجت میں غالب آئے، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہی آدم (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور جن میں اپنی روح خاص پھونکی تھی اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا، اس کے باوجود آپ نے اپنی خطاء کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر اُتار دیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: آپ وہی موسیٰ علیہ السلام ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور کلام سے سرفراز فرمایا اور جن کو الواح (یعنی توریت کی تختیاں) دیں جس میں ہر بات واضح طور پر بیان کردی تھی اور ہم کلام بنا کر اپنا مقرب بنایا، بتلاؤ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پیدا کرنے سے کتنے سال پہلے توریت لکھی؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ چالیس سال پہلے آدم علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ نے اس میں دیکھا کہ ﴿ وَعَصٰى آدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ (سورہ طہ، پ:16، ع:7، آیت نمبر:121) موجود ہے (ترجمہ: آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور غلطی میں پڑ گئے) موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہاں! آدم علیہ السلام نے کہا: پھر آپ مجھ پر ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جس کو میں نے کیا ہے اور جو میری پیدائش سے چالیس سال قبل اللہ تعالیٰ نے مجھ پر لکھ دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر حجت میں غالب آ گئے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2652b (unverified) 80% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 82 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 82

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 77

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 85
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جن کی صداقت مسلمہ ہے حدیث بیان فرمائی ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کی تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک بشکل نطفہ جمع کی جاتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک منجمد خون رہتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک گوشت کا لوتھڑا بنا رہتا ہے، پھر خدائے تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتیں لکھنے کا حکم دے کر بھیجتا ہے تو وہ (1) اس کا عمل، (2) اور اس کی موت، اور (3) اس کا رزق اور (4) شقی یا سعید ہونا لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اس ذات باری تعالیٰ کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یقیناً تم میں سے ایک شخص جنتی کا عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا اس پر غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں جیسے کام کرنے لگتا ہے اور وہ دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے اور یقیناً تم میں سے ایک شخص دوزخیوں جیسے کام کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا اس پر غالب آجاتا ہے اور وہ جنت والوں کا عمل کرتا ہے، پس وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی متفقہ طور پر روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3208 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2643a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 82 (unverified) 87% confidence

Mishkat (candidate) 82

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 78

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 86
سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ دوزخیوں کا عمل کرتا ہے، حالانکہ وہ اہل جنت سے ہے اور بندہ جنتیوں کا عمل کرتا ہے حالانکہ دوزخی ہے۔ اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہی ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6607 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 112a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 79

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 87
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصار کے لڑکے کے جنازہ پر بلائے گئے، پس میں نے عرض کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اس لڑکے کی خوشحالی ہے یہ تو ایک چڑیا ہے جنتی چڑیوں میں سے، اس لئے کہ اس نے نہ تو کوئی برائی کی اور نہ اس کو پایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! اس کے سوا، کچھ اور بھی ہے سنو! یقیناً اللہ تعالیٰ نے جنت کے لئے اس کے اہل کو پیدا کیا، اور اس حالت میں پیدا کیا کہ وہ اپنے آباء (باپ) کے صلب میں تھے اور اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے لئے اس کے اہل کو پیدا کیا اور ان کو اس حالت میں پیدا کیا کہ جب وہ اپنے آباء (باپ) کے صلب میں تھے۔ (امام مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2662a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 80

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 88
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: تم میں سے ہر ایک کے لئے اس کا ٹھکانا دوزخ اور جنت کا لکھ دیا گیا ہے، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے نوشتۂ تقدیر پر بھروسہ نہ کرلیں اور عمل چھوڑ دیں، تو آپ نے فرمایا: عمل کرو، پس ہر شخص پر وہ چیز آسان کردی گئی ہے کہ جس کے لئے وہ پیدا ہوا ہے تو جو شخص سعادت مندوں سے ہوگا تو سعادت مندی کا عمل اس کے لئے آسان کر دیا جائے گا اور جو بدبختوں سے ہوگا تو بدبختی کا عمل اس پر آسان کر دیا جائے گا پھر آپ نے (سورہ واللیل، آیت نمبر:5/10، پ،30، ع:1، مکی) یہ میں مال دیا اور پرہیزگاری کا شیوہ اختیار کیا اور اچھی بات یعنی دین اسلام کو سچا سمجھا تو ہم آسانی کی جگہ (یعنی جنت میں پہنچنے کا راستہ) اس کے لئے آسان کر دیں گے اور جس نے (راہ خدا میں) دینے سے بخل کیا اور (آخرت کی پرواہ نہ کی) اور عمدہ بات (یعنی دین اسلام) کو جھوٹ جانا تو ہم مشکل کی جگہ (یعنی دوزخ میں پہنچنے کا راستہ) اس کے لئے آسان کر دیں گے۔ (بخاری اور مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2647a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4949 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 81

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 89Noor 90
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے آدمی کی تقدیر میں زنا سے اس کا ایک حصہ لکھ دیا ہے اور ضرور وہ اس کو پائے گا، پس آنکھ کا زنا (غیر محارم کو) دیکھنا ہے، اور زبان کا زنا شہوانی کلام کرنا ہے، دل آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی پر اس کے زنا کا ایک حصہ لکھ دیا گیا ہے جس کو وہ ضرور پائے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا اور کانوں کا زنا سننا، زبان کا زنا گفتگو ہے، ہاتھ کا زنا غیر محرم کو پکڑنا، اور پیر کا زنا ناجائز مقامات کی طرف چلنا ہے، دل فریفتہ ہوتا ہے اور آرزو کرتا ہے اور اس کی تصدیق اور تکذیب شرمگاہ کرتی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6243 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2657b (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2657a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 82

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 91
عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بتلایئے آج لوگ جو کچھ عمل کررہے ہیں اور جس بات کی کوشش کرتے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جو اُن کی تقدیر میں مقدر ہوچکی ہے کہ اس کے موافق وہ عمل کررہے ہیں یا ایسی چیز ہے جو ان کی تقدیر میں بروز ازل نہیں لکھی گئی ہے بلکہ وہ زمانہ آئندہ میں جیسا جیسا ان کو سوجھتا ہے، وہ اپنے اختیار سے عمل کرتے جاتے ہیں اس کے بغیر کہ پہلے سے ان پر مقدر ہو اور نبی کے فرمانے کے موافق نہ کرنے سے ان پر عذاب ہوتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ یہ ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے اور وہ اپنی تقدیر کے لکھے کے موافق عمل کررہے ہیں اور اس کی تصدیق کتاب اللہ کے (سورہ والشمس، پ:30، ع1، آیت نمبر:7/8) میں موجود ہے اور وہ یہ ہے ﴿ وَنَفْسٍ وَمَا سَوّٰهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوٰهَا ﴾ (قسم ہے انسان کے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو درست بنایا پھر اس کی بدکرداری اور پرہیزگاری (دونوں باتوں) اس کو القا کیا)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2650 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 83

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 92
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ میں ایک جوان آدمی ہوں اور مجھے اپنے نفس پر زنا کا اندیشہ ہے اور میرے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ عورتوں سے نکاح کرسکوں کیا مجھے خصی ہونے کی اجازت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے، میں نے (دوبارہ) ایسا ہی عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر (سہ بارہ) میں نے ایسا ہی عرض کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، (چوتھی بار) جب میں نے ویسا ہی عرض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ جو کچھ تم پر پیش ہونے والا ہے اس کو (لکھ کر قلم) خشک ہو چکا ہے، اب تُو چاہے تو خصی بنے یا اس خیال کو چھوڑ دے۔ (جو کچھ ہونے والا ہے وہ تو ہو کر رہے گا)۔ (امام بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5076 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 84

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 93
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام آدمیوں کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے بیچ میں قلب 1 کے مانند ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے پھیر دیتا ہے، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلٰى طَاعَتِكَ“۔ ترجمہ: اے دلوں کے پھیر دینے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)(1 قلب ایسی چیز ہے جس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2654 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 85

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 94
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ کی پیدائش فطرت (یعنی اسلام) پر ہوتی ہے اور اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں، جس طرح چوپائے کے بچے پیدائش کے وقت کامل الاعضاء پیدا ہوتے ہیں، کیا تم اس میں کسی قسم کا نقصان پاتے ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سورہ روم، پ:21، ع:4، آیت نمبر:30 کی) اس آیت کو پڑھا کرتے تھے ﴿ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِىْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا، لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ﴾ (تم اللہ کی دی ہوئی قابلیت (یعنی اسلام) کا اتباع کرو جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی اس پیدا کی ہوئی قابلیت میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ (بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1358 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2658a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 86

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 95
ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان خطبہ ارشاد فرمایا جو پانچ باتوں پر مشتمل تھا، پس فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا ہے اور سونا اس کے مناسب شان نہیں۔ بندوں کے رزق کے ترازو کو پست کرتا ہے اور اس کو بلند کرتا ہے (یعنی کسی پر رزق تنگ کرتا ہے اور کسی پر فراخ اور یہ سب گناہوں کے بعضوں کو ذلیل کرتا ہے اور یہ سبب طاعت کے بعضوں کا مرتبہ بلند کرتا ہے) اس کی جناب میں رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے پیش ہوتے ہیں، پردہ اس کا نور ہے اگر اس کو اٹھائے تو اس کے ذات کے انوار تمام مخلوق کو جلا دیں، جہاں تک اس کے بصر کی رسائی ہے (یعنی تمام دنیا علٰی الاطلاق کہ خدا کی بصر کا احاطہ تمام عالم کو ہے)۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 179a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 91 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 91

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 87

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 96Noor 97
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن کا ہمیشہ خرچ اس کو کم نہیں کرتا، بتلاؤ کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے وقت سے لے کر اب تک کس قدر خرچ کیا ہوگا پھر بھی اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، اس وقت سے کم نہیں ہوا جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، اس کے ہاتھ میں (سب کے رزق کی) ترازو ہے، اسے وہ بلند کرتا ہے اور پست کرتا ہے (یعنی کسی پر رزق تنگ کرتا ہے اور کسی پر کشادہ) (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے) اور مسلم کی روایت میں یوں ہے ”اللہ کا سیدھا ہاتھ بھرا ہوا ہے“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4684 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 993a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 88

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 98
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کی نسبت دریافت کیا گیا، تو ارشاد فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے، (یعنی بہشت میں داخل ہونے والے تھے یا دوزخ میں۔ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے)۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2659a (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1384 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 89

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 99
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے پہلی چیز جس کو پیدا کیا وہ قلم ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لکھ دے قلم نے کہا کہ کیا لکھوں؟ فرمایا کہ (ہر چیز کی) تقدیر لکھ دے تو قلم نے جو کچھ ہوا، اور جو کچھ ابد تک ہونے والا ہے سب لکھ دیا۔ (ترمذی نے اس کی روایت کی ہے)۔

[Narrated by Tirmidhi, who said: This is a strange hadith in its chain of narration]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2155 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 94 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 94

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 90

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 100
مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے (سورہ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9، ع:22،) کی آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا ۞ پیغمبر! لوگوں کو وہ وقت بھی یاد دلادو) جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پشتوں سے ان کی نسلوں کو باہر نکالا، اور ان کے مقابلہ میں خود ان کو گواہ بنایا (اس طرح پر کہ ان سے پوچھا) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے کہا کہ ہاں ہم سب (اس بات کے) گواہ ہیں (اور یہ اس غرض سے کیا کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں قیامت کے دن) تم کہنے لگو کہ ہم اس بات سے بے خبر ہی رہے (یعنی کسی نے ہم سے کسی قسم کا عہد نہیں لیا تھا)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3075 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4703 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

”یوم اَلَست“ میں آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذریت کو باہر نکال لیا ان میں سے ایک حصہ تو جنتی تھا اور دوسرا دوزخی، جنتی جنت والے عمل پر مرے گا اور دوزخی دوزخ والے عمل پر مرے گا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے سنا ہے اس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا تو تب آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت پر اپنا سیدھا ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت (اولاد) کو باہر نکالا، اور فرمایا کہ میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ جنتیوں کا عمل کریں گے۔ پھر آدم علیہ السلام کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت کو نکالا اور کہا کہ میں نے ان کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں کا عمل کریں گے، پس ایک شخص نے کہا: پھر کیوں عمل کیا جائے یارسول اللہ! (جو ہونا تھا سو ہو چکا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جب بندہ کو جنت کے لئے پیدا کیا تو اس کو جنتیوں کے کام میں لگا دیا گیا یہاں تک کہ اس کی موت جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر ہوگی اور اس کی وجہ سے اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دیں گے اور اللہ نے جب بندہ کو دوزخ کے لئے پیدا کیا تو وہ دوزخیوں کے کام میں لگا دیا گیا یہاں تک کہ وہ دوزخیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرے گا، اور اس کی وجہ سے اس کو اللہ دوزخ میں داخل کر دیں گے۔ (اس کی روایت امام مالک، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے)۔

Hadith 91

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 101
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں لے کر نکلے اور فرمایا تم جانتے ہو کہ یہ دو کتابیں کیا ہیں؟ ہم نے کہا: یارسول اللہ! آپ کے بتلائے بغیر ہم نہیں جان سکتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے ہاتھ کی کتاب کے متعلق فرمایا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک کتاب ہے اس میں جنتیوں اور ان کے باپ دادا اور قبیلوں کے نام ہیں اور پھر آخر میں سب کی جملہ تعداد بتلا دی گئی ہے، پس ان میں نہ کبھی اضافہ کیا جائے گا اور نہ کمی، پھر اس کتاب کی نسبت جو بائیں ہاتھ میں تھی فرمایا: رب العالمین کی طرف سے یہ ایک کتاب ہے اس میں دوزخیوں اور ان کے آباء و قبائل کے نام ہیں جس کے آخر میں سب کی جملہ تعداد درج کر دی گئی ہے ان میں نہ تو کبھی اضافہ کیا جائے گا اور نہ کمی، پس صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! پھر عمل کیوں کیا جائے، جب کہ معاملہ ایسا ہے کہ اس سے فراغت ہو چکی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افراط و تفریط کے بغیر عمل کے پابند رہو، اور نیک اعمال کے ذریعہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے رہو، اس لئے کہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوگا خواہ اس نے کیسا ہی عمل کیا ہو، اور دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوگا اگرچہ کہ اس نے کیسا ہی عمل کیا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا وہ اس طرح کہ آپ نے ان کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا (یعنی یہ ایسا امر ہے کہ جس سے فراغت ہوچکی) پھر فرمایا: تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوگیا، ایک گروہ جنت کے واسطے ہے اور ایک گروہ دوزخ کے واسطے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2141 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 92

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 102
ابو خزامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ بتلائیے کہ یہ منتر (یعنی دعائیں) جن کو ہم پڑھواتے ہیں اور وہ دوائیں جن کو ہم استعمال کرتے ہیں، اور وہ حفاظت کی چیزیں جن کے ذریعہ سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں کیا یہ اللہ کی تقدیر کو دفع کرسکتی ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ یہ تمام چیزیں اللہ ہی کی تقدیر سے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2065 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3437 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 93

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 103
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر برآمد ہوئے اور ہم اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے، پس آپ غضبناک ہوگئے حتیٰ کہ چہرہ مبارک سرخ ہوگیا گویا آپ کے رخساروں پر انار کے دانے توڑ کر نچوڑ دیئے گئے ہیں، فرمایا: کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے یا مجھے یہی چیزیں دے کر بھیجا گیا ہے، تم سے پہلے کے لوگ جب ان باتوں پر جھگڑنے لگے تو ہلاک ہوگئے، میں تمہیں قسم دیتا ہوں، میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تقدیر کے معاملہ میں بحث مت کیا کرو۔ (ترمذی نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2133 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 94

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 104
ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ایک ایسی مشت خاک سے پیدا کیا جس کو ہر طرح کی زمین سے لیا تھا، لہٰذا آدم علیہ السلام کی اولاد زمین کے موافق پیدا ہوئی، جن میں چند سرخ رنگ والے، چند سفید، چند کالے، اور چند سانولے، اور چند نرم مزاج، اور چند سخت مزاج، اور چند بُرے اور چند اچھے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4693 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2955 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 100 (unverified) 87% confidence

Mishkat (candidate) 100

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 95

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 105
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر اس پر اپنا کچھ نور ڈالا۔ جس کو اس نور کی کچھ روشنی ملی اس نے سیدھا راستہ پایا اور جس پر یہ روشنی نہیں پڑی وہ گمراہ ہو گیا، پس اس لئے میں کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم پر خشک ہو چکا ہے یعنی اس کی تقدیر میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی، جو ہونا ہے وہ لکھا جا چکا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2642 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 101 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 101

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 96

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 106
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی باتوں پر ایمان لائے، کیا آپ کو ہم پر کچھ اندیشہ ہے، فرمایا: ہاں! دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2140 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 199 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 97

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 107
ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کے مثال ایک پر کے مانند ہے جو زمین کے کھلے میدان میں ہو جس کو ہوائیں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 103 (unverified) 80% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 102 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 102

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 98

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 108
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بندہ چار باتوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہوسکتا۔ (1) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور (2) میں خدا کا رسول ہوں، مجھے دین حق دے کر مبعوث فرمایا ہے، (3) موت پر اور مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان لائے اور (4) تقدیر پر ایمان لائے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2145 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 81 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 99

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 109
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے دو گروہ کے لئے اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ (1) ایک مرجئہ (عمل کو بے کار سمجھنے والے) اور (2) دوسرے قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے)۔ (ترمذی نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2149 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: قدریہ وہ فرقہ ہے جو تقدیر کا منکر ہے، یہ کہتے ہیں کہ افعال بندوں کے پیدا کئے ہوئے ہیں ، خود ان کے اختیار سے ہیں اور اللہ کی قدرت سے نہیں۔ مرجئہ سے مراد فرقہ جبریہ ہے یہ اسباب کے قائل نہیں اور ان کے پاس بندے کی طرف فعل کی نسبت ایسی ہے جیسے کہ فعل کی نسبت جمادات کی طرف کی جائے یعنی بندہ محض بے اختیار ہے۔

Hadith 100

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 110
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں خسف (زمین میں دھنسنا) اور مسخ (صورت کا بدل جانا) ہوا کرے گا اور یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی کی روایت بھی اسی طرح ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4693 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2152 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 101

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 111
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ اس امت کے مجوس ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت مت کیا کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4691 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 102

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 112
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تقدیر کے انکار کرنے والوں کی صحبت اختیار مت کرو، اور فیصلے کے لئے تم ان کو حاکم مت بناؤ۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4693 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 103

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 113
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھ آدمی ہیں جن پر میں نے اور اللہ نے اور ہر نبی نے جس کی دعاء مقبول ہے لعنت کی ہے :(1) اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا (2) اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا (3) جبر و طاقت سے حکومت حاصل کرنے والا کہ اللہ نے جس کو ذلیل کیا ہے اسے عزت دے اور جس کو اللہ نے عزت دی ہے اس کو ذلیل کرے (4) جن چیزوں کو اللہ نے حرم مکہ میں حرام قرار دیا ہے ان کو حلال قرار دینے والا (5) میری اولاد کو ایذاء پہنچانے والا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور (6) میری سنت کو چھوڑ دینے والا۔ (بیہقی نے مدخل میں اور رزین نے اپنی کتاب میں اس کی روایت کی ہے)۔

[Narrated by al-Bayhaqi in Al-Madkhal and Razin in his book]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 109 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 109

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اگر سستی اور کاہلی سے سنت کو چھوڑ دے تو گنہگار ہوگا اور اگر کوئی بطور تحقیر سنت کو چھوڑ دے تو کافر ہے، لعنت میں دونوں شارک کئے جاتے ہیں، پہلے پر تنبیہاً لعنت ہوگی اور دوسرے پر حقیقتاً لیکن احیاناً اگر سنت ترک ہو تو گنہگار نہیں ہوتا مگر یہ بھی برا ہے۔